جامع الترمذي حدیث نمبر: 1735
Jami at-Tirmidhi 1735
کتاب #25: کتاب: لباس کے احکام و مسائل
11: باب مَا جَاءَ فِي الْعِمَامَةِ السَّوْدَاءِ
باب: سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعُمَرَ، وَابْنِ حُرَيْثٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَرُكَانَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں علی ، عمر ، ابن حریث ، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1735]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کالی پگڑی پہننے کا جواز ثابت ہوتا ہے، مکمل کالا لباس نہ پہننا بہتر ہے، کیونکہ یہ ایک مخصوص جماعت کا ماتمی لباس ہے، اس لیے اس کی مشابہت سے بچنا اور اجتناب کرنا ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2822)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن ابی داود/ اللباس 24 (4076)، سنن النسائی/الحج 107 (2872)، والزینة 109 (5346)، سنن ابن ماجہ/الجہاد22 (2822)، واللباس 14 (2585)، (تحفة الأشراف: 2689)، و مسند احمد (3/363، 387) (صحیح)