جامع الترمذي حدیث نمبر: 1829
Jami at-Tirmidhi 1829
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
27: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الشِّوَاءِ
باب: بھنا ہوا گوشت کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، " أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَمَا تَوَضَّأَ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، وَالْمُغِيرَةِ، وَأَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی دست پیش کی ، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا ، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن حارث ، مغیرہ اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1829]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (138)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 18200) (صحیح)