جامع الترمذي حدیث نمبر: 1618
Jami at-Tirmidhi 1618
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُغيِرُ إِلَّا عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: " عَلَى الْفِطْرَةِ "، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ: " خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ "، قَالَ الْحَسَنُ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ بِهَذَا الَإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت ہی حملہ کرتے تھے ، اگر آپ اذان سن لیتے تو رک جاتے ورنہ حملہ کر دیتے ، ایک دن آپ نے کان لگایا تو ایک آدمی کو کہتے سنا : الله أكبر الله أكبر ، آپ نے فرمایا : ” فطرت ( دین اسلام ) پر ہے ، جب اس نے أشهد أن لا إله إلا الله کہا ، تو آپ نے فرمایا : ” تو جہنم سے نکل گیا “ ۔ حسن کہتے ہیں : ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں : ہم سے حماد بن سلمہ نے اسی سند سے اسی کے مثل بیان کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1618]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2368)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 6 (382)، سنن ابی داود/ الجہاد 100 (2634)، (تحفة الأشراف: 312) (صحیح)