📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: لباس کے احکام و مسائل (كتاب اللباس) 🏷️ باب: باب: ریشم اور سونے کے حکم کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1720 Jami at-Tirmidhi 1720
کتاب #25: کتاب: لباس کے احکام و مسائل
1: باب مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ
باب: ریشم اور سونے کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي، وَأُحِلَّ لِإِنَاثِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَأُمِّ هَانِئٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي رَيْحَانَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَالْبَرَاءِ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، علی ، عقبہ بن عامر ، انس ، حذیفہ ، ام ہانی ، عبداللہ بن عمرو ، عمران بن حصین ، عبداللہ بن زبیر ، جابر ، ابوریحان ، ابن عمر ، براء ، اور واثلہ بن اسقع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1720]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلمان مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے حرام ہیں، حرمت کی کئی وجہیں ہیں: کفار و مشرکین سے اس میں مشابہت پائی جاتی ہے، زیب و زینت عورتوں کا خاص وصف ہے، مردوں کے لیے یہ پسندیدہ نہیں، اس پہلو سے یہ دونوں حرام ہیں، اسلام جس سادگی کی تعلیم دیتا ہے یہ اس سادگی کے خلاف ہے، حالانکہ سادگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ایمان کا حصہ ہے، آپ کا ارشاد ہے «البذاذة من الإيمان» یعنی سادہ اور بےتکلف رہن سہن اختیار کرنا ایمان کا حصہ ہے، یہ دونوں چیزیں عورتوں کے لیے حلال ہیں، لیکن حلال ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے استعمال میں حد سے تجاوز کیا جائے، اسی طرح یہاں حلت کا تعلق صرف سونے کے زیورات سے ہے، نہ کہ ان سے بنے ہوئے برتنوں سے کیونکہ سونے (اور چاندی) سے بنے ہوئے برتن سب کے لیے حرام ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3595)
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الزینة 40 (5151)، و74 (5267)، (تحفة الأشراف: 8998)، و مسند احمد (4/392، 393، 407) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1720
1718 1719 1720 1721 1722

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1721 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَة...
سوید بن غفلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر نے مقام جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی اکرم صلی اللہ علی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ