جامع الترمذي حدیث نمبر: 1568
Jami at-Tirmidhi 1568
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
18: باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ الأُسَارَى وَالْفِدَاءِ
باب: قیدیوں کے قتل کرنے اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَمُّ أَبِي قِلَابَةَ هُوَ أَبُو الْمُهَلَّبِ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو قِلَابَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَمُنَّ عَلَى مَنْ شَاءَ مِنَ الْأُسَارَى، وَيَقْتُلَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ، وَيَفْدِي مَنْ شَاءَ، وَاخْتَارَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْقَتْلَ عَلَى الْفِدَاءِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: بَلَغَنِي أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ مَنْسُوخَةٌ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً سورة محمد آية 4، نَسَخَتْهَا وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ سورة البقرة آية 191، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لِأَحْمَدَ: إِذَا أُسِرَ الْأَسِيرُ، يُقْتَلُ أَوْ يُفَادَى أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: إِنْ قَدَرُوا أَنْ يُفَادُوا فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَإِنْ قُتِلَ فَمَا أَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا، قَالَ إِسْحَاق: الْإِثْخَانُ أَحَبُّ إِلَيَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا، فَأَطْمَعُ بِهِ الْكَثِيرَ.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ایک قیدی مرد کے بدلہ میں دو مسلمان مردوں کو چھڑوایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے ، ¤ ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ قیدیوں میں سے جس پر چاہے احسان کرے اور جسے چاہے قتل کرے ، اور جن سے چاہے فدیہ لے ، ¤ ۴- بعض اہل علم نے فدیہ کے بجائے قتل کو اختیار کیا ہے ، ¤ ۵- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت «فإما منا بعد وإما فداء» منسوخ ہے اور آیت : «واقتلوهم حيث ثقفتموهم» اس کے لیے ناسخ ہے ، ¤ ۶- اسحاق بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا : آپ کے نزدیک کیا بہتر ہے جب قیدی گرفتار ہو تو اسے قتل کیا جائے یا اس سے فدیہ لیا جائے ، انہوں نے جواب دیا ، اگر وہ فدیہ لے سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر انہیں قتل کر دیا جائے تو بھی میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا ، ¤ ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک خون بہانا زیادہ بہتر ہے جب یہ مشہور ہو اور اکثر لوگ اس کی خواہش رکھتے ہوں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1568]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنگی قیدیوں کا تبادلہ درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي فی الکبریٰ) (تحفة الأشراف: 10887) (صحیح)