📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: کھانے کے احکام و مسائل (كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1793 Jami at-Tirmidhi 1793
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
5: باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالاَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَطْعَمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْخَيْلِ وَنَهَانَا عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا ، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر» روایت کیا ہے ، ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سفیان بن عیینہ حماد بن زید سے حفظ میں زیادہ قوی ہیں ، ¤ ۵- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1793]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے، سلف و خلف میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر علما کی اکثریت اس کی حلت کی قائل ہے، جو اسے حرام سمجھتے ہیں، یہ حدیث اور اسی موضوع کی دوسری احادیث ان کے خلاف ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گدھے کا گوشت حرام ہے، اس کی حرمت کی وجہ جیسا کہ بخاری میں ہے یہ ہے کہ یہ ناپاک اور پلید حیوان ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (8 / 138)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 38 (3219)، والصید 27 (5520)، و28 (5524)، صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن ابی داود/ الأطعمة 26 (3788)، سنن النسائی/الصید 29 (4332)، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح 44 (1961)، والذبائح 12 (3191)، (تحفة الأشراف: 2539)، و مسند احمد (3/322، 3256، 361، 362، 385)، سنن الدارمی/الأضاحي 22 (2036) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1793
1791 1792 1793 1794 1795
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ