جامع الترمذي حدیث نمبر: 1584
Jami at-Tirmidhi 1584
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
29: باب مَا جَاءَ فِي النُّزُولِ عَلَى الْحُكْمِ
باب: دشمن کی مسلمان کے فیصلہ پر رضا مندی کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: " عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ، فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنَّهُمْ يَرَوْنَ الْإِنْبَاتَ بُلُوغًا، إِنْ لَمْ يُعْرَفْ احْتِلَامُهُ وَلَا سِنُّهُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا ، تو جس کے ( زیر ناف کے ) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا ، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے ، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ ( زیر ناف کے ) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1584]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2541)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الحدود 17 (4404)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3460)، وقطع السارق 17 (4996)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2541)، (تحفة الأشراف: 9904)، و مسند احمد (4/310)، و 5/312) (صحیح)