📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جہاد کے احکام و مسائل (كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1614 Jami at-Tirmidhi 1614
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
47: باب مَا جَاءَ فِي الطِّيَرَةِ وَالْفَأْلِ
باب: بدشگونی اور بدفالی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطِّيَرَةُ مِنَ الشِّرْكِ وَمَا مِنَّا، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحَابِسٍ التَّمِيمِيِّ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَسَعْدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، وَرَوَى شُعْبَةُ أَيْضًا، عَنْ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، يَقُولُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: " وَمَا مِنَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ "، قَالَ سُلَيْمَانُ: هَذَا عِنْدِي قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: " وَمَا مِنَّا ".
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدفالی شرک ہے “ ۱؎ ۔ ( ابن مسعود کہتے ہیں ) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کر دیتا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ہم اسے صرف سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- شعبہ نے بھی سلمہ سے اس حدیث کی روایت کی ہے ، © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سلیمان بن حرب اس حدیث میں «وما منا ولكن الله يذهبه بالتوكل» کی بابت کہتے تھے کہ «وما منا» میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا قول ہے ، ¤ ۴- اس باب میں ابوہریرہ ، حابس تمیمی ، عائشہ ، ابن عمر اور سعد رضی الله عنہم سے بھی روایتیں ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1614]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اعتقاد رکھنا کہ «طیرہ» یعنی بدفالی نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے شرک ہے، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر «لا إله إلا الله» پڑھنا بہتر ہو گا، کیونکہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3538)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطب 24 (3910)، سنن ابن ماجہ/الطب 43 (3538)، (تحفة الأشراف: 9207) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1614
1612 1613 1614 1615 1616

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1615 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، ...
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک کی بیماری دوسرے کو لگ...
#1616 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَة...
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سننا اچھا لگتا تھا کہ جب کسی ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ