📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: کھانے کے احکام و مسائل (كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: سرکہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1841 Jami at-Tirmidhi 1841
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
35: باب مَا جَاءَ فِي الْخَلِّ
باب: سرکہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ "، فَقُلْتُ: لَا إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ وَخَلٌّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرِّبِيهِ فَمَا أَقْفَرَ بَيْتٌ مِنْ أُدْمٍ فِيهِ خَلٌّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أُمِّ هَانِئٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَأَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ اسْمُهُ ثَابِتُ بْنُ أَبِي صَفِيَّةَ، وَأُمُّ هَانِئٍ مَاتَتْ بَعْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِزَمَانٍ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: لَا أَعْرِفُ لِلشَّعْبِيِّ سَمَاعًا مِنْ أُمِّ هَانِئٍ فَقُلْتُ: أَبُو حَمْزَةَ كَيْفَ هُوَ عِنْدَكَ فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: تَكَلَّمَ فِيهِ وَهُوَ عِنْدِي مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا : ” کیا تمہارے پاس ( کھانے کے لیے ) کچھ ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : نہیں ، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے لاؤ ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں ، ¤ ۴- میں نے پھر پوچھا : آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں ؟ انہوں نے کہا : احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1841]
قال الشيخ الألباني: حسن، الصحيحة (2220)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1841) إسناده ضعيف ¤ أبوحمزة الثمالي ثابت بن أبى صفية ضعيف رافضي (تقدم: 46۔45) وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (54/4 ح 6875) فيه سعدان بن الوليد مجھول الحال: لم أجد من وثقه، و روى أحمد(353/3 ح 14807) عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((نعم الإدام الخل، ما أقفر بيت فى خل .)) وسنده حسن وانظر صحيح مسلم (2052)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18002) (حسن) (سند میں ابو حمزہ، ثابت بن ابی صفیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن مسند احمد (3/353) میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، الصحیحة: 2220)
جامع الترمذي • حدیث #1841
1840 1840 1841 1842 1843

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1839 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ سَعِ...
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہ...
#1840 حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ ب...
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہ...
#1840 حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ ب...
اس سند سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ، مگر اس میں ہے «نعم الإدام أو الأدم الخل...
#1842 حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَ...
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ