📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: کھانے کے احکام و مسائل (كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: لکڑبگھا کھانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1791 Jami at-Tirmidhi 1791
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
4: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الضَّبُعِ
باب: لکڑبگھا کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: " الضَّبُعُ صَيْدٌ هِيَ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ، قُلْتُ: آكُلُهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَلَمْ يَرَوْا بِأَكْلِ الضَّبُعِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الضَّبُعِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَكْلَ الضَّبُعِ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ يَحْيَى الْقَطَّانُ: وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ، وَابْنُ أَبِي عَمَّارٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ الْمَكِّيُّ.
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی الله عنہ سے پوچھا : کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے پوچھا : اسے کھا سکتا ہوں ؟ کہا : ہاں ، میں نے پوچھا : کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یحییٰ قطان کہتے ہیں : جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے : عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے ، ابن ابی عمار نے جابر سے ، جابر نے عمر رضی الله عنہ کے قول سے روایت کی ہے ، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے ، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں ۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے ، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے ، ¤ ۵- بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے ، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1791]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3236)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأطعمة 32 (3801)، سنن النسائی/الحج 89 (2839)، والصید 27 (4328)، سنن ابن ماجہ/المناسک 90 (3085)، والصید 15 (3236)، (تحفة الأشراف: 2381)، و مسند احمد (3/297، 318، 322)، سنن الدارمی/المناسک 90 (1984) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1791
1789 1790 1791 1792 1793

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1792 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْكَ...
خزیمہ بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کے بارے م...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ