📖 جامع الترمذي (Jami at-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

كتاب اللباس

کتاب: لباس کے احکام و مسائل

کتاب #25 • کل احادیث: 76
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ
باب: ریشم اور سونے کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، وَأُحِلَّ لِإِنَاثِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي رَيْحَانَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَالْبَرَاءِ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، علی ، عقبہ بن عامر ، انس ، حذیفہ ، ام ہانی ، عبداللہ بن عمرو ، عمران بن حصین ، عبداللہ بن زبیر ، جابر ، ابوریحان ، ابن عمر ، براء ، اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1720]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلمان مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے حرام ہیں، حرمت کی کئی وجہیں ہیں: کفار و مشرکین سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے، زیب و زینت عورتوں کا خاص وصف ہے، مردوں کے لیے یہ پسندیدہ نہیں، اس پہلو سے یہ دونوں حرام ہیں، اسلام جس سادگی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس سادگی کے خلاف ہے، حالانکہ سادگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے، آپ کا ارشاد ہے «البذاذة من الإيمان» یعنی سادہ اور بےتکلف رہن سہن اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے، یہ دونوں چیزیں عورتوں کے لیے حلال ہیں، لیکن حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کیا جائے، اسی طرح یہاں حلت کا تعلق صرف سونے کے زیورات سے ہے، نہ کہ ان سے بنے ہوئے برتنوں سے کیونکہ سونے (اور چاندی) سے بنے ہوئے برتن سب کے لیے حرام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3595)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 40 (5151)، و74 (5267)، (تحفة الأشراف: 8998)، و مسند احمد (4/392، 393، 407) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَرِيرِ، إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ، أَوْ ثَلَاثٍ، أَوْ أَرْبَعٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سوید بن غفلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا سوائے دو ، یا تین ، یا چار انگشت کے برابر ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1721]
💡 وضاحت:
۱؎: ریشم کا لباس مردوں کے لیے شرعی طور پر حرام ہے، البتہ دو یا تین یا چار انگلی کے برابر کسی کپڑے پر ریشم لگا ہو، یا کوئی عذر مثلاً خارش وغیرہ ہو تو اس کی گنجائش ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 2 (2069/15)، (تحفة الأشراف: 10459) (صحیح)
2: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ فِي الْحَرْبِ
باب: دوران جنگ ریشم پہننے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ " شَكَيَا الْقَمْلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ "، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی الله عنہما نے ایک غزوہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی ، تو آپ نے انہیں ریشم کی قمیص کی اجازت دے دی ، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں : میں نے ان کے بدن پر ریشم کی قمیص دیکھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1722]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3592)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 90 (2919- 2922)، واللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن ابی داود/ اللباس 13 (4056)، سنن النسائی/الزینة 92 (5312)، سنن ابن ماجہ/اللباس 17 (3592)، (تحفة الأشراف: 1394)، و مسند احمد (3/127، 180، 21، 255، 273) (صحیح)
3: باب
باب: اس ضمن میں ایک اور باب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: " قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: فَبَكَى، وَقَالَ: إِنَّكَ لَشَبِيهٌ بِسَعْدٍ، وَإِنَّ سَعْدًا كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، وَإِنَّهُ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَامَ أَوْ قَعَدَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا، فَقَالُوا: مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ ثَوْبًا قَطُّ، فَقَالَ: " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَرَوْنَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی الله عنہ ( ہمارے پاس ) آئے تو میں ان کے پاس گیا ، انہوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی الله عنہ ہوں ، انس رضی الله عنہ رو پڑے اور بولے : تم سعد کی شکل کے ہو ، سعد بڑے دراز قد اور لمبے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ریشمی جبہ بھیجا گیا جس میں زری کا کام کیا ہوا تھا ۱؎ آپ اسے پہن کر منبر پر چڑھے ، کھڑے ہوئے یا بیٹھے تو لوگ اسے چھو کر کہنے لگے : ہم نے آج کی طرح کبھی کوئی کپڑا نہیں دیکھا ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم اس پر تعجب کر رہے ہو ؟ جنت میں سعد کے رومال اس سے کہیں بہتر ہیں جو تم دیکھ رہے ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1723]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ جبہ اکیدردومہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور ہدیہ بھیجا تھا، یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الہبة 28 (2615)، وبدء الخلق 8 (3248)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2469)، سنن النسائی/الزینة 88 (5304)، (تحفة الأشراف: 1648)، و مسند احمد (3/111، 121-122، 207، 209، 229، 238، 251، 277) (صحیح)
4: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الثَّوْبِ الأَحْمَرِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے سرخ کپڑا پہننے کے جواز کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأَبِي رِمْثَةَ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت نہیں دیکھا ، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے ، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی ، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1724]
💡 وضاحت:
۱؎: سرخ لباس کی بابت حالات و ظروف کی رعایت ضروری ہے، اگر یہ عورتوں کا مخصوص زیب و زینت والا لباس ہے جیسا کہ آج کے اس دور میں شادی کے موقع پر سرخ جوڑا دلہن کو خاص طور سے دیا جاتا ہے تو مردوں کا اس سے بچنا بہتر ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سرخ جوڑے کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیسا تھا؟ خلاصہ اقوال یہ ہے کہ یہ سرخ جوڑا یا دیگر لال لباس جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنے تھے، ان میں تانا اور بانا میں رنگوں کا اختلاف تھا، بالکل خالص لال رنگ کے وہ جوڑے نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3599)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب 33 (3551)، واللباس 35 (5848)، و68 (5903)، صحیح مسلم/الفضائل 25 (2337)، سنن ابی داود/ الترجل 9 (4183)، سنن النسائی/الزینة 9 (5063)، و 59 (5234)، و 93 (5248)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3599)، (تحفة الأشراف: 1847)، و مسند احمد (4/281، 295) و یأتي برقم 3635 (صحیح)
5: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے زرد رنگ کے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَحَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قسی کے بنے ہوئے ریشمی اور زرد رنگ کے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1725]
💡 وضاحت:
۱؎: «معصفر» وہ کپڑا ہے جو عصفر سے رنگا ہوا ہو، اس کا رنگ سرخی اور زردی کے درمیان ہوتا ہے، اس رنگ کا لباس عام طور سے کاہن، جوگی اور سادھو پہنتے ہیں، ممکن ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کاہنوں کا لباس یہی رہا ہو جس کی وجہ سے اسے پہننے سے منع کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3602)، ويأتي بأتم (3637)
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 264 (صحیح)
6: باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْفِرَاءِ
باب: چمڑے کا لباس (پوستین) پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ وَالْفِرَاءِ، فَقَالَ: " الْحَلَالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى سُفْيَانُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَوْلَهُ، وَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ، وَسَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: مَا أُرَاهُ مَحْفُوظًا رَوَى سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، مَوْقُوفًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَسَيْفُ بْنُ هَارُونَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَسَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَاصِمٍ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ.
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی ، پنیر اور پوستین ( چمڑے کا لباس ) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا ، اور حرام وہ ہے ، جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کر دیا اور جس چیز کے بارے میں وہ خاموش رہا وہ اس قبیل سے ہے جسے اللہ نے معاف کر دیا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں ، ¤ ۲- اسے سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفاً روایت کیا ہے ، گویا یہ موقوف حدیث زیادہ صحیح ہے ، اس باب میں مغیرہ سے بھی حدیث آئی ہے ، ¤ ۳- میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا : تو انہوں نے کہا : میں اس کو محفوظ نہیں سمجھتا ہوں ، سفیان نے بسند «سليمان التيمي عن أبي عثمان عن سلمان» موقوفا روایت کی ہے ، ¤ ۴- امام بخاری کہتے ہیں : سیف بن ہارون مقارب الحدیث ہیں ، اور سیف بن محمد عاصم سے روایت کرنے میں ذاہب الحدیث ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1726]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کا استعمال جائز اور مباح ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے یہ اصول اپنایا کہ چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے حلال و مباح ہیں، اس کی تائید اس آیت کریمہ سے بھی ہوتی ہے «هو الذي خلق لكم ما في الأرض جميعا» لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی حرمت سے متعلق کوئی دلیل نہ ہو، کیونکہ حرمت کی دلیل آ جانے کے بعد وہ حرام ہو جائیں گی، فقہاء کے مذکورہ اصول اور مذکورہ آیت سے بعض نے پان، تمباکو اور بیڑی سگریٹ کے مباح ہونے پر استدلال کیا ہے، لیکن یہ استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ چیزیں اپنی اصل کے اعتبار سے مباح ہیں، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ ضرر رساں نہ ہوں، اگر دیر یا سویر نقصان ظاہر ہوتا ہے تو ایسی صورت میں وہ ہرگز مباح نہیں ہوں گی، اور مذکورہ چیزوں میں جو ضرر و نقصان ہے یہ کسی سے مخفی نہیں، نیز ان کا استعمال «تبذیر» (اسراف اور فضول خرچی) کے باب میں آتا ہے، لہٰذا ان کی حرمت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: حسن، ابن ماجة (3366)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1726) إسناده ضعيف / جه 3367 ¤ سيف بن ھارون البرجمي: ضعيف أفحش ابن حبان القول فيه (تق: 2727) وفيه علة أخري وللحديث شاھد ضعيف عندالحاكم فى المستدرك (375/2 ح 3419) وأثر الحاكم (115/4 ح 7113 سنده صحيح) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة 60 (3367)، (تحفة الأشراف: 4496) (حسن) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی سیف سخت ضعیف ہیں، دیکھئے: غایة المرام رقم: 3، وتراجع الألبانی 428)
7: باب مَا جَاءَ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
باب: دباغت کے بعد مردار جانوروں کی کھال کے استعمال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَاتَتْ شَاةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِهَا: " أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بکری مر گئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری والے سے کہا : تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1727]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جا سکتا ہے، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5969)، وانظر: صحیح البخاری/الزکاة 61 (1492)، والبیوع 101 (2221)، والذبائح 30 (5531، 5532)، صحیح مسلم/الحیض 27 (363-365)، سنن ابی داود/ اللبا41 (4121)، سنن النسائی/الفرع 4 (4240-4244)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3610)، وط/الصید 6 (16)، مسند احمد (1/237)، 327، 330، 365، 366، 372)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2028) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ "، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ: إِذَا دُبِغَتْ فَقَدْ طَهُرَتْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَيُّمَا إِهَابِ مَيْتَةٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ، إِلَّا الْكَلْبَ وَالْخِنْزِيرَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: إِنَّهُمْ كَرِهُوا جُلُودَ السِّبَاعِ وَإِنْ دُبِغَ، وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَشَدَّدُوا فِي لُبْسِهَا، وَالصَّلَاةِ فِيهَا، قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ: إِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ ": جِلْدُ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ، هَكَذَا فَسَّرَهُ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، وقَالَ إِسْحَاق: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: إِنَّمَا يُقَالُ الْإِهَابُ: لِجِلْدِ مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، وَمَيْمُونَةَ، وَعَائِشَةَ، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْهُ، عَنْ سَوْدَةَ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا يُصَحِّحُ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَقَالَ: احْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس چمڑے کو دباغت دی گئی ، وہ پاک ہو گیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بواسطہ ابن عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی اسی طرح مروی ہے ، ¤ ۳- یہ حدیث ابن عباس سے کبھی میمونہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کبھی سودہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ، ¤ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عباس کی حدیث اور میمونہ کے واسطہ سے مروی ابن عباس کی حدیث کو صحیح کہتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : احتمال ہے کہ ابن عباس نے بواسطہ میمونہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو ، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بھی روایت کیا ، اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۵- نضر بن شمیل نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : نضر بن شمیل نے کہا : «إهاب» اس جانور کے چمڑے کو کہا جاتا ہے ، جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ، ¤ ۶- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں : مردار کا چمڑا دباغت دینے کے بعد پاک ہو جاتا ہے “ ، ¤ ۷- شافعی کہتے ہیں : کتے اور سور کے علاوہ جس مردار جانور کا چمڑا دباغت دیا جائے وہ پاک ہو جائے گا ، انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے ، ¤ ۸- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں نے درندوں کے چمڑوں کو مکروہ سمجھا ہے ، اگرچہ اس کو دباغت دی گئی ہو ، عبداللہ بن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ان لوگوں نے اسے پہننے اور اس میں نماز ادا کرنے کو برا سمجھا ہے ، ¤ ۹- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «أيما إهاب دبغ فقد طهر» کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کا چمڑا دباغت سے پاک ہو جائے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہے ، ¤ ۱۰- اس باب میں سلمہ بن محبق ، میمونہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1728]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چمڑا جسے دباغت دیا گیا ہو وہ پاک ہے، لیکن اس عموم سے درندوں کی کھالیں نکل جائیں گی، کیونکہ اس سلسلہ میں فرمان رسول ہے «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن جلود السباع» یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا ہے، اس حدیث کی بنیاد پر درندوں کی کھالیں ہر صورت میں ناپاک ہی رہیں گی، اور ان کا استعمال ناجائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحیض 27 (366)، سنن ابی داود/ اللباس 41 (4123)، سنن النسائی/الفرع 4 (4246)، سنن ابن ماجہ/اللباس 25 (3609)، (تحفة الأشراف: 5822)، وط/الصید 6 (17)، و مسند احمد (1/219، 270، 279، 280، 343) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَالشَّيْبَانِيِّ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ، وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ، قَالَ: وسَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: كَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَذْهَبُ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِمَا ذُكِرَ فِيهِ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِشَهْرَيْنِ، وَكَانَ يَقُولُ: كَانَ هَذَا آخِرَ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَرَكَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا الْحَدِيثَ لَمَّا اضْطَرَبُوا فِي إِسْنَادِهِ، حَيْثُ رَوَى بَعْضُهُمْ فَقَالَ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ مِنْ جُهَيْنَةَ.
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا کہ تم لوگ مردہ جانوروں کے چمڑے ۱؎ اور پٹھوں سے فائدے نہ حاصل کرو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث عبداللہ بن عکیم سے ان کے شیوخ کے واسطہ سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اس پر عمل نہیں ہے ، ¤ ۴- عبداللہ بن عکیم سے یہ حدیث مروی ہے ، انہوں نے کہا : ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آپ کی وفات سے دو ماہ پہلے آیا ، ¤ ۵- میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا ، احمد بن حنبل اسی حدیث کو اختیار کرتے تھے اس وجہ سے کہ اس میں آپ کی وفات سے دو ماہ قبل کا ذکر ہے ، وہ یہ بھی کہتے تھے : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری حکم تھا ، ¤ ۶- پھر احمد بن حنبل نے اس حدیث کو چھوڑ دیا اس لیے کہ راویوں سے اس کی سند میں اضطراب واقع ہے ، چنانچہ بعض لوگ اسے عبداللہ بن عکیم سے ان کے جہینہ کے شیوخ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1729]
💡 وضاحت:
۱؎: دباغت سے پہلے کی حالت پر محمول ہے، گویا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دباغت سے قبل مردہ جانوروں کے چمڑے سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3613)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ اللباس 42 (4127)، سنن النسائی/الفرع 54 (2455، 2456)، سنن ابن ماجہ/اللباس 26 (3613)، (تحفة الأشراف: 6642)، و مسند احمد (4/210، 311) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء 38، والصحیحة 3133، والضعیفة 118، تراجع الألبانی 15 و 470)
8: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ جَرِّ الإِزَارِ
باب: تہ بند گھسیٹنے کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، كلهم يخبر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمُرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَائِشَةَ، وَهُبَيْبِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند گھیسٹا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں حذیفہ ، ابو سعید خدری ، ابوہریرہ ، سمرہ ، ابوذر ، عائشہ اور وہیب بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1730]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا تکبر کیے بغیر غیر ارادی طور پر تہ بند کا نیچے لٹک جانا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ارادۃ و قصداً نیچے رکھنا اور حدیث میں جو سزا بیان ہوئی ہے اسے معمولی جاننا یہ بڑا جرم ہے، کیونکہ کپڑا گھسیٹ کر چلنا یہ تکبر کی ایک علامت ہے، جو لباس کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3569)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3665)، واللباس 1 (5783)، و 2 (5784)، و 5 (5791)، صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن ابی داود/ اللباس 28 (4085)، سنن النسائی/الزینة 66 (5377)، سنن ابن ماجہ/اللباس 6 (3569)، و 9 (3576)، (تحفة الأشراف: 6726 و 7227 و 8358)، وط/اللباس 5 (9) و مسند احمد (2/5، 10، 32، 42، 44، 46، 55، 56، 60، 65، 67، 69، 74، 76، 81) (صحیح)
9: باب مَا جَاءَ فِي جَرِّ ذُيُولِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کے دامن لٹکانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَكَيْفَ يَصْنَعْنَ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ؟ قَالَ: " يُرْخِينَ شِبْرًا "، فَقَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفُ أَقْدَامُهُنَّ، قَالَ: " فَيُرْخِينَهُ ذِرَاعًا لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ "، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا “ ، ام سلمہ نے کہا : عورتیں اپنے دامنوں کا کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک بالشت لٹکا لیں “ ، انہوں نے کہا : تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے ، آپ نے فرمایا : ” ایک بالشت لٹکائیں ۱؎ اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1731]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کپڑا لٹکانے کے سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حکم ہے، مردوں کے لیے آدھی پنڈلی تک لٹکانا زیادہ بہتر ہے، تاہم ٹخنوں تک رکھنے کی اجازت ہے، لیکن ٹخنوں کا کھلا رکھنا بےحد ضروری ہے، اس کے برعکس عورتیں نہ صرف ٹخنے بلکہ پاؤں تک چھپائیں گی، خاص طور پر جب وہ باہر نکلیں تو اس کا خیال رکھیں کہ پاؤں پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3580 - 3581)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 7526) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ الْحَسَنِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُمْ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَبَّرَ لِفَاطِمَةَ شِبْرًا مِنْ نِطَاقِهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ رُخْصَةٌ لِلنِّسَاءِ فِي جَرِّ الْإِزَارِ، لِأَنَّهُ يَكُونُ أَسْتَرَ لَهُنَّ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کے «نطاق» کے لیے ایک بالشت کا اندازہ لگایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بعض لوگوں نے اسے «حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن عن أمه عن أم سلمة» کی سند سے روایت کی ہے ، ¤ ۲- اس حدیث میں عورتوں کے لیے تہ بند ( چادر ) گھسیٹنے کی اجازت ہے ، اس لیے کہ یہ ان کے لیے زیادہ ستر پوشی کا باعث ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1732]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک بالشت کے برابر لٹکانے کی اجازت دی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3580)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابی داود/ اللباس 40 (4117-4118)، و ق /اللباس 13 (3508)، (تحفة الأشراف: 8257) (صحیح) (ابوداود اور ابن ماجہ کی مذکورہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف راوی ہیں)
10: باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الصُّوفِ
باب: اونی کپڑا پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: " أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا، فَقَالَتْ: قُبِضَ رُوحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبردہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی الله عنہا نے ہمارے سامنے ایک اونی چادر اور موٹا تہ بند نکالا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات انہی دونوں کپڑوں میں ہوئی ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی اور ابن مسعود رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1733]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا» اللہ مجھے مسکین کی زندگی عطا کر اور اسی حالت میں میری وفات ہو، اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول کی چنانچہ آپ کی وفات حدیث میں مذکور دو معمولی کپڑوں میں ہوئی، غور کا مقام ہے کہ آپ زہد کے کس مقام پر فائز تھے، اور دنیاوی مال و متاع سے کس قدر دور رہتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3551)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 5 (3108)، واللباس 19 (5818)، صحیح مسلم/اللباس 6 (2080)، سنن ابی داود/ اللباس 8 (4036)، سنن ابن ماجہ/اللباس 1 (3551)، (تحفة الأشراف: 17693)، و مسند احمد (6/32، 131) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ كِسَاءُ صُوفٍ، وَجُبَّةُ صُوفٍ، وَكُمَّةُ صُوفٍ، وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ، وَكَانَتْ نَعْلَاهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، وَحُمَيْدٌ هُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَعْرَجُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَحُمَيْدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَعْرَجُ الْمَكِّيُّ صَاحِبُ مُجَاهِدٍ ثِقَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْكُمَّةُ: الْقَلَنْسُوَةُ الصَّغِيرَةُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس دن موسیٰ علیہ السلام سے ان کے رب نے گفتگو کی اس دن موسیٰ علیہ السلام کے بدن پر پرانی چادر ، اونی جبہ ، اونی ٹوپی ، اور اونی سراویل ( پائجامہ ) تھا اور ان کے جوتے مرے ہوئے گدھے کے چمڑے کے تھے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید اعرج کی روایت سے جانتے ہیں ، حمید سے مراد حمید بن علی کوفی ہیں ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا کہ حمید بن علی اعرج منکرالحدیث ہیں اور حمید بن قیس اعرج مکی جو مجاہد کے شاگرد ہیں ، وہ ثقہ ہیں ، ¤ ۳- «کمہ» : چھوٹی ٹوپی کو کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1734]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، الضعيفة (4082) // ضعيف الجامع الصغير (4154) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1734) إسناده ضعيف ¤ حميد الأعرج:ضعيف (تق:1566)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9328) (ضعیف جدا) (سند میں حمید بن علی کوفی ضعیف ہیں)
11: باب مَا جَاءَ فِي الْعِمَامَةِ السَّوْدَاءِ
باب: سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَابْنِ حُرَيْثٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَرُكَانَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں علی ، عمر ، ابن حریث ، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1735]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتا ہے، مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے، کیونکہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے، اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2822)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن ابی داود/ اللباس 24 (4076)، سنن النسائی/الحج 107 (2872)، والزینة 109 (5346)، سنن ابن ماجہ/الجہاد22 (2822)، واللباس 14 (2585)، (تحفة الأشراف: 2689)، و مسند احمد (3/363، 387) (صحیح)
12: باب فِي سَدْلِ الْعِمَامَةِ بَيْنَ الْكَتِفَيْنِ
باب: دونوں شانوں کے بیچ عمامہ (پگڑی) لٹکانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ "، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْدِلُ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَرَأَيْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَلَا يَصِحُّ حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي هَذَا مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھتے تو اسے اپنے شانوں کے بیچ لٹکا لیتے ۔ نافع کہتے ہیں : ابن عمر رضی الله عنہما اپنے عمامہ کو شانوں کے بیچ لٹکاتے تھے ۔ عبیداللہ بن عمر کہتے ہیں : میں نے قاسم اور سالم کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، لیکن ان کی حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1736]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (716)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8031) (صحیح)
13: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خَاتَمِ الذَّهَبِ
باب: مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کی حرمت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وغير واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی ، «قسی» ( ایک ریشمی کپڑا ) کا لباس ، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» ( کسم سے رنگے ہوئے زرد ) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1737]
💡 وضاحت:
۱؎: سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم 264 و 1725 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ حَدَّثَنَا، أَنَّهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَمُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو التَّيَّاحِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عمران کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، ابن عمر ، ابوہریرہ اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1738]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3642)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 44 (5190)، (تحفة الأشراف: 10818)، و مسند احمد (4/428، 443) (صحیح)
14: باب مَا جَاءَ فِي خَاتَمِ الْفِضَّةِ
باب: چاندی کی انگوٹھی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَبُرَيْدَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ ( عقیق ) حبشہ کا بنا ہوا تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر اور بریدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1739]
💡 وضاحت:
۱؎: آنے والی انس کی روایت جس میں ذکر ہے کہ نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور باب کی اس روایت میں کوئی تعارض نہیں ہے، کیونکہ احتمال ہے کہ آپ کے پاس دو قسم کی انگوٹھیاں تھیں، یا یہ کہا جائے کہ نگینہ چاندی کا تھا، حبشہ کی جانب نسبت کی وجہ یہ ہے کہ حبشی نقش و نگار یا طرز پر بنا ہوا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3646)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 48 (5870)، صحیح مسلم/اللباس 15 (2094)، سنن ابی داود/ الخاتم 1 (4216)، سنن النسائی/الزینة 47 (5199)، و 7 (5279-5282) سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، (تحفة الأشراف: 1554)، و مسند احمد (3/209)، وانظر الحدیث التالي (صحیح)
15: باب مَا جَاءَ مَا يُسْتَحَبُّ فِي فَصِّ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی کا کیسا نگینہ مستحب ہے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ، فَصُّهُ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی ، اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1740]
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (73)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 48 (5870)، سنن ابی داود/ الخاتم 1 (4217)، سنن النسائی/الزینة 47 (5201)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641) (صحیح)
16: باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْخَاتَمِ فِي الْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَتَخَتَّمَ بِهِ فِي يَمِينِهِ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ اتَّخَذْتُ هَذَا الْخَاتَمَ فِي يَمِينِي، ثُمَّ نَبَذَهُ وَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَ هَذَا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَنَّهُ تَخَتَّمَ فِي يَمِينِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنائی اور اسے داہنے ہاتھ میں پہنا ، پھر منبر پر بیٹھے اور فرمایا : ” میں نے اس انگوٹھی کو اپنے داہنے ہاتھ میں پہنا تھا “ ، پھر آپ نے اسے نکال کر پھینکا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث بواسطہ نافع ابن عمر سے دوسری سند سے اسی طرح آئی ہے ، اس میں انہوں نے یہ ذکر کیا کہ آپ نے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، جابر ، عبداللہ بن جعفر ، ابن عباس ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1741]
💡 وضاحت:
۱؎: فقہاء کے نزدیک دائیں اور بائیں کسی بھی ہاتھ میں انگوٹھی پہننا جائز ہے، ان میں سے افضل کون سا ہے، اس کے بارے میں اختلاف ہے، اکثر فقہاء کے نزدیک دائیں ہاتھ میں پہننا افضل ہے، اس لیے کہ انگوٹھی ایک زینت ہے اور دایاں ہاتھ زینت کا زیادہ مستحق ہے، سونے کی یہ انگوٹھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا یہ اس کے حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (84)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 45 (5865)، و 46 (5866)، و 47 (5867)، و 50 (5873)، و 53 (5876)، والأیمان والنذور 6 (6651)، والاعتصام 4 (7298)، صحیح مسلم/اللباس 11 (2091)، سنن ابی داود/ الخاتم 1 (4218)، سنن النسائی/الزینة 43 (5167)، و 53 (5217-5221)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639)، (تحفة الأشراف: 8471)، و مسند احمد (2/18، 68، 96، 127) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ، وَلَا إِخَالُهُ إِلَّا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الصَّلْتِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
صلت بن عبداللہ بن نوفل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور میرا یہی خیال ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا : صلت بن عبداللہ بن نوفل کے واسطہ سے محمد بن اسحاق کی روایت حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1742]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، الإرواء (3 / 303 - 304)، مختصر الشمائل (80)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الخاتم 5 (4229)، (تحفة الأشراف: 5686) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَتَخَتَّمَانِ فِي يَسَارِهِمَا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
محمد الباقر کہتے ہیں کہ حسن اور حسین اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1743]
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف مختصر الشمائل (82)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1743) إسناده ضعيف ¤ السند منقطع، محمد بن على الباقر لم يدرك الحسن والحسين رضي الله عنهما
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 3408 و 3411) (صحیح موقوف)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ "، قَالَ: وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: هَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ.
حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع ۱؎ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا تو اس کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے دیکھا ، عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ اس باب میں سب سے صحیح روایت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1744]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ابورافع رضی الله عنہ کے لڑکے عبدالرحمن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3747)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 48 (5207)، سنن ابن ماجہ/اللباس 42 (3647)، (تحفة الأشراف: 5222)، و مسند احمد (1/204)، والمؤلف في الشمائل13 (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ”عبد الرحمن بن ابی رافع“ لین الحدیث ہیں)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَنَعَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ فَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " لَا تَنْقُشُوا عَلَيْهِ ": نَهَى أَنْ يَنْقُشَ أَحَدٌ عَلَى خَاتَمِهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ، اس میں «محمد رسول اللہ» نقش کرایا ، پھر فرمایا : ” تم لوگ اپنی انگوٹھی پر یہ نقش مت کرانا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ «لا تنقشوا عليه» کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے منع فرمایا کوئی دوسرا اپنی انگوٹھی پر «محمد رسول الله» نقش کرائے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1745]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (1744)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 50 (5872)، و 51 (5874)، و 54 (5877)، سنن النسائی/الزینة 50 (5211)، و 78 (5283)، و 79 (5284)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3640)، (تحفة الأشراف: 480)، و مسند احمد (3/101، 161) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1746]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا، معلوم ہوا کہ پاخانہ پیشاب جاتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ اس کے ساتھ ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیئے جس کی بےحرمتی ہو، مثلاً اللہ اور اس کے رسول کے نام یا آیات قرآنیہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (303) // ضعيف ابن ماجة برقم (61)، ضعيف أبي داود (5 / 19)، ضعيف سنن النسائي (400 / 5213)، المشكاة (343)، ضعيف الجامع الصغير بلفظ " وضع " (4390) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1746) إسناده ضعيف / د 19، ن 5216، جه 303
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة 10 (19)، سنن النسائی/الزینة 51 (5216)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 11 (303)، (تحفة الأشراف: 1512)، و مسند احمد (3/99، 101، 282)، والمؤلف الشمائل 11 (88) (ضعیف) (بطریق ”الزهري عن أنس“ اصل روایت یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دیا، اس روایت میں یا تو بقول امام ابوداود ہمام سے وہم ہوا ہے، یا بقول البانی اس کے ضعف کا سبب ابن جریج مدلس کا عنعنہ ہے، انہوں نے خود زہری سے نہیں سنا اور بذریعہ عنعنہ روایت کر دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: ضعیف ابی داود رقم 4)
17: باب مَا جَاءَ فِي نَقْشِ الْخَاتَمِ
باب: انگوٹھی کے نقش کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش اس طرح تھا «محمد» ایک سطر ، «رسول» ایک سطر اور «اللہ» ایک سطر میں ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1747]
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 5 (3106)، واللباس 55 (5888، 8579) والمؤلف في الشمائل 12 (تحفة الأشراف: 502) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا «محمد» ایک سطر میں «رسول» ایک سطر میں اور «اللہ» ایک سطر میں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- محمد بن یحییٰ نے اپنی روایت میں تین سطروں کا ذکر نہیں کیا ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1748]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3639 - 3640)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
18: باب مَا جَاءَ فِي الصُّورَةِ
باب: تصویر کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصُّورَةِ فِي الْبَيْتِ، وَنَهَى أَنْ يُصْنَعَ ذَلِكَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي طَلْحَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں تصویر رکھنے سے منع فرمایا اور آپ نے اس کو بنانے سے بھی منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، ابوطلحہ ، عائشہ ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1749]
💡 وضاحت:
۱؎: تصویر کے سلسلہ میں جمہور علماء کی یہ رائے ہے کہ ذی روح اور جاندار کی تصویر قطعی طور پر حرام ہے، غیر جاندار چیزیں مثلاً درخت وغیرہ کی تصویر حرام نہیں ہے، بعض کا کہنا ہے کہ جاندار کی تصویر اگر ایسی جگہ ہو جہاں اسے پاؤں سے روندا جا رہا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (424)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2870) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، " أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ: فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا يَنْزِعُ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلٌ: لِمَ تَنْزِعُهُ؟ فَقَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، قَالَ سَهْلٌ: أَوَلَمْ يَقُلْ: إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ وہ ابوطلحہ انصاری رضی الله عنہ کی عیادت کرنے ان کے گھر گئے ، تو میں نے ان کے پاس سہل بن حنیف رضی الله عنہ کو پایا ، ابوطلحہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی کو وہ چادر نکالنے کے لیے بلایا جو ان کے نیچے تھی ، سہل رضی الله عنہ نے ان سے کہا : کیوں نکال رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اس لیے کہ اس میں تصویریں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں جو کچھ فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں ، سہل رضی الله عنہ نے کہا : آپ نے تو یہ بھی فرمایا ہے : سوائے اس کپڑے کے جس میں نقش ہو ابوطلحہ نے کہا : آپ نے تو یہ فرمایا ہے لیکن یہ میرے لیے زیادہ اچھا ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1750]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرنا میرے نزدیک زیادہ اچھا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح غاية المرام (134)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 111 (5351)، وانظر أیضا: صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3226)، واللباس 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106/85)، سنن ابی داود/ اللباس 48 (4155)، سنن النسائی/الزینة 111 (5252)، (تحفة الأشراف: 3782 و 4663)، و مسند احمد (4/28) (صحیح)
19: باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَوِّرِينَ
باب: مصوروں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا، يَعْنِي: الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎ ، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابوہریرہ ، ابوحجیفہ ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1751]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگا کر سنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح غاية المرام (120 و 422)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، والأدب 96 (5024)، سنن النسائی/الزینة 113 (5361)، (تحفة الأشراف: 5986)، و مسند احمد (1/246)، سنن الدارمی/الرقاق 3 () (صحیح)
20: باب مَا جَاءَ فِي الْخِضَابِ
باب: خضاب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا الشَّيْبَ، وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي رِمْثَةَ، وَالْجَهْدَمَةِ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بال کی سفیدی ( خضاب کے ذریعہ ) بدل ڈالو اور یہود کی مشابہت نہ اختیار کرو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں زبیر ، ابن عباس ، جابر ، ابوذر ، انس ، ابورمثہ ، جہدمہ ، ابوطفیل ، جابر بن سمرہ ، ابوحجیفہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1752]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہود و نصاریٰ خضاب کا استعمال نہیں کرتے، لہٰذا ان کی مخالفت میں اسے استعمال کرو، یہی وجہ ہے کہ سلف میں اس کا استعمال کثرت سے پایا گیا، چنانچہ اسلاف کی سوانح لکھنے والوں میں سے بعض سوانح نگار اس کی بھی تصریح کرتے ہیں کہ فلاں خضاب کا استعمال کرتے تھے اور فلاں نہیں کرتے تھے۔ اور یہ کہ فلاں کالا استعمال کرتے ہیں اور فلاں کالا نہیں استعمال کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح حجاب المرأة (96)، الصحيحة (836)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/الأنبیاء 50 (3462)، واللباس 67 (5899)، صحیح مسلم/اللباس 25 (2103)، سنن ابی داود/ الترجل18 (4203)، سنن النسائی/الزینة 14 (5072)، و 64 (5243)، سنن ابن ماجہ/اللباس 33 (3621)، (تحفة الأشراف: 149851) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَجْلَحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ: الْحِنَّاءُ، وَالْكَتَمُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ اسْمُهُ: ظَالِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُفْيَانَ.
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر چیز جس سے بال کی سفیدی بدلی جائے وہ مہندی اور وسمہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1753]
💡 وضاحت:
۱؎: ـ جو سرخ اور سیاہ مخلوط ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2622)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الترجل 18 (4205)، سنن النسائی/الزینة 16 (5080)، سنن ابن ماجہ/اللباس 32 (3622)، (تحفة الأشراف: 11927)، و مسند احمد (5/147، 150، 154، 156، 169) (صحیح)
21: باب مَا جَاءَ فِي الْجُمَّةِ وَاتِّخَاذِ الشَّعَرِ
باب: کندھوں تک لٹکنے والے بالوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبْعَةً لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، حَسَنَ الْجِسْمِ، أَسْمَرَ اللَّوْنِ، وَكَانَ شَعْرُهُ لَيْسَ بِجَعْدٍ وَلَا سَبْطٍ، إِذَا مَشَى يَتَوَكَّأُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأُمِّ هَانِئٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے ، آپ نہ لمبے تھے نہ کوتاہ قد ، گندمی رنگ کے سڈول جسم والے تھے ، آپ کے بال نہ گھونگھریالے تھے نہ سیدھے ، آپ جب چلتے تو پیر اٹھا کر چلتے جیسا کوئی اوپر سے نیچے اترتا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس سند سے حمید کی روایت سے انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، براء ، ابوہریرہ ، ابن عباس ، ابوسعید ، جابر ، وائل بن حجر اور ام ہانی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1754]
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (1 و 2)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، وانظر: صحیح البخاری/المناقب 23 (3547)، (تحفة الأشراف: 720) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ "، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ هَذَا الْحَرْفَ، " وَكَانَ لَهُ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الْوَفْرَةِ "، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ثِقَةٌ، كَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُوَثِّقُهُ وَيَأْمُرُ بِالْكِتَابَةِ عَنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی ، آپ کے بال «جمہ» سے چھوٹے اور «وفرہ» سے بڑے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- دوسری سندوں سے یہ حدیث عائشہ سے یوں مروی ہے ، کہتی ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھی ، راویوں نے اس حدیث میں یہ جملہ نہیں بیان کیا ہے ، «وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة» ¤ ۳- عبدالرحمٰن بن ابی زناد ثقہ ہیں ، مالک بن انس ان کی توثیق کرتے تھے اور ان کی روایت لکھنے کا حکم دیتے تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1755]
💡 وضاحت:
۱؎: «جمہ» : ایسے بال جو کندھوں تک لٹکتے ہیں، اور «وفرہ» کان کی لو تک لٹکنے والے بال کو کہتے ہیں، بال تین طرح کے ہوتے ہیں: «جمہ» ، «وفرہ» ، اور «لمہ» ، «لمة» : ایسے بال کو کہتے ہیں جو کان کی لو سے نیچے اور کندھوں سے اوپر ہوتا ہے، (یعنی «وفرہ» سے بڑے اور «جمہ» سے جھوٹے) بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بال «جمہ» یعنی کندھوں تک لٹکنے والے تھے، ممکن ہے کبھی «جمہ» رکھتے تھے اور کبھی «لمہ» نیز کبھی «وفرہ» بھی رکھتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (604 و 3635)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الترجل 9 (4187)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3635)، (تحفة الأشراف: 17019) (حسن صحیح)
22: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ التَّرَجُّلِ، إِلاَّ غِبًّا
باب: ہر روز گنگھی کرنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا ، سوائے اس کے کہ ناغہ کر کے کی جائے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1756]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (501)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1756) إسناده ضعيف / د 4159، ن 5058
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ سے اسی جیسی روایت ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1756M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (501)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
23: باب مَا جَاءَ فِي الاِكْتِحَالِ
باب: سرمہ لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس ( داہنی آنکھ ) میں اور تین سلائی اس ( بائیں آنکھ ) میں سرمہ لگاتے تھے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اس لفظ کے ساتھ صرف عباد بن منصور کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1757]
قال الشيخ الألباني: (حديث ابن عباس " اكتحلوا بالإثمد.. ") صحيح دون قوله " وزعم.. "، (الحديث الآخر " عليكم بالإثمد.. ") ** مختصر الشمائل (42)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1757) إسناده ضعيف / جه 3499 ¤ عباد بن منصور عنعن وھو ضعيف مدلس (تقدم:662)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ. وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَيْكُمْ بِالإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ یہ حدیث کئی سندوں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تم لوگ اثمد سرمہ لگاؤ ، اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے ، اور پلکوں کے بال اگاتا ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1757M]
قال الشيخ الألباني: (حديث ابن عباس " اكتحلوا بالإثمد.. ") صحيح دون قوله " وزعم.. "، (الحديث الآخر " عليكم بالإثمد.. ") ** مختصر الشمائل (42)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
24: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالاِحْتِبَاءِ، فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
باب: بدن کو پورے طور پر کپڑا سے لپیٹ لینا اور چوتڑ کے بل کپڑا لپیٹ کر بیٹھنا دونوں منع ہے​۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ: الصَّمَّاءِ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لباس سے منع فرمایا : ” ایک صماء ، اور دوسرا یہ کہ کوئی شخص خود کو کپڑے میں اس طرح لپیٹ لے کہ اس کی شرمگاہ پر اس کپڑے کا کوئی حصہ نہ رہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- یہ دوسری سندوں سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی ، ابن عمر ، عائشہ ، ابوسعید ، جابر اور ابوامامہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1758]
💡 وضاحت:
۱؎: اہل لغت کے نزدیک صماء یہ ہے کہ آدمی چادر سے جسم کو اس طرح لپیٹ لے کہ بوقت ضرورت ہاتھ بھی نہ نکال سکے، فقہاء کے نزدیک صماء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے جسم پر ایک ہی چادر لپیٹے اور اس کا ایک کنارہ اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لے جس سے اس کی شرمگاہ کھل جائے، اور احتباء یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے چوتڑ کے بل بیٹھ جائے اور اوپر سے کپڑا اس طرح لپیٹے کہ شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12788)، وانظر: مسند احمد (2/319، 529) (صحیح)
25: باب مَا جَاءَ فِي مُوَاصَلَةِ الشَّعْرِ
باب: بالوں میں جوڑے لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ "، قَالَ نَافِعٌ: الْوَشْمُ فِي اللِّثَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَمُعَاوِيَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے بال میں جوڑے لگانے والی ، بال میں جوڑے لگوانے والی ، گدنا گوندنے والی اور گدنا گوندوانے والی پر لعنت بھیجی ہے “ ۔ نافع کہتے ہیں : گدنا مسوڑے میں ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ ، ابن مسعود ، اسماء بنت ابی بکر ، ابن عباس ، معقل بن یسار اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1759]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غالب احوال کے تحت ہے ورنہ جسم کے دوسرے حصوں پر بھی گدنا گوندنے کا عمل ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1987)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، و 85 (5940، 5942)، و 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن ابی داود/ الترجل 5 (4168)، (2784)، سنن النسائی/الزینة 23 (5098)، 72 (5253)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1987) (تحفة الأشراف: 7930)، و مسند احمد (2/21) ویأتي في الأدب 33 (برقم 2783) (صحیح)
26: باب مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ
باب: ریشمی زین پر سوار ہونے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رُكُوبِ الْمَيَاثِرِ "، قَالَ: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَمُعَاوِيَةَ، وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ نَحْوَهُ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ریشمی زین پر سوار ہونے سے منع فرمایا : راوی کہتے ہیں : اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- براء رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲ - اس باب میں علی اور معاویہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، شعبہ نے بھی اشعث بن ابی شعثاء سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، اس حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1760]
قال الشيخ الألباني: صحيح آداب الزفاف (125)، المشكاة (4358 / التحقيق الثانى)، الصحيحة (2396)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 71 (5175)، والأشربة 28 (5635)، والمرضی 4 (5650)، واللباس 28 (5838)، و 36 (5849)، و 45 (5863)، والأدب 124 (6222)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2066)، (تحفة الأشراف: 1916)، و مسند احمد (4/284، 299) وکلہم في سیاق طویل منہ ہذا الشق (صحیح)
27: باب مَا جَاءَ فِي فِرَاشِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمٌ حَشْوُهُ لِيفٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ حَفْصَةَ، وَجَابِرٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس بچھونے پر سوتے تھے وہ چمڑے کا تھا ، اس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں حفصہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1761]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (4151)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرقاق 16 (6456)، صحیح مسلم/اللباس 6 (2082)، سنن ابی داود/ اللباس 45 (4146)، سنن ابن ماجہ/الزہد 11 (4151)، (تحفة الأشراف: 17107)، و مسند احمد (6/48، 56، 73، 108، 107) (صحیح)
28: باب مَا جَاءَ فِي الْقُمُصِ
باب: قمیص کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف عبدالمومن بن خالد کی روایت سے جانتے ہیں ، وہ اسے روایت کرنے میں منفرد ہیں ، وہ مروزی ہیں ، ¤ ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث کو اس سند سے روایت کی ہے ، «عن أبي تميلة عن عبد المؤمن بن خالد عن عبد الله بن بريدة عن أمه عن أم سلمة» ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1762]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3575)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ اللباس 3 (4025)، سنن ابن ماجہ/اللباس 8 (3575)، (تحفة الأشراف: 18169) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ "، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَصَحُّ، وَإِنَّمَا يُذْكَرُ فِيهِ أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ أُمِّهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ لباس قمیص تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ محمد بن اسماعیل کو کہتے سنا : عبداللہ بن بریدہ کی حدیث جو ان کی ماں کے واسطہ سے ام سلمہ سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے ، ابوتمیلہ اس حدیث میں «عن امہ» کا واسطہ ضرور بیان کرتے تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1763]
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: " كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ لباس قمیص تھی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1764]
تخریج دارالدعوہ: انظر رقم 1762 (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: " كَانَ كُمُّ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّسْغِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو کی آستین کلائی ( پہنچوں ) تک ہوتی تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1765]
قال الشيخ الألباني: ضعيف مختصر الشمائل (47)، الضعيفة (3457) //، ضعيف أبي داود (870 / 4027)، ضعيف الجامع الصغير (4479) //
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ اللباس 3 (4027)، (تحفة الأشراف: 15765) (ضعیف) (اس کے راوی شہر بن حوشب حافظہ کے بہت کمزور ہیں اس لیے ان سے بہت وہم ہو جاتا تھا)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا، بَدَأَ بِمَيَامِنِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قمیص پہنتے تو داہنی طرف سے ( پہننا ) شروع کرتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ کئی لوگوں نے یہ حدیث بسند «شعبة عن أبي هريرة» موقوف روایت کی ہے ، شعبہ سے روایت کرنے والے عبدالصمد بن عبدالوارث کے علاوہ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اسے مرفوع طریقہ سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1766]
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4330 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف وأخرجہ النسائي في الکبریٰ)، (تحفة الأشراف: 12399) (صحیح)
29: باب مَا يَقُولُ إِذَا لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا
باب: نیا کپڑا پہنتے وقت کیا دعا پڑھے؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ نَحْوَهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے جیسے عمامہ ( پگڑی ) ، قمیص یا چادر ، پھر کہتے : «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ” اللہ ! تیرے ہی لیے تعریف ہے ، تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے ، میں تم سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر کا طلب گار ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے ، اور اس کی شر اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1767]
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4342)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ نَحْوَهُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
اس سند سے بھی ابوسعید رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1767M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4342)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
30: باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْجُبَّةِ وَالْخُفَّيْنِ
باب: جبہ اور موزہ پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا جس کی آستینیں تنگ تھیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1768]
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (57)، صحيح أبي داود (139 - 140)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11516) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هُوَ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ " أَهْدَى دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَالَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرٍ وَجُبَّةً فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا لَا يَدْرِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَكِيٌّ هُمَا أَمْ لَا وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو إِسْحَاق اسْمُهُ سُلَيْمَانُ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ هُوَ أَخُو أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دحیہ کلبی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو موزے تحفہ بھیجے ، چنانچہ آپ نے انہیں پہنا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اسرائیل نے اپنی روایت میں کہا ہے ( جسے وہ بطریق «عن جابر» روایت کرتے ہیں ) : ایک جبہ بھی بھیجا ، آپ نے ان دونوں موزوں کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ مذبوح جانور کی کھال کے ہیں یا غیر مذبوح ، ¤ ۳- ابواسحاق سبیعی کا نام سلیمان ہے ، ۴- حسن بن عیاش ابوبکر بن عیاش کے بھائی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1769]
قال الشيخ الألباني: (حديث المغيرة) صحيح، (حديث عامر) ضعيف (حديث المغيرة) مختصر الشمائل (59)، (حديث عامر) مختصر الشمائل (59)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1769) إسناده ضعيف ¤ حديث إسرائيل عن جابر عن عامر: ضعيف (جابر الجعفي ضعيف تقدم:206) وباقي الحديث صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 11516) (صحیح)
32: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّهُ كَرِهَ جُلُودَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،
عرفجہ بن اسعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کلاب ۱؎ ( ایک لڑائی ) کے دن میری ناک کٹ گئی ، میں نے چاندی کی ایک ناک لگائی تو اس سے بدبو آنے لگی ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی ایک ناک لگانے کا حکم دیا ۲؎ ۔ اس سند سے بھی ابوشہب سے اسی جیسی حدیث روایت ہے ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن طرفہ کی روایت سے جانتے ہیں ، سلیم بن زریر نے بھی عبدالرحمٰن بن طرفہ سے ابوشہاب کی حدیث جیسی روایت کی ہے ، ¤ ۳- اہل علم میں سے کئی ایک سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دانتوں کو سونے ( کے تار ) سے باندھا ، اس حدیث میں ان کے لیے دلیل موجود ہے ، ¤ ۴- عبدالرحمٰن بن مہدی نے ( سلم بن زریر کے بجائے ) سلم بن زرین کہا ہے ، یہاں ان سے وہم ہوا ہے وزریر زیادہ صحیح ہے ، راوی ابوسعید صغانی کا نام محمد بن میسر ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1770]
💡 وضاحت:
۱؎: عرب کے مشہور جنگوں میں سے ایک جنگ کا نام ہے۔
۲؎: اسی سے استدلال کرتے ہوئے علماء کہتے ہیں کہ اشد ضرورت کے تحت سونے کی ناک بنانا اور سونے کے تار سے دانت باندھنا صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّهُ كَرِهَ جُلُودَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،
اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال بچھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال بچھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1770M]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث عام ہے، اس لیے درندوں کی کھالیں مدبوغ (پکائی ہوئی) ہوں کا یا غیر مدبوغ (بلا پکائی ہوئی) دونوں کا استعمال ممنوع ہے، یہ حدیث «كل إهاب دبغ فقد طهر» کے لیے مخص ہے۔ یعنی (ہر پکا ہوا چمڑا پاک ہے) کا مطلب یہ ہے کہ جو حلال اور مذبوح جانور کا چمڑا ہو، درندوں کا چمڑا پکا ہوا ہو تب بھی اس کا استعمال حرام ہے اس لیے کہ درندے حرام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّهُ كَرِهَ جُلُودَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،
اس سند سے بھی ابوالملیح نے اسامہ بن عمیر رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کے چمڑا ( کے استعمال ) سے منع کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1770M]
قال الشيخ الألباني: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّهُ كَرِهَ جُلُودَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،
اس سند سے ابوالملیح سے روایت ہے کہ وہ درندوں کی کھالیں مکروہ سمجھتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ہم نہیں جانتے کہ سعید بن ابی عروبہ کے سوا کسی نے سند میں «عن أبي المليح ، عن أبيه أسامه بن عمير» کہا ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1770M]
قال الشيخ الألباني: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ " وَهَذَا أَصَحُّ.
ابوالملیح سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال ( استعمال کرنے ) سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1771]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سند میں ابوالملیح کے بعد «عن أبیہ» کے واسطہ والی روایت جو سعید بن ابی عروبہ سے ہے، اس سے شعبہ کی یہ روایت جس میں «عن أبیہ» کا ذکر نہیں ہے، زیادہ صحیح ہے، کیونکہ سعید کی بنسبت شعبہ کا حافظہ زیادہ قوی ہے۔
قال الشيخ الألباني: (حديث عبد الله بن إسماعيل بن أبي خالد عن ... إلى أبي المليح عن أبيه) **، (حديث يحيى بن سعيد حدثنا ... إلى أبي المليح عن أبيه) صحيح، (حديث معاذ بن هشام ... إلى أبي المليح) صحيح انظر ما قبله (1770)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 19598) (صحیح)
33: باب مَا جَاءَ فِي نَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے جوتے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: كَيْفَ كَانَ نَعْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ لَهُمَا: " قِبَالَانِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کیسے تھے ؟ کہا : ان کے دو تسمے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1772]
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (60 و 62)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 41 (5857)، (وانظر أیضا: الخمس رقم 3107) سنن ابی داود/ اللباس 44 (4134)، سنن ابن ماجہ/اللباس 27 (1615)، (تحفة الأشراف: 1392)، و مسند احمد (3/122، 203، 245، 269) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ نَعْلَاهُ لَهُمَا قِبَالَانِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کے دو تسمے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس و ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1773]
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل (60 و 62)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
34: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمَشْىِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی آدمی ایک جوتا پہن کر نہ چلے ، دونوں پہن لے یا دونوں اتار دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1774]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3617)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 40 (5855)، صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن ابی داود/ اللباس 44 (4136)، سنن النسائی/اللباس 29 (1617)، (تحفة الأشراف: 13800)، و مسند احمد (2/245، 314) (صحیح) (وانظر أیضا: سنن ابی داود/ اللباس 19 (2098)، وسنن النسائی/الزینة 117 (5371)، وط/اللباس7 (14)، و مسند احمد (2/253، 424، 477، 480، 528)
35: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ
باب: کھڑے ہو کر جوتے پہننے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَالْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْحَافِظِ، وَلَا نَعْرِفُ لِحَدِيثِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَصْلًا.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر جوتا پہنے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- عبیداللہ بن عمر ورقی نے اس حدیث کو معمر سے ، معمر نے قتادہ سے ، قتادہ نے انس سے روایت کی ہے ، یہ دونوں حدیثیں محدثین کے نزدیک صحیح نہیں ہیں ، حارث بن نبہان کا حافظہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے ، ¤ ۳- قتادہ کی انس سے مروی حدیث کی ہم کوئی اصل نہیں جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1775]
💡 وضاحت:
۱؎: کھڑے ہو کر جوتا پہننے میں یہ دقت ہے کہ پہننے والا بسا اوقات گر سکتا ہے، جب کہ بیٹھ کر پہننے میں زیادہ سہولت ہے، اگر کھڑے ہو کر پہننے میں ایسی کوئی پریشانی نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3618)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1775) ضعيف جدًا ¤ الحارث بن نبھان: متروك (تق: 1051) وللحديث شواھد ضعيفة عند ابن ماجه (3618،3619) وغيره
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف وانظر: سنن ابن ماجہ/اللباس 29 (3618)، (تحفة الأشراف: 1463) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا راوی حارث بن نبہان متروک الحدیث ہے، دیکھئے: سلسلہ الصحیحہ رقم 719)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ وَهُوَ قَائِمٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: وَلَا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ، وَلَا حَدِيثُ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ۔ ٍ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح نہیں ہے ، اور نہ ہی معمر کی حدیث جسے وہ عمار بن ابی عمار سے اور عمار ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1776]
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (1775)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1776) إسناده ضعيف ¤ قتاده عنعن (تقدم: 30)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1340) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں)
36: باب مَا جَاءَ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي الْمَشْىِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ
باب: ایک جوتا پہن کر چلنے کی رخصت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ كُوفِيٌّ، حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " رُبَّمَا مَشَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بسا اوقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوتا پہن کر چلتے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1777]
قال الشيخ الألباني: منكر، المشكاة (4416)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1777) إسناده ضعيف ¤ ليث بن أبى سليم: ضعيف (تقدم: 218)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17516) (منکر) (اس کے راوی لیث بن ابی سلیم متروک الحدیث ہیں، اس حدیث کا عائشہ پر موقوف ہو نا ہی صحیح ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے، اور مؤلف نے صراحت کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا مَشَتْ بِنَعْلٍ وَاحِدَةٍ "، وَهَذَا أَصَحُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ ایک جوتا پہن کر چلیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۱؎ ، ¤ ۲- سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے اسی طرح اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے موقوف طریقہ سے روایت کیا ہے اور یہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1778]
💡 وضاحت:
۱؎ ـ: یعنی عبدالرحمٰن بن قاسم کے واسطہ سے سفیان بن عیینہ کی یہ موقوف روایت اس سے ماقبل لیث کی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ لیث کی بنسبت سفیان بن عیینہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ان کا حافظہ قوی ہے، جب کہ لیث آخری عمر میں اپنے حافظہ کے اعتبار سے کمزور ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح المصدر نفسه
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1778) إسناده ضعيف ¤ سفيان بن عيينه مدلس وعنعن ولم أجد تصريح سماعه (د 295)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17489) (صحیح)
37: باب مَا جَاءَ بِأَىِّ رِجْلٍ يَبْدَأُ إِذَا انْتَعَلَ
باب: جوتا پہلے کس پاؤں میں پہننا چاہئے۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ فَلْتَكُنْ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی جوتا پہنے تو داہنے پیر سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے ، پہننے میں داہنا پاؤں پہلے اور اتارنے میں پیچھے ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1779]
💡 وضاحت:
۱؎: جوتا پہننا پاؤں کے لیے عزت و تکریم کا باعث ہے، اس لحاظ سے اس تکریم کا مستحق داہنا پاؤں سب سے زیادہ ہے، کیونکہ دایاں پاؤں بائیں سے بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3616)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 39 (5854)، سنن ابی داود/ اللباس 44 (4139)، سنن ابن ماجہ/اللباس 28 (3616)، (تحفة الأشراف: 13814)، وط/اللباس 7 (15)، و مسند احمد (2/283، 430، 477) (صحیح)
38: باب مَا جَاءَ فِي تَرْقِيعِ الثَّوْبِ
باب: کپڑے میں پیوند لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ " وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: " صَحِبْتُ الْأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْبَرَهَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي، وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اگر تم ( آخرت میں ) مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو دنیا سے مسافر کے سامان سفر کے برابر حاصل کرنے پر اکتفا کرو ، مالداروں کی صحبت سے بچو اور کسی کپڑے کو اس وقت تک پرانا نہ سمجھ یہاں تک کہ اس میں پیوند لگا لو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف صالح بن حسان کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : صالح بن حسان منکر حدیث ہیں اور صالح بن ابی حسان جن سے ابن ابی ذئب نے روایت کی ہے وہ ثقہ ہیں ، ¤ ۴- [سنن ترمذي/حدیث: 1780]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، الضعيفة (1294)، التعليق الرغيب (4 / 98)، المشكاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1780) إسناده ضعيف جدًا ¤ صالح بن حسان: متروك (تق: 2849)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الترجل 12 (4191)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3631)، (تحفة الأشراف: 18011) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
مَنْ رَأَى مَنْ فُضِّلَ عَلَيْهِ فِي الْخَلْقِ وَالرِّزْقِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْهُ مِمَّنْ فُضِّلَ هُوَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ لَا يَزْدَرِيَ نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ " وَيُرْوَى عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: " صَحِبْتُ الْأَغْنِيَاءَ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا أَكْبَرَهَمًّا مِنِّي أَرَى دَابَّةً خَيْرًا مِنْ دَابَّتِي وَثَوْبًا خَيْرًا مِنْ ثَوْبِي، وَصَحِبْتُ الْفُقَرَاءَ فَاسْتَرَحْتُ ".
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «إياك ومجالسة الأغيناء» کا مطلب اسی طرح ہے جیسا کہ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس آدمی کو دیکھے جس کو صورت اور رزق میں اس پر فضیلت دی گئی ہو ، تو اسے چاہیئے کہ اپنے سے کم تر کو دیکھے جس کے اوپر اس کو فضیلت دی گئی ہے ، کیونکہ اس کے لیے مناسب ہے کہ اپنے اوپر کی گئی اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ کرے “ ، ¤ ۴- عون بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں : میں مالداروں کے ساتھ رہا تو اپنے سے زیادہ کسی کو غمزدہ نہیں دیکھا ، کیونکہ میں اپنے سے بہتر سواری اور اپنے سے بہتر کپڑا دیکھتا تھا اور جب میں غریبوں کے ساتھ رہا تو میں نے راحت محسوس کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1780M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا، الضعيفة (1294)، التعليق الرغيب (4 / 98)، المشكاة (4344 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1288) //
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الترجل 12 (4191)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3631)، (تحفة الأشراف: 18011) (صحیح)
39: باب الضَّفَائِرِ وَالْغَدَائِرِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ ضَفَائِرَ " أَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ مَكِّيٌّ.
ام ہانی رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ اس حال میں آئے کہ آپ کی چار چوٹیاں تھیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ام ہانی سے مجاہد کا سماع میں نہیں جانتا ہوں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1781]
💡 وضاحت:
۱؎: ممکن ہے گردوغبار سے بالوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ نے ایسا کیا ہو، کیونکہ اس وقت آپ سفر میں تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3631)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1781) إسناده ضعيف / د 4191، جه 3631
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَلَهُ أَرْبَعُ ضَفَائِرَ " أَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ مَكِّيٌّ.
اس سند سے بھی ام ہانی رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1781M]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3631)
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
40: باب كَيْفَ كَانَ كِمَامُ الصَّحَابَةِ
باب: صحابہ کرام کی آستینیں کیسی تھیں؟
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيَّ يَقُولُ: " كَانَتْ كِمَامُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحًا " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ بَصْرِيٌّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ، وَبُطْحٌ يَعْنِي وَاسِعَةً.
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی آستینیں کشادہ تھیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث منکر ہے ، ¤ ۲- عبداللہ بن بسر بصرہ کے رہنے والے ہیں ، محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں ، یحییٰ بن سعید وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے ، ¤ ۳- «بطح» چوڑی اور کشادہ چیز کو کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1782]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4333 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1782) إسناده ضعيف ¤ أبوسعيد عبدالله بن بسر: ضعيف (تق:3230) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 405/9)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 12144) (ضعیف) (اس کے راوی عبد اللہ بن بسر مکی ضعیف ہیں)
41: باب فِي مَبْلَغِ الإِزَارِ
باب: تہ بند کہاں تک لٹکے اس کی حد کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: " أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ، فَقَالَ: " هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ "، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی یا میری پنڈلی کا گوشت پکڑا اور فرمایا : ” یہ تہبند کی جگہ ہے ، اگر اس پر راضی نہ ہو تو تھوڑا اور نیچا کر لو ، پھر اگر اور نیچا کرنا چاہو تو تہ بند ٹخنوں سے نیچا نہیں کر سکتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ثوری اور شعبہ نے بھی اس کو ابواسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1783]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تہ بند باندھنے کی اصل جگہ آدھی پنڈلی تک اگر اس سے نیچا رکھنا ہے تو ٹخنوں سے کچھ اوپر تک رکھنے کی گنجائش ہے، اس سے نیچا رکھنا منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3572)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 7 (3572)، (تحفة الأشراف: 3383) و مسند احمد (5/382، 396، 398، 400، 401) (صحیح)
42: باب الْعَمَائِمِ عَلَى الْقَلاَنِسِ
باب: ٹوپی پر عمامہ (پگڑی) باندھنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُكَانَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ فَرْقَ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَإِسْنَادُهُ لَيْسَ بِالْقَائِمِ وَلَا نَعْرِفُ أَبَا الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيَّ، وَلَا ابْنَ رُكَانَةَ.
محمد بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پچھاڑ دیا ، رکانہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا : ” ہمارے اور مشرکوں کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامہ باندھنے کا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس کی سند قائم ( صحیح ) نہیں ہے ، ¤ ۳- ہم ابوالحسن عسقلانی اور ابن رکانہ کو نہیں جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1784]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4340)، الإرواء (1503) // ضعيف الجامع الصغير (3959)، ضعيف أبي داود (882 / 4078) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1784) إسناده ضعيف / د 4078
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ اللباس 24 (4078)، (تحفة الأشراف: 3614) (ضعیف) (اس کے راوی ابو جعفر بن محمد مجہول ہیں نیز محمد بن علی یزید بن رکانہ اور ان کے پردادا رکانہ یا محمد بن یزید بن رکانہ ان کے دادا کے درمیان انقطاع ہے، اس بابت سخت اختلاف ہے دیکھئے: تہذیب الکمال)
43: باب مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ الْحَدِيدِ
باب: لوہے کی انگوٹھی کے استعمال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ فَقَالَ: " مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ "، ثُمَّ جَاءَهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: " مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ "، ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: " مَالِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ، قَالَ: " مِنْ وَرِقٍ وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا " قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ يُكْنَى أَبَا طَيْبَةَ وَهُوَ مَرْوَزِيٌّ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کی انگوٹھی پہن کر آیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہنمیوں کا زیور پہنے ہو ؟ “ پھر وہ آپ کے پاس پیتل کی انگوٹھی پہن کر آیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے کہ تم سے بتوں کی بدبو آ رہی ہے ؟ پھر وہ آپ کے پاس سونے کی انگوٹھی پہن کر آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جنتیوں کا زیور پہنے ہو ؟ اس نے پوچھا : میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟ آپ نے فرمایا : ” چاندی کی اور ( وزن میں ) ایک مثقال سے کم رکھو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- عبداللہ بن مسلم کی کنیت ابوطیبہ ہے اور وہ عبداللہ بن مسلم مروزی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1785]
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (4396)، آداب الزفاف (128)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الخاتم 4 (4223)، سنن النسائی/الزینة 46 (5198)، (تحفة الأشراف: 1982)، و مسند احمد (5/359) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن مسلم ابو طیبہ حافظہ کے کمزور ہیں، انہیں اکثر وہم ہو جایا کرتا تھا)
44: باب كَرَاهِيَةِ التَّخَتُّمِ فِي أُصْبُعَيْنِ
باب: دو انگلی میں انگوٹھی پہننے کی کراہت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُوسَى، قَال: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَائِ وَأَنْ أَلْبَسَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ وَفِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قسي» ( ایک ریشمی کپڑا ) سرخ ( رنگ کا ریشمی ) زین پوش اور اس انگلی اور اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا اور انہوں نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1786]
قال الشيخ الألباني: صحيح - بلفظ " فى هذه أو هذه " شك عاصم - الضعيفة (5499)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس 16 (2087)، والذکر 18 (2725)، سنن ابی داود/ الخاتم 4 (4225)، سنن النسائی/الزینة 52 (5213)، 79 (5288)، و 121 (5378)، سنن ابن ماجہ/اللباس 43 (3648)، (تحفة الأشراف: 10318)، و مسند احمد (1/88، 134، 138) (صحیح) ہذہ أو ہذہ کے لفظ سے صحیح ہے، اور دونوں سیاق کا معنی ایک ہی ہے)
45: باب مَا جَاءَ فِي أَحَبِّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا الْحِبَرَةُ. قال أبو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ کپڑا جسے آپ پہنتے تھے وہ دھاری دار یمنی چادر تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1787]
قال الشيخ الألباني: صحيح مختصر الشمائل المحمدية (51)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 18 (5812)، صحیح مسلم/اللباس 5 (2079)، سنن النسائی/الزینة 94 (5317)، والمؤلف في الشمائل 8 (تحفة الأشراف: 1353)، و مسند احمد (3/134، 184، 251، 291) (صحیح)
← پچھلی کتاب #24 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #26 →