جامع الترمذي حدیث نمبر: 1580
Jami at-Tirmidhi 1580
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
27: باب مَا جَاءَ فِي الْغَدْرِ
باب: عہد توڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَيْضِ، قَال: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: كَانَ بَيْنَ مُعَاوِيَةَ وَبَيْنَ أَهْلِ الرُّومِ عَهْدٌ، وَكَانَ يَسِيرُ فِي بِلَادِهِمْ حَتَّى إِذَا انْقَضَى الْعَهْدُ أَغَارَ عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رَجُلٌ عَلَى دَابَّةٍ أَوْ عَلَى فَرَسٍ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَفَاءٌ لَا غَدْرٌ، وَإِذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحُلَّنَّ عَهْدًا وَلَا يَشُدَّنَّهُ، حَتَّى يَمْضِيَ أَمَدُهُ أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ "، قَالَ: فَرَجَعَ مُعَاوِيَةُ بِالنَّاسِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ اور اہل روم کے درمیان ( کچھ مدت تک کے لیے ) عہد و پیمان تھا ، معاویہ رضی الله عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے تاکہ جب عہد کی مدت تمام ہو تو ان پر حملہ کر دیں ، اچانک ایک آدمی کو اپنی سواری یا گھوڑے پر : اللہ اکبر ! ” تمہاری طرف سے ایفائے عہد ہونا چاہیئے نہ کہ بدعہدی “ ، کہتے ہوئے دیکھا وہ عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ تھے ، تو معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کر دے ، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے “ ، معاویہ رضی الله عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1580]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2464)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 164 (2759)، (تحفة الأشراف: 10753)، و مسند احمد (4/111) (صحیح)