جامع الترمذي حدیث نمبر: 1573
Jami at-Tirmidhi 1573
کتاب #22: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ: الْكَنْزِ، وَالْغُلُولِ، وَالدَّيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، هَكَذَا قَالَ سَعِيدٌ: " الْكَنْزُ "، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ فِي حَدِيثِهِ: " الْكِبْرُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ مَعْدَانَ، وَرِوَايَةُ سَعِيدٍ أَصَحُّ.
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز ، غلول اور قرض سے بری رہا ، وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۱؎ ۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں الكنز بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں الكبر بیان کیا ہے ، اور اس میں عن معدان کا ذکر نہیں کیا ہے ، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1573]
💡 وضاحت:
۱؎: کنز : وہ خزانہ ہے جو زمین میں دفن ہو اور اس کی زکاۃ ادا نہ کی جاتی ہو۔ غلول : مال غنیمت میں خیانت کرنا۔
قال الشيخ الألباني:
شاذ بهذه اللفظة، الصحيحة (2785)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1573) إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن فى ھذا اللفظ: ”الكنز“ (وتقدم: 30) وروي الإمام أحمد (282/5) عن ثوبان رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ((من فارق الروح الجسد وھو بري من ثلاث دخل الجنة: الغلال والدين (قال بھز:) والكبر)) وسنده صحيح وھو يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصدقات 12 (2412)، و مسند احمد (5/281 (تحفة الأشراف: 2114)، (صحیح) (الکنز کا لفظ شاذ ہے، دیکھئے: الصحیحة رقم 2785)