جامع الترمذي حدیث نمبر: 1730
Jami at-Tirmidhi 1730
کتاب #25: کتاب: لباس کے احکام و مسائل
8: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ جَرِّ الإِزَارِ
باب: تہ بند گھسیٹنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، كلهم يخبر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمُرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَائِشَةَ، وَهُبَيْبِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جس نے تکبر سے اپنا تہ بند گھیسٹا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں حذیفہ ، ابو سعید خدری ، ابوہریرہ ، سمرہ ، ابوذر ، عائشہ اور وہیب بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1730]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا تکبر کیے بغیر غیر ارادی طور پر تہ بند کا نیچے لٹک جانا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، لیکن ارادۃ و قصداً نیچے رکھنا اور حدیث میں جو سزا بیان ہوئی ہے اسے معمولی جاننا یہ بڑا جرم ہے، کیونکہ کپڑا گھسیٹ کر چلنا یہ تکبر کی ایک علامت ہے، جو لباس کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3569)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3665)، واللباس 1 (5783)، و 2 (5784)، و 5 (5791)، صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، سنن ابی داود/ اللباس 28 (4085)، سنن النسائی/الزینة 66 (5377)، سنن ابن ماجہ/اللباس 6 (3569)، و 9 (3576)، (تحفة الأشراف: 6726 و 7227 و 8358)، وط/اللباس 5 (9) و مسند احمد (2/5، 10، 32، 42، 44، 46، 55، 56، 60، 65، 67، 69، 74، 76، 81) (صحیح)