جامع الترمذي حدیث نمبر: 1550
Jami at-Tirmidhi 1550
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
3: باب مَا جَاءَ فِي الْبَيَاتِ وَالْغَارَاتِ
باب: رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے اور حملہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ، أَتَاهَا لَيْلًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَوْمًا بِلَيْلٍ، لَمْ يُغِرْ عَلَيْهِمْ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ، خَرَجَتْ يَهُودُ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوْهُ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَافَقَ وَاللَّهِ مُحَمَّدٌ الْخَمِيسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے ، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎ ، پھر جب صبح ہو گئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے ، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا : محمد ہیں ، اللہ کی قسم ، محمد لشکر کے ہمراہ آ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اکبر ! خیبر برباد ہو گیا ، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح ، بڑی بری ہوتی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1550]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ اذان سے یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے یا نہیں، چنانچہ اگر اذان سنائی دیتی تو حملہ سے رک جاتے بصورت دیگر حملہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 101 (2945)، والمغازي 38 (4197)، (وانظر أیضا: الصلاة 12 (371)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365/84)، والجہاد 43 (120/1365)، سنن النسائی/المواقیت 26 (548)، (تحفة الأشراف: 734)، و مسند احمد (3/102، 186، 206، 263) (صحیح)