جامع الترمذي حدیث نمبر: 1585
Jami at-Tirmidhi 1585
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
30: باب مَا جَاءَ فِي الْحِلْفِ
باب: جاہلیت کے حلف (معاہدہ تعاون) کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَوْفُوا بِحِلْفِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ، يَعْنِي: الْإِسْلَامَ، إِلَّا شِدَّةً، وَلَا تُحْدِثُوا حِلْفًا فِي الْإِسْلَامِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ” جاہلیت کے حلف ( معاہدہ تعاون ) کو پورا کرو ۱؎ ، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اب اسلام میں کوئی نیا معاہدہ تعاون نہ کرو “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف ، ام سلمہ ، جبیر بن مطعم ، ابوہریرہ ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1585]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے متعلق جو عہد ہوا ہے اسے پورا کرو بشرطیکہ یہ عہد شریعت کے مخالف نہ ہو۔
۲؎: یعنی یہ عہد کرنا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیونکہ اسلام آ جانے کے بعد اس طرح کا عہد درست نہیں ہے، بلکہ وراثت سے متعلق عہد کے لیے اسلام کافی ہے۔
۲؎: یعنی یہ عہد کرنا کہ ہم ایک دوسرے کے وارث ہوں گے، کیونکہ اسلام آ جانے کے بعد اس طرح کا عہد درست نہیں ہے، بلکہ وراثت سے متعلق عہد کے لیے اسلام کافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (3983 / التحقيق الثاني)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8690) (حسن)