📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: کھانے کے احکام و مسائل (كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1799 Jami at-Tirmidhi 1799
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
9: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، بِالشِّمَالِ
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْكُلْ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَحَفْصَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رَوَى مَالِكٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَرَوَى مَعْمَرٌ، وَعُقَيْلٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ مَالِكٍ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے ، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح مالک اور ابن عیینہ نے بسند «الزهري عن أبي بكر بن عبيد الله عن ابن عمر» روایت کی ہے ، معمر اور عقیل نے اسے زہری سے ، بسند «سالم بن عبداللہ عن ابن عمر» روایت کی ہے ، مالک اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جابر ، عمر بن ابی سلمہ ، سلمہ بن الاکوع ، انس بن مالک اور حفصہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1799]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا پینا ضروری ہے، اور بائیں ہاتھ سے مکروہ ہے، البتہ کسی عذر کی صورت میں بائیں کا استعمال کھانے پینے کے لیے جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1236)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة 13 (2020) سنن ابی داود/ الأطعمة 20 (3776)، (تحفة الأشراف: 8579)، وط/صفة النبی ﷺ 4 (6)، و مسند احمد (2/106)، سنن الدارمی/الأطعمة 9 (2073) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1799
1797 1798 1799 1800 1801

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1800 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِ...
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ