جامع الترمذي حدیث نمبر: 1592
Jami at-Tirmidhi 1592
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
34: باب مَا جَاءَ فِي بَيْعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بیعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: " عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ "، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا : حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : موت پر ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1592]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 110 (2960)، والمغازي 35 (4169)، والأحکام 43 (7206)، و 44 (7208)، صحیح مسلم/الإمارة 18 (1860)، سنن النسائی/البیعة 8 (4164)، (تحفة الأشراف: 4536)، و مسند احمد (4/47، 51، 54) (صحیح)