جامع الترمذي حدیث نمبر: 1615
Jami at-Tirmidhi 1615
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
47: باب مَا جَاءَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ
باب: بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جانے اور بدفالی و بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۱؎ اور مجھ کو فال نیک پسند ہے “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! فال نیک کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اچھی بات “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1615]
💡 وضاحت:
۱؎: چھوت چھات یعنی بیماری خود سے متعدی نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر پر ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ پر توکل کرتے ہوئے اسباب کو اپنانا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3537)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطب 44 (5756)، و 54 (5776)، صحیح مسلم/السلام 342 (2224)، (تحفة الأشراف: 1358)، و مسند احمد (3/118) (صحیح)