جامع الترمذي حدیث نمبر: 1606
Jami at-Tirmidhi 1606
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
43: باب مَا جَاءَ فِي إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ
باب: یہود و نصاریٰ کو جزیرہ عرب سے باہر نکالنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1606]
💡 وضاحت:
۱؎: جزیرہ عرب وہ حصہ ہے جسے بحر ہند، بحر احمر، بحر شام و دجلہ اور فرات نے احاطہٰ کر رکھا ہے، یا طول کے لحاظ سے عدن ابین کے درمیان سے لے کر اطراف شام تک کا علاقہ اور عرض کے اعتبار سے جدہ سے لے کر آبادی عراق کے اطراف تک کا علاقہ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ جزیرہ عرب سے کافروں اور یہود و نصاری کو باہر نکال دیں، آپ کی زندگی میں اس پر پوری طرح عمل نہ کیا جا سکا، لیکن عمر رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کو کہ عرب میں دو دین نہ رہیں یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے جلا وطن کر دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح انظر ما قبله (1605)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجہاد 21 (1767)، سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 28 (3030)، (تحفة الأشراف: 10419)، و مسند احمد (1/32) (صحیح)