جامع الترمذي حدیث نمبر: 1746
Jami at-Tirmidhi 1746
کتاب #25: کتاب: لباس کے احکام و مسائل
16: باب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ الْخَاتَمِ فِي الْيَمِينِ
باب: داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہننے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ نَزَعَ خَاتَمَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو اپنی انگوٹھی اتار دیتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1746]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ اس پر «محمد رسول اللہ» نقش تھا، معلوم ہوا کہ پاخانہ پیشاب جاتے وقت اس بات کا خیال رہے کہ اس کے ساتھ ایسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیئے جس کی بےحرمتی ہو، مثلاً اللہ اور اس کے رسول کے نام یا آیات قرآنیہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (303) // ضعيف ابن ماجة برقم (61)، ضعيف أبي داود (5 / 19)، ضعيف سنن النسائي (400 / 5213)، المشكاة (343)، ضعيف الجامع الصغير بلفظ " وضع " (4390) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1746) إسناده ضعيف / د 19، ن 5216، جه 303
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة 10 (19)، سنن النسائی/الزینة 51 (5216)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 11 (303)، (تحفة الأشراف: 1512)، و مسند احمد (3/99، 101، 282)، والمؤلف الشمائل 11 (88) (ضعیف) (بطریق ”الزهري عن أنس“ اصل روایت یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی، پھر اسے پھینک دیا، اس روایت میں یا تو بقول امام ابوداود ہمام سے وہم ہوا ہے، یا بقول البانی اس کے ضعف کا سبب ابن جریج مدلس کا عنعنہ ہے، انہوں نے خود زہری سے نہیں سنا اور بذریعہ عنعنہ روایت کر دیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھئے: ضعیف ابی داود رقم 4)