جامع الترمذي حدیث نمبر: 1811
Jami at-Tirmidhi 1811
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثُّومِ مَطْبُوخًا
باب: پکا ہوا لہسن کھانے کی اجازت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: " الثُّومُ مِنْ طَيِّبَاتِ الرِّزْقِ "، وَأَبُو خَلْدَةَ اسْمُهُ خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ أَدْرَكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَسَمِعَ مِنْهُ وَأَبُو الْعَالِيَةِ اسْمُهُ رُفَيْعٌ هُوَ الرِّيَاحِيُّ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كَانَ أَبُو خَلْدَةَ خِيَارًا مُسْلِمًا.
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے ۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے ، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں ، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں ، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں : ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1811]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1811) إسناده ضعيف ¤ محمد بن حميد ضعيف (تقدم:85)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 18646) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف راوی ہیں)