جامع الترمذي حدیث نمبر: 1737
Jami at-Tirmidhi 1737
کتاب #25: کتاب: لباس کے احکام و مسائل
13: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ خَاتَمِ الذَّهَبِ
باب: مرد کے لیے سونے کی انگوٹھی پہننے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وغير واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی ، «قسی» ( ایک ریشمی کپڑا ) کا لباس ، رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے اور «معصفر» ( کسم سے رنگے ہوئے زرد ) کپڑے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1737]
💡 وضاحت:
۱؎: سونا مردوں کے لیے حرام ہے، نہ کہ عورتوں کے لیے، لہٰذا ممانعت مردوں کے لیے ہے، رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح بیان کی جاتی ہے، اس میں قرآن پڑھنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 264 و 1725 (صحیح)