جامع الترمذي حدیث نمبر: 1751
Jami at-Tirmidhi 1751
کتاب #25: کتاب: لباس کے احکام و مسائل
19: باب مَا جَاءَ فِي الْمُصَوِّرِينَ
باب: مصوروں کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، عَذَّبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا، يَعْنِي: الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي جُحَيْفَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا رہے گا یہاں تک کہ مصور اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ، اور جس نے کسی قوم کی بات کان لگا کر سنی حالانکہ وہ اس سے بھاگتے ہوں ۱؎ ، قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابوہریرہ ، ابوحجیفہ ، عائشہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1751]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے، پھر بھی اس نے کان لگا کر سنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح غاية المرام (120 و 422)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، والأدب 96 (5024)، سنن النسائی/الزینة 113 (5361)، (تحفة الأشراف: 5986)، و مسند احمد (1/246)، سنن الدارمی/الرقاق 3 () (صحیح)