كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
|
1: باب مَا جَاءَ فِي الدَّعْوَةِ قَبْلَ الْقِتَالِ
باب: جنگ سے پہلے اسلام کی دعوت دینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ " أَنَّ جَيْشًا مِنْ جُيُوشِ الْمُسْلِمِينَ كَانَ أَمِيرَهُمْ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حَاصَرُوا قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: دَعُونِي أَدْعُهُمْ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ، فَأَتَاهُمْ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُمْ: إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ فَارِسِيٌّ، تَرَوْنَ الْعَرَبَ يُطِيعُونَنِي، فَإِنْ أَسْلَمْتُمْ، فَلَكُمْ مِثْلُ الَّذِي لَنَا وَعَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْنَا، وَإِنْ أَبَيْتُمْ إِلَّا دِينَكُمْ، تَرَكْنَاكُمْ عَلَيْهِ، وَأَعْطُونَا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، قَالَ: وَرَطَنَ إِلَيْهِمْ بِالْفَارِسِيَّةِ: وَأَنْتُمْ غَيْرُ مَحْمُودِينَ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ، نَابَذْنَاكُمْ عَلَى سَوَاءٍ، قَالُوا: مَا نَحْنُ بِالَّذِي نُعْطِي الْجِزْيَةَ، وَلَكِنَّا نُقَاتِلُكُمْ، فَقَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، أَلَا نَنْهَدُ إِلَيْهِمْ؟ قَالَ: لَا، فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَى مِثْلِ هَذَا، ثُمَّ قَالَ: انْهَدُوا إِلَيْهِمْ، قَالَ: فَنَهَدْنَا إِلَيْهِمْ، فَفَتَحْنَا ذَلِكَ الْقَصْرَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدِيثُ سَلْمَانَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: أَبُو الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، لِأَنَّهُ لَمْ يُدْرِكْ عَلِيًّا، وَسَلْمَانُ مَاتَ قَبْلَ عَلِيٍّ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، وَرَأَوْا أَنْ يُدْعَوْا قَبْلَ الْقِتَالِ، وَهُوَ قَوْلُ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: إِنْ تُقُدِّمَ إِلَيْهِمْ فِي الدَّعْوَةِ فَحَسَنٌ، يَكُونُ ذَلِكَ أَهْيَبَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا دَعْوَةَ الْيَوْمَ، وقَالَ أَحْمَدُ: لَا أَعْرِفُ الْيَوْمَ أَحَدًا يُدْعَى، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يُقَاتَلُ الْعَدُوُّ حَتَّى يُدْعَوْا، إِلَّا أَنْ يَعْجَلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَقَدْ بَلَغَتْهُمُ الدَّعْوَةُ.
ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے ، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا ، لوگوں نے کہا : ابوعبداللہ ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں ؟ ، انہوں نے کہا : مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ۱؎ ، چنانچہ سلمان فارسی رضی الله عنہ ان کے پاس گئے ، اور کافروں سے کہا : میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں ، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں ، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں ، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں ، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے ، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ۲؎ ، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا ، اور یہ بھی کہا : تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو ، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے ( حق پر ) جنگ کریں گے ، ان لوگوں نے جواب دیا : ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں ، بلکہ تم سے جنگ کریں گے ، مسلمانوں نے کہا : ابوعبداللہ ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی ، پھر مسلمانوں سے کہا : ان پر حملہ کرو ، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کر لیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سلمان فارسی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ہم اس کو صرف عطاء بن سائب ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل ( امام بخاری ) کو کہتے ہوئے سنا : ابوالبختری نے سلمان کو نہیں پایا ہے ، اس لیے کہ انہوں نے علی کو نہیں پایا ہے ، اور سلمان کی وفات علی سے پہلے ہوئی ہے ، ¤ ۲- اس باب میں بریدہ ، نعمان بن مقرن ، ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی ، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے ، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہو گا ، ¤ ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے ، امام احمد کہتے ہیں : میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا ، ¤ ۵- امام شافعی کہتے ہیں : دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے ، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1548]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کافروں کو پہلے اسلام کی دعوت دی جائے اگر انہیں یہ منظور نہ ہو تو ان سے جزیہ دینے کو کہا جائے اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو پھر حملہ کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔
۲؎: جزیہ ایک متعین رقم ہے جو سالانہ ایسے غیر مسلموں سے لی جاتی ہے جو کسی اسلامی مملکت میں رہائش پذیر ہوں، اس کے بدلے میں ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اسلامی مملکت کی ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (5 / 87) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (1247) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1548) إسناده ضعيف / السند منقطع
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4490) (ضعیف) (سند میں ابوالبختری کا لقاء ”سلمان فارسی رضی الله عنہ سے نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، نیز ”عطاء بن السائب“ اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، لیکن قتال سے پہلے کفار کو مذکورہ تین باتوں کی پیشکش بریدہ رضی الله عنہ کی حدیث سے ثابت ہے دیکھئے: الإرواء رقم 1247)
|
|
|
2: باب
باب: جہاد سے متعلق ایک اور باب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: " إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا، فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عصام مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے : ” جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، اور یہ ابن عیینہ سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1549]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب اسلام کی کوئی علامت اور نشانی نظر آ جائے تو اس وقت تک حملہ نہ کیا جائے جب تک مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح نہ ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ضعيف أبي داود (454) // عندنا برقم (565 / 2635) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1549) إسناده ضعيف / د 263
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 100 (2635)، (تحفة الأشراف: 9901) (ضعیف) (سند میں ”عبد الملک بن نوفل“ لین الحدیث، اور ”ابن عصام“ مجہول راوی ہیں)
|
|
|
3: باب مَا جَاءَ فِي الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ
باب: رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے اور حملہ کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے ، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎ ، پھر جب صبح ہو گئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے ، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا : محمد ہیں ، اللہ کی قسم ، محمد لشکر کے ہمراہ آ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اکبر ! خیبر برباد ہو گیا ، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح ، بڑی بری ہوتی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1550]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ اذان سے یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے یا نہیں، چنانچہ اگر اذان سنائی دیتی تو حملہ سے رک جاتے بصورت دیگر حملہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 101 (2945)، والمغازي 38 (4197)، (وانظر أیضا: الصلاة 12 (371)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365/84)، والجہاد 43 (120/1365)، سنن النسائی/المواقیت 26 (548)، (تحفة الأشراف: 734)، و مسند احمد (3/102، 186، 206، 263) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ، أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، يَعْنِي بِهِ: الْجَيْشَ.
ابوطلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک قیام کرتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- حمید کی حدیث جو انس رضی الله عنہ سے آئی ہے حسن صحیح ہے ، ¤ ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے رات میں حملہ کرنے اور چھاپہ مارنے کی اجازت دی ہے ، ¤ ۴- بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں ، ¤ ۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، ¤ ۶- «وافق محمد الخميس» میں «الخميس» سے مراد لشکر ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1551]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2414)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 184 (3064)، والمغازي 8 (3976)، سنن ابی داود/ الجہاد 132 (2695)، (تحفة الأشراف: 3770)، و مسند احمد (4/29)، وسنن الدارمی/السیر 22 (2502) (صحیح)
|
|
|
4: باب فِي التَّحْرِيقِ وَالتَّخْرِيبِ
باب: دوران جنگ کفار و مشرکین کے گھر جلانے اور ویران کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ، وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَلَمْ يَرَوْا بَأْسًا بِقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَتَخْرِيبِ الْحُصُونِ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَنَهَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَنْ يَقْطَعَ شَجَرًا مُثْمِرًا، أَوْ يُخَرِّبَ عَامِرًا، وَعَمِلَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ بِالتَّحْرِيقِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ وَقَطْعِ الْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ، وقَالَ أَحْمَدُ: وَقَدْ تَكُونُ فِي مَوَاضِعَ لَا يَجِدُونَ مِنْهُ بُدًّا، فَأَمَّا بِالْعَبَثِ، فَلَا تُحَرَّقْ، وقَالَ إِسْحَاق: التَّحْرِيقُ سُنَّةٌ إِذَا كَانَ أَنْكَى فِيهِمْ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا اور کٹوا دیئے ۱؎ ، یہ مقام بویرہ کا واقعہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ” ( مسلمانو ! ) ، ( یہود بنی نضیر کے ) کھجوروں کے درخت جو کاٹ ڈالے ہیں یا ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور اپنے تنوں پر ہی ان کو کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اللہ عزوجل کو منظور تھا کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے “ ( الحشر : ۵ ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے ، وہ درخت کاٹنے اور قلعے ویران کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں ، ¤ ۴- بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں ، اوزاعی کا یہی قول ہے ، ¤ ۵- اوزاعی کہتے ہیں : ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے یزید کو پھل دار درخت کاٹنے اور مکان ویران کرنے سے منع کیا ، ان کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا ، ¤ ۶- شافعی کہتے ہیں : دشمن کے ملک میں آگ لگانے ، درخت اور پھل کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۲؎ ۔ ¤ ۷- احمد کہتے ہیں : اسلامی لشکر کبھی کبھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ، لیکن بلا ضرورت آگ نہ لگائی جائے ، ¤ ۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : آگ لگانا سنت ہے ، جب یہ کافروں کی ہار و رسوائی کا باعث ہو ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1552]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگی ضرورت کی بنا پر پھلدار درختوں کو جلوانا اور کٹوانا جائز ہے، لیکن بلا ضرورت عام حالات میں انہیں کاٹنے سے بچنا چاہیئے۔
۲؎: یعنی جب اسلامی لشکر کے لیے کچھ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ درختوں کے جلانے اور مکانوں کے ویران کرنے کے سوا ان کے لیے دوسرا کوئی راستہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ایسا کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2844)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المزارعة 4 (2356)، والجہاد 154 (3020)، والمغازي 14 (3960)، صحیح مسلم/الجہاد 10 (1746)، سنن ابی داود/ الجہاد 91 (2615)، سنن ابن ماجہ/الجہاد (2844)، (تحفة الأشراف: 8267)، سنن الدارمی/السیر 23 (2503) (صحیح)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ فِي الْغَنِيمَةِ
باب: مال غنیمت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے انبیاء و رسل پر فضیلت بخشی ہے “ ( یا آپ نے یہ فرمایا : ” میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت بخشی ہے ، اور ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوامامہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، ابوذر ، عبداللہ بن عمرو ، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1553]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن و حدیث جن کے الفاظ مختصر لیکن معانی بہت ہیں۔
۲؎: یعنی عام حالات میں میرا رعب میرے دشمنوں پر ایک مہینہ کی مسافت کی دوری ہی سے طاری رہتا ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شامل ہے۔ ۳؎: یعنی عبادت کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے، بلکہ وقت ہونے کے ساتھ کسی بھی پاکیزہ جگہ عبادت کی جا سکتی ہے، اسی طرح زمین (مٹی) سے ہر مسلمان طہارت کر سکتا ہے، یعنی وہ میرے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔ ۴؎: یعنی میری رسالت دنیا کی ساری مخلوق کے لیے عام ہے اور میں نبوت کے سلسلہ کی آخری کڑی ہوں، میرے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (4001 / التحقيق الثاني)، الإرواء (152 - 285)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 1 (523)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 90 (567)، (قولہ ”جُعِلت لي الأرض مسجدا وطہورا“ فحسب) (تحفة الأشراف: 13977)، و مسند احمد (2/412) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے انبیاء و رسل پر چھ چیزوں ( خصلتوں ) کے ذریعہ فضیلت بخشی گئی ہے ، مجھے «جوامع الكلم» ( جامع کلمات ) عطا کئے گئے ہیں ۱؎ ، رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے ۲؎ ، میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا ہے ، میرے لیے تمام روئے زمین مسجد اور پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ بنائی گئی ہے ۳؎ ، میں تمام مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور میرے ذریعہ انبیاء و رسل کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1553M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی قرآن و حدیث جن کے الفاظ مختصر لیکن معانی بہت ہیں۔
۲؎: یعنی عام حالات میں میرا رعب میرے دشمنوں پر ایک مہینہ کی مسافت کی دوری ہی سے طاری رہتا ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شامل ہے۔ ۳؎: یعنی عبادت کے لیے کوئی جگہ مخصوص نہیں ہے، بلکہ وقت ہونے کے ساتھ کسی بھی پاکیزہ جگہ عبادت کی جا سکتی ہے، اسی طرح زمین (مٹی) سے ہر مسلمان طہارت کر سکتا ہے، یعنی وہ میرے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔ ۴؎: یعنی میری رسالت دنیا کی ساری مخلوق کے لیے عام ہے اور میں نبوت کے سلسلہ کی آخری کڑی ہوں، میرے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آنے والا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (4001 / التحقيق الثاني)، الإرواء (152 - 285)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 1 (523)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 90 (567)، (قولہ ”جُعِلت لي الأرض مسجدا وطہورا“ فحسب) (تحفة الأشراف: 13977)، و مسند احمد (2/412) (صحیح)
|
|
|
6: باب مَا جَاءَ فِي سَهْمِ الْخَيْلِ
باب: (مال غنیمت میں سے) گھوڑے کے حصے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ، نَحْوَهُ، وَفِي الْبَاب، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، سَهْمٌ لَهُ، وَسَهْمَانِ لِفَرَسِهِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کو دو حصے اور آدمی ( سوار ) کو ایک حصہ دیا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1554]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی گھوڑ سوار کو تین حصے دئے گئے، ایک حصہ اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے، گھوڑے کا حصہ اس لیے زیادہ رکھا گیا کہ اس کی خوراک اور اس کی دیکھ بھال پر کافی خرچ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2854)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ أَخْضَرَ، نَحْوَهُ، وَفِي الْبَاب، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةُ أَسْهُمٍ، سَهْمٌ لَهُ، وَسَهْمَانِ لِفَرَسِهِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ.
اس سند سے بھی ابن عمر رضی الله عنہما سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں مجمع بن جاریہ ، ابن عباس اور ابی عمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، سفیان ثوری ، اوزاعی ، مالک بن انس ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ سوار کو تین حصے ملیں گے ، ایک حصہ اس کا اور دو حصے اس کے گھوڑے کے اور پیدل چلنے والے کو ایک حصہ ملے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1554M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2854)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
7: باب مَا جَاءَ فِي السَّرَايَا
باب: سرایا کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّحَابَةِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَا يُغْلَبُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا يُسْنِدُهُ كَبِيرُ أَحَدٍ غَيْرُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَإِنَّمَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رَوَاهُ حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو ، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو ، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہو گی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- جریر بن حازم کے سوا کسی بڑے محدث سے یہ حدیث مسنداً مروی نہیں ، زہری نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، ¤ ۴- اس حدیث کو حبان بن علی عنزی بسند «عقيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، نیز اسے لیث بن سعد نے بسند «عقيل عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1555]
💡 وضاحت:
۱؎: «سرایا» جمع ہے سریہ کی، «سریہ» اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی طور پر شریک نہ رہے ہوں، یہ بڑے لشکر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ چار سو فوجی ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (986)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1555) إسناده ضعيف / د 2611
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 89 (2611)، سنن ابن ماجہ/السرایا (2728)، (تحفة الأشراف: 4848)، وسنن الدارمی/السیر 4 (2482) (ضعیف) (اس حدیث کا ”عن الزہري عن النبي ﷺ“ مرسل ہو نا ہی صحیح ہے، نیز یہ آیت ربانی وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّئَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ (الأنفال: 66) کے بھی مخالف ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم 986، تراجع الالبانی 152)
|
|
|
8: باب مَا جَاءَ مَنْ يُعْطَى الْفَيْءُ
باب: مال غنیمت کن لوگوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ، كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ، كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ " وَكَانَ يَغْزُو بِهِنَّ، فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى، وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأَمَّا بِسَهْمٍ، فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَأُمِّ عَطِيَّةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُسْهَمُ لِلْمَرْأَةِ وَالصَّبِيِّ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصِّبْيَانِ بِخَيْبَرَ، وَأَسْهَمَتْ أَئِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ لِكُلِّ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ "، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " وَأَسْهَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ بِخَيْبَرَ، وَأَخَذَ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَهُ "، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ، يَقُولُ: يُرْضَخُ لَهُنَّ بِشَيْءٍ مِنَ الْغَنِيمَةِ، يُعْطَيْنَ شَيْئًا.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس یہ سوال لکھ کر بھیجا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے ؟ اور کیا آپ ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی مقرر فرماتے تھے ؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے ان کو جواب میں لکھا : تم نے میرے پاس یہ سوال لکھا ہے : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے ؟ ۱؎ ہاں ، آپ ان کے ہمراہ جہاد کرتے تھے ، وہ بیماروں کا علاج کرتی تھیں اور مال غنیمت سے ان کو ( بطور انعام ) کچھ دیا جاتا تھا ، رہ گئی حصہ کی بات تو آپ نے ان کے لیے حصہ نہیں مقرر کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس اور ام عطیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ، بعض لوگ کہتے ہیں : عورت اور بچہ کو بھی حصہ دیا جائے گا ، اوزاعی کا یہی قول ہے ، ¤ ۴- اوزاعی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں بچوں کو حصہ دیا اور مسلمانوں کے امراء نے ہر اس مولود کے لیے حصہ مقرر کیا جو دشمنوں کی سر زمین میں پیدا ہوا ہو ، اوزاعی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر میں عورتوں کو حصہ دیا اور آپ کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1556]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے دور میں باہم خط و کتابت ہوا کرتی تھی اور اس سے جواب نامہ کا اسلوب تحریر بھی معلوم ہوا کہ پہلے آنے والے خط کی عبارت کا بالاختصار تذکرہ اور پھر اس کا جواب۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2438)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجہاد 48 (1812)، سنن ابی داود/ الجہاد 152 (2727)، سنن النسائی/الفیٔ (4138)، (تحفة الأشراف: 6557)، و مسند احمد (1/248، 294، 308) (صحیح)
|
|
|
9: باب هَلْ يُسْهَمُ لِلْعَبْدِ
باب: مال غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ: " شَهِدْتُ خَيْبَرَ مَعَ سَادَتِي، فَكَلَّمُوا فِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ، قَالَ: فَأَمَرَ بِي، فَقُلِّدْتُ السَّيْفَ، فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ، فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كُنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ، فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا يُسْهَمُ لِلْمَمْلُوكِ، وَلَكِنْ يُرْضَخُ لَهُ بِشَيْءٍ، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عمیر مولیٰ ابی اللحم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے مالکان کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے سلسلے میں گفتگو کی اور آپ کو بتایا کہ میں غلام ہوں ، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور میرے جسم پر تلوار لٹکا دی گئی ، میں ( کوتاہ قامت ہونے اور تلوار کے بڑی ہونے کے سبب ) اسے گھسیٹتا تھا ، آپ نے میرے لیے مال غنیمت سے کچھ سامان دینے کا حکم دیا ، میں نے آپ کے سامنے وہ دم ، جھاڑ پھونک پیش کیا جس سے میں دیوانوں کو جھاڑ پھونک کرتا تھا ، آپ نے مجھے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے اور کچھ یاد رکھنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ غلام کو حصہ نہیں ملے گا البتہ عطیہ کے طور پر اسے کچھ دیا جائے گا ، ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1557]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو حصہ قرآن و حدیث کے خلاف تھا اسے چھوڑ دینے اور شرک سے خالی کلمات کو باقی رکھنے کو کہا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2440)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 152 (2730)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 37 (2855)، (تحفة الأشراف: 10898)، وسنن الدارمی/السیر 35 (2518) (صحیح)
|
|
|
10: باب مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الذِّمَّةِ يَغْزُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ هَلْ يُسْهَمُ لَهُمْ
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ، لَحِقَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَذْكُرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَسْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " ارْجِعْ، فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا يُسْهَمُ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِنْ قَاتَلُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ الْعَدُوَّ، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنْ يُسْهَمَ لَهُمْ إِذَا شَهِدُوا الْقِتَالَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ. (حديث مرفوع) وَيُرْوَى عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْهَمَ لِقَوْمٍ مِنَ الْيَهُودِ قَاتَلُوا مَعَهُ "، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے ، جب آپ حرۃ الوبرہ ۱؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” لوٹ جاؤ ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- حدیث میں اس سے بھی زیادہ کچھ تفصیل ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ذمی کو مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہمراہ دشمن سے جنگ کریں ، ¤ ۴- کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ جب ذمی مسلمانوں کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کو حصہ دیا جائے گا ، ¤ ۵- زہری سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی ایک جماعت کو حصہ دیا جو آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک تھی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1558]
💡 وضاحت:
۱؎: مدینہ سے چار میل کی دوری پر ہے۔
۲؎: بعض روایتوں میں ہے کہ اس کی بہادری و جرات مندی اس قدر مشہور تھی کہ صحابہ اسے دیکھ کر خوش ہو گئے، پھر اس نے خود ہی صراحت کر دی کہ میں صرف اور صرف مال غنیمت میں حصہ لینے کی خواہش میں شریک ہو رہا ہوں، پھر اس نے جب ایمان نہ لانے کی صراحت کر دی تو آپ نے اس کا تعاون لینے سے انکار کر دیا۔ پھر بعد میں اس نے ایمان کا اقرار کیا اور آپ کی اجازت سے شریک جنگ ہوا، یہاں پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافر سے مدد لینا جائز ہے یا نہیں۔ ایک جماعت کا یہ خیال ہے کہ مدد لینا جائز ہے اور بعض کی رائے ہے کہ بوقت ضرورت مدد لی جا سکتی ہے جیسا کہ آپ نے جنگ حنین کے موقع پر صفوان بن امیہ وغیرہ سے اسلحہ کی امداد لی تھی اسی طرح بنو قینقاع کے یہود یوں سے بھی مدد لی تھی، بہرحال اسلحہ اور افرادی امداد دونوں کی شدید ضرورت و حاجت کے موقع پر لینے کی گنجائش ہے۔
قال الشيخ الألباني:
(حديث عائشة) صحيح، (حديث الزهري) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (2832)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1558) إسناده ضعيف ¤ حديث الزھري: ”أن النبى صلى الله عليه وسلم أسھم لقوم من اليھود“ إلخ ضعيف لإرساله والحديث الباقي: ارجع فلن أستعين بمشرك، كله صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجہاد 51 (1817)، سنن ابی داود/ الجہاد 153 (2732)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 27 (2832)، (تحفة الأشراف: 16358)، وسنن الدارمی/السیر54 (2538) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: " قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ خَيْبَرَ، فَأَسْهَمَ لَنَا مَعَ الَّذِينَ افْتَتَحُوهَا "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: مَنْ لَحِقَ بِالْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَنْ يُسْهَمَ لِلْخَيْلِ، أُسْهِمَ لَهُ، وَبُرَيْدٌ يُكْنَى أَبَا بُرَيْدَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَغَيْرُهُمَا.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر آیا ، جن لوگوں نے خیبر فتح کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ ہمارے لیے بھی حصہ مقرر کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اوزاعی کہتے ہیں : گھوڑے کے لیے حصہ مقرر کرنے سے پہلے جو مسلمانوں کے ساتھ مل جائے ، اس کو حصہ دیا جائے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1559]
💡 وضاحت:
۱؎: اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے اور فتح حاصل ہونے کے بعد جو پہنچے اسے بھی حصہ دیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2436)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فرض الخمس 15 (3136)، والمناقب 37 (3876)، والمغازي 38 (4230)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 41 (2502)، سنن ابی داود/ الجہاد 151 (2725)، (تحفة الأشراف: 9049) (صحیح)
|
|
|
11: باب مَا جَاءَ فِي الاِنْتِفَاعِ بِآنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کے برتن استعمال کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَال: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ قَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوس کی ہانڈیوں کے بارے میں سوال کیا گیا ۱؎ تو آپ نے فرمایا : ” ان کو دھو کر صاف کر لو اور ان میں پکاؤ ، اور آپ نے ہر درندے اور کچلی والے جانور کو کھانے سے منع فرمایا ” ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ابوثعلبہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے ، ¤ ۲- ابوادریس خولانی نے بھی اس کو ابوثعلبہ سے روایت کیا ہے ، لیکن ابوقلابہ کا سماع ابوثعلبہ سے ثابت نہیں ہے ، انہوں نے ابواسماء کے واسطے سے ابوثعلبہ سے اس کی روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1560]
💡 وضاحت:
۱؎: کہ ان کا استعمال کرنا اور ان میں پکانا کھانا درست ہے یا نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3207 - 3232)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1464 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَال: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضِ قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ نَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ؟ قَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَاغْسِلُوهَا وَكُلُوا فِيهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم اہل کتاب کے علاقہ میں ہیں تو کیا ہم ان کے برتن میں کھائیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر ان کے علاوہ برتن پاتے ہو تو ان کے برتنوں میں نہ کھاؤ ، اور اگر نہ پاؤ تو ان کے برتنوں کو دھل لو اور ان میں کھاؤ “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1560M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3207 - 3232)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1464 (صحیح)
|
|
|
12: باب مَا جَاءَ فِي النَّفَلِ
باب: نفل کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفَلِ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ فِي أَوَّلِ الْمَغْنَمِ وَآخِرِهِ، قَالَ إِسْحَاقُ ابْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفَّلَ إِذَا فَصَلَ بِالرُّبُعِ بَعْدَ الْخُمُسِ، وَإِذَا قَفَلَ بِالثُّلُثِ بَعْدَ الْخُمُسِ "، فَقَالَ: يُخْرِجُ الْخُمُسَ ثُمَّ يُنَفِّلُ مِمَّا بَقِيَ، وَلَا يُجَاوِزُ هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا الْحَدِيثُ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: النَّفَلُ مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ إِسْحَاق: هُوَ كَمَا قَالَ.
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام ( نفل ) دیتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث ابوسلام سے مروی ہے ، انہوں نے ایک صحابی سے اس کی روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس ، حبیب بن مسلمہ ، معن بن یزید ، ابن عمر اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1561]
💡 وضاحت:
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خواب دیکھا تھا وہ یہ تھا کہ آپ نے اپنی تلوار ذوالفقار کو حرکت دی تو وہ درمیان سے ٹوٹ گئی پھر دوبارہ حرکت دی تو پہلے سے بہتر حالت میں آ گئی۔
۳؎: مجاہد کو مال غنیمت میں سے مقرر حصہ کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے، اور یہی «نفل» کہلاتا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ زائد حصہ مال غنیمت میں سے ہو گا یا خمس میں سے یا خمس الخمس میں سے؟ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اصل غنیمت میں سے دیا جائے گا، اس اضافی حصہ کی مقدار کی بابت سب کا اتفاق ہے کہ سربراہ و امام یہ حصہ غنیمت کے تہائی حصہ سے زائد دینے کا مجاز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجہاد 18 (2808)، (تحفة الأشراف: 5827) (حسن الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي النَّفَلِ مِنَ الْخُمُسِ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: لَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي مَغَازِيهِ كُلِّهَا، وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّهُ نَفَّلَ فِي بَعْضِهَا، وَإِنَّمَا ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاجْتِهَادِ مِنَ الْإِمَامِ فِي أَوَّلِ الْمَغْنَمِ وَآخِرِهِ، قَالَ إِسْحَاقُ ابْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفَّلَ إِذَا فَصَلَ بِالرُّبُعِ بَعْدَ الْخُمُسِ، وَإِذَا قَفَلَ بِالثُّلُثِ بَعْدَ الْخُمُسِ "، فَقَالَ: يُخْرِجُ الْخُمُسَ ثُمَّ يُنَفِّلُ مِمَّا بَقِيَ، وَلَا يُجَاوِزُ هَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا الْحَدِيثُ عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: النَّفَلُ مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ إِسْحَاق: هُوَ كَمَا قَالَ.
عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن نفل میں اپنی تلوار ذوالفقار لے لی تھی ، اسی کے بارے میں آپ نے احد کے دن خواب دیکھا تھا ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس حدیث کو اس سند سے صرف ابن ابی زناد ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- خمس میں سے نفل دینے کی بابت اہل علم کا اختلاف ہے ، مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے کوئی روایت نہیں پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام غزوات میں نفل دیا ہے ، آپ نے بعض غزوات میں نفل دیا ہے ، لیکن یہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے کہ شروع میں دے ، یا آخر میں دے ، ¤ ۳- اسحاق بن منصور کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت خمس نکالنے کے بعد بطور نفل ربع دیا ہے اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ثلث دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ خمس نکالتے تھے پھر جو باقی بچتا اسی سے نفل دیتے تھے ، آپ کبھی ثلث سے تجاوز نہیں کرتے تھے ۳؎ ، یہ حدیث مسیب کے قول کے موافق ہے کہ نفل خمس سے دیا جائے گا ، اسحاق بن راہویہ نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1561M]
💡 وضاحت:
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خواب دیکھا تھا وہ یہ تھا کہ آپ نے اپنی تلوار ذوالفقار کو حرکت دی تو وہ درمیان سے ٹوٹ گئی پھر دوبارہ حرکت دی تو پہلے سے بہتر حالت میں آ گئی۔
۳؎: مجاہد کو مال غنیمت میں سے مقرر حصہ کے علاوہ زائد مال بھی دیا جا سکتا ہے، اور یہی «نفل» کہلاتا ہے، البتہ اس میں اختلاف ہے کہ یہ زائد حصہ مال غنیمت میں سے ہو گا یا خمس میں سے یا خمس الخمس میں سے؟ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اصل غنیمت میں سے دیا جائے گا، اس اضافی حصہ کی مقدار کی بابت سب کا اتفاق ہے کہ سربراہ و امام یہ حصہ غنیمت کے تہائی حصہ سے زائد دینے کا مجاز نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجہاد 18 (2808)، (تحفة الأشراف: 5827) (حسن الإسناد)
|
|
|
13: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قَتَلَ قَتِيلاً فَلَهُ سَلَبُهُ
باب: کافر کا قاتل مقتول کے سامان کا حقدار گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَنَسٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لِلْإِمَامِ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ السَّلَبِ الْخُمُسَ، وقَالَ الثَّوْرِيُّ: النَّفَلُ، أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ: مَنْ أَصَابَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ، فَهُوَ جَائِزٌ، وَلَيْسَ فِيهِ الْخُمُسُ، وقَالَ إِسْحَاق: السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا كَثِيرًا، فَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يُخْرِجَ مِنْهُ الْخُمُسَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہو تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1562]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ قصہ صحیح البخاری کی حدیث ۳۱۴۳، ۴۳۲۲ اور صحیح مسلم کی حدیث ۱۷۵۱ میں دیکھا جا سکتا ہے، واقعہ دلچسپ ہے ضرور مطالعہ کریں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (5 / 52 - 53)، صحيح أبي داود (243)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَهُ، وَفِي الْبَاب، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَأَنَسٍ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ هُوَ نَافِعٌ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لِلْإِمَامِ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ السَّلَبِ الْخُمُسَ، وقَالَ الثَّوْرِيُّ: النَّفَلُ، أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ: مَنْ أَصَابَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ سَلَبُهُ، فَهُوَ جَائِزٌ، وَلَيْسَ فِيهِ الْخُمُسُ، وقَالَ إِسْحَاق: السَّلَبُ لِلْقَاتِلِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْئًا كَثِيرًا، فَرَأَى الْإِمَامُ أَنْ يُخْرِجَ مِنْهُ الْخُمُسَ كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عوف بن مالک ، خالد بن ولید ، انس اور سمرہ بن جندب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صحابہ کرام اور دیگر لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اوزاعی ، شافعی اور احمد کا بھی یہی قول ہے ، ¤ ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ مقتول کے سامان سے خمس نکالنے کا امام کو اختیار ہے ، ثوری کہتے ہیں : «نفل» یہی ہے کہ امام اعلان کر دے کہ جو کافروں کا سامان چھین لے وہ اسی کا ہو گا اور جو کسی کافر کو قتل کرے تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا اور ایسا کرنا جائز ہے ، اس میں خمس واجب نہیں ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ مقتول کا مال قاتل کا ہے مگر جب سامان زیادہ ہو اور امام اس میں سے خمس نکالنا چاہے جیسا کہ عمر بن خطاب نے کیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1562M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (5 / 52 - 53)، صحيح أبي داود (243)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
14: باب فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنا مکروہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَهْضَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1563]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (4015 - 4016 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1563) إسناده ضعيف / جه 2196 ¤ محمد بن إبراھيم الباھلي مجھول (تق:5703) وفي شيخه نظر و لبعض الحديث شواھد
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/التجارات 24 (2196)، (فی سیاق الحول من ذلک) (تحفة الأشراف: 4073) (ضعیف) (سند میں ”محمد بن ابراہیم الباہلی، اور ”محمد بن زید العبدی“ دونوں مجہول راوی ہیں، اور ”جہضم“ میں کلام ہے)
|
|
|
15: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ وَطْءِ الْحَبَالَى مِنَ السَّبَايَا
باب: حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنا مکروہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ وَهْبٍ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، أَنَّ أَبَاهَا أَخْبَرَهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ تُوطَأَ السَّبَايَا حَتَّى يَضَعْنَ مَا فِي بُطُونِهِنَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ، وَحَدِيثُ عِرْبَاضٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: إِذَا اشْتَرَى الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ مِنَ السَّبْيِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: وَأَمَّا الْحَرَائِرُ، فَقَدْ مَضَتِ السُّنَّةُ فِيهِنَّ بِأَنْ أُمِرْنَ بِالْعِدَّةِ، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حاملہ ) قیدی عورتوں سے جماع کرنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اپنے پیٹ میں موجود بچوں کو جن نہ دیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عرباض رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اوزاعی کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص قیدی عورتوں میں سے لونڈی خریدے اور وہ حاملہ ہو تو اس سلسلے میں عمر بن خطاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حاملہ جب تک بچہ نہ جنے اس سے وطی نہیں کی جائے گی ، ¤ ۴- اوزاعی کہتے ہیں : آزاد عورتوں کے سلسلے میں تو یہ سنت چلی آ رہی ہے کہ ان کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1564]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگ میں جو عورتیں گرفتار ہو جائیں گرفتاری سے ہی ان کا پچھلا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، حمل سے ہوں تو وضع حمل کے بعد اور اگر غیر حاملہ ہوں تو ایک ماہواری کے بعد ان سے جماع کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ تقسیم کے بعد اس کے حصہ میں آئی ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر الحديث (1474) // هذا رقم الدعاس، وهو عندنا برقم (1191 - 1517) //
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وتقدم برقم 1474 (تحفة الأشراف: 9893) (صحیح) (سند میں ”ام حبیبہ“ مجہول ہیں مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
|
|
|
16: باب مَا جَاءَ فِي طَعَامِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کے کھانے کا بیان۔
|
|
|
قَالَ مَحْمُودٌ: وَقَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ.
ہلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نصاریٰ کے کھانا کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا : ” کوئی کھانا تمہارے دل میں شک نہ پیدا کرے کہ اس کے سلسلہ میں نصرانیت سے تمہاری مشابہت ہو جائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1565]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ ملت اسلامیہ ملت ابراہیمی سے تعلق رکھتی ہے اس لیے کھانے سے متعلق زیادہ شک میں پڑنا اپنے آپ کو اس رہبانیت سے قریب کرنا ہے جو نصاریٰ کا دین ہے، لہٰذا اس سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ امام ترمذی نے اس باب میں مشرکین کے کھانے کا ذکر کیا ہے، جب کہ حدیث میں مشرکین کا سرے سے ذکر ہی نہیں ہے، حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام ترمذی نے مشرکین سے اہل کتاب کو مراد لیا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2830)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9876) (حسن) (سند میں ”مری بن قطری“ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی حسن لغیرہ ہے)
|
|
|
قَالَ مَحْمُودٌ: وَقَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ.
اس سند سے بھی ہلب رضی الله عنہ سے اسی کے مثل حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1565M]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2830)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9876) (حسن) (سند میں ”مری بن قطری“ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی حسن لغیرہ ہے)
|
|
|
قَالَ مَحْمُودٌ: وَقَالَ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي طَعَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ.
اس سند سے عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے بھی اس جیسی حدیث مروی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اہل کتاب کے کھانے کے سلسلے میں رخصت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1565M]
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2830)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9876) (حسن) (سند میں ”مری بن قطری“ لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی حسن لغیرہ ہے)
|
|
|
17: باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّفْرِيقِ بَيْنَ السَّبْىِ
باب: قیدیوں کے درمیان تفریق کرنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ الشَّيْبَانِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حُيَيٌّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا، فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا التَّفْرِيقَ بَيْنَ السَّبْيِ، بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَبَيْنَ الْوَلَدِ وَالْوَالِدِ، وَبَيْنَ الْإِخْوَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَدْ سَمِعْتُ البُخَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ.
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے ماں اور اس کے بچہ کے درمیان جدائی پیدا کی ، اللہ قیامت کے دن اسے اس کے دوستوں سے جدا کر دے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ¤ ۳- اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، وہ لوگ قیدیوں میں ماں اور بچے کے درمیان ، باپ اور بچے کے درمیان اور بھائیوں کے درمیان جدائی کو ناپسند سمجھتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1566]
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (3361)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3468)، وانظر: مسند احمد (5/413، 414)، سنن الدارمی/السیر 39 (حسن)
|
|
|
18: باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الأُسَارَى وَالْفِدَاءِ
باب: قیدیوں کے قتل کرنے اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أبو عُبَيْدَةَ بن أبي السَّفَرِ وَاسْمُهُ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ جِبْرَائِيلَ هَبَطَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: خَيِّرْهُمْ، يَعْنِي: أَصْحَابَكَ، فِي أُسَارَى بَدْرٍ، الْقَتْلَ أَوِ الْفِدَاءَ، عَلَى أَنْ يُقْتَلَ مِنْهُمْ قَابِلًا مِثْلُهُمْ، قَالُوا: الْفِدَاءَ، وَيُقْتَلُ مِنَّا "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي بَرْزَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَرَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَرَوَى ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَأَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ اسْمُهُ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل نے میرے پاس آ کر کہا : اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں اختیار دیں ، وہ چاہیں تو انہیں قتل کریں ، چاہیں تو فدیہ لیں ، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے ، ان لوگوں نے کہا : فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب ہے ، ہم اس کو صرف ابن ابی زائدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- ابواسامہ نے بسند «هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ¤ ۳- ابن عون نے بسند «ابن سيرين عن عبيدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے ، ¤ ۴- اس باب میں ابن مسعود ، انس ، ابوبرزہ ، اور جبیر بن مطعم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1567]
💡 وضاحت:
۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صحابہ کی یہ دلی خواہش تھی کہ یہ قیدی مشرف بہ اسلام ہو جائیں اور مستقبل میں اپنی جان دے کر شہادت کا درجہ حاصل کر لیں (حدیث کی سند اور معنی دونوں پر کلام ہے؟)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (3973 / التحقيق الثاني)، الإرواء (5 / 48 - 49)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1567) إسناده ضعيف ¤ ھشام بن حسان عنعن (تقدم: 460) سفيان الثوري عنعن (تقدم:746)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 10234) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَمُّ أَبِي قِلَابَةَ هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَمُنَّ عَلَى مَنْ شَاءَ مِنَ الْأُسَارَى، وَيَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ، وَيَفْدِي مَنْ شَاءَ، وَاخْتَارَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقَتْلَ عَلَى الْفِدَاءِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: بَلَغَنِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْسُوخَةٌ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً سورة محمد آية 4، نَسَخَتْهَا وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ سورة البقرة آية 191، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِذَا أُسِرَ الْأَسِيرُ، يُقْتَلُ أَوْ يُفَادَى أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: إِنْ قَدَرُوا أَنْ يُفَادُوا فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَإِنْ قُتِلَ فَمَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا، قَالَ إِسْحَاق: الْإِثْخَانُ أَحَبُّ إِلَيَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا، فَأَطْمَعُ بِهِ الْكَثِيرَ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ایک قیدی مرد کے بدلہ میں دو مسلمان مردوں کو چھڑوایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے ، ¤ ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ قیدیوں میں سے جس پر چاہے احسان کرے اور جسے چاہے قتل کرے ، اور جن سے چاہے فدیہ لے ، ¤ ۴- بعض اہل علم نے فدیہ کے بجائے قتل کو اختیار کیا ہے ، ¤ ۵- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت «فإما منا بعد وإما فداء» منسوخ ہے اور آیت : «واقتلوهم حيث ثقفتموهم» اس کے لیے ناسخ ہے ، ¤ ۶- اسحاق بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا : آپ کے نزدیک کیا بہتر ہے جب قیدی گرفتار ہو تو اسے قتل کیا جائے یا اس سے فدیہ لیا جائے ، انہوں نے جواب دیا ، اگر وہ فدیہ لے سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر انہیں قتل کر دیا جائے تو بھی میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ، ¤ ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک خون بہانا زیادہ بہتر ہے جب یہ مشہور ہو اور اکثر لوگ اس کی خواہش رکھتے ہوں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1568]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي فی الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 10887) (صحیح)
|
|
|
19: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، " وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَرَبَاحٍ وَيُقَالُ: رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا قَتْلَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيَاتِ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ فِيهِمْ وَالْوِلْدَانِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَخَّصَا فِي الْبَيَاتِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں بریدہ ، رباح ، ان کو رباح بن ربیع بھی کہتے ہیں ، اسود بن سریع ابن عباس اور صعب بن جثامہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام سمجھتے ہیں ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ، ¤ ۴- کچھ اہل علم نے رات میں ان پر چھاپہ مارنے کی اور اس میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی رخصت دی ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ان دونوں نے رات میں چھاپہ مارنے کی رخصت دی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1569]
💡 وضاحت:
۱؎: عورت کے قتل کرنے کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے، ہاں! اگر وہ شریک جنگ ہو کر لڑے تو ایسی صورت میں عورت کا قتل جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2841)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 147 (3014)، و148 (3015)، صحیح مسلم/الجہاد 8 (1744)، سنن ابی داود/ الجہاد 121 (2668)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 30 (2841)، (تحفة الأشراف: 8668)، وط/الجہاد 3 (9)، سنن الدارمی/السیر 25 (2505) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ خَيْلَنَا أُوطِئَتْ مِنْ نِسَاءِ الْمُشْرِكِينَ وَأَوْلَادِهِمْ، قَالَ: " هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے ، آپ نے فرمایا : ” وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1570]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس حالت میں یہ سب اپنے بڑوں کے حکم میں تھے اور یہ مراد نہیں ہے کہ قصداً ان کا قتل کرنا مباح تھا، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان کی عورتوں اور بچوں کو پامال کئے بغیر ان کے بڑوں تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ بڑوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ سب مقتول ہوئے، ایسی صورت میں ان کا قتل جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (2839)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 146 (3012)، صحیح مسلم/الجہاد 9 (1785)، سنن ابی داود/ الجہاد 121 (2672)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 30 (2839)، (تحفة الأشراف: 939)، و مسند احمد (4/38، 71، 72، 73) (صحیح)
|
|
|
20: باب
باب: سابقہ باب سے متعلق ایک اور باب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ: " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ: " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا، فَاقْتُلُوهُمَا "، وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ ذَكَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، بَيْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَجُلًا فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ، وَحَدِيثُ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ فِي هَذَا الْبَابِ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا : ” اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پاؤ تو انہیں جلا دو “ ، پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا : ” میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دو حالانکہ آگ سے صرف اللہ ہی عذاب دے گا اس لیے اب اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر دو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۔ ¤ ۲- محمد بن اسحاق نے اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان ایک اور آدمی کا ذکر کیا ہے ، کئی اور لوگوں نے لیث کی روایت کی طرح روایت کی ہے ، لیث بن سعد کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے ۔ ¤ ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1571]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 49 (3016)، (تحفة الأشراف: 13481) (صحیح)
|
|
|
21: باب مَا جَاءَ فِي الْغُلُولِ
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے کے بارے میں وارد وعید کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أبو رجاء قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكِبْرِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مر گیا اور تین چیزوں یعنی تکبر ( گھمنڈ ) ، مال غنیمت میں خیانت اور قرض سے بری رہا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1572]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2412)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما یأتي (تحفة الأشراف: 2085)، و مسند احمد (2765، 282) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكَنْزِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: " الْكَنْزُ "، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: " الْكِبْرُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز ، غلول اور قرض سے بری رہا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۱؎ ۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الكنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الكبر» بیان کیا ہے ، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے ، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1573]
💡 وضاحت:
۱؎: «کنز» : وہ خزانہ ہے جو زمین میں دفن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ «غلول» : مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ بهذه اللفظة، الصحيحة (2785)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1573) إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن فى ھذا اللفظ: ”الكنز“ (وتقدم: 30) وروي الإمام أحمد (282/5) عن ثوبان رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((من فارق الروح الجسد وھو بري من ثلاث دخل الجنة: الغلال والدين (قال بھز:) والكبر)) وسنده صحيح وھو يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصدقات 12 (2412)، و مسند احمد (5/281 (تحفة الأشراف: 2114)، (صحیح) (الکنز کا لفظ شاذ ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم 2785)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الخلال، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانًا قَدِ اسْتُشْهِدَ، قَالَ: " كَلَّا، قَدْ رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ بِعَبَاءَةٍ قَدْ غَلَّهَا، قَالَ: قُمْ يَا عُمَرُ، فَنَادِ: إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ "، ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! فلاں آدمی شہید ہو گیا ، آپ نے فرمایا : ” ہرگز نہیں ، میں نے اس عباء ( کپڑے ) کی وجہ سے اسے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا “ ، آپ نے فرمایا : ” عمر ! کھڑے ہو جاؤ اور تین مرتبہ اعلان کر دو ، جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے “ ( اور مومن آدمی خیانت نہیں کیا کرتے ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1574]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 48 (114)، (تحفة الأشراف: 10497) (صحیح)
|
|
|
22: باب مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں عورتوں کے جانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مَعَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، يَسْقِينَ الْمَاءَ، وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور ان کے ہمراہ رہنے والی انصار کی چند عورتوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے تھے ، وہ پانی پلاتی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ربیع بنت معوذ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1575]
💡 وضاحت:
۱؎: جہاد عورتوں پر واجب نہیں ہے، لیکن حدیث میں مذکور مصالح اور ضرورتوں کی خاطر ان کا جہاد میں شریک ہونا جائز ہے، حج مبرور ان کے لیے سب سے افضل جہاد ہے، جہاد میں انسان کو سفری صعوبتیں، مشقتیں، تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، مال خرچ کرنا پڑتا ہے، حج و عمرہ میں بھی ان سب مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس لیے عورتوں کو حج و عمرہ کا ثواب جہاد کے برابر ملتا ہے، اسی بنا پر حج و عمرہ کو عورتوں کے لیے جہاد قرار دیا گیا ہے گویا جہاد کا ثواب اسے حج و عمرہ ادا کرنے کی صورت میں مل جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2284)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجہاد 47 (1810)، سنن ابی داود/ الجہاد 34 (2531)، (تحفة الأشراف: 261)، (وانظر المعنی عند: صحیح البخاری/الجہاد 65 (2880)، ومناقب الأنصار 18 (3811)، والمغازي 18 (4064) (صحیح)
|
|
|
23: باب مَا جَاءَ فِي قَبُولِ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ
باب: مشرکوں کے تحفے قبول کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ ثُوَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّ كِسْرَى أَهْدَى لَهُ فَقَبِلَ، وَأَنَّ الْمُلُوكَ أَهْدَوْا إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُمْ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ عِلَاقَةَ، وَثُوَيْرٌ يُكْنَى أَبَا جَهْمٍ.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فارس کے بادشاہ کسریٰ نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول کر لیا ، ( کچھ ) اور بادشاہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے ان کے تحفے قبول کئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- راوی ثویر ابوفاختہ کے بیٹے ہیں ، ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے اور ثویر کی کنیت ابوجہم ہے ، ¤ ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1576]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا التعليق على الروضة الندية (2 / 163)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1576) إسناده ضعيف ¤ ثوير: ضعيف (تقدم: 501)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10109) (ضعیف جدا) (سند میں ”ثویر بن علاقہ ابی فاختہ“ سخت ضعیف اور رافضی ہے)
|
|
|
24: باب فِي كَرَاهِيَةِ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین سے ہدیہ تحفہ قبول کرنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ "، يَعْنِي: هَدَايَاهُمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ، وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ.
عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اسلام لانے سے قبل ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اسلام لا چکے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إني نهيت عن زبد المشركين» کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے ، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے ، احتمال ہے کہ یہ بعد کا عمل ہے ، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے ، پھر آپ نے اس سے منع فرما دیا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1577]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیا جا سکتا ہے، چنانچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح التعليق على الروضة الندية (2 / 164)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 35 (3057)، (تحفة الأشراف: 11015)، و مسند احمد (4/162) (حسن صحیح)
|
|
|
25: باب مَا جَاءَ فِي سَجْدَةِ الشُّكْرِ
باب: جنگ میں فتح کی خبر سن کر سجدہ شکر کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَاهُ أَمْرٌ فَسُرَّ بِهِ، فَخَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ رَأَوْا سَجْدَةَ الشُّكْرِ، وَبَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی ، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اس کو صرف اسی سند سے بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- بکار بن عبدالعزیز بن ابی بکرہ مقارب الحدیث ہیں ، ¤ ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ سجدہ شکر کو درست سمجھتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1578]
💡 وضاحت:
۱؎: کعب بن مالک رضی الله عنہ کا سجدہ شکر بجا لانا صحیح روایات سے ثابت ہے، اور مسیلمہ کذاب کے قتل کی خبر سن کر ابوبکر رضی الله عنہ بھی سجدہ میں گر گئے تھے، گویا ایسی خبر جس سے دل کو خوشی و مسرت حاصل ہو اس پر سجدہ شکر بجا لانا مشروع ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1394)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 174 (2774)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 192 (1394)، (تحفة الأشراف: 11698) (حسن)
|
|
|
26: باب مَا جَاءَ فِي أَمَانِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ
باب: غلام اور عورت کو امان دینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَجَازُوا أَمَانَ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق: أَجَازَ أَمَانَ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَأَبُو مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أَيْضًا وَاسْمُهُ يَزِيدُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ أَجَازَ أَمَانَ الْعَبْدِ، رُوِيَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ مَنْ أَعْطَى الْأَمَانَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَهُوَ جَائِزٌ عَلَى كُلِّهِمْ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان عورت کسی کو پناہ دے سکتی ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے ، ¤ ۳- کثیر بن زید نے ولید بن رباح سے سنا ہے اور ولید بن رباح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ مقارب الحدیث ہیں ، ¤ ۴- اس باب میں ام ہانی رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1579]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض روایات میں ہے کہ مسلمانوں کا ادنی آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے، اس حدیث اور ام ہانی کے سلسلہ میں آپ کا فرمان: «قد أجرنا من أجرت يا أم هاني» سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان عورت بھی کسی کو پناہ دے سکتی ہے، اور اس کی دی ہوئی پناہ کو کسی مسلمان کے لیے توڑ ناجائز نہیں۔
۲؎: یعنی مسلمانوں میں سے کوئی ادنی شخص کسی کو پناہ دے تو اس کی دی ہوئی پناہ سارے مسلمانوں کے لیے قبول ہو گی کوئی اس پناہ کو توڑ نہیں سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
(حديث أبي هريرة) حسن، (حديث أم هانئ) صحيح (حديث أبي هريرة)، المشكاة (3978 / التحقيق الثاني)، (حديث أم هانئ)، صحيح أبي داود (2468)، الصحيحة (2049)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 4 (357)، والجزیة 9 (3171)، والأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (336/82) سنن ابی داود/ الجہاد167 (2763)، (تحفة الأشراف: 18018)، وط/قصر الصلاة فی السفر 8 (28)، و مسند احمد (6/343، 423)، و سنن الدارمی/الصلاة 151 (1494) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَجَرْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَحْمَائِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَجَازُوا أَمَانَ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق: أَجَازَ أَمَانَ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَأَبُو مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَيُقَالُ لَهُ أَيْضًا: مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ أَيْضًا وَاسْمُهُ يَزِيدُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ أَجَازَ أَمَانَ الْعَبْدِ، رُوِيَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ مَنْ أَعْطَى الْأَمَانَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَهُوَ جَائِزٌ عَلَى كُلِّهِمْ.
ام ہانی سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنے شوہر کے دو رشتے داروں کو پناہ دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے بھی اس کو پناہ دی جس کو تم نے پناہ دی “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ( یہ حدیث ) کئی سندوں سے مروی ہے ، ¤ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، انہوں نے عورت کے پناہ دینے کو جائز قرار دیا ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ، انہوں نے عورت اور غلام کے پناہ دینے کو جائز قرار دیا ہے ، ¤ ۴- راوی ابو مرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب کو مولیٰ ام ہانی بھی کہا گیا ہے ، ان کا نام یزید ہے ، ¤ ۵- عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے ، انہوں نے غلام کے پناہ دینے کو جائز قرار دیا ہے ، ¤ ۶- علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن عمرو کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ، آپ نے فرمایا : ” تمام مسلمانوں کی پناہ یکساں ہے جس کے لیے ان کا ادنی آدمی بھی کوشش کر سکتا ہے “ ۲؎ ، ¤ ۷- اہل علم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے ، اگر مسلمانوں میں سے کسی نے امان دے دی تو درست ہے اور ہر مسلمان اس کا پابند ہو گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1579M]
قال الشيخ الألباني:
(حديث أبي هريرة) حسن، (حديث أم هانئ) صحيح (حديث أبي هريرة)، المشكاة (3978 / التحقيق الثاني)، (حديث أم هانئ)، صحيح أبي داود (2468)، الصحيحة (2049)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 4 (357)، والجزیة 9 (3171)، والأدب 94 (6158)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (336/82) سنن ابی داود/ الجہاد167 (2763)، (تحفة الأشراف: 18018)، وط/قصر الصلاة فی السفر 8 (28)، و مسند احمد (6/343، 423)، و سنن الدارمی/الصلاة 151 (1494) (صحیح)
|
|
|
27: باب مَا جَاءَ فِي الْغَدْرِ
باب: عہد توڑنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَيْضِ، قَال: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ أَهْلِ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، وَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ، حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ "، قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ اور اہل روم کے درمیان ( کچھ مدت تک کے لیے ) عہد و پیمان تھا ، معاویہ رضی الله عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے تاکہ جب عہد کی مدت تمام ہو تو ان پر حملہ کر دیں ، اچانک ایک آدمی کو اپنی سواری یا گھوڑے پر : اللہ اکبر ! ” تمہاری طرف سے ایفائے عہد ہونا چاہیئے نہ کہ بدعہدی “ ، کہتے ہوئے دیکھا وہ عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ تھے ، تو معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کر دے ، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے “ ، معاویہ رضی الله عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1580]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2464)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 164 (2759)، (تحفة الأشراف: 10753)، و مسند احمد (4/111) (صحیح)
|
|
|
28: باب مَا جَاءَ أَنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
باب: بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہو گا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ حَدِيثِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ "، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے ، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے ، عمارہ نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا “ ، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا : میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی ، عبداللہ بن مسعود ، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1581]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2461)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجزیة 22 (3188)، والأدب 99 (6177)، والحیل 9 (6966)، والفتن 21 (7111)، صحیح مسلم/الجہاد 4 (1736)، سنن ابی داود/ الجہاد 162 (2756)، (تحفة الأشراف: 7690)، و مسند احمد 2/142) (صحیح)
|
|
|
29: باب مَا جَاءَ فِي النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ
باب: دشمن کی مسلمان کے فیصلہ پر رضا مندی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: رُمِيَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فَقَطَعُوا أَكْحَلَهُ أَوْ أَبْجَلَهُ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّارِ، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَتَرَكَهُ، فَنَزَفَهُ الدَّمُ، فَحَسَمَهُ أُخْرَى، فَانْتَفَخَتْ يَدُهُ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا تُخْرِجْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَاسْتَمْسَكَ عِرْقُهُ، فَمَا قَطَرَ قَطْرَةً حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَحَكَمَ أَنْ يُقْتَلَ رِجَالُهُمْ وَيُسْتَحْيَا نِسَاؤُهُمْ يَسْتَعِينُ بِهِنَّ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَصَبْتَ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ "، وَكَانُوا أَرْبَعَ مِائَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَتْلِهِمْ، انْفَتَقَ عِرْقُهُ فَمَاتَ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو تیر لگا ، کفار نے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل ( بازو کی ایک رگ ) کاٹ دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگ سے داغا تو ان کا ہاتھ سوج گیا ، لہٰذا آپ نے اسے چھوڑ دیا ، پھر خون بہنے لگا ، چنانچہ آپ نے دوبارہ داغا پھر ان کا ہاتھ سوج گیا ، جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعا کی : اے اللہ ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ ( کی ہلاکت اور ذلت سے ) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہو جائے ، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا ، یہاں تک کہ بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے حکم پر ( قلعہ سے ) نیچے اترے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلایا انہوں نے آ کر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں کو زندہ رکھا جائے جن سے مسلمان خدمت لیں ۱؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے ، ان کی تعداد چار سو تھی ، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عطیہ قرظی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1582]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بنو قریظہ کی عورتیں مسلمانوں کی خدمت کے لیے ان میں تقسیم کر دی جائیں۔
۲؎: اس حدیث میں دلیل ہے کہ مسلمانوں میں سے کسی کے فیصلہ پر دشمنوں کا راضی ہو جانا اور اس پر اترنا جائز ہے، اور ان کی بابت جو بھی فیصلہ اس مسلمان کی طرف سے صادر ہو گا دشمنوں کے لیے اس کا ماننا ضروری ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (5 / 38 - 39)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ (تحفة الأشراف: 2925) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ، وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ "، وَالشَّرْخُ: الْغِلْمَانُ الَّذِينَ لَمْ يُنْبِتُوا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، نَحْوَهُ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مشرکین کے مردوں کو قتل کر دو اور ان کے لڑکوں میں سے جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں انہیں کو چھوڑ دو “ ، «شرخ» وہ لڑکے ہیں جن کے زیر ناف کے بال نہ نکلے ہوں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- حجاج بن ارطاۃ نے قتادہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1583]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (3952 / التحقيق الثاني)، ضعيف أبي داود (259) // (571 / 2670)، ضعيف الجامع الصغير (1063) بلفظ: واستبقوا شرخهم //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1583) إسناده ضعيف / د 2670
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 121 (2670)، (تحفة الأشراف: 4592)، و مسند احمد (5/12، 20) (ضعیف) (سند میں قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الْإِنْبَاتَ بُلُوغًا، إِنْ لَمْ يُعْرَفْ احْتِلَامُهُ وَلَا سِنُّهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ، تو جس کے ( زیر ناف کے ) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا ، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے ، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ ( زیر ناف کے ) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1584]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2541)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحدود 17 (4404)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3460)، وقطع السارق 17 (4996)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2541)، (تحفة الأشراف: 9904)، و مسند احمد (4/310)، و 5/312) (صحیح)
|
|
|
30: باب مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ
باب: جاہلیت کے حلف (معاہدہ تعاون) کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ، يَعْنِي: الْإِسْلَامَ، إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ” جاہلیت کے حلف ( معاہدہ تعاون ) کو پورا کرو ۱؎ ، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اب اسلام میں کوئی نیا معاہدہ تعاون نہ کرو “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف ، ام سلمہ ، جبیر بن مطعم ، ابوہریرہ ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1585]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے متعلق جو عہد ہوا ہے اسے پورا کرو بشرطیکہ یہ عہد شریعت کے مخالف نہ ہو۔
۲؎: یعنی یہ عہد کرنا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیونکہ اسلام آ جانے کے بعد اس طرح کا عہد درست نہیں ہے، بلکہ وراثت سے متعلق عہد کے لیے اسلام کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (3983 / التحقيق الثاني)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8690) (حسن)
|
|
|
31: باب مَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ
باب: مجوس سے جزیہ لینے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَنَاذِرَ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ، انْظُرْ مَجُوسَ مَنْ قِبَلَكَ فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا ، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1586]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مجوسی مشرکوں سے جزیہ وصول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (1249)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجزیة 1 (3156)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 31 (3043)، (تحفة الأشراف: 9717)، و مسند احمد (1/190) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَجَالَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يَأْخُذُ الْجِزْيَةَ مِنْ الْمَجُوسِ، حَتَّى أَخْبَرَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ "، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1587]
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (1586)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: " أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجِزْيَةَ مِنْ مَجُوسِ الْبَحْرَيْنِ، وَأَخَذَهَا عُمَرُ مِنْ فَارِسَ، وَأَخَذَهَا عُثْمَانُ مِنْ الْفُرْسِ "، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا، فَقَالَ: هُوَ مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے ، اور عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1588]
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (وہو في بعض النسخ فحسب ولذا لم یذکرہ المزي في التحفة) (صحیح)
|
|
|
32: باب مَا يَحِلُّ مِنْ أَمْوَالِ أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمی کے مال سے کتنا لینا جائز ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَمُرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا، وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لَنَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ، وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَبَوْا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا، فَخُذُوا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَيْضًا، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّهُمْ كَانُوا يَخْرُجُونَ فِي الْغَزْوِ، فَيَمُرُّونَ بِقَوْمٍ وَلَا يَجِدُونَ مِنَ الطَّعَامِ مَا يَشْتَرُونَ بِالثَّمَنِ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوا إِلَّا أَنْ تَأْخُذُوا كَرْهًا، فَخُذُوا "، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ مُفَسَّرًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِنَحْوِ هَذَا.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جو نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں ، نہ ان پر جو ہمارا حق ہے اسے ادا کرتے ہیں ، اور ہم ان سے کچھ نہیں لیتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ نہ دیں سوائے اس کے کہ تم زبردستی ان سے لو ، تو زبردستی لے لو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اسے لیث بن سعد نے بھی یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ بخاری کی سند میں ہے ) ، ¤ ۳- اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے ، جہاں کھانا نہیں پاتے تھے ، کہ قیمت سے خریدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ ( کھانا ) فروخت کرنے سے انکار کریں سوائے اس کے کہ تم زبردستی لو تو زبردستی لے لو ، ¤ ۴- ایک حدیث میں اسی طرح کی وضاحت آئی ہے ، عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے ، وہ بھی اسی طرح کا حکم دیا کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1589]
💡 وضاحت:
۱؎: امام احمد، شوکانی اور صاحب تحفہ الاحوذی کے مطابق یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے، اس کی کوئی تاویل بلا دلیل ہے، جیسے: یہ زمن نبوت کے ساتھ خاص تھا، یا یہ کہ یہ ان اہل ذمہ کے ساتھ خاص تھا جن سے مسلمان لشکریوں کی ضیافت کرنے کی شرط لی گئی تھی، وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3676)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 18 (2461)، والأدب 85 (6137)، صحیح مسلم/اللقطة 3 (1727)، سنن ابی داود/ الأطعمة 5 (3752)، سنن ابن ماجہ/الأدب 5 (3626)، (تحفة الأشراف: 9954)، و مسند احمد (4/149) (صحیح)
|
|
|
33: باب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ
باب: ہجرت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، نَحْوَ هَذَا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا : ” فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے ، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابوسعید ، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1590]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مکہ سے خاص طور پر مدینہ کی طرف ہجرت نہیں ہے کیونکہ مکہ اب دارالسلام بن گیا ہے، البتہ دارالکفر سے دارالسلام کی طرف ہجرت تاقیامت باقی رہے گی جیسا کہ بعض احادیث سے ثابت ہے اور مکہ سے ہجرت کے انقطاع کے سبب جس خیر و بھلائی سے لوگ محروم ہو گئے اس کا حصول جہاد اور صالح نیت کے ذریعہ ممکن ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2773)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید 10 (1834)، والجہاد 1 (2783)، و 27 (2825)، و 194 (3077)، والجزیة 22 (3189)، صحیح مسلم/الحج 82 (1353)، والإمارة 20 (1353/85)، سنن ابی داود/ المناسک 90 (2018)، (إشارة) والجہاد 2 (2480)، سنن النسائی/البیعة 15 (4175)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 9 (2773)، (تحفة الأشراف: 5748)، و مسند احمد (1/226، 226، 316، 355)، وسنن الدارمی/السیر 69 (2554) (صحیح)
|
|
|
34: باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ سورة الفتح آية 18، قَالَ جَابِرٌ" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ، وَلَمْ نُبَايِعْهُ عَلَى الْمَوْتِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعُبَادَةَ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَلَمْ يُذْكَرْ فِيهِ أَبُو سَلَمَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ : «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» ” اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے “ ۔ ( الفتح : ۱۸ ) کے بارے میں روایت ہے ، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی ، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے ، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع ، ابن عمر ، عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1591]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1591) إسناده ضعيف ¤ يحيي بن أبى كثير عنعن (د 293) و أحاديث مسلم (1856) وأحمد (292/3) تغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 18 (1856)، سنن النسائی/البیعة 7 (4163)، (تحفة الأشراف: 3163)، و مسند احمد (3/355، 381، 396)، وسنن الدارمی/السیر 18 (2498) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا : حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : موت پر ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1592]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 110 (2960)، والمغازي 35 (4169)، والأحکام 43 (7206)، و 44 (7208)، صحیح مسلم/الإمارة 18 (1860)، سنن النسائی/البیعة 8 (4164)، (تحفة الأشراف: 4536)، و مسند احمد (4/47، 51، 54) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَيَقُولُ لَنَا: " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ كِلَاهُمَا.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے ) پر بیعت کرتے تھے ، پھر آپ ہم سے فرماتے : ” جتنا تم سے ہو سکے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہما دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے ، ( ان میں تعارض نہیں ہے ) بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی ، ان لوگوں نے کہا تھا : ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کر دیئے جائیں ، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا : ہم نہیں بھاگیں گے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1593]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2606)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأحکام 43 (7202)، صحیح مسلم/الإمارة 22 (1867)، سنن النسائی/البیعة 24 (4192)، (تحفة الأشراف: 7127)، وط/البیعة 1 (1)، و مسند احمد (2/62، 81، 101، 139) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى كِلَا الْحَدِيثَيْنِ صَحِيحٌ: قَدْ بَايَعَهُ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ عَلَى الْمَوْتِ، وَإِنَّمَا قَالُوا: لَا نَزَالُ بَيْنَ يَدَيْكَ حَتَّى نُقْتَلَ، وَبَايَعَهُ آخَرُونَ، فَقَالُوا: لَا نَفِرُّ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی ، ہم نے تو آپ سے بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے ( چاہے اس کا انجام کبھی موت ہی کیوں نہ ہو جائے ) ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1594]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1591، (تحفة الأشراف: 2763) (صحیح)
|
|
|
35: باب مَا جَاءَ فِي نَكْثِ الْبَيْعَةِ
باب: بیعت توڑنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، فَإِنْ أَعْطَاهُ وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ بِلَا اخْتِلَافٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے ( اس کی مرضی کے مطابق ) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1595]
💡 وضاحت:
۱؎: باقی دو آدمی جن کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے وہ یہ ہیں: ایک وہ آدمی جس کے پاس لمبے چوڑے صحراء میں اس کی ضرورتوں سے زائد پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کر لیا حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2207)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المساقاة 10 (2369)، والشہادات 22 (2672)، والأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان 46 (173)، سنن ابی داود/ البیوع 62 (3474)، سنن النسائی/البیوع 6 (4474)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2207)، والجہاد 42 (2870)، (تحفة الأشراف: 12472)، و مسند احمد (2/253) (صحیح)
|
|
|
36: باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ الْعَبْدِ
باب: غلام کی بیعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَا يَشْعُرُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، وَلَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ؟ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزُّبَيْرِ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے ، اتنے میں اس کا مالک آ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اسے بیچ دو “ ، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا ، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے ؟ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1596]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک غلام دو غلام کے بدلے خریدنا اور بیچنا جائز ہے، اس شرط کے ساتھ کہ یہ خرید و فروخت بصورت نقد ہو، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیعت کے لیے آئے ہوئے شخص سے اس کی غلامی و آزادی سے متعلق پوچھ لینا ضروری ہے، کیونکہ غلام ہونے کی صورت میں اس سے بیعت لینی صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تقدم في البیوع برقم 1591 (تحفة الأشراف: 2763) (صحیح)
|
|
|
37: باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ، تَقُولُ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَنَا: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ "، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَرْحَمُ بِنَا مِنَّا بِأَنْفُسِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْنَا، قَالَ سُفْيَانُ: تَعْنِي: صَافِحْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا قَوْلِي لِمِائَةِ امْرَأَةٍ كَقَوْلِي لِامْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، نَحْوَهُ، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَعْرِفُ لِأُمَيْمَةَ بِنْتِ رُقَيْقَةَ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَأُمَيْمَةُ امْرَأَةٌ أُخْرَى لَهَا حَدِيثٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
امیمہ بنت رقیقہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کئی عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ، آپ نے ہم سے فرمایا : ” اطاعت اس میں لازم ہے جو تم سے ہو سکے اور جس کی تمہیں طاقت ہو “ ، میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سے بیعت لیجئے ( سفیان بن عیینہ کہتے ہیں : ان کا مطلب تھا مصافحہ کیجئے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سو عورتوں کے لیے میرا قول میرے اس قول جیسا ہے جو ایک عورت کے لیے ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف محمد بن منکدر ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، سفیان ثوری ، مالک بن انس اور کئی لوگوں نے محمد بن منکدر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں امیمہ بنت رقیقہ کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں جانتا ہوں ، ¤ ۳- امیمہ نام کی ایک دوسری عورت بھی ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث آئی ہے ۔ ¤ ۴- اس باب میں عائشہ ، عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1597]
💡 وضاحت:
۱؎: زبان ہی سے بیعت لینا عورتوں کے لیے کافی ہے مصافحہ کی ضرورت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2874)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیعة 18 (4186)، و 24 (4195)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 43 (2874)، (تحفة الأشراف: 15781)، وط/البیعة 1 (2)، و مسند احمد (6/357) (صحیح)
|
|
|
38: باب مَا جَاءَ فِي عِدَّةِ أَصْحَابِ أَهْلِ بَدْرٍ
باب: اہل بدر کی تعداد کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: " كُنَّا نَتَحَدَّثُ: أَنَّ أَصْحَابَ بَدْرٍ يَوْمَ بَدْرٍ، كَعِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ، ثَلَاثُ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ثوری اور دوسرے لوگوں نے بھی ابواسحاق سبیعی سے اس کی روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1598]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 6 (3957، 3959)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 25 (2828)، (تحفة الأشراف: 1908) (صحیح)
|
|
|
39: باب مَا جَاءَ فِي الْخُمُسِ
باب: مال غنیمت میں اللہ و رسول کے حصے خمس نکالنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا : ” میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس ( یعنی پانچواں حصہ ) ادا کرو ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1599]
💡 وضاحت:
۱؎: تفصیل کے لیے دیکھئیے صحیح بخاری وصحیح مسلم کتاب الایمان۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر البخاري (40)، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1599M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر البخاري (40)، الإيمان لأبي عبيد (59 / 1)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
40: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ النُّهْبَةِ
باب: لوٹ کے مال کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَقَدَّمَ سَرْعَانُ النَّاسِ، فَتَعَجَّلُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، فَاطَّبَخُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَى النَّاسِ، فَمَرَّ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ وَهَذَا أَصَحُّ، وَعَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَجَابِرٍ.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے ، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں ، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا ، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق : «عن أبيه سعيد ، عن عباية ، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے ، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں : ہم سے وکیع نے بیان کیا ، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں ۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے ، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم ، انس ، ابوریحانہ ، ابوالدرداء ، عبدالرحمٰن بن سمرہ ، زید بن خالد ، جابر ، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1600]
💡 وضاحت:
۱؎: تقسیم سے قبل یہ جلد باز لوگ اس مشترکہ مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور بکریوں کو ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لوٹے ہوئے مال کو حرام قرار دیا اور چولہے پر چڑھی ہانڈیوں کے الٹ دینے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3137)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 1491 (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1601]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کسی معصوم کے مال کو اس کی اجازت و رضا مندی کے بغیر ڈاکہ زنی کر کے لینا حرام ہے، اور اگر کوئی یہ کام حلال سمجھ کر کر رہا ہے تو وہ کافر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، المشكاة (2947 / التخريج الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 479)، وانظر مسند احمد (3/140، 197، 312، 323، 380، 395) (صحیح)
|
|
|
41: باب مَا جَاءَ فِي التَّسْلِيمِ عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کو سلام کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ، وَإِذَا لَقِيتُمْ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ: " لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى "، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّمَا مَعْنَى: الْكَرَاهِيَةِ، لِأَنَّهُ يَكُونُ تَعْظِيمًا لَهُمْ، وَإِنَّمَا أُمِرَ الْمُسْلِمُونَ بِتَذْلِيلِهِمْ، وَكَذَلِكَ إِذَا لَقِيَ أَحَدَهُمْ فِي الطَّرِيقِ فَلَا يَتْرُكِ الطَّرِيقَ عَلَيْهِ، لِأَنَّ فِيهِ تَعْظِيمًا لَهُمْ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور ان میں سے جب کسی سے تمہارا آمنا سامنا ہو جائے تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر ، انس رضی الله عنہم اور ابو بصرہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم خود ان سے سلام نہ کرو ( بلکہ ان کے سلام کرنے پر صرف جواب دو ) ، ¤ ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں : یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہو گی جب کہ مسلمانوں کو انہیں تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس سے بھی ان کی تعظیم ہو گی ( جو صحیح نہیں ہے ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1602]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کی رو سے مسلمان کا یہود و نصاریٰ اور مجوس وغیرہ کو پہلے سلام کہنا حرام ہے، جمہور کی یہی رائے ہے۔ راستے میں آمنا سامنا ہونے پر انہیں تنگ راستے کی جانب مجبور کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ چھوٹے لوگ ہیں۔ اور یہ غیر اسلامی حکومتوں میں ممکن نہیں اس لیے بقول ائمہ شر وفتنہ سے بچنے کے لیے جو محتاط طریقہ ہو اسے اپنانا چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (704)، الإرواء (1271)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 4 (2167)، سنن ابی داود/ الأدب 149 (5205)، (تحفة الأشراف: 1270)، ویأتي في الاستئذان برقم 2700) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدُهُمْ فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، فَقُلْ: عَلَيْكَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے : «السام عليک» ( یعنی تم پر موت ہو ) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو ( یعنی تم پر موت ہو ) “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1603]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (5 / 112)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستئذان 22 (6657)، والمرتدین 4 (6928)، صحیح مسلم/السلام 4 (2164)، سنن ابی داود/ الأدب 149 (5206)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 134 (178)، (تحفة الأشراف: 7128)، وط/السلام 2 (3)، و مسند احمد (2/19)، وسنن الدارمی/الاستئذان 7 (2677) (صحیح)
|
|
|
42: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کے درمیان رہنے کی کراہت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ، فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ، فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِمَ؟ قَالَ: " لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا "،
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا ، ( کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے ) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی ، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا : ” میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آخر کیوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ( مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ ) وہ دونوں ایک دوسرے ( کے کھانا پکانے ) کی آگ نہ دیکھ سکیں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1604]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسلمان کفار کے درمیان مقیم ہوں اور مجاہدین کے ہاتھوں ان کا قتل ہو جائے تو مجاہدین پر اس کا کوئی گناہ نہیں، اور ”دونوں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں“ کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے تقاضے کے مطابق مشرکین کے گھروں اور علاقوں سے ہجرت کرنا ضروری ہے کیونکہ اسلام اور کفر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آدھی دیت کا حکم اس لیے دیا کیونکہ باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بطور سزا ساقط ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون الأمر بنصف العقل، الإرواء (1207)، صحيح أبي داود (2377)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1604) إسناده ضعيف / د 2645
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 105 (2645)، سنن النسائی/القسامة 26 (4784)، (تحفة الأشراف: 3227) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، دیکھئے: الارواء: رقم 1207)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ وَهَذَا أَصَحُّ، وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَكْثَرُ أَصْحَابِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: الصَّحِيحُ حَدِيثُ قَيْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ، وَرَوَى سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُسَاكِنُوا الْمُشْرِكِينَ، وَلَا تُجَامِعُوهُمْ، فَمَنْ سَاكَنَهُمْ أَوْ جَامَعَهُمْ، فَهُوَ مِثْلُهُمْ ".
عبدہ نے یہ حدیث بطریق : «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( مرسلاً ) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے ، اس میں انہوں ( عبدہ ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۲- اسماعیل بن ابی خالد کے اکثر شاگرد اسماعیل کے واسطہ سے قیس بن ابی حازم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ کیا ، ان لوگوں نے اس میں جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ، اور حماد بن سلمہ نے بطریق : «الحجاج بن أرطاة عن إسمعيل بن أبي خالد عن قيس عن جرير» ( مرفوعاً ) ابومعاویہ کے مثل اس کی روایت کی ہے ، ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : صحیح یہ ہے کہ قیس کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے ، نیز سمرہ بن جندب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، آپ نے فرمایا : ” مشرکوں کے ساتھ نہ رہو اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرو ، جو ان کے ساتھ رہے گا یا ان کی ہم نشینی اختیار کرے گا وہ بھی انہیں میں سے مانا جائے گا ، ¤ ۳- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1605]
قال الشيخ الألباني:
**
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1605) إسناده ضعيف / ن 4784 ¤ السند مرسل، وانظر الحديث السابق: 1604
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/القسامة 26 (4784)، (تحفة الأشراف: 19233) (صحیح)
|
|
|
43: باب مَا جَاءَ فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1606]
💡 وضاحت:
۱؎: جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر احمر، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جا سکا، لیکن عمر رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کر دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (1605)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجہاد 21 (1767)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 28 (3030)، (تحفة الأشراف: 10419)، و مسند احمد (1/32) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، فَلَا أَتْرُكُ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو ضرور نکالوں گا اور اس میں صرف مسلمان کو باقی رکھوں گا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1607]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1134)، صحيح أبي داود
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
44: باب مَا جَاءَ فِي تَرِكَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ: مَنْ يَرِثُكَ؟ قَالَ: أَهْلِي وَوَلَدِي قَالَتْ: فَمَا لِي لَا أَرِثُ أَبِي؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا نُورَثُ، وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ، وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَطَلْحَةَ، وَالزُّبَيْرِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدٍ، وَعَائِشَةَ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، إِنَّمَا أَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، إِلَّا حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، نَحْوَ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی الله عنہا نے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر کہا : آپ کی وفات کے بعد آپ کا وارث کون ہو گا ؟ انہوں نے کہا : میرے گھر والے اور میری اولاد ، فاطمہ رضی الله عنہا نے کہا : پھر کیا وجہ ہے کہ میں اپنے باپ کی وارث نہ بنوں ؟ ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” ہم ( انبیاء ) کا کوئی وارث نہیں ہوتا “ ( پھر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا ) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کی کفالت کرتے تھے ہم بھی اس کی کفالت کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس پر خرچ کرتے تھے ہم بھی اس پر خرچ کریں گے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اسے حماد بن سلمہ اور عبدالوہاب بن عطاء نے مسنداً روایت کیا ہے یہ دونوں اور محمد بن عمر سے اور محمد ابوسلمہ سے ، اور ابوسلمہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں ، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں کہا : میں حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس حدیث کو محمد بن عمرو سے محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہو ۔ ( ترمذی کہتے ہیں : ہاں ) عبدالوہاب بن عطاء نے بھی محمد بن عمرو سے اور محمد نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ابوہریرہ سے حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں عمر ، طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمٰن بن عوف ، سعد اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1608]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل المحمدية (337)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 6625) وانظر: صحیح البخاری/الخمس 1 (3092، 3093)، والنفقات 3 (6725 و 6726) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، تَسْأَلُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنِّي لَا أُورَثُ "، قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكُمَا أَبَدًا، فَمَاتَتْ وَلَا تُكَلِّمُهُمَا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى: مَعْنَى لَا أُكَلِّمُكُمَا تَعْنِي: فِي هَذَا الْمِيرَاثِ أَبَدًا أَنْتُمَا صَادِقَانِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی الله عنہا ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے اپنا حصہ طلب کرنے آئیں ، ان دونوں نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میرا کوئی وارث نہیں ہو گا “ ، فاطمہ رضی الله عنہ بولیں : اللہ کی قسم ! میں تم دونوں سے کبھی بات نہیں کروں گی ، چنانچہ وہ انتقال کر گئیں ، لیکن ان دونوں سے بات نہیں کی ۔ راوی علی بن عیسیٰ کہتے ہیں : «لا أكلمكما» کا مفہوم یہ ہے کہ میں اس میراث کے سلسلے میں کبھی بھی آپ دونوں سے بات نہیں کروں گی ، آپ دونوں سچے ہیں ۔ ( © امام ترمذی کہتے ہیں ) یہ حدیث کئی سندوں سے ابوبکر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1609]
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَدَخَلَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ عُمَرُ لَهُمْ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ؟ "، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتَ أَنْتَ وَهَذَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَطْلُبُ أَنْتَ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ "، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ صَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس گیا ، اسی دوران ان کے پاس عثمان بن عفان ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہم بھی پہنچے ، پھر علی اور عباس رضی الله عنہما جھگڑتے ہوئے آئے ، عمر رضی الله عنہ نے ان سے کہا : میں تم لوگوں کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہے ، تم لوگ جانتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” ہمارا ( یعنی انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا ، جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ! عمر رضی الله عنہ نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہوں ، پھر تم اپنے بھتیجے کی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کرنے اور یہ اپنی بیوی کے باپ کی میراث طلب کرنے کے لیے ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آئے ، ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا ( یعنی انبیاء کا ) کوئی وارث نہیں ہوتا ، ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے “ ، ( عمر رضی الله عنہ نے کہا ) اللہ خوب جانتا ہے ابوبکر سچے ، نیک ، بھلے اور حق کی پیروی کرنے والے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ اس حدیث میں تفصیل ہے ، یہ حدیث مالک بن اوس ۱؎ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1610]
💡 وضاحت:
۱؎: ترمذی کے نسخوں میں «مالک بن أنس» ظاہر ہے کہ یہاں تفرد «مالک بن أوس» کا عمر بن خطاب سے، جیسا کہ تخریج سے ظاہر ہے اس لیے صواب «مالک بن أوس» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (341)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الخمس 1 (3094)، والمغازي 14 (4033)، والنفقات 3 (5357)، والفرائض 3 (6728)، والاعتصام5 (7305)، صحیح مسلم/الجہاد 15 (1757/49)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 19 (2963)، (تحفة الأشراف: 10632)، و مسند احمد (1/25) (صحیح)
|
|
|
45: باب مَا جَاءَ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ إِنَّ هَذِهِ لاَ تُغْزَى بَعْدَ الْيَوْمِ
باب: فتح مکہ کے دن فرمان نبوی ”آج کے بعد مکہ میں جہاد نہیں کیا جائے گا“ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْبَرْصَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: " لَا تُغْزَى هَذِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَمُطِيعٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، فَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
حارث بن مالک بن برصاء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” مکہ میں آج کے بعد قیامت تک ( کافروں سے ) جہاد نہیں کیا جائے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ یعنی زکریا بن ابی زائدہ کی حدیث جو شعبی کے واسطہ سے آئی ہے ، ¤ ۲- ہم اس حدیث کو صرف ان ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس ، سلیمان بن صرد اور مطیع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1611]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی مکہ اب دارالحرب اور کفار کا مسکن نہیں ہو گا کہ یہاں جہاد کی پھر ضرورت پیش آئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (2427)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3280) (صحیح)
|
|
|
46: باب مَا جَاءَ فِي السَّاعَةِ الَّتِي يُسْتَحَبُّ فِيهَا الْقِتَالُ
باب: جہاد کے مستحب اوقات کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ، قَاتَلَ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ، أَمْسَكَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، قَاتَلَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ أَمْسَكَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ يُقَاتِلُ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: عِنْدَ ذَلِكَ تَهِيجُ رِيَاحُ النَّصْرِ، وَيَدْعُو الْمُؤْمِنُونَ لِجُيُوشِهِمْ فِي صَلَاتِهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ بِإِسْنَادٍ أَوْصَلَ مِنْ هَذَا، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكْ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ، وَمَاتَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ.
نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا ، جب فجر طلوع ہوتی تو آپ ( قتال سے ) ٹھہر جاتے یہاں تک کہ سورج نکل جاتا ، جب سورج نکل جاتا تو آپ جہاد میں لگ جاتے ، پھر جب دوپہر ہوتی آپ رک جاتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا ، جب سورج ڈھل جاتا تو آپ عصر تک جہاد کرتے ، پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ عصر پڑھ لیتے ، پھر جہاد ( شروع ) کرتے ۔ کہا جاتا تھا کہ اس وقت نصرت الٰہی کی ہوا چلتی ہے اور مومن اپنے مجاہدین کے لیے نماز میں دعائیں کرتے ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے جو موصول ہے ، قتادہ کی ملاقات نعمان سے نہیں ہے ، نعمان بن مقرن کی وفات عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1612]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (3934 / التحقيق الثاني)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1612) إسناده ضعيف ¤ قتاده مدلس وعنعن (تقدم: 30) والحديث الأتي (الأصل: 1613) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف وانظر الحدیث الآتي (تحفة الأشراف: 11649)، (ضعیف الإسناد) (قتادہ کی نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے لقاء نہیں اس لیے اس سند میں انقطاع ہے، اگلی سند سے یہ حدیث صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَعَثَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ إِلَى الْهُرْمُزَانِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، فَقَالَ النُّعْمَانُ بْنُ مُقَرِّنٍ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَكَانَ إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، انْتَظَرَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ وَيَنْزِلَ النَّصْرُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ.
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے نعمان بن مقرن رضی الله عنہ کو ہرمز ان کے پاس بھیجا ، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ، نعمان بن مقرن رضی الله عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( کسی غزوہ میں ) حاضر ہوا ، جب آپ دن کے شروع حصہ میں نہیں لڑتے تو انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا ، ہوا چلنے لگتی اور نصرت الٰہی کا نزول ہوتا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1613]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2385)، المشكاة (3933 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجزیة 1 (3160)، سنن ابی داود/ الجہاد 111 (2655)، (تحفة الأشراف: 9207) (صحیح)
|
|
|
47: باب مَا جَاءَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ
باب: بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَعْدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ "، قَالَ سُلَيْمَانُ: هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: " وَمَا مِنَّا ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدفالی شرک ہے “ ۱؎ ۔ ( ابن مسعود کہتے ہیں ) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولكن الله يذهبه بالتوكل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا قول ہے ، ¤ ۴- اس باب میں ابوہریرہ ، حابس تمیمی ، عائشہ ، ابن عمر اور سعد رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1614]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اعتقاد رکھنا کہ «طیرہ» یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر «لا إله إلا الله» پڑھنا بہتر ہو گا، کیونکہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3538)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطب 24 (3910)، سنن ابن ماجہ/الطب 43 (3538)، (تحفة الأشراف: 9207) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! فال نیک کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اچھی بات “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1615]
💡 وضاحت:
۱؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پر ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3537)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 44 (5756)، و 54 (5776)، صحیح مسلم/السلام 342 (2224)، (تحفة الأشراف: 1358)، و مسند احمد (3/118) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يُعْجِبُهُ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَةٍ، أَنْ يَسْمَعَ يَا رَاشِدُ يَا نَجِيحُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ضرورت سے نکلیں تو کوئی یا راشد یا نجیح کہے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1616]
💡 وضاحت:
۱؎: راشد کا مطلب ہے صحیح راستہ اپنانے والا، اور نجیح کا مفہوم ہے جس کی ضرورت پوری کر دی گئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الروض النضير (86)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 624) (صحیح)
|
|
|
48: باب مَا جَاءَ فِي وَصِيَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقِتَالِ
باب: جہاد کے سلسلے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی وصیت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ: " فَإِنْ أَبَوْا، فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَذَكَرَ فِيهِ أَمْرَ الْجِزْيَةِ.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر پر امیر مقرر کرتے تو اسے خاص اپنے نفس کے بارے میں سے اللہ سے ڈرنے اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے تھے ، اس کے بعد آپ فرماتے : اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں جہاد کرو ، ان لوگوں سے جو اللہ کا انکار کرنے والے ہیں ، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو ، عہد نہ توڑو ، مثلہ نہ کرو ، بچوں کو قتل نہ کرو اور جب تم اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے جاؤ تو ان کو تین میں سے کسی ایک بات کی دعوت دو ان میں سے جسے وہ مان لیں قبول کر لو اور ان کے ساتھ لڑائی سے باز رہو : ان کو اسلام لانے اور اپنے وطن سے مہاجرین کے وطن کی طرف ہجرت کرنے کی دعوت دو ، اور ان کو بتا دو کہ اگر انہوں نے ایسا کر لیا تو ان کے لیے وہی حقوق ہیں جو مہاجرین کے لیے ہیں اور ان کے اوپر وہی ذمہ داریاں ہیں جو مہاجرین پر ہیں ، اور اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو ان کو بتا دو کہ وہ بدوی مسلمانوں کی طرح ہوں گے ، ان کے اوپر وہی احکام جاری ہوں گے جو بدوی مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں : مال غنیمت اور فئی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں ، پھر اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے جہاد شروع کر دو ، جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ دو تو تم ان کو اللہ اور اس کے نبی کی پناہ نہ دو ، بلکہ تم اپنی اور اپنے ساتھیوں کی پناہ دو ، ( اس کے خلاف نہ کرنا ) اس لیے کہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا عہد توڑتے ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا عہد توڑو ، اور جب تم کسی قلعے والے کا محاصرہ کرو اور وہ چاہیں کہ تم ان کو اللہ کے فیصلہ پر اتارو تو ان کو اللہ کے فیصلہ پر مت اتارو بلکہ اپنے فیصلہ پر اتارو ، اس لیے کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے سلسلے میں اللہ کے فیصلہ پر پہنچ سکو گے یا نہیں “ ، آپ نے اسی طرح کچھ اور بھی فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں نعمان بن مقرن رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1617]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر کفار و مشرکین غیر مشروط طور پر بغیر کسی معین شرط اور پختہ عہد کے اپنے آپ کو امیر لشکر کے حوالہ کرنے پر تیار ہوں تو بہتر، ورنہ صرف اللہ کے حکم کے مطابق امیر سے معاملہ کرنا چاہیں تو امیر کو ایسا نہیں کرنا ہے، کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اللہ نے ان کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے، یہ حدیث اصول جہاد کے بڑے معتبر اصولوں پر مشتمل ہے جو معمولی سے غور وتامل سے واضح ہو جاتے ہیں۔ حدیث میں موجود نصوص کو مطلق طور پر اپنانا بحث و مباحثہ میں جانے سے کہیں بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2858)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، وَزَادَ فِيهِ: " فَإِنْ أَبَوْا، فَخُذْ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ أَبَوْا، فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَاهُ وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى غَيْرُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَذَكَرَ فِيهِ أَمْرَ الْجِزْيَةِ.
اس سند سے بھی بریدہ رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ ہے : «فإن أبوا فخذ منهم الجزية فإن أبوا فاستعن بالله عليهم» یعنی ” اگر وہ اسلام لانے سے انکار کریں تو ان سے جزیہ لو ، پھر اگر ( جزیہ دینے سے بھی ) انکار کریں تو ان پر فتح یاب ہونے کے لیے اللہ سے مدد طلب کرو “ ۔ وکیع اور کئی لوگوں نے سفیان سے اسی طرح روایت کی ہے ، محمد بن بشار کے علاوہ دوسرے لوگوں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے روایت کی ہے اور اس میں جزیہ کا حکم بیان کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1617M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2858)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُغيِرُ إِلَّا عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ "، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ: " خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ "، قَالَ الْحَسَنُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الَإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت ہی حملہ کرتے تھے ، اگر آپ اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ایک دن آپ نے کان لگایا تو ایک آدمی کو کہتے سنا : «الله أكبر الله أكبر» ، آپ نے فرمایا : ” فطرت ( دین اسلام ) پر ہے ، جب اس نے «أشهد أن لا إله إلا الله» کہا ، تو آپ نے فرمایا : ” تو جہنم سے نکل گیا “ ۔ حسن کہتے ہیں : ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے حماد بن سلمہ نے اسی سند سے اسی کے مثل بیان کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1618]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2368)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 6 (382)، سنن ابی داود/ الجہاد 100 (2634)، (تحفة الأشراف: 312) (صحیح)
|
|