جامع الترمذي حدیث نمبر: 1551
Jami at-Tirmidhi 1551
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ فِي الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ
باب: رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے اور حملہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ، أَقَامَ بِعَرْصَتِهِمْ ثَلَاثًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْغَارَةِ بِاللَّيْلِ وَأَنْ يُبَيِّتُوا، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا بَأْسَ أَنْ يُبَيَّتَ الْعَدُوُّ لَيْلًا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ وَافَقَ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، يَعْنِي بِهِ: الْجَيْشَ.
ابوطلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک قیام کرتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- حمید کی حدیث جو انس رضی الله عنہ سے آئی ہے حسن صحیح ہے ، ¤ ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے رات میں حملہ کرنے اور چھاپہ مارنے کی اجازت دی ہے ، ¤ ۴- بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں ، ¤ ۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، ¤ ۶- «وافق محمد الخميس» میں «الخميس» سے مراد لشکر ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1551]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2414)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 184 (3064)، والمغازي 8 (3976)، سنن ابی داود/ الجہاد 132 (2695)، (تحفة الأشراف: 3770)، و مسند احمد (4/29)، وسنن الدارمی/السیر 22 (2502) (صحیح)