📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جہاد کے احکام و مسائل (كتاب السير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: کفار و مشرکین سے ہدیہ تحفہ قبول کرنے کی کراہت کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1577 Jami at-Tirmidhi 1577
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
24: باب فِي كَرَاهِيَةِ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین سے ہدیہ تحفہ قبول کرنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةً لَهُ أَوْ نَاقَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمْتَ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ "، يَعْنِي: هَدَايَاهُمْ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ هَدَايَاهُمْ، وَذُكِرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الْكَرَاهِيَةُ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ هَذَا بَعْدَ مَا كَانَ يَقْبَلُ مِنْهُمْ، ثُمَّ نَهَى عَنْ هَدَايَاهُمْ.
عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اسلام لانے سے قبل ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم اسلام لا چکے ہو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إني نهيت عن زبد المشركين» کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے ، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے ، احتمال ہے کہ یہ بعد کا عمل ہے ، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے ، پھر آپ نے اس سے منع فرما دیا ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1577]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا ہدیہ قبول نہ کرنا ہی اصل ہے، لیکن کسی خاص یا عام مصلحت کی خاطر اسے قبول کیا جا سکتا ہے، چنانچہ بعض علماء نے قبول کرنے اور نہ کرنے کی حدیثوں کے مابین تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ جو لوگ دوستی اور موالاۃ کی خاطر ہدیہ دینا چاہتے تھے آپ نے ان کے ہدیہ کو قبول نہیں کیا اور جن کے دلوں میں اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق انسیت دیکھی گئی تو ان کے ہدایا قبول کیے گئے۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح التعليق على الروضة الندية (2 / 164)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الخراج والإمارة 35 (3057)، (تحفة الأشراف: 11015)، و مسند احمد (4/162) (حسن صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1577
1575 1576 1577 1578 1579
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ