جامع الترمذي حدیث نمبر: 1857
Jami at-Tirmidhi 1857
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
47: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: کھانے پر ”بسم اللہ“ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ طَعَامٌ قَالَ: " ادْنُ يَا بُنَيَّ وَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ وَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبُو وَجْزَةَ السَّعْدِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ.
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، آپ کے پاس کھانا رکھا تھا ، آپ نے فرمایا : ” بیٹے ! قریب ہو جاؤ ، بسم اللہ پڑھو اور اپنے داہنے ہاتھ سے جو تمہارے قریب ہے اسے کھاؤ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ سے «عن أبي وجزة السعدي عن رجل من مزينة عن عمر ابن أبي سلمة» کی سند سے مروی ہے ، اس حدیث کی روایت کرنے میں ہشام بن عروہ کے شاگردوں کا اختلاف ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1857]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: (۱) کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا چاہیئے، اس کا اہم فائدہ جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے، یہ ہے کہ ایسے کھانے میں شیطان شریک نہیں ہو سکتا، ساتھ ہی اس ذات کے لیے شکر یہ کا اظہار ہے جس نے کھانا جیسی نعمت ہمیں عطا کی، (۲) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آداب طعام میں سے ہے کہ اپنے سامنے اور قریب سے کھایا جائے، (۳) چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ کھانے میں شریک رکھا جائے، (۴) اس مجلس سے متعلق جو بھی ادب کی باتیں ہوں بچوں کو ان سے واقف کرایا جائے، (۵) کھانا دائیں ہاتھ سے کھایا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3267)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 7 (3267)، (تحفة الأشراف: 10685)، (وراجع: صحیح البخاری/الأطعمة 2 (5376)، وصحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 13 (2022)، و سنن ابی داود/ الأطعمة 20 (3777)، و موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ 10 (32)، وسنن الدارمی/الأطعمة 1 (2062) (صحیح) (”ادْنُ“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، تراجع الالبانی 350)