جامع الترمذي حدیث نمبر: 1810
Jami at-Tirmidhi 1810
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ أَيُّوبَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَزَلَ عَلَيْهِمْ فَتَكَلَّفُوا لَهُ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ هَذِهِ الْبُقُولِ فَكَرِهَ أَكْلَهُ "، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوهُ فَإِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَأُمُّ أَيُّوبَ هِيَ امْرَأَةُ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.
ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ان کے گھر ٹھہرے ، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں ( گندنا وغیرہ ) میں سے تھی ، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا : ” تم لوگ اسے کھاؤ ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق ( جبرائیل ) کو تکلیف پہچاؤں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1810]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (3364)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3364)، (تحفة الأشراف: 18304) (حسن)