جامع الترمذي حدیث نمبر: 1849
Jami at-Tirmidhi 1849
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
42: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ قَالَ: " دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أَحَبَّكِ إِلَيَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک کے پاس گیا ، وہ کدو کھا رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : اے بیل ! کس قدر تو مجھے پسند ہے ! کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تجھے پسند کرتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں حکیم بن جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1849]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1849) إسناده ضعيف ¤ أبو طالوت: مجھول (تق:8183) والحديث الآتي (سنن الترمذي /الأصل ؛ 1850) شاھد لبعضه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 1719) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو طالوت شامی مجہول راوی ہے)