جامع الترمذي حدیث نمبر: 1850
Jami at-Tirmidhi 1850
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
42: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ فِي الصَّحْفَةِ يَعْنِي الدُّبَّاءَ فَلَا أَزَالُ أُحِبُّهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ وَرُوِيَ أَنَّهُ رَأَى الدُّبَّاءَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا الدُّبَّاءُ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَا ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رکابی میں ڈھونڈ رہے تھے یعنی کدو ، اس وقت سے میں اسے ہمیشہ پسند کرتا ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- روایت کی گئی ہے کہ انس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو دیکھا تو آپ سے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” یہ کدو ہے ہم اس سے اپنے کھانے کی مقدار بڑھاتے ہیں “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1850]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، والأطعمة 4 (5379)، و 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة والأطعمة 21 (2041)، سنن ابی داود/ الأطعمة 22 (3782)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 26 (3304)، (تحفة الأشراف: 198)، وط/النکاح 21 (51)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2094) (صحیح)