📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: کھانے کے احکام و مسائل (كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1817 Jami at-Tirmidhi 1817
کتاب #26: کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
19: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مَعَ الْمَجْذُومِ
باب: کوڑھی کے ساتھ کھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشْقَرُ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ فَأَدْخَلَهُ مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ "، ثُمَّ قَالَ: " كُلْ بِسْمِ اللَّهِ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ هَذَا شَيْخٌ بَصْرِيٌّ، وَالْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ شَيْخٌ آخَرُ بَصْرِيٌّ أَوْثَقُ مِنْ هَذَا وَأَشْهَرُ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخَذَ بِيَدِ مَجْذُومٍ وَحَدِيثُ شُعْبَةَ أَثْبَتُ عِنْدِي وَأَصَحُّ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا ، پھر فرمایا : ” اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں ، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ، ¤ ۲- یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں ، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں ، ¤ ۳- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق : «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں ( ابن عمر ) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا ، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1817]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ ایسا آپ نے ان لوگوں کو دکھانے کے لیے کیا جو اپنے ایمان و توکل میں قوی ہیں، اور ناپسندیدہ امر پر صبر سے کام لیتے ہیں اور اسے قضاء و قدر کے حوالہ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو ناپسنددیدہ امر پر صبر نہیں کر پاتے اور اپنے بارے میں خوف محسوس کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے آپ نے یہ فرمایا: «فر من المجذوم كما تفر من الأسد» چنانچہ ایسے لوگوں سے بچنا اور اجتناب کرنا مستحب ہے، لیکن واجب نہیں ہے، اور ان کے ساتھ کھانا پینا بیان جواز کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3542) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (776)، المشكاة (4585)، ضعيف الجامع الصغير (4195)، ضعيف أبي داود (847 / 3925) //
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1817) إسناده ضعيف / د 3925، جه 3542
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب 34 (3925)، سنن ابن ماجہ/الطب 44 (3542)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف) (سند میں مفضل بصری ضعیف راوی ہیں)
جامع الترمذي • حدیث #1817
1815 1816 1817 1818 1819
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ