جامع الترمذي حدیث نمبر: 1604
Jami at-Tirmidhi 1604
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
42: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْمُقَامِ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کے درمیان رہنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى خَثْعَمٍ، فَاعْتَصَمَ نَاسٌ بِالسُّجُودِ، فَأَسْرَعَ فِيهِمُ الْقَتْلَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ لَهُمْ بِنِصْفِ الْعَقْلِ وَقَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ يُقِيمُ بَيْنَ أَظْهُرِ الْمُشْرِكِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِمَ؟ قَالَ: " لَا تَرَايَا نَارَاهُمَا "،
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا ، ( کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے ) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی ، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا : ” میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آخر کیوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ( مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ ) وہ دونوں ایک دوسرے ( کے کھانا پکانے ) کی آگ نہ دیکھ سکیں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1604]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسلمان کفار کے درمیان مقیم ہوں اور مجاہدین کے ہاتھوں ان کا قتل ہو جائے تو مجاہدین پر اس کا کوئی گناہ نہیں، اور ”دونوں ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھ سکیں“ کا مطلب یہ ہے کہ حالات کے تقاضے کے مطابق مشرکین کے گھروں اور علاقوں سے ہجرت کرنا ضروری ہے کیونکہ اسلام اور کفر ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ آدھی دیت کا حکم اس لیے دیا کیونکہ باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے کی وجہ سے بطور سزا ساقط ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون الأمر بنصف العقل، الإرواء (1207)، صحيح أبي داود (2377)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1604) إسناده ضعيف / د 2645
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 105 (2645)، سنن النسائی/القسامة 26 (4784)، (تحفة الأشراف: 3227) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کا مرسل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے، دیکھئے: الارواء: رقم 1207)