📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جہاد کے احکام و مسائل (كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1569 Jami at-Tirmidhi 1569
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
19: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ، وَالصِّبْيَانِ
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، " وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ "، وَفِي الْبَاب، عَنْ بُرَيْدَةَ، وَرَبَاحٍ وَيُقَالُ: رِيَاحُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَالصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا قَتْلَ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْبَيَاتِ، وَقَتْلِ النِّسَاءِ فِيهِمْ وَالْوِلْدَانِ وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَرَخَّصَا فِي الْبَيَاتِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں بریدہ ، رباح ، ان کو رباح بن ربیع بھی کہتے ہیں ، اسود بن سریع ابن عباس اور صعب بن جثامہ سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام سمجھتے ہیں ، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے ، ¤ ۴- کچھ اہل علم نے رات میں ان پر چھاپہ مارنے کی اور اس میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی رخصت دی ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ان دونوں نے رات میں چھاپہ مارنے کی رخصت دی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1569]
💡 وضاحت:
۱؎: عورت کے قتل کرنے کی حرمت پر سب کا اتفاق ہے، ہاں! اگر وہ شریک جنگ ہو کر لڑے تو ایسی صورت میں عورت کا قتل جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2841)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 147 (3014)، و148 (3015)، صحیح مسلم/الجہاد 8 (1744)، سنن ابی داود/ الجہاد 121 (2668)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 30 (2841)، (تحفة الأشراف: 8668)، وط/الجہاد 3 (9)، سنن الدارمی/السیر 25 (2505) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1569
1567 1568 1569 1570 1571

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1570 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِي...
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورت...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ