📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام 54 کتب ↗

كِتَاب الْحَجِّ

کتاب #15: حج کے احکام و مسائل

کتاب کے ابواب • حدیث: 2791 تا 3397 • کل احادیث: 607
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب مَا يُبَاحُ لِلْمُحْرِمِ بِحَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ وَمَا لاَ يُبَاحُ وَبَيَانِ تَحْرِيمِ الطِّيبِ عَلَيْهِ:
باب: اس بات کا بیان کہ حج یا عمرہ کا احرام باندھنے والے کے لئے کیا چیز جائز ہے اور کیا ناجائز ہے؟ اور اس پر خوشبو کے حرام ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ النَّعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا، مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ ".
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ احرام باندھنے والا کیسے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ شلوار، نہ کوٹ (ٹوپی جڑا لبادہ) اور نہ موزے پہنو، سوائے اس کے جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے، اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے۔ اور ایسا کپڑا نہ پہنو جسے کچھ بھی زعفران یا ورس (زرد چولہ) لگا ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2791]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزهير بن حرب كلهم، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ؟، قَالَ: " لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ، وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ".
حضرت سالم نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، احرام باندھنے والا کیسا لباس پہنے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محرم نہ قمیص پہنے، نہ عمامہ، نہ ٹوپی جڑا لبادہ، نہ شلوار، نہ ایسے کپڑے پہنے جسے ورس یا زعفران لگا ہو، اور نہ موزے پہنے، مگر جسے جوتے نہ ملیں تو (وہ موزے پہن لے اور) انہیں (اوپر سے) اتنا کاٹے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2792]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ أَوْ وَرْسٍ "، وَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ".
عبداللہ بن دینار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا، نیز فرمایا: ”جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اور انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2793]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، يَقُولُ: " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْإِزَارَ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ " يَعْنِي الْمُحْرِمَ،
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”شلوار اس کے لیے (جائز) ہے جسے تہبند نہ ملے، اور موزے اس کے لیے جسے جوتے میسر نہ ہو،“ یعنی احرام باندھنے والے کے لیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2794]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ،
شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سند کے ساتھ بیان کی کہ انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا، پھر یہی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2795]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَيُّوبَ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ يَخْطُبُ بِعَرَفَاتٍ، غَيْرُ شُعْبَةَ وَحْدَهُ.
ابن عیینہ، ہشیم، سفیان ثوری، ابن جریج اور ایوب (سختیانی) ان تمام نے عمرو بن دینار سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی، ان تمام میں سے اکیلے شعبہ کے علاوہ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2796]
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے، اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2797]
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهَا خَلُوقٌ، أَوَ قَالَ: أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي عُمْرَتِي؟، قَالَ: وَأُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَكَانَ يَعْلَى، يَقُولُ: وَدِدْتُ أَنِّي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، قَالَ: فَرَفَعَ عُمَرُ طَرَفَ الثَّوْبِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ، لَهُ غَطِيطٌ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبَكْرِ، قَالَ: فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْعُمْرَةِ؟ اغْسِلْ عَنْكَ أَثَرَ الصُّفْرَةِ، أَوَ قَالَ: أَثَرَ الْخَلُوقِ، وَاخْلَعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا أَنْتَ صَانِعٌ فِي حَجِّكَ ".
ہمام نے کہا: ہمیں عطاء بن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا۔ (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ (کے مقام) پر تھے، اس (کے بدن) پر جبہ تھا، اس پر زعفران ملی خوشبو (لگی ہوئی) تھی۔ یا کہا: زردی کا نشان تھا۔ اس نے کہا: آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: (اتنے میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا تان دیا گیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (اس عالم میں) دیکھوں جب آپ پر وحی اتر رہی ہو۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا:) (عمر رضی اللہ عنہ) کہنے لگے: کیا تمہیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہو تو تم انہیں دیکھو؟ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آ رہی تھی۔ صفوان نے کہا: میرا گمان ہے انہوں نے کہا:۔۔۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے۔ (یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دور ہوئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ (پھر اس نے فرمایا:) ”تم اپنے (کپڑوں) سے زردی (زعفران) کا نشان۔۔۔ یا فرمایا: خوشبو کا اثر۔۔۔ دھو ڈالو، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2798]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَأَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ يَعْنِي: جُبَّةً وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ: إِنِّي أَحْرَمْتُ بِالْعُمْرَةِ وَعَلَيَّ هَذَا وَأَنَا مُتَضَمِّخٌ بِالْخَلُوقِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ؟، قَالَ: أَنْزِعُ عَنِّي هَذِهِ الثِّيَابَ، وَأَغْسِلُ عَنِّي هَذَا الْخَلُوقَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ، فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ".
عمرو بن دینار نے عطاء سے، انہوں نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، میں (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، اس (کے بدن) پر ٹکڑیوں والا (لباس)، یعنی جبہ تھا، وہ زعفران ملی خوشبو سے لت پت تھا۔ اس نے کہا: میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میرے جسم پر یہ لباس ہے اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے۔ (کیا یہ درست ہے؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنے حج میں کیا کرتے ہو؟“ اس نے کہا: میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا ہوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2799]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ، وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ عَلَيْهِ، مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً، ثُمَّ سَكَتَ فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ، فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ، يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا "، فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے انہیں خبر دی کہ یعلیٰ رضی اللہ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ (ایک مرتبہ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے، جن میں عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے خوشبو سے لت پت جبہ پہنا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے اچھی طرح خوشبو لگا کر جبے میں عمرے کا احرام باندھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا، پھر سکوت اختیار فرمایا تو (اس اثناء میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونا شروع ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ سے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا، ادھر آؤ۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ آ گئے اور اپنا سر (چادر) میں داخل کر دیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بھاری بھاری سانس لیتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت دور ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟“ آدمی کو تلاش کر کے حاضر کیا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے، اسے تین مرتبہ دھو لو اور یہ جبہ (لباس) اسے اتار دو، پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کرو جیسے تم اپنے حج میں کرتے ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2800]
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ، قَدْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى، فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ ".
قیس، عطاء سے حدیث بیان کرتے ہیں، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے، وہ اپنے والد (یعلیٰ رضی اللہ عنہ) سے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا، وہ عمرے کا احرام باندھ کر تلبیہ کہہ چکا تھا، اس نے اپنا سر اور اپنی داڑھی کو زرد رنگ سے رنگا ہوا تھا، اور اس (کے جسم) پر جبہ تھا۔ اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2801]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا أَثَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَفْعَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ، وَكَانَ عُمَرُ يَسْتُرُهُ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يُظِلُّهُ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنِّي أُحِبُّ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ أُدْخِلَ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَلَمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ خَمَّرَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالثَّوْبِ فَجِئْتُهُ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مَعَهُ فِي الثَّوْبِ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ آنِفًا عَنِ الْعُمْرَةِ؟ "، فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ، فَقَالَ: " انْزِعْ عَنْكَ جُبَّتَكَ، وَاغْسِلْ أَثَرَ الْخَلُوقِ الَّذِي بِكَ، وَافْعَلْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ فَاعِلًا فِي حَجِّكَ ".
رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عطاء سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ عنہ سے خبر دی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا، اس نے جبہ پہن رکھا تھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طرح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے، آپ پر سایہ کرتے۔ میں نے حضرت عمر سے کہا: میری خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا سر داخل کروں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کر دیا اور آپ کو (وحی کے نزول کی حالت میں) دیکھا۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کر دی گئی تو فرمایا: ”ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟“ (اتنے میں) وہ شخص آپ کے پاس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا جبہ اتار دو، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھو ڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2802]
2: باب مَوَاقِيتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: میقات حج اور عمرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ: فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ، وَكَذَا فَكَذَلِكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا ".
عمرو بن دینار نے طاوس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فرمایا: ”یہ (چاروں میقات) ان جگہوں (پر رہنے والوں) اور وہاں نہ رہنے والے، وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جو ان (مقامات) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے، جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2803]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ: هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، وَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ ".
وہیب نے کہا: ہمیں عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فرمایا: ”یہ (مقامات) وہاں کے باشندوں اور ہر آنے والے ایسے شخص کے لیے (میقات) ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں پہنچے اور حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور جو کوئی ان (مقامات) سے اندر ہو وہ اسی جگہ سے (احرام) باندھ لے جہاں سے وہ چلے، حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے (احرام باندھیں)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2804]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ".
نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذو الحلیفہ سے، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہیں۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2805]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عنه عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ذُو الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مَهْيَعَةُ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَزَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْهُ، قَالَ: وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمُ.
سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اہل مدینہ کا مقام تلبیہ (وہ جگہ جہاں سے بآواز بلند لبیک اللہم لبیک کہنے کا آغاز ہوتا ہے، یعنی میقات مراد ہے) ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا مقام تلبیہ مہیعہ، وہی جحفہ ہے اور اہل نجد کا قرن (المنازل)۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: (مجھے بتانے والے) ان لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔۔۔ میں نے آپ سے خود نہیں سنا۔۔۔ فرمایا: ”اور اہل یمن کا مقام تلبیہ یلملم ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2806]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَنْ يُهِلُّوا مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلَ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلَ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کو حکم دیا کہ وہ ذو الحلیفہ سے، شام والوں کو حکم دیا کہ وہ جحفہ سے اور نجد والوں کو حکم دیا کہ وہ قرن (المنازل) سے (احرام باندھ کر) تلبیہ کا آغاز کریں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے خبر دی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2807]
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ ثُمَّ انْتَهَى، فَقَالَ: أُرَاهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
روح بن عبادہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے سنا۔۔۔ پھر رک گئے اور (کچھ وقفے کے بعد) کہا: ان (جابر رضی اللہ عنہما) کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی (کہ جابر رضی اللہ عنہما نے ان سے سنا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2808]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ "، قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: وَذُكِرَ لِي، وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.
سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ والے ذو الحلیفہ سے، شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے احرام باندھیں۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے بتایا گیا۔۔۔ میں نے خود نہیں سنا۔۔۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یمن والے یلملم سے احرام باندھیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2809]
ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُسْأَلُ عَنِ الْمُهَلِّ، فَقَالَ: " سَمِعْتُ أَحْسَبُهُ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالطَّرِيقُ الْآخَرُ الْجُحْفَةُ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ ".
محمد بن بکر سے روایت ہے، کہا: مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے مقام تلبیہ کے متعلق سوال کیا گیا تھا (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں نے سنا۔۔۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے حدیث کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی۔ آپ نے فرمایا: ”مدینہ والوں کا مقام تلبیہ (احرام باندھنے کی جگہ) ذو الحلیفہ ہے اور دوسرے راستے (سے آنے والوں کا مقام) جحفہ ہے۔ اہل عراق کا مقام تلبیہ ذات العرق، نجد والوں کا قرن (المنازل) اور یمن والوں کا یلملم ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2810]
3: باب التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا:
باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا: میں نے مالک کے سامنے (اس حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے، (کسی بھی چیز میں) تیرا کوئی شریک نہیں)۔ اور (نافع نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس (مذکورہ تلبیہ) میں یہ اضافہ فرمایا کرتے تھے: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ (میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت (حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، (ہر دم) تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل (تیری ہی رضا کے لیے ہیں))۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2811]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَنَافِعٍ مَوْلَى عبد الله، وحمزة بن عبد الله ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ، فَقَالَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، قَالُوا: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: هَذِهِ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَافِعٌ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَزِيدُ مَعَ هَذَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ،
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبداللہ کے واسطے سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذو الحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پکارتے اور کہتے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے، (کسی بھی چیز میں) تیرا کوئی شریک نہیں)۔ (سالم، نافع اور حمزہ نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے۔ نافع نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان (مذکورہ بالا) کلمات کے ساتھ ان الفاظ کا اضافہ کرتے: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ (میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت (حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، (ہر دم) تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل (تیری رضا کے لیے ہیں))۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2812]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
عبید اللہ (بن عمر بن حفص العدوی المدنی) نے کہا: مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یاد کر لیا، پھر سالم، نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2813]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: فَإِنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَنِي، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَإِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَعُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ النَّاقَةُ قَائِمَةً عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ بِإِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ وَيَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
ابن شہاب نے کہا: بلاشبہ سالم بن عبداللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکارتے سنا کہ آپ کے بال جڑے (گوندیا خطمی بوٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے) ہوئے تھے، آپ کہہ رہے تھے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ۔ ان کلمات پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ذو الحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذو الحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ان کلمات سے تلبیہ پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کلمات کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکارتے تھے اور (ساتھ یہ) کہتے: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ (میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ! میں تیرے سامنے حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیری طرف سے سعادتوں کا طلبگار ہوں، ہر قسم کی بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے، اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں، ہر دم تجھ سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2814]
وحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلَكُمْ قَدْ قَدْ "، فَيَقُولُونَ: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ، يَقُولُونَ: هَذَا وَهُمْ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ.
حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: مشرکین کہا کرتے تھے: لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”تمہاری بربادی! بس کرو، بس کرو (یہیں پر رک جاؤ)۔“ مگر وہ آگے کہتے: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ (مگر ایک شریک ہے جو تیرا ہے، تو اس کا مالک ہے، وہ مالک نہیں)۔ وہ لوگ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے یہی کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2815]
4: باب أَمْرِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالإِحْرَامِ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ:
باب: مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کی مسجد سے احرام باندھنے کا حکم۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ " يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ.
یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مالک کے سامنے قراءت کی، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انہوں نے سالم بن عبداللہ سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے سنا، انہوں نے فرمایا: یہ تمہارا چٹیل میدان بیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیانی کرتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب (یعنی ذو الحلیفہ) ہی سے احرام باندھا تھا। [صحيح مسلم/حدیث: 2816]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ الْإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: " الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الشَّجَرَةِ حِينَ قَامَ بِهِ بَعِيرُهُ ".
حاتم یعنی ابن اسماعیل نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے سالم سے حدیث بیان کی، کہا: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا جاتا کہ احرام بیداء سے (باندھا جاتا) ہے تو وہ کہتے: بیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیانی کرتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں، درخت کے پاس ہی سے احرام باندھا تھا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2817]
5: باب بَيَانِ أَنَّ الْأَفْضَلَ أَنْ يُّحْرَمَ حِينَ تَنْبَعِثُ بَهِ رَاحِلَتُهُ مُتَوَجِّهَا إلٰي مَكَّةَ لَا عَقِبَ الرَّكْعَتَيْنِ
باب: ایسے وقت احرام باندھنے کی فضیلت جب سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا "، قَالَ: " مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ "، قَالَ: " رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ "، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ، حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ "،
سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ کو چار (ایسے) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر نے کہا: ابن جریج! وہ کون سے (چار کام) ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (بیت اللہ کے) دو یمانی رکنوں (کونوں) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگاتے، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی (رنگے ہوئے صاف چمڑے کے) جوتے پہنتے ہیں۔ (نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے (کپڑوں کو) رنگتے ہیں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں تو لوگ (ذوالحجہ کی) پہلی کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارنا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں دن آنے تک تلبیہ نہیں پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جہاں تک ارکان (بیت اللہ کے کونوں) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی رکنوں کے سوا (کسی اور رکن کو) ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا۔ رہے سبتی جوتے تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہوتے تھے، آپ انھیں پہن کر وضو فرماتے (لہٰذا) مجھے پسند ہے کہ میں یہی (سبتی جوتے) پہنوں۔ رہا زرد رنگ تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ (رنگ) استعمال کرتے تھے۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں۔ اور رہی بات تلبیہ کی تو میں نے آپ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2818]
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى، إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ.
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر (تلبیہ بلند کرنے کے) قصے میں مقبری کی روایت کی مخالفت کی، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2819]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ".
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکاب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ذو الحلیفہ سے (اس وقت) بلند آواز میں لبیک پکارنا شروع فرماتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2820]
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً ".
صالح بن کیسان نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2821]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذو الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکارنے لگے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2822]
6: باب الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ:
باب: ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " بَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مَبْدَأَهُ، وَصَلَّى فِي مَسْجِدِهَا ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (سفر کے) شروع میں ذو الحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2823]
7: باب اسْتِحْبَابِ الطّيبِ قُبيْلَ الْإِحْرَامِ فِي الْبَدَنِ وَاسْتِحُبَا بِهِ بِالْمِسْكِ وَأَنَّهُ لٓا بَاْسَ بِبِقَاءِ وَبِيصِهِ وَهُوَ بَريقَةٌ وَّلَمْعَانْهُ
باب: احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور کستوری کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو میں نے احرام کے لیے اور آپ کے طواف بیت اللہ سے پہلے احرام کھولنے کے لیے آپ کو خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2824]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْج ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
افلح بن حمید نے قاسم بن محمد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو احرام کے لیے اور طواف بیت اللہ سے پہلے جب آپ نے احرام کھولا تو آپ کے احرام کھولنے کے لیے میں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2825]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ ".
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد (قاسم بن محمد) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے آپ کے احرام کے لیے اور طواف (افاضہ) کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگاتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2826]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحِلِّهِ وَلِحُرْمِهِ ".
عبید اللہ بن عمر نے حدیث سنائی کہا: میں نے قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2827]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي بِذَرِيرَةٍ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ ".
عمر بن عبداللہ بن عروہ نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ اور قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دیتے ہوئے سنا انہوں نے کہا حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے لیے ذریرہ (نامی) خوشبو لگائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2828]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جميعا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ حُرْمِهِ؟، قَالَتْ: " بِأَطْيَبِ الطِّيبِ ".
سفیان نے ہمیں حدیث بیان کی کہا: ہمیں عثمان بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت کون سی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے فرمایا سب سے اچھی خوشبو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2829]
وَحَدَّثْنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ ثُمَّ يُحْرِمُ ".
ہشام سے روایت ہے انہوں نے عثمان بن عروہ سے روایت کی کہا: میں عروہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے جو سب سے عمدہ خوشبو لگا سکتی تھی لگاتی پھر آپ احرام باندھتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2830]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ: ".
ابوالرجال (محمد بن عبدالرحمان بن حارثہ انصاری) نے اپنی والدہ (عمرہ بنت عبدالرحمان بن سعد زرارہ انصاریہ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت جب آپ احرام کا ارادہ فرماتے اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے احرام کھولتے وقت جو سب سے عمدہ خوشبو پائی وہ لگائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2831]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، قَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ "، وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ: وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ وَذَاكَ طِيبُ إِحْرَامِهِ.
منصور نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرام باندھ چکے ہیں۔ خلف نے "جبکہ آپ احرام باندھ چکے ہیں" کے الفاظ نہیں کہے۔ لیکن انہوں نے یہ کہا کہ وہ آپ کے احرام کی خوشبو تھی (جو آپ نے احرام باندھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2832]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُهِلُّ ".
اعمش نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں (اب بھی) آپ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے لبیک پکار رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2833]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي "،
ابوالضحی نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایسا لگتا ہے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ پکار رہے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2834]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، وَعَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ.
مسلم نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا لگتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں (آگے) وکیع کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2835]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
حکم نے کہا: میں نے ابراہیم کو اسود سے حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں (مانگ) میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہوا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2836]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ لَأَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
مالک بن مغول نے عبدالرحمان بن اسود سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے فرمایا: بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2837]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ السَّلُولِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق بْنِ أَبِي إِسْحَاق السَّبِيعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق سَمِعَ ابْنَ الْأَسْوَدِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ، ثُمَّ أَرَى وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ ".
ابواسحاق نے (عبدالرحمان) بن اسود کو اپنے والد (اسود بن یزید) سے روایت کرتے ہوئے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو (اس وقت) جو بہترین خوشبو آپ کو میسر ہوتی اسے لگاتے اس کے بعد میں (آپ کے احرام باندھنے کے بعد) آپ کے سر اور داڑھی میں (خوشبو کے) تیل کی چمک دیکھتی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2838]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ "،
حسن بن عبداللہ سے روایت ہے کہا ہمیں ابراہیم نے اسود سے حدیث بیان کی کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایسا لگتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2839]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سفیان نے حسن بن عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2840]
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ، بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی جس میں کستوری ملی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2841]
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
ابوعوانہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو خوشبو لگاتا ہے پھر احرام باندھ لیتا ہے انہوں نے جواب دیا: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں احرام باندھوں (اور) مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔“ پھر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ہے: ”مجھے یہ پسند نہیں کہ میں محرم ہوں اور مجھ (میرے جسم) سے خوشبو پھوٹ رہی ہو اس سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کول مل لوں۔“ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھتے وقت خوشبو لگائی تھی پھر آپ نے اپنی تمام بیویوں کے ہاں چکر لگایا پھر آپ نے احرام کی نیت کر لی (احرام کا آغاز کر لیا یعنی خوشبو لگانے سے تھوڑی دیر بعد احرام باندھ لیا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2842]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا ".
شعبہ نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے اپنے والد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کرتے سنا انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے جاتے بعد ازیں آپ احرام باندھ لیتے (اور) آپ سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2843]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
سفیان نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: ”یہ بات کہ میں تار کول مل لوں مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ (محمد نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے (احرام کی نیت کر لی)۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2844]
8: باب تَحْرِيمِ الصَّيْدِ الْمَأُكُولِ الْبَرِّيِّ ، وَمَا أَصْلُهُ ذٰلِكَ عَلَي الْمُحْرِمِ بِحَجُ أَوُ عمْرَةٍ أَوْ بِهِمَا
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ: " إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ، إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ "،
مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا آپ ابواء یا ودان مقام پر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا (انہوں نے) کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے کی کیفیت دیکھی تو فرمایا: ”بلاشبہ ہم نے تمہارا ہدیہ رد نہیں کیا لیکن ہم حالت احرام میں ہیں (اس لیے اسے نہیں کھا سکتے)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2845]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ كَمَا قَالَ مَالِكٌ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَصَالِحٍ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ،
لیث بن سعد، معمر اور ابوصالح ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی (کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے کہا) میں نے آپ کو ایک زیبرا ہدیہ پیش کیا جس طرح مالک کے الفاظ ہیں اور لیث اور صالح کی روایت میں (یوں) ہے کہ صعب بن جثامہ نے انہیں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2846]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ.
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: میں نے آپ کو زیبرے کا گوشت ہدیہ پیش کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2847]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ "،
اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ زیبرا پیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام میں تھے سو آپ نے اسے لوٹا دیا اور فرمایا: ”اگر ہم احرام کی حالت میں نہ ہوتے تو ہم اسے تمہاری طرف سے (ضرور) قبول کرتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2848]
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنِ الحكم . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ: عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ.
منصور نے حکم سے اسی طرح شعبہ نے حکم کے واسطے سے اور واسطے کے بغیر (براہ راست) بھی حبیب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ حکم سے منصور کی روایت کے الفاظ ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کی ران ہدیہ پیش کی۔ حکم سے شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں زیبرے کا پچھلا دھڑ پیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ اور حبیب سے شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کا (ایک جانب کا) آدھا حصہ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2849]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ؟، قَالَ: قَالَ: أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: " إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ ".
طاوس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: (ایک بار) زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یاد کراتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے اس شکار کے گوشت کے متعلق کس طرح بتایا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کی حالت میں ہدیہ پیش کیا گیا تھا؟ (طاوس نے) کہا (زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے) بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کے گوشت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم اسے نہیں کھا سکتے (کیونکہ) ہم احرام میں ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2850]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ، وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا، فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ: " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ ".
صالح بن کیسان نے کہا: میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب ہم (مدینہ سے تین منزل دور وادی) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرام کی حالت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا۔ اچانک میری نگاہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے (فوراً) اپنے گھوڑے پر زین کسا اپنا نیزہ تھاما اور سوار ہو گیا۔ (جلدی میں) مجھ سے میرا کوڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرام باندھے ہوئے تھے کہا: مجھے کوڑا پکڑا دو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس (شکار) میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنایا اور اسے گرا لیا۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔ ان میں سے کچھ نے کہا: اسے کھا لو اور کچھ نے کہا: اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ فاصلے پر) ہم سے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا (اور اس کے بارے میں پوچھا) آپ نے فرمایا: ”وہ حلال ہے اسے کھا لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2851]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ "،
ابونضر نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ نافع سے انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ (عمرہ حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے حتیٰ کہ جب وہ مکہ کے راستے کے ایک حصے میں تھے، وہ اپنے چند احرام والے ساتھیوں کی معیت میں پیچھے رہ گئے وہ خود احرام کے بغیر تھے۔ تو (اچانک) انہوں نے زیبرا دیکھا وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر سیدھے ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا کوڑا پکڑانے کو کہا انہوں نے انکار کر دیا پھر ان سے اپنا نیزہ مانگا (کہ ان کو ہاتھ میں تھما دیں) انہوں نے (اس سے بھی) انکار کر دیا۔ انہوں نے خود ہی نیزہ اٹھایا پھر زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھایا اور بعض نے (کھانے سے) انکار کر دیا۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ سے اس (شکار) کے بارے میں پوچھا: آپ نے فرمایا: ”یہ کھانا ہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کھلایا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2852]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ، مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ ".
زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے ابونضر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی البتہ زید بن اسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ باقی ہے؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 2853]
وحَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ، فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا، فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، انْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ: " كُلُوا "، وَهُمْ مُحْرِمُونَ.
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے حدیث بیان کی کہا: میرے والد حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ان کے ساتھیوں نے (عمرے) کا احرام باندھا لیکن انہوں نے نہ باندھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ غیقہ مقام پر دشمن (گھات میں) ہے (مگر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے۔ (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ہمراہ تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے۔ اتنے میں میں نے دیکھا تو میری نظر زیبرے پر پڑی میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر بے حرکت کر دیا پھر میں نے ان سے مدد چاہی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے اس کا گوشت تناول کیا۔ اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم (آپ سے) کاٹ (کر الگ کر) دیے جائیں گے۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا کبھی میں گھوڑے کو بہت تیز دوڑاتا تو کبھی (آرام سے) چلتا آدھی رات کے وقت مجھے بنو غفار کا ایک شخص ملا میں نے اس سے پوچھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہاں ملے تھے؟ اس نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعہن کے مقام پر چھوڑا ہے آپ فرما رہے تھے سُقیا (پہنچو) چنانچہ میں آپ سے جا ملا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ انہیں آپ سے کاٹ (کر الگ کر) دیا جائے گا۔ آپ ان کا انتظار فرما لیجیے۔ تو آپ نے (وہاں) ان کا انتظار فرمایا۔ پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے شکار کیا تھا اور اس کا بچا ہوا کچھ (حصہ) میرے پاس باقی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کھا لو“ جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2854]
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي "، قَالَ: فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: فَقَالُوا: أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، قَالَ: فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ: قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا "،
عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ہٹا (کر ایک سمت بھیج دیا اور فرمایا: ”ساحل سمندر لے کر چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو۔“ کہا: انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا (بس) انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انہوں نے زیبرے دیکھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا کو گرا لیا۔ وہ (لوگ) اترے اور اس کا گوشت تناول کیا۔ کہا وہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کہنے لگے: ہم نے (تو شکار کا گوشت کھا لیا جبکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا (اور چل پڑے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے: ہم سب نے احرام باندھ لیا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا۔ پس ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ بعد میں ہم نے کہا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں اور شکار کا گوشت کھا رہے ہیں! پھر ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھایا (اور آگئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (شکار کرنے کو) کہا تھا؟ یا کسی چیز سے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: ”اس کا باقی گوشت بھی تم کھا لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2855]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا؟ "، وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ: قَالَ: " أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ "، قَالَ شُعْبَةُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ.
شعبہ اور شیبان دونوں نے عثمان بن عبداللہ بن موہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ شیبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ شعبہ کی روایت میں ہے کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا یا مدد کی شکار کرایا؟“ شعبہ نے کہا: میں نہیں جانتا کہ آپ نے کہا: ”تم لوگوں نے مدد کی“ یا کہا: ”تم لوگوں نے شکار کرایا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2856]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي، قَالَ: فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً، فَقَالَ: " كُلُوهُ "، وَهُمْ مُحْرِمُونَ،
یحییٰ (بن ابی کثیر) سے روایت ہے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی قتادہ نے خبر دی کہ ان کے والد نے اللہ ان سے راضی ہو۔ انہیں خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شرکت کی، کہا: میرے علاوہ سب نے عمرے کا (احرام باندھ لیا اور) تلبیہ شروع کر دیا۔ کہا: میں نے ایک زیبرا شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو کھلایا جبکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا انہیں بتایا کہ ہمارے پاس اس (شکار) کا کچھ گوشت بچا ہوا ہے۔ آپ نے (ساتھیوں سے) فرمایا: ”اسے کھاؤ“ حالانکہ وہ سب احرام میں تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2857]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ، وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ فَقَالَ: " هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ "، قَالُوا: مَعَنَا رِجْلُهُ، قَالَ: " فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهَا "،
ہمیں ابوحازم نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث سنائی کہ وہ لوگ (مدینہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ احرام میں تھے اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بغیر احرام کے تھے۔ اور (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ (بچا ہوا) ہے؟“ انہوں نے عرض کی، اس کی ایک ران ہمارے پاس موجود ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی اور اسے تناول فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2858]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَإِسْحَاق ، عَنْ جَرِيرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ قَالَ: " هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْكُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْءٍ؟ "، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَكُلُوا ".
عبدالعزیز بن رفیع نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت کی، کہا: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نفری میں تھے انہوں نے احرام باندھا ہوا تھا اور وہ خود احرام کے بغیر تھے اور حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی انسان نے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا یا انہیں (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو) کچھ کرنے کو کہا تھا؟“ انہوں نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم اسے کھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2859]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ، فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ، وَقَالَ: " أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
معاذ بن عبدالرحمان بن عثمان تیمی نے اپنے والد سے روایت کی، کہا ہم احرام کی حالت میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ایک (شکار شدہ) پرندہ بطور ہدیہ ان کے لیے لایا گیا۔ طلحہ (اس وقت) سو رہے تھے۔ ہم میں سے بعض نے (اس کا گوشت) کھایا اور بعض نے احتیاط برتی۔ جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو آپ نے ان کی تائید کی جنہوں نے اسے کھایا تھا اور کہا ہم نے اسے (شکار کے گوشت کو حالت احرام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2860]
9: باب مَا يُنْدَبُ لِلْمُحْرِمِ وَغَيْرِهِ قَتْلُهُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ:
باب: حل اور حرم میں محرم اور غیر محرم کے لیے جن جانوروں کا مارنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "، قَالَ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ: أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ؟، قَالَ: " تُقْتَلُ بِصُغْرٍ لَهَا ".
قاسم بن محمد کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”چار جانور ہیں سبھی ایذا دینے والے ہیں۔ وہ حدود حرم سے باہر اور حرم میں (جہاں پائے جائیں) قتل کر دیے جائیں، چیل، کوا، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ (عبید اللہ بن مقسم نے) کہا: میں نے قاسم سے کہا آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اسے اس کے چھوٹے پن (گھٹیا رویے) کی بنا پر قتل کیا جائے گا (جو اس میں ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2861]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا ".
سعید بن مسیب نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ موذی (جانور) ہیں۔ حل و حرم میں (جہاں بھی مل جائیں) مار دیے جائیں سانپ، کوا، جس کے سر پر سفید نشان ہوتا ہے، چوہا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2862]
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "،
حماد بن یزید نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد (عروہ) کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (جاندار) موذی ہیں۔ حرم میں بھی قتل کر دیے جائیں۔ بچھو، چوہا، چیل، دھبوں والا کوا اور کاٹنے والا کتا۔“ (چار یا پانچ کہنے کا مقصد تحدید نہیں تھا۔ آگے جتنے نام لیے گئے ان کا بیان تھا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2863]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے مذکورہ بالا سند سے بھی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2864]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "،
یزید بن زریع نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں معمر نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (جانور) موذی ہیں حرم میں بھی مار ڈالے جائیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2865]
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَتْ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ.
ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی (کہا) ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حل و حرم میں پانچ موذی (جانوروں) کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر (عبدالرزاق) نے یزید بن زریع کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2866]
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَوَاسِقُ تُقْتَلُ فِي الْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ ".
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (انہوں نے) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ جانور ہیں سب کہ سب موذی ہیں انہیں حرم میں بھی مار دیا جائے۔ کوا، چیل، کاٹنے والا کتا، بچھو، اور چوہا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2867]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "، وقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: فِي الْحُرُمِ وَالْإِحْرَامِ.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے انہوں نے زہری سے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور) ہیں جو انہیں حرم میں اور احرام کی حالت میں مار دے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا: حرمت والے مقامات میں اور احرام کی حالت میں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2868]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ لَا حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ".
یونس نے ابن شہاب کے واسطے سے خبر دی کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جانوروں میں سے پانچ ہیں جو سب کے سب موذی ہیں انہیں قتل کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ بچھو، کوا، چیل، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2869]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ؟، فَقَالَ: أَخْبَرَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهُ أَمَرَ أَوْ أُمِرَ أَنْ يَقْتُلَ الْفَأْرَةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْحِدَأَةَ، وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ، وَالْغُرَابَ ".
ہم سے زہیر نے بیان کیا (کہا) ہمیں زید بن جبیر نے حدیث سنائی کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: احرام والا کس جانور کو مار سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے خبر دی کہ آپ نے حکم دیا یا آپ کو (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا کہ چوہا، بچھو، چیل، کاٹنے والا کتا اور کوا قتل کر دیے جائیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2870]
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنَ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، قَالَ: حَدَّثَتْنِي إِحْدَى نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الْعَقُورِ، وَالْفَأْرَةِ، وَالْعَقْرَبِ، وَالْحُدَيَّا، وَالْغُرَابِ، وَالْحَيَّةِ، قَالَ: وَفِي الصَّلَاةِ أَيْضًا".
ابوعوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنائی کہا ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ایک آدمی احرام کی حالت میں کون سے جانور کو قتل کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (احرام کی حالت میں) باولے کتے، چوہے، بچھو، چیل، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے۔ (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) فرمایا: اور نماز میں بھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2871]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ".
مالک نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور ایسے) ہیں کہ احرام باندھنے والے پر انہیں قتل کر دینے میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ کوا، چیل، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2872]
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنَ الدَّوَابِّ؟، فَقَالَ لِي نَافِعٌ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ"،
ابن جریج نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کیا سنا وہ احرام والے شخص کے لیے کن جانوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟ نافع نے مجھ سے کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پانچ (موذی) جانور ہیں انہیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں۔ کوا، چیل، بچھو، چوہا اور کاٹنے والا کتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2873]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ جَمِيعًا، عَنْ نَافِعٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَنْ نَافعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ، وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَى ذَلِكَ ابْنُ إِسْحَاق،
لیث بن سعد اور جریر یعنی ابن حازم نے نافع سے اسی طرح عبید اللہ، ایوب اور یحییٰ بن سعید ان تینوں نے بھی نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مالک اور ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ان میں سے کسی ایک نے بھی نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کے الفاظ نہیں کہے۔ سوائے اکیلے ابن جریج کے (البتہ) ابن اسحاق نے ان الفاظ میں ابن جریج کی متابعت کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2874]
وحَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ"، فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
محمد بن اسحاق نے نافع اور عبید اللہ بن عبداللہ سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جائے اس کے قتل پر کوئی گناہ نہیں۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2875]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، قَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحُدَيَّا"، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
یحییٰ بن یحییٰ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا: عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ (موذی جانور) ہیں جو انہیں احرام کی حالت میں مار دے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ چوہا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2876]
10: باب جَوَازِ حَلْقِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ إِذَا كَانَ بِهِ أَذًى وَوُجُوبِ الْفِدْيَةِ لِحَلْقِهِ وَبَيَانِ قَدْرِهَا:
باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ،
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟“ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔“ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2877]
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2878]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ".
ابن عون نے مجاہد سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: پھر اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: ”ذرا قریب آؤ۔“ میں آپ کے (کچھ) قریب ہو گیا آپ نے فرمایا: ”اور قریب آؤ۔“ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہیں؟“ ابن عون نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (کعب رضی اللہ عنہ) نے کہا جی ہاں (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ روزے، صدقے یا قربانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2879]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ".
سیف (بن سلیمان) نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنائی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف) کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہیں؟“ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوالو۔“ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھو یا (کسی بھی جنس کا) ایک فرق (تین صاع) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی میسر ہو کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2880]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً.
ابن ابی نجیح، ایوب، حمید اور عبدالکریم نے مجاہد سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ (کعب رضی اللہ عنہ) احرام کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلانے میں لگے ہوئے تھے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلادو۔۔۔ایک فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔۔۔یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جانور کی قربانی کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2881]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ:" آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ رَأْسَكَ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ابوقلابہ نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پوچھا: ”تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں اذیت دی ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”سر منڈوادو۔ پھر ایک بکری بطور قربانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلادو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2882]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟، فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً.
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: ”میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟“ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”(تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔“ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2883]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: ”تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو“ اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2884]
11: باب جَوَازِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ:
باب: محرم کے لیے سینگی لگانے کا جواز۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2885]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ".
حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے راستے میں احرام کی حالت میں اپنے سر کے درمیان کے حصے پر سینگی لگوائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2886]
12: باب جَوَازِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَيْهِ:
باب: محرم کے لیے آنکھوں کا علاج کرانا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَلَلٍ، اشْتَكَى عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِالرَّوْحَاءِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنِ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ، فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ".
سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ایوب بن موسیٰ نے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم ابان بن عثمان کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی، جب ہم رَرحاء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انہوں نے مسئلہ پوچھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا، انہوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دونوں (آنکھوں) پر ایلوے کا لیپ کرو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرام کی حالت میں تھا جب اس کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی تو آپ نے (اس کی آنکھوں پر) ایلوے کا لیپ کرایا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2887]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَكْحُلَهَا، فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ"، وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ.
ہمیں عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی کہا: مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا: ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا: مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ (ایک بار احرام کی حالت میں) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انہوں نے ان میں سرمہ لگانے کا ارادہ فرمایا تو ابان بن عثمان نے انہیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا لیپ کر لیں۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2888]
13: باب جَوَازِ غَسْلِ الْمُحْرِمِ بَدَنَهُ وَرَأْسَهُ:
باب: محرم کے لیے اپنا بدن اور سر دھونے کا جواز۔
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أنهما اختلفا بالأبواء، فقال عبد الله بن عباس: يغسل المحرم رأسه، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ:" اصْبُبْ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ"، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"،
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن حنین) سے انہوں نے عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ابواء کے مقام پر ان دونوں کے درمیان اختلاف ہوا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے (عبداللہ بن حنین کو) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے (اس کے بارے میں) مسئلہ پوچھوں (جب میں ان کے پاس پہنچا تو) انہیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان (جو کنویں سے فاصلے پر لگائی جاتی تھیں اور ان پر لگی ہوئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جاتا تھا) غسل کرتے ہوئے پایا۔ (عبداللہ بن حنین نے) کہا: میں نے انہیں سلام کہا: وہ بولے: یہ کون (آیا) ہے؟ میں نے عرض کی: میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں آپ سے پوچھوں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھویا کرتے تھے؟ (میری بات سن کر) حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتیٰ کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا: پانی ڈالو۔ اس نے آپ کے سر پر پانی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے۔ پھر کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2889]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَى جَمِيعِ رَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لَا أُمَارِيكَ أَبَدًا.
ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ ابوایوب نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیرا انہیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ عنہما نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2890]
14: باب مَا يُفْعَلُ بِالْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ:
باب: محرم مر جائے تو کیا کیا جائے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ، فَقَالَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
سفیان بن عیینہ نے عمرو (بن دینار) سے (انہوں نے) سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں (احرام کی دونوں چادروں) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2891]
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَأَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَأَوْقَصَتْهُ، أَوَ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَوَقَصَتْهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ"، قَالَ أَيُّوبُ:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَقَالَ عَمْرٌو:" فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
حماد نے عمرو بن دینار اور ایوب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: ایک شخص عرفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقف میں تھا کہ اپنی سواری سے گر گیا ایوب نے کہا اس کی سواری نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔۔۔یا کہا: اسے اسی وقت مار ڈالا۔۔۔اور عمرو نے فوقصتہ کہا (اس کی گردن کا منکا توڑ دیا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے کپڑوں میں کفن دو اسے خوشبو نہ لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو۔“ ایوب نے کہا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی حالت میں تلبیہ کہتا ہوا اٹھائے گا۔“ اور عمرو نے کہا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اٹھائے گا۔ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2892]
وحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَذَكَرَ نَحْوَ مَا ذَكَرَ حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ.
اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے حدیث بیان کی۔ کہا مجھے سعید بن جبیر سے خبر دی گئی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا اور احرام کی حالت میں تھا (آگے) ایوب سے حماد کی روایت کی مانند حدیث ذکر کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2893]
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي"،
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے عمرو بن دینار نے سعید بن جبیر سے خبر دی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا (اس سے) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو۔ اس کے اپنے (احرام کے) دو کپڑے پہناؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلاشبہ وہ قیامت کے روز آئے گا۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2894]
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا"، وَزَادَ لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ.
محمد بن بکر برسانی نے کہا: ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انہیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے خبر دی۔ کہا: ایک شخص احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا۔ (آگے اسی کے مانند ہے مگر (محمد بن بکر نے) کہا بلاشبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2895]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرام کی حالت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے (احرام کے) دو کپڑوں میں کفناؤ اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2896]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ہمیں ابوبشر نے حدیث سنائی کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں (احرام کی دو چادروں) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلاشبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے بال چپکے ہوئے ہوں گے۔ (جس طرح موت کے وقت احرام کی حالت میں تھے)“ [صحيح مسلم/حدیث: 2897]
وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
ابوعوانہ نے ابوبشر سے حدیث سنائی انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے (گرا کر) اس (کی گردن) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ (شخص) احرام کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر حج میں شریک) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جائے۔ بلاشبہ اسے قیامت کے روز (احرام کی حالت میں) چپکے ہوئے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2898]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يُحَدِّثُ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُمَسَّ طِيبًا، خَارِجٌ رَأْسُهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ:" خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا".
شعبہ نے کہا: میں نے ابوبشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا (اسی دوران میں) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر (کفن سے) باہر نکلا ہوا ہو۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انہوں نے یہی حدیث (اس طرح) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو۔ بلاشبہ اسے قیامت کے دن (احرام میں) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2899]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يَكْشِفُوا وَجْهَهُ، حَسِبْتُهُ قَالَ: وَرَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ".
ابوزبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ۔۔۔اور میرا خیال ہے کہا۔۔۔اور سر برہنہ رکھیں۔ بلاشبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکار رہا ہو گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2900]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي ".
منصور نے سعید بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص (سفر حج میں شریک) تھا اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور وہ فوت ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دو اور خوشبو اس کے قریب نہ لاؤ نہ ہی اس کا سر ڈھانپو۔ بلاشبہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2901]
15: باب جَوَازِ اشْتِرَاطِ الْمُحْرِمِ التَّحَلُّلَ بِعُذْرِ الْمَرَضِ وَنَحْوِهِ:
باب: محرم کا شرط لگانا کہ بیماری یا کسی اور عذر کی بناء پر میں احرام کھول دوں گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: " أَرَدْتِ الْحَجَّ؟ "، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ.
ابواسامہ نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا (بن عبدالمطلب) کے ہاں تشریف لے گئے اور دریافت کیا: ”تم حج کا ارادہ رکھتی ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم میں خود کو بیماری کی حالت میں پاتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”حج (کی نیت) کرو اور شرط کرلو اور یوں کہو: اللہم مَحِلِّي حيث حبستني“ ”اے اللہ! میں وہاں احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا۔“ وہ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2902]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "،
زہری نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں جبکہ میں بیمار (بھی) ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم حج کے لیے نکل پڑو اور یہ شرط کرلو کہ (اے اللہ!) میں اسی جگہ احرام کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2903]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلَهُ.
معمر نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی (گزشتہ حدیث) کے مطابق حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2904]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، وَأَبُو عَاصِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ، فَمَا تَأْمُرُنِي؟، قَالَ: " أَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي "، قَالَ: فَأَدْرَكَتْ.
ابوزبیر نے طاوس کو اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ اور کہا میں (بیماری کی وجہ سے) خود کو مشکل سے اٹھا پاتی ہوں اور حج بھی کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”حج کا احرام باندھ لو اور شرط لگاؤ کہ (اے اللہ!) جہاں تو مجھے روک دے گا وہی میرے احرام کھول دینے کا مقام ہو گا۔“ (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: کہ ضباعہ رضی اللہ عنہا نے) حج کر لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2905]
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتِ الْحَجَّ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عمرو بن ہرم نے سعید بن جبیر اور عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ضباعہ رضی اللہ عنہا نے حج کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط لگا لیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایسا ہی کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2906]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، قَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْروفٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِضُبَاعَةَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي "، وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَاق: أَمَرَ ضُبَاعَةَ.
ہمیں اسحاق بن ابراہیم ابوایوب غیلانی اور احمد بن خراش نے حدیث بیان کی۔۔۔اسحاق نے کہا: ہم کو خبر دی اور دوسروں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔۔۔ابوعامر نے جو عبدالملک بن عمرو ہیں انہوں نے کہا ہمیں رباح نے جو ابن ابی معروف ہیں عطاء سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج (کی نیت) کرو اور (احرام باندھتے ہوئے) شرط کرلو کہ (اے اللہ!) تو نے جہاں مجھے روک دیا وہیں میرا احرام ختم ہو جائے گا۔“ اور اسحاق کی روایت کے الفاظ ہیں (آپ نے ضباعہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2907]
16: باب إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ وَاسْتِحْبَابِ اغْتِسَالِهَا لِلإِحْرَامِ وَكَذَا الْحَائِضِ:
باب: حیض و نفاس والی عورتوں کے احرام اور احرام کے لئے غسل کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كلهم، عَنْ عَبْدَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ يَأْمُرُهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ (ذوالحلیفہ کے مقام پر واقع) درخت کے قریب (قیام کے دوران میں) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی (پیدائش کی) وجہ سے نفاس کا خون آنا شروع ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان (اپنی اہلیہ اسماء رضی اللہ عنہا) سے کہیں کہ وہ غسل کر لیں اور احرام باندھ لیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2908]
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ".
جعفر (صادق) نے اپنے والد محمد (باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث (کے بارے) میں روایت کی کہ جب انہیں ذوالحلیفہ میں نفاس آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے ان (اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا) سے کہا کہ وہ غسل کر لیں اور احرام باندھ لیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2909]
17: باب بَيَانِ وُجُوهِ الإِحْرَامِ وَأَنَّهُ يَجُوزُ إِفْرَادُ الْحَجِّ وَالتَّمَتُّعِ وَالْقِرَانِ وَجَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَمَتَى يَحِلُّ الْقَارِنُ مِنْ نُسُكِهِ:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا "، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ "، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: " هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ "، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.
مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال (اس کی ادائیگی کے لیے) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور ہم (میں سے کچھ) نے عمرے کے لیے (احرام باندھ کر) تلبیہ کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قربانی کا جانور جس کے ساتھ ہو وہ عمرے کے ساتھ ہی حج کا بھی تلبیہ پکارے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں (کے لیے عائد کردہ احرام کی پابندیوں) سے آزاد نہ ہو جائے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا جب میں مکہ پہنچی تو ایام مخصوصہ میں تھی میں نے نہ حج کا طواف کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی میں نے اس (صورت حال) کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”اپنے سر کے بال کھولو اور کنگھی کرو (پھر) حج کا تلبیہ پکارنا شروع کردو اور عمرے کو چھوڑدو۔“ انہوں نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (میرے بھائی) عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے (وہاں سے احرام باندھ کر) عمرہ کیا۔ آپ نے فرمایا: ”یہ (عمرہ) تمہارے (اس رہ جانے والے) عمرے کی جگہ ہے۔“ جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا۔ انہوں نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول دیا۔ پھر جب وہ لوگ (حج کے دوران میں) منیٰ سے لوٹے تو انہوں نے اپنے حج کے لیے دوسری بار طواف کیا البتہ وہ لوگ جنہوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تھا (حج قران کیا تھا) تو انہوں نے (صفا مروہ کا) ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2910]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى، فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَنْحَرَ هَدْيَهُ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ "، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ، وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ "، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي، بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي، الَّتِي أَدْرَكَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے (صرف) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لایا۔ وہ احرام کھول دے۔ اور جس نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لائی ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کرلے احرام ختم نہ کرے۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا مجھے (راستے میں) ایام شروع ہو گئے۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں کنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے (کے اعمال) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ (میرے بھائی) عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجانے کی بنا پر مکمل کرکے میں اس کا احرام نہ کھول پائی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2911]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا "، قَالَتْ: فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟، قَالَ: " انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ "، قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَنِي، فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَكْتُ عَنْهَا.
معمر نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے سفر کے لیے) نکلے۔ میں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا لیکن (اپنے) ساتھ قربانی نہیں لائی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی کے جانور ہوں وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہو جائے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے ایام شروع ہو گئے جب عرفہ کی رات آگئی میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا۔ اب میں اپنے حج کا کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنے سر کے بال کھولو کنگھی کرو اور عمرے سے رک جاؤ حج کے لیے تلبیہ پکارو۔“ انہوں نے کہا: جب میں نے اپنا حج مکمل کر لیا (تو آپ نے میرے بھائی) عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور مقام تنعیم سے اس عمرے کی جگہ جس سے میں رک گئی تھی (دوسرا) عمرہ کروادیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2912]
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ "، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ، وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِعُمْرَةٍ، وَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ.
سفیان نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج کے لیے) نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو اکٹھے عمرے اور حج کے لیے تلبیہ پکارنا چاہتا ہے پکارے۔ جو (صرف) حج کے لیے تلبیہ پکارنا چاہتا ہے پکارے اور جو (صرف) عمرے کے لیے پکارنا چاہے وہ ایسا کرلے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اور آپ کے ساتھ کئی لوگوں نے (اکیلے حج کے لیے) تلبیہ کہا کئی لوگوں نے عمرے اور حج (دونوں) کے لیے تلبیہ کہا اور کئی لوگوں نے صرف عمرے کے لیے کہا اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2913]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ "، قَالَتْ: فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ، لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ "، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا، أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ،
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چاہتا ہے کہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں قربانی ساتھ لایا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا۔ ہم نکل پڑے حتیٰ کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایام میں تھی اور میں نے (ابھی) عمرے (کی تکمیل کرکے اس) کا احرام کھولا نہیں تھا میں نے اس (بات) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا عمرہ چھوڑدو اپنی سر کی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کرلو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کردو۔“ انہوں نے کہا: میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل فرمادیا تھا تو (آپ نے) میرے ساتھ (میرے بھائی) عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا انہوں نے مجھے ساتھ بٹھایا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی۔ (ہشام نے کہا: اس (الگ عمرے) کے لیے نہ قربانی کا کوئی جانور (ساتھ لایا گیا) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان میں سے کوئی کام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2914]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ،
ابن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب (حج کے لیے) نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج ہی تھا۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمرے کا تلبیہ پکارنا چاہے وہ (اکیلے) عمرے کا تلبیہ پکارے۔“ پھر عبدہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2915]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ، فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا، وقَالَ فِيهِ: قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِكَ: إِنَّهُ قَضَى اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا، قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ.
وکیع نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے مدینہ سے) نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کا تلبیہ پکارا بعض نے حج کا۔ اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔ اور (وکیع نے) آگے ان دونوں (عبدہ اور ابن نمیر) کی طرح حدیث بیان کی۔ اور اس میں یہ کہا عروہ نے اس کے بارے میں کہا: بلاشبہ اللہ نے ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے) اس طرح عمرہ کرنے میں نہ کوئی قربانی تھی نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2916]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ، وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ ".
محمد بن عبدالرحمان بن نوفل نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ ہم میں سے کچھ ایسے تھے جنہوں نے (صرف) عمرے کا تلبیہ کہا بعض نے حج اور عمرے دونوں کا اور بعض نے صرف حج کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا۔ جس نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ تو (عمرے کی تکمیل کے بعد) حلال ہو گیا اور جنہوں نے صرف حج کا یا حج اور عمرے دونوں کا تلبیہ کہا تھا اور قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے وہ لوگ قربانی کا دن آنے تک احرام کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2917]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " أَنَفِسْتِ " يَعْنِي الْحَيْضَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَغْتَسِلِي "، قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
قاسم نے اپنے والد (محمد بن ابی بکر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور مجھے روتا ہوا پایا۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے ایام شروع ہو گئے ہیں؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ (کر مقدر کر) دی ہے تم (سارے) کام ویسے ہی سر انجام دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کرلو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا (اس حج میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2918]
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى جِئْنَا سَرِفَ، فَطَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ "، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ، قَالَ: " مَا لَكِ لَعَلَّكِ نَفِسْتِ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " هَذَا شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي "، قَالَتْ: فَلَمَّا قَدِمْتُ مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " اجْعَلُوهَا عُمْرَةً "، فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، قَالَتْ: فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ، فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ، قَالَتْ: فَأُتِيَنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، فَقَالُوا: أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ، قَالَتْ: " فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي عَلَى جَمَلِهِ "، قَالَتْ: فَإِنِّي لَأَذْكُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ، أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ، حَتَّى جِئْنَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ جَزَاءً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا،
عبدالرحمان بن سلمہ ماجثون نے عبدالرحمان بن قاسم سے انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ (انہوں نے) کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج ہی کا ذکر کر رہے تھے۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ (اس اثنا میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے (حجرے میں) داخل ہوئے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ میں نے جواب دیا، اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی۔ آپ نے پوچھا: تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمہیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کردی ہے۔ تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ جیسے (تمام) حاجی کریں مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔“ انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: ”تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کرلو۔“ جن کے پاس قربانیاں تھیں ان کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (اسی کے مطابق عمرے کا) تلبیہ پکارنا شروع کردیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا اور قربانیاں (صرف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور (بعض) اصحاب ثروت رضوان اللہ علیہم اجمعین (ہی) کے پاس تھیں۔ جب وہ چلے تو انہوں نے (حج) کا تلبیہ پکارا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب قربانی کا دن آیا تو میں پاک ہوگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے طواف (افاضہ) کرلیا۔ (انہوں نے) کہا: ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں (لانے والوں) نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے۔ جب (مدینہ کے راستے منیٰ کے فوراً بعد کی منزل) محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! لوگ حج اور عمرہ (دونوں) کرکے لوٹیں اور میں (اکیلا) حج کرکے لوٹوں؟ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے بھائی) عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا۔ (انہوں نے) کہا: مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی (راستے میں) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ (بار بار) کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا (اور میں اس سے محروم رہ گئی تھی) عمرے کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2919]
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ، غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: فَكَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَذَوِي الْيَسَارَةِ، ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا، وَلَا قَوْلُهَا: وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ، فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ.
حماد (بن سلمہ) نے عبدالرحمان سے حدیث بیان کی انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم نے حج کا تلبیہ پکارا جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (میرے حجرے میں) داخل ہوئے تو میں رو رہی تھی (حماد نے) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ (الفاظ) نہیں: قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی کے پاس تھی۔ پھر جب وہ چلے تو انہوں نے تلبیہ پکارا۔ اور نہ یہ قول (ان کی حدیث میں ہے) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر (بار بار) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2920]
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْرَدَ الْحَجَّ ".
مالک نے عبدالرحمان بن قاسم سے انہوں نے اپنے والد (قاسم) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلا حج (افراد) کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2921]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْيٌ، فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا "، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ "، قُلْتُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ، فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ: " وَمَا لَكِ؟ "، قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ ": " فَلَا يَضُرُّكِ فَكُونِي فِي حَجِّكِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ "، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا "، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " هَلْ فَرَغْتِ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ.
افلح بن حمید نے قاسم سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں (پابندیوں) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے حتیٰ کہ سرف کے مقام پر اترے۔ (وہاں پہنچ کر) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تم میں سے جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے تو ایسا کرلے اور جس کے ساتھ قربانی کے جانور ہیں وہ (ایسا) نہ کرے۔“ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس (عمرے) کو اختیار کرلیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”کیوں روتی ہو؟“ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں۔ آپ نے پوچھا: (کیوں) تمہیں کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: میں نماز ادا نہیں کرسکتی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ (ایام عمرے حج میں) تمہارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں (لگی) رہو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ (عمرے کا) اجر بھی دے گا تم آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے۔“ کہا (پھر) میں احرام ہی کی حالت میں) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور (تب) میں ایام سے پاک ہوگئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ (میرے بھائی) کو بلایا اور ان سے) فرمایا: ”اپنی بہن کو حرم سے باہر (تنعیم) لے جاؤ تاکہ یہ (احرام باندھ کر) عمرے کا تلبیہ کہے اور (عمرے کے لیے بیت اللہ (اور صفا مروہ) کا طواف کرلے۔ میں (تمہاری واپسی تک) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ہم نکل پڑے میں نے (احرام باندھ کر) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے۔ آپ نے (مجھ سے) پوچھا: ”کیا تم (عمرے سے) فارغ ہوگئی ہو؟“ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کوچ کے اعلان کا حکم دیا۔ آپ (وہاں سے) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف (وداع) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2922]
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ، وَمِنَّا مَنْ تَمَتَّعَ "،
عبید اللہ بن عمر نے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا (جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے تھے تو) ہم میں سے بعض نے اکیلے حج (افراد) کا تلبیہ کہا بعض نے ایک ساتھ دونوں (قران) اور بعض نے حج تمتع کا ارادہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2923]
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صرف) حج کے لیے آئیں تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2924]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ "، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: أَتَتْكَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ،
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرما رہی تھیں: ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا۔ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ”جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کرلے تو احرام کھول دے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عید کے دن ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی طرف سے (یہ گائے) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا: میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو (انہوں نے) فرمایا: اللہ کی قسم اس (عمرہ) نے تمہیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچائی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2925]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالوہاب اور سفیان بن عیینہ نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2926]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ . ح وَعَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ، قَالَ: " انْتَظِرِي فَإِذَا طَهَرْتِ فَاخْرُجِي إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ "، ثُمَّ الْقَيْنَا عِنْدَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَظُنُّهُ، قَالَ: غَدًا وَلَكِنَّهَا عَلَى قَدْرِ نَصَبِكِ، أَوَ قَالَ: نَفَقَتِكِ،
ابراہیم نے اسود اور قاسم سے ان دونوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اے رسول اللہ! لوگ حج اور عمرہ دودو مناسک ادا کر کے (اپنے گھروں کو) لوٹیں گے اور میں صرف ایک منسک (حج) کر کے لوٹوں گی؟ آپ نے فرمایا: ”تم ذرا انتظار کرو! جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم (کی طرف) چلی جانا اور وہاں سے (احرام باندھ کر عمرے کا) تلبیہ پکارنا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا۔“ ابراہیم نے کہا: میرا خیال ہے آپ نے فرمایا تھا: کل۔ اور (فرمایا) لیکن وہ (تمہارے عمرے کا اجر) تمہاری مشقت یا فرمایا: خرچ ہی کے مطابق ہو گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2927]
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، وَإِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنَ الْآخَرِ، أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابن ابی عدی نے ابن عون سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم اور ابراہیم سے روایت کی (ابن عون نے کہا:) میں ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث سے الگ نہیں کر سکتا۔ ام المؤمنین (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ دو منسک (حج اور عمرہ) کر کے لوٹیں۔ اور آگے (اسی طرح) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2928]
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا، قَالَ إِسْحَاق: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ، وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْيَ فَأَحْلَلْنَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ، قَالَ: " أَوْ مَا كُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَكَّةَ؟ "، قَالَتْ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ مَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا "، قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ، قَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى أَوْ مَا كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ "، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: " لَا بَأْسَ انْفِرِي "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا، أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا، وَقَالَ إِسْحَاق: مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ،
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لایا وہ احرام کھول دے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) جتنے لوگ بھی قربانی ساتھ نہیں لائے تھے، انہوں نے احرام ختم کر دیا۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیاں نہیں لائیں تھیں تو وہ بھی احرام سے باہر آگئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (لیکن) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ حج اور عمرہ کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ آپ نے فرمایا: ”جن راتوں (تاریخوں) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟“ میں نے کہا: جی نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو پھر اپنے بھائی (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جاؤ اور وہاں سے (عمرے کا احرام باندھ کر) عمرے کا تلبیہ پکارو (اور عمرہ کر لو) پھر تم فلاں مقام پر آملنا۔“ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں (بھی) آپ کو روکنے والی ہوں گی۔ آپ نے فرمایا: ”(اپنی قوم کی زبان میں) عقریٰ حلقیٰ (بے اولاد، بے بال، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بولتے تھے) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا؟“ کہا: کیوں نہیں (کیا تھا!) آپ نے فرمایا: ”(تو پھر) کوئی بات نہیں، اب چل پڑو۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (دوسری صبح) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے (اس وقت) ملے جب آپ مکہ سے چڑھائی پر آ رہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی۔ یا میں چڑھائی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے (واپس آرہے تھے)۔ اور اسحاق نے متہبطہ (اترنے والی) اور متہبط (اترنے والے) کے الفاظ کہے۔ (مفہوم وہی ہے) [صحيح مسلم/حدیث: 2929]
وحَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي، لَا نَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْصُورٍ.
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہوئے نکلے ہم حج یا عمرے کا ذکر نہیں کر رہے تھے۔ اور آگے (اعمش نے) منصور کے ہم معنی ہی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2930]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ؟، قَالَ: " أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ، فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ "، قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ، أَحْسِبُ، " وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا "،
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے (زین العابدین) علی بن حسین سے، انہوں نے ذاکون مولیٰ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ذوالحجہ کے چار یا پانچ دن گزر چکے تھے کہ آپ میرے پاس (خیمے میں) تشریف لائے، آپ غصے کی حالت میں تھے، میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اسے آگ میں داخل کرے۔ آپ نے جواب دیا: ”کیا تم نہیں جانتیں! میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا (کہ جو قربانی ساتھ نہیں لائے، وہ عمرے کے بعد احرام کھول دیں) مگر وہ اس پر عمل کرنے میں پس و پیش کر رہے ہیں۔“ حکم نے کہا: میرا خیال ہے (کہ میرے استاد علی بن حسین نے) ”ایسا لگتا ہے وہ پس و پیش کر رہے ہیں۔“ کہا۔ اگر اپنے اس معاملے میں وہ بات پہلے میرے سامنے آجاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا حتیٰ کہ میں اسے (یہاں آکر) خریدتا پھر میں ویسے احرام سے باہر آجاتا جیسے یہ سب (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عمرے کے بعد) آگئے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2931]
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ مِنَ الْحَكَمِ فِي قَوْلِهِ: يَتَرَدَّدُونَ.
عبید اللہ بن معاذ نے کہا: مجھے میرے والد نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد مکہ تشریف لائے۔ آگے (عبید اللہ بن معاذ نے) غندر کی روایت کے مانند ہی حدیث بیان کی انہوں نے پس و پیش کرنے کے حوالے سے حکم کا شک ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2932]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَاضَتْ فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ: " يَسَعُكِ طَوَافُكِ لِحَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ "، فَأَبَتْ، فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ.
طاوس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا مکہ پہنچیں، ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ ایام شروع ہو گئے، انہوں نے حج کا تلبیہ کہا اور تمام مناسک (حج) ادا کیے۔ واپسی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (مخاطب ہو کر) فرمایا: ”تمہارا طواف تمہارے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے کافی ہے۔ (اب تمہیں مزید عمرے کی ضرورت نہیں)“ مگر وہ نہ مانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ان کے بھائی) عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا اور انہوں نے حج کے بعد (ایک اور) عمرہ ادا کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2933]
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْزِئُ عَنْكِ طَوَافُكِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".
مجاہد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہیں مقام سرف سے ایام شروع ہوئے پھر وہ عرفہ میں جا کر پاک ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تمہاری طرف سے تمہارا صفا مروہ کا طواف تمہارے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے کافی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2934]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، قَالَتْ: فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي، فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ، قُلْتُ: لَهُ وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ؟، قَالَتْ: فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ ".
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ تو وہ (عملوں کا) ثواب لے کر لوٹیں گے اور میں (صرف) ایک (عمل کا) ثواب لے کر لوٹوں؟ تو (عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات سن کر) آپ نے عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو) تنعیم تک لے جائے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) چنانچہ عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا (راستے میں) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر ڈھانپنے کے لیے (بار بار) اسے اوپر اٹھاتی تو (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے (کہا اوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟) میں ان سے کہتی: آپ یہاں کسی (اجنبی) کو دیکھ رہے ہیں؟ (جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا) فرماتی ہیں: میں نے (وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا (اور عمرہ کیا) پھر ہم (واپس آئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (اس وقت) مقام حصبہ پر تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2935]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ ".
عمرو بن اوس نے خبر دی کہ عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے لیں اور انہیں مقام تنعیم سے عمرہ کروائیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2936]
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جميعا، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ عَرَكَتْ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟، قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ "، فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكِ؟ "، قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي، ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ "، فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ، حَتَّى إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ: " قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا "، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ، قَالَ: " فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ "، وَذَلِكَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ،
قتیبہ نے کہا: ہم سے لیث نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلے حج (افراد) کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صرف عمرے کی نیت سے آئیں۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایام شروع ہو گئے حتیٰ کہ جب ہم مکہ آئے تو ہم نے کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کسی کے ہمراہ قربانی نہیں، وہ (احرام چھوڑ کر) حلت (عدم احرام کی حالت) اختیار کرلے۔ ہم نے پوچھا: کون سی حلت؟ آپ نے فرمایا: ”مکمل حلت (احرام کی تمام پابندیوں سے آزادی)۔“ تو پھر ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی اور (معمول کے) کپڑے پہن لیے۔ (اور اس وقت) ہمارے اور عرفہ (کو روانگی) کے درمیان چار راتیں باقی تھیں۔ پھر ہم نے ترویہ والے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے میں داخل ہوئے تو انہیں روتا ہوا پایا۔ پوچھا: ”تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں۔ لوگ حلال (احرام سے فارغ) ہو چکے ہیں اور میں ابھی نہیں ہوئی اور نہ میں نے ابھی بیت اللہ کا طواف کیا ہے لوگ اب حج کے لیے روانہ ہو رہے ہیں آپ نے فرمایا: ”(پریشان مت ہو) یہ (حیض) ایسا معاملہ ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کی قسم میں لکھ دیا ہے تم غسل کر لو اور حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارو۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا اور وقوف کے ہر مقام پر وقوف کیا (حاضری دی دعائیں کیں) اور جب پاک ہو گئیں تو (عرفہ کے دن) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ پھر آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اپنے حج اور عمرے دونوں (مکمل کر کے ان کے احرام کی پابندیوں) سے آزاد ہو چکی ہو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں (ہمیشہ) یہ کھٹکا رہے گا کہ میں حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی۔ آپ نے فرمایا: ”اے عبدالرحمان! انہیں (لے جاؤ اور) تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔“ اور یہ (منیٰ سے واپسی پر) حصبہ (میں قیام والی) رات کا واقعہ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2937]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْكِي "، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى آخِرِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ،
ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے سنا، کہہ رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے خیمے میں داخل ہوئے تو وہ رو رہی تھیں۔ پھر (آخر تک) لیث کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت بیان کی، لیکن لیث کی حدیث میں اس سے پہلے کا جو حصہ ہے وہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2938]
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتِ الشَّيْءَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ، فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنَ التَّنْعِيمِ "، قَالَ مَطَرٌ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَكَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ كَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مطر نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج (حجۃ الوداع) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرے کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا تھا۔ مطر نے آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، (البتہ اپنی) حدیث میں یہ اضافہ کیا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خو تھے۔ وہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) جب بھی کوئی خواہش کرتیں، آپ اس میں ان کی بات مان لیتے۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھیجا اور انہوں نے تنعیم سے عمرے کا تلبیہ پکارا (اور عمرہ ادا کیا)۔ مطر نے کہا: ابوزبیر نے بیان کیا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی حج فرماتیں تو وہی کرتیں جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2939]
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ "، قَالَ: قُلْنَا: أَيُّ الْحِلِّ؟، قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ؟ "، قَالَ: فَأَتَيْنَا النِّسَاءَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَكَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ، كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ ".
زہیر اور ابوخیثمہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے، ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا: ”جس کے ہمراہ قربانی کے جانور نہیں ہیں وہ (احرام سے) آزاد ہو جائے۔“ ہم نے دریافت کیا: کون سی آزادی (حلت)؟ آپ نے فرمایا: ”(احرام کی پابندیوں سے) پوری آزادی۔“ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا:) ہم نے اپنی عورتوں سے قربت کی، اپنے (معمول کے) لباس پہنے اور خوشبو (کا بھی) استعمال کیا۔ جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن آیا ہم نے حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارنا شروع کیا اور ہمیں (حج قران کرنے والوں کو) صفا مروہ کے درمیان پہلا طواف (سعی مراد ہے) ہی کافی ہو گیا۔ (ہمیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) حکم دیا کہ گائے اور اونٹ کی قربانی میں ہم سات سات افراد شریک ہو جائیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2940]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنًى "، قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ.
ابن جریج سے روایت ہے (کہا:) مجھے ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہا: جب ہم ”حلت“ کی کیفیت میں آگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب منیٰ کا رخ کرنے لگیں تو احرام باندھ لیں۔ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا:) تو ہم نے مقام ابطح سے تلبیہ پکارنا شروع کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2941]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا "، زَادَ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ: " طَوَافَهُ الْأَوَّلَ ".
یحییٰ بن سعید اور عبدبن حمید نے محمد بن بکر کے واسطے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے صفا مروہ کے درمیان طواف (سعی) ایک ہی مرتبہ کیا تھا۔ (عبدبن حمید نے) محمد بن بکر کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: (صفا مروہ کے درمیان) اپنا پہلا طواف (یعنی سعی جو وہ پہلی مرتبہ کر چکے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2942]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَاسٍ مَعِي، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ، قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ " حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ "، قَالَ عَطَاءٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَنِيَّ، قَالَ: يَقُولُ جَابِرٌ: بِيَدِهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحَرِّكُهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا، فَقَالَ: " قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ، فَحِلُّوا "، فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا "، قَالَ: وَأَهْدَى لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا، فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟، فَقَالَ: " لِأَبَدٍ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ میں نے اپنے متعدد فقہاء کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (احرام کے وقت) صرف اکیلے حج ہی کا تلبیہ پکارا۔ عطاء نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کی صبح مکہ پہنچے تھے۔ آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال (احرام کی پابندیوں سے فارغ) ہو جائیں۔ عطاء نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”حلال ہو جاؤ اور اپنی عورتوں کے پاس جاؤ۔“ عطاء نے کہا: (عورتوں کی قربت) آپ نے ان پر لازم قرار نہیں دی تھی بلکہ بیویوں کو ان کے لیے صرف حلال قرار دیا تھا۔ ہم نے کہا: جب ہمارے اور یوم عرفہ کے درمیان محض پانچ دن باقی ہیں آپ نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کی اجازت مرحمت فرما دی ہے تو (یہ ایسا ہی ہے کہ) ہم (اس) عرفہ آئیں گے تو ہمارے اعضائے مخصوصہ سے منی کے قطرے ٹپک رہے ہوں گے۔ عطاء نے کہا جابر رضی اللہ عنہما اپنے ہاتھ سے (ٹپکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ ایسا لگتا ہے میں اب بھی ان کے حرکت کرتے ہاتھ کا اشارہ دیکھ رہا ہوں۔ جابر رضی اللہ عنہما نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لیے) ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تم (اچھی طرح) جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا، تم سب سے زیادہ سچا اور تم سب سے زیادہ پارسا ہوں۔ اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی ویسے حلال (احرام سے فارغ) ہو جاتا جیسے تم حلال ہوئے ہو، اگر وہ چیز پہلے میرے سامنے آجاتی جو بعد میں آئی تو میں قربانی اپنے ساتھ نہ لاتا، لہٰذا تم سب حلال (احرام سے فارغ) ہو جاؤ۔“ چنانچہ پھر ہم حلال ہو گئے۔ ہم نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو) سنا اور اطاعت کی۔ عطاء نے کہا: حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: (اتنے میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ذمہ داری سے (عہد ہبر آہو کر) پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان سے) پوچھا: ”(علی) تم نے کس (حج) کا تلبیہ پکارا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قربانی کرو اور احرام ہی کی حالت میں رہو۔“ (جابر رضی اللہ عنہما نے) بیان کیا: حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی اپنے ہمراہ قربانی (کے جانور) لائے تھے۔ سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! یہ (حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا) صرف ہمارے اسی سال کے لیے (جائز ہوا) ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ”ہمیشہ کے لیے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2943]
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيْنَا وَضَاقَتْ بِهِ صُدُورُنَا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا نَدْرِي أَشَيْءٌ بَلَغَهُ مِنَ السَّمَاءِ أَمْ شَيْءٌ مِنْ قِبَلِ النَّاسِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا، فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي، فَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ "، قَالَ: فَأَحْلَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ، وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ.
عبدالملک بن ابی سلیمان نے عطاء سے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ کہا۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور اسے (حج کی نیت کو) عمرے میں بدل دیں، یہ بات ہمیں بہت گراں (بڑی) لگی اور اس سے ہمارے دل بہت تنگ ہوئے (ہمارے اس قلق کی خبر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی۔ معلوم نہیں کہ آپ کو آسمان سے (بذریعہ وحی) اس چیز کی خبر پہنچی یا لوگوں کے ذریعے سے کوئی چیز معلوم ہوئی۔ آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! حلال ہو جاؤ (احرام کھول دو) اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی وہی کرتا جس طرح تم نے کیا ہے۔“ (جابر رضی اللہ عنہما نے) بیان کیا: ہم حلال (احرام سے آزاد) ہو گئے حتیٰ کہ اپنی بیویوں سے قربت بھی کی اور (وہ سب کچھ) کیا جو حلال (احرام کے بغیر) انسان کرتا ہے۔ حتیٰ کہ ترویہ کا دن (آٹھ ذوالحجہ) آ گیا۔ اور ہم نے مکہ کو پیچھے چھوڑا (خیر باد کہا) اور حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ کہنے لگے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2944]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ مَكَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ، فَقَالَ النَّاسُ: تَصِيرُ حَجَّتُكَ الْآنَ مَكِّيَّةً، فَدَخَلْتُ عَلَى عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ، فَقَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ سَاقَ الْهَدْيَ مَعَهُ، وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَصِّرُوا وَأَقِيمُوا حَلَالًا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ، وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً "، قَالُوا: كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ؟، قَالَ: " افْعَلُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ، لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُكُمْ بِهِ، وَلَكِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا ".
موسیٰ بن نافع نے کہا: میں عمرے کی نیت سے یوم ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) سے چار دن پہلے مکہ پہنچا لوگوں نے کہا: اب تو تمہارا مکی حج ہو گا۔ (میں ان کی باتیں سن کر) عطاء بن ابی رباح کے ہاں حاضر ہوا اور ان سے (اس مسئلے کے بارے میں) فتویٰ پوچھا۔ عطاء نے جواب دیا: مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی کہ انہوں نے اس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی تھی لوگوں نے حج افراد کا (احرام باندھ کر) تلبیہ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنے احرام سے فارغ ہو جاؤ۔ بیت اللہ کا اور صفا و مروہ کا طواف (سعی کرو)۔ اپنے بال چھوٹے کرو اور حلال (احرام سے آزاد) ہو جاؤ جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ کا) دن آجائے تو حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ کہو۔ اور (حج افراد کو) جس کے لیے تم آئے تھے اسے حج تمتع بنا لو۔“ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کہا: (اے رسول اللہ!) ہم اسے کیسے حج تمتع بنا لیں؟ ہم نے تو صرف حج کا نام لے کر تلبیہ کہا تھا آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں جو حکم دیا ہے وہی کرو۔ اگر میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا تو اسی طرح کرتا جس طرح تمہیں حکم دے رہا ہوں۔ لیکن مجھ پر (احرام کی وجہ سے) حرام کردہ چیزیں اس وقت تک حلال نہیں ہوں گی جب تک کہ قربانی اپنی قربان گاہ میں نہیں پہنچ جاتی۔“ اس پر لوگوں نے ویسا ہی کیا (جس کا آپ نے حکم دیا تھا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2945]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ، قَالَ: وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً ".
ابوبشر نے عطاء بن ابی رباح سے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ) آئے آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس (حج کی نیت اور احرام کو) عمرے میں بدل دیں اور (عمرے کے بعد) حلال (عمرے سے فارغ) ہو جائیں (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا:) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی تھی اس لیے آپ اپنے حج کو عمرہ نہیں بنا سکتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2946]
18: باب فِي الْمُتْعَةِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: حج اور عمرہ میں تمتع کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا. (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ: " عَلَى يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ كَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ، وَأَبِتُّوا نِكَاحَ هَذِهِ النِّسَاءِ، فَلَنْ أُوتَى بِرَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً إِلَى أَجَلٍ، إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ "،
شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ ابونضرہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما حج تمتع کا حکم دیا کرتے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے تھے۔ (ابونضرہ نے) کہا: میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے کیا، انہوں نے فرمایا: ”میرے ہی ذریعے سے (حج کی) یہ حدیث پھیلی ہے۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جا کر) حج تمتع کیا تھا۔“ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ بن کر) کھڑے ہوئے (بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا) تو انہوں نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کر دیتا تھا اور بلاشبہ قرآن نے جہاں جہاں (جس جس معاملے میں) اترنا تھا، اتر چکا، لہذا تم اللہ کے لیے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو، جس طرح (الگ الگ نام لے کر) اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ اور ان عورتوں سے حتمی طور پر نکاح کیا کرو (جز وقتی نہیں)، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایا گیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لیے نکاح کیا ہو گا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2947]
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَافْصِلُوا حَجَّكُمْ مِنْ عُمْرَتِكُمْ، فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّكُمْ، وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِكُمْ ".
ہمیں ہمام نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے اسی (مذکورہ بالا) سند سے حدیث بیان کی، اور (اپنی) حدیث میں کہا: اپنے حج کو اپنے عمرے سے الگ (ادا کیا) کرو۔ بلاشبہ یہ تمہارے حج کو اور تمہارے عمرے کو زیادہ مکمل کرنے والا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2948]
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ: لَبَّيْكَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً ".
مجاہد نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) آئے اور ہم کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں حج کرنے کے لیے حاضر ہوں (ہماری نیت حج کی تھی راستے میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ بنا لیں۔ اور لبیک عمرۃ کہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2949]
19: باب حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ حَاتِمٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَدَنِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي، فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَى، ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَحَضَرَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبِهِ، رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْتُ:" أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِيَدِهِ: فَعَقَدَ تِسْعًا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ، كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ؟، قَالَ:" اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي"، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلَ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ، حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ نَفَذَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورة الإخلاص آية 1 وَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ سورة الكافرون آية 1 ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ، وَقَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَى، حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ، فَقَالَ: لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ، وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَى، وَقَالَ: دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ، لَا بَلْ لِأَبَدٍ أَبَدٍ، وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ لِلَّذِي صَنَعَتْ، مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتَ: حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟، قَالَ: قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ، قَالَ: فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحِلُّ، قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ، وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً، قَالَ: فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ، وَقَالَ: إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ: اللَّهُمَّ اشْهَدِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا، حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ، وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ، حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ، كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ ظُعُنٌ يَجْرِينَ، فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، يَصْرِفُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، حَتَّى أَتَى بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تَخْرُجُ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ، فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ، لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ"،
ہم سے حاتم بن اسماعیل مدنی نے جعفر (الصادق) بن محمد (الباقر) سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ہاں آئے، انہوں نے سب کے متعلق پوچھنا شروع کیا، حتیٰ کہ مجھ پر آکر رک گئے، میں نے بتایا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، انہوں نے (از راہ شفقت) اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے سر پر رکھا، پھر میرا اوپر، پھر نیچے کا بٹن کھولا اور (انتہائی شفقت اور محبت سے) اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان رکھ دی، ان دنوں میں بالکل نوجوان تھا، فرمانے لگے: میرے بھتیجے تمہیں خوش آمدید! تم جو چاہو پوچھ سکتے ہو، میں نے ان سے سوال کیا، وہ ان دنوں نابینا ہو چکے تھے۔ (اس وقت) نماز کا وقت ہو گیا تھا، اور موٹی بنائی کا ایک کپڑا اوڑھنے والا لپیٹ کر (نماز کے لیے) کھڑے ہو گئے۔ وہ جب بھی اس (کے ایک پلو) کو (دوسری جانب) کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی بنا پر اس کے دونوں پلو واپس آ جاتے جبکہ ان کی (بڑی) چادر ان کے پہلو میں ایک کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، (نماز سے فارغ ہو کر) میں نے عرض کی: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو گرہ بنائی، اور کہنے لگے: بلاشبہ نو سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا، حج نہیں کیا، اس کے بعد دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حج کر رہے ہیں۔ (یہ اعلان سنتے ہی) بہت زیادہ لوگ مدینہ میں آگئے۔ وہ سب اس بات کے خواہشمند تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں۔ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں اس پر عمل کریں۔ (پس) ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچ گئے، (وہاں) حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ (زچگی کی اس حالت میں اب) میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل کرو، کپڑے کا لنگوٹ کسو، اور حج کا احرام باندھ لو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ذوالحلیفہ کی) مسجد میں نماز ادا کی۔ اور اپنی اونٹنی پر سوار ہو گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، تاحد نگاہ پیادے اور سوار ہی دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی یہی حال تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان (موجود) تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کی (حقیقی) تفسیر جانتے تھے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ہم بھی اس پر عمل کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اللہ کی) توحید کا تلبیہ پکارا ”لبیک اللہم لبیک .. لبیک لا شریک لک لبیک .. إن الحمد والنعمۃ لک والملک .. لا شریک لک“ ان لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا۔ اور لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا جو (بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ) وہ آج پکارتے ہیں۔ آپ نے ان کے تلبیہ میں کسی بات کو مسترد نہیں کیا۔ اور اپنا وہی تلبیہ (جو پکار رہے تھے) پکارتے رہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہماری نیت حج کے علاوہ کوئی (اور) نہ تھی، (حج کے مہینوں میں) عمرے کو ہم جانتے (تک) نہ تھے۔ حتیٰ کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام (ہاتھ یا ہونٹوں سے چھونا) کیا، پھر (طواف شروع کیا)، تین چکروں میں چھوٹے قدم اٹھاتے، کندھوں کو حرکت دیتے ہوئے، تیز چلے، اور چار چکروں میں (آرام سے) چلے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم علیہ السلام کی طرف بڑھے اور یہ آیت تلاوت فرمائی (وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَ‌ٰهِيمَ مُصَلًّى) ”اور مقام ابراہیم (جہاں آپ کھڑے ہوئے تھے) کو نماز کی جگہ بناؤ“۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا۔ میرے والد (محمد الباقر) کہا کرتے تھے۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور (کے حوالے) سے یہ کہا ہو۔ کہ آپ دو رکعتوں میں (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) اور (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُ‌ونَ) پڑھا کرتے تھے۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس تشریف لائے، اس کا استلام کیا اور باب (صفا) سے صفا (پہاڑی) کی جانب نکلے۔ جب آپ (کوہ) صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی: (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْ‌وَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ) ”صفا اور مروہ اللہ کے شعائر (مقرر کردہ علامتوں) میں سے ہیں۔“ میں (بھی سعی کا) وہیں سے آغاز کر رہا ہوں جس (کے ذکر) سے اللہ تعالیٰ نے آغاز فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے (سعی کا) آغاز فرمایا۔ اس پر چڑھے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے، اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان فرمائی۔ اور کہا: ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، ساری بادشاہت اسی کی ہے اور ساری تعریف اسی کے لیے ہے۔ اکیلے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اس نے اپنا وعدہ خوب پورا کیا، اپنے بندے کی نصرت فرمائی، تنہا (اسی نے) ساری جماعتوں (فوجوں) کو شکست دی۔“ ان (کلمات) کے مابین دعا فرمائی۔ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشاد فرمائے تھے۔ پھر مروہ کی طرف اترے۔ حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک وادی کی ترائی میں پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی فرمائی، (تیز قدم چلے) جب وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک مروہ کی) چڑھائی چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (معمول کی رفتار سے) چلنے لگے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کی طرف پہنچ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر اسی طرح کیا جس طرح صفا پر کیا تھا۔ جب مروہ پر آخری چکر تھا تو فرمایا: ”اگر پہلے میرے سامنے وہ بات ہوتی جو بعد میں آئی تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا، اور اس (منسک) کو عمرے میں بدل دیتا، لہذا تم میں سے جس کے ہمراہ قربانی نہیں، وہ حلال ہو جائے اور اس (منسک) کو عمرہ قرار دے لے۔“ (اتنے میں) سراقہ بن مالک جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے عرض کی: اے اللہ کے رسول! (حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا) ہمارے اسی سال کے لیے (خاص) ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی (دونوں ہاتھوں کی) انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں، اور فرمایا: ”عمرہ، حج میں داخل ہو گیا۔“ دو مرتبہ (ایسا کیا اور ساتھ ہی فرمایا:) ”صرف اسی سال کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی اونٹنیاں لے کر آئے، انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو احرام سے فارغ ہو چکے تھے، رنگین کپڑے پہن لیے تھے اور سرمہ لگایا ہوا تھا۔ اسے انہوں (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے ان کے لیے نادرست قرار دیا۔ انہوں نے جواب دیا: میرے والد گرامی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ عراق میں کہا کرتے تھے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، اس کام کی وجہ سے جو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خلاف ابھارنے کے لیے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کے متعلق پوچھنے کے لیے جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہی تھی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (یہ بھی) بتایا کہ میں نے ان کے اس کام (احرام کھولنے) پر اعتراض کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا ہے، اس نے بالکل سچ کہا ہے۔ اور تم نے جب حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا؟“ میں نے جواب دیا: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں بھی اسی (منسک) کے لیے تلبیہ پکارتا ہوں جس کے لیے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ قربانی ہے۔ (میں عمرے کے بعد حلال نہیں ہو سکتا اور تمہاری بھی نیت میری نیت جیسی ہے، لہذا) تم بھی عمرے سے فارغ ہونے کے بعد احرام مت کھولنا۔“ (حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے) کہا: جانوروں کی مجموعی تعداد جو حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے کر آئے تھے، ایک سو تھی۔ پھر (عمرے کے بعد) تمام لوگوں نے (جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں) احرام کھول لیا اور بال کتروائے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جن کے ہمراہ قربانیاں تھیں (انہوں نے احرام نہیں کھولا)، جب ترویہ (آٹھ ذوالحجہ) کا دن آیا تو لوگ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، حج (کا احرام باندھ کر اس) کا تلبیہ پکارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں (منیٰ میں) ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا فرمائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے رہے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بالوں سے بنا ہوا ایک خیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نمرہ میں لگا دیا جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام کے پاس جا کر ٹھر جائیں گے۔ جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔ (لیکن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (وہاں سے آگے) گزر گئے یہاں تک کہ عرفات میں پہنچ گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں فروکش ہو گئے۔ جب سورج ڈھلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی اونٹنی) قصواء کو لانے کا حکم دیا، اس پر آپ کے لیے پالان کس دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وادی (عرفہ) کے درمیان تشریف لے آئے، اور لوگوں کو خطبہ دیا: ”تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر (ایسے) حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے اور زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے دونوں پیروں کے نیچے رکھ دی گئی (یعنی ان چیزوں کا اعتبار نہ رہا) اور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ کا خون ہے کہ وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر ڈالا (غرض میں اس کا بدلہ نہیں لیتا) اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سود سب چھوڑ دیا گیا (یعنی اس وقت کا چڑھا سود کوئی نہ لے) اور پہلے جو سود ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں (اور طلب نہیں کرتے) وہ عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کا سود ہے اس لیے کہ وہ سب چھوڑ دیا گیا اور تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اس لیے کہ ان کو تم نے اللہ تعالیٰ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ (نکاح) سے حلال کیا ہے۔ اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں (یعنی تمہارے گھر میں) جس کا آنا تمہیں ناگوار ہو پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے (یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے، کوئی عضو ضائع نہ ہو، حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے) اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کی روٹی اور ان کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے اور میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے (وہ ہے) اللہ تعالیٰ کی کتاب۔ اور تم سے (قیامت میں) میرے بارے میں سوال ہو گا تو پھر تم کیا کہو گے؟“ ان سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت شہادت (شہادت کی انگلی) آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے کہ ”اے اللہ! گواہ رہنا، اے اللہ! گواہ رہنا، اے اللہ! گواہ رہنا۔“ تین بار (یہی فرمایا اور یونہی اشارہ کیا) پھر اذان اور تکبیر ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر اقامت کہی اور عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہیں پڑھا (یعنی سنت و نفل وغیرہ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر موقف میں آئے اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پگڈنڈی کو اپنے آگے کر لیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور غروب آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے۔ زردی تھوڑی تھوڑی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیا ڈوب گئی تب (سوار ہوئے) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا اور واپس (مزدلفہ کی طرف) لوٹے اور قصواء کی مہار اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوہ کے (اگلے حصے) مورک سے لگ گیا تھا (مورک وہ جگہ ہے جہاں سوار بعض وقت تھک کر اپنا پیر جو لٹکا ہوا ہوتا ہے اس جگہ رکھتا ہے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے کہ ”اے لوگو! آہستہ آہستہ آرام سے چلو“ اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے (جہاں بھیڑ کم پاتے) تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی (آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پڑھیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے (یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے۔ (سبحان اللہ کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے، اٹھنے جاگنے، کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یادداشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے) یہاں تک کہ صبح ہوئی جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لا إله إلا الله کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ بخوبی روشنی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے طلوع آفتاب سے قبل لوٹے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل رضی اللہ عنہ ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا چٹا خوبصورت جوان تھا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو عورتوں کا ایک ایسا گروہ چلا جاتا تھا کہ ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی جاتی تھیں اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا (اور زبان سے کچھ نہ فرمایا۔ سبحان اللہ یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا) اور فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور دیکھنے لگے (یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلتی ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے (اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں) اور سات کنکریاں اس کو ماریں۔ ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے، ایسی کنکریاں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں (اور دانہ باقلا کے برابر ہوں) اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں (کہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ دائیں طرف اور مکہ بائیں طرف رہا) پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر (یعنی قربان) کیے، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیے کہ انہوں نے نحر کیے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا اور پھر ہر اونٹ سے گوشت ایک ٹکڑا لینے کا حکم فرمایا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق لے کر) ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا۔ پھر آپ سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی بھرو اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا (یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے تو سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی اور ان کی سقایت جاتی رہتی)“ پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ نے اس میں سے پیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2950]
وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيل، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَكَانَتِ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَى حِمَارٍ عُرْيٍ، فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ، لَمْ تَشُكَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ وَيَكُونُ مَنْزِلُهُ، ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ حَتَّى أَتَى عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ.
عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا: مجھے میرے والد (حفص بن غیاث) نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جعفر بن محمد نے بیان کیا، (کہا:) مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق سوال کیا، آگے حاتم بن اسماعیل کی طرح حدیث بیان کی، البتہ (اس) حدیث میں یہ اضافہ کیا: (اسلام سے قبل) عرب کو ابوسیارہ نامی شخص اپنے بے پالان گدھے پر لے کر چلتا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (منیٰ سے آتے ہوئے) مزدلفہ میں مشعر حرام کو عبور کیا، قریش کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر رک جائیں گے (مزید آگے نہیں بڑھیں گے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ یہیں ہوگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے گزر گئے اور اس کی طرف رخ نہ کیا حتیٰ کہ عرفات تشریف لے آئے اور وہاں پڑاؤ فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2951]
20: باب مَا جَاءَ أَنَّ عَرَفَةَ كُلَّهَا مَوْقِفٌ:
باب: اس بارے میں کہ عرفات سارا ہی ٹھہر نے کی جگہ ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ".
جعفر بن محمد نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہاں قربانی کی ہے۔ (لیکن) پورا منیٰ قربان گاہ ہے، اس لیے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے۔ (لیکن) پورا عرفہ مقام وقوف ہے اور میں نے (مزدلفہ میں) یہاں وقوف کیا ہے۔ (ٹھہرا ہوں۔) اور پورا مزدلفہ موقف ہے۔ (اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جا سکتا ہے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 2952]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ".
سفیان ثوری نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا، پھر (طواف کے لیے) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے۔ (تین چکروں میں) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور (باقی) چار میں عام رفتار سے چلے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2953]
21: باب فِي الْوُقُوفِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ}:
باب: وقوف کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں «ثم افيضوا من حيث افاض الناس»۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ، أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا، ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ قریش اور وہ لوگ جو قریش کے دین پر تھے، مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور اپنے کو حمس کہتے تھے (ابوالہیثم نے کہا ہے کہ یہ نام قریش کا ہے اور ان کی اولاد کا اور کنانہ اور جدیلہ قیس کا اس لیے کہ وہ اپنے دین میں حمس رکھتے تھے یعنی تشدد اور سختی کرتے تھے) اور باقی عرب کے لوگ عرفہ میں وقوف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ عرفات میں آئیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور وہیں سے لوٹیں۔ اور یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ”وہیں سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں“۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2954]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَانَتِ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ كَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمُ الْحُمْسُ ثِيَابًا، فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءُ النِّسَاءَ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَكَانَ النَّاسُ كُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ "، قَالَ هِشَامٌ: فَحَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " الْحُمْسُ هُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ: ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَكَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ: لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنَ الْحَرَمِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 رَجَعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ ".
ابواسامہ نے کہا، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا، کہا: حمس (کہلانے والے قبائل) کے علاوہ عرب (کے تمام قبائل) عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے۔ حمس (سے مراد) قریش اور ان (کی باہر بیاہی ہوئی خواتین) کے ہاں جنم لینے والے ہیں۔ عام لوگ برہنہ ہی طواف کرتے تھے، سوائے ان کے جنہیں اہل حمس کپڑے دے دیتے (دستور یہ تھا کہ) مرد مردوں کو (طواف کے لیے) لباس دیتے اور عورتیں عورتوں کو۔ (اسی طرح) حمس (دوران حج) مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور باقی سب لوگ عرفات تک پہنچتے تھے۔ ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (عروہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: یہ حمس ہی تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”پھر تم وہیں سے (طواف کے لیے) چلو جہاں سے (دوسرے) لوگ چلیں۔“ انہوں نے فرمایا: لوگ (حج میں) عرفات سے لوٹتے تھے اور اہل حمس مزدلفہ سے چلتے تھے اور کہتے تھے: ہم حرم کے سوا کہیں اور سے نہیں چلیں گے جب آیت ”پھر تم وہیں سے چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں“ نازل ہوئی تو یہ عرفات کی طرف لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2955]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: " أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنَ الْحُمْسِ، فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنَ الْحُمْسِ ".
احمد بن جبیر بن معطم نے اپنے والد حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیا، میں عرفہ کے دن اسے تلاش کرنے کے لیے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں کھڑے دیکھا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! یہ (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اہل حمس میں سے ہیں، آپ کا یہاں (عرفات میں) کیا کام؟ (کیونکہ) قریش حمس میں شمار ہوتے تھے (اور آپ قریشی ہی تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2956]
22: بَابُ جَوَازِ تَعْلِيقِ الْإِحْرَامِ وَهُوَ أَنْ يُحْرِمَ بِإِحْرَامٍٍ كَإِحْرَامِ فُلَانٍ فَيَصِير مُحْرِمًا بِإِحْرَامٍ مِثْلَ إِحْرَامِ فُلَانٍ
باب: اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کر نے کا جواز۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ لِي: " أَحَجَجْتَ؟ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَقَدْ أَحْسَنْتَ، طُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَحِلَّ "، قَالَ: فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ، قَالَ: فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَكَ بَعْضَ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ فَائْتَمُّوا، قَالَ: فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ،
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی کنکریلی زمین میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے (یعنی وہاں منزل کی ہوئی تھی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جس نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا (یہ ان کی محرم تھی) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا۔ (یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے، پھر یوم الترویہ 8۔ ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ (تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا۔ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہیے) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہیے۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے: ((وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَ‌ۃَ لِلَّـہِ ۚ)) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ (یعنی احرام نہ کھولو) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی۔ (آپ عمرہ اور حج کے درمیان حلال نہیں ہوئے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2957]
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
معاذ بن معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2958]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ؟ "، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حِلَّ "، فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي، فَكُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِكَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَكْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ، فَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ، فَقُلْتُ: أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ كُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْءٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْكُمْ فَبِهِ، فَائْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ، قُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُكِ؟، قَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ سورة البقرة آية 196 وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْيَ،
سفیان ثوری نے قیس (بن مسلم) سے، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے باہر وادی) بطحاء میں سواریاں بٹھائے ہوئے (پڑاؤ ڈالے ہوئے) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ ”تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ (حج کا، عمرے کا، یا دونوں کا؟)“ میں نے عرض کی: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا (یہ ان کی محرم تھی) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا। (یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے، پھر یوم الترویہ 8۔ ذوالحجہ کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا، اس نے کہا کہ (تو تو احرام کھولنے کا فتویٺ دیتا ہے) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا۔ (یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہیے) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہیے۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے: ((وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَ‌ۃَ لِلَّـہِ ۚ)) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ (یعنی احرام نہ کھولو) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2959]
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا مُوسَى كَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ سُقْتَ هَدْيًا؟ "، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحِلَّ "، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ.
ابوعمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی، انہوں نے طارق بن شہاب سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تھا، پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: ”ابوموسیٰ! تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ (حج کا، عمرے کا، یا دونوں کا؟)“ میں نے عرض کی: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو۔“ آگے (ابوعمیس نے) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2960]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ : " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ ".
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع (کرنے) کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک شخص نے ان سے کہا: اپنے بعض فتووں میں ذرا رک جاؤ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے مناسک (حج) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے۔ بعد میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ (حکم صادر) کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے (اس پر عمل) کیا، لیکن مجھے یہ بات ناگوار معلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں (یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں) اپنی عورتوں کے ساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں۔ پھر جب وہ (آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی) صبح حج کے لیے چلیں تو (غسل جنابت کریں اور) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2961]
23: باب جَوَازِ التَّمَتُّعِ:
باب: حج تمتع کا جواز۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ : كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ كَلِمَةً "، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : " لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَقَالَ: " أَجَلْ وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: عبداللہ بن شقیق نے بیان کیا: عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے تھے۔ (ایک مرتبہ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات کہی۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔ (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: جی بالکل (کیا تھا) لیکن اس وقت ہم خوف زدہ تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2962]
وحَدَّثَنِيهِ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
خالد، یعنی ابن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی (مذکورہ بالا حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2963]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رضي الله عنهما بعسفان، فكان عثمان ينهى عَنِ الْمُتْعَةِ أَوِ الْعُمْرَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ : " مَا تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهُ "، فَقَالَ عُثْمَانُ : " دَعْنَا مِنْكَ "، فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَكَ "، فَلَمَّا أَنْ رَأَى عَلِيٌّ ذَلِكَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا.
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: (ایک مرتبہ) مقام عسفان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے یا (حج کے مہینوں میں) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ اپنی رائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: (آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف حکم دے رہے ہیں) میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ (اصرار) دیکھا تو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کر دیا (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2964]
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ".
اعمش نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: حج میں تمتع (حج کا احرام باندھنا پھر عمرہ کر کے احرام کھول دینا) صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لیے خاص تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2965]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَتْ لَنَا رُخْصَةً " يَعْنِي: الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ.
عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ رخصت صرف ہمارے ہی لیے تھی، یعنی حج میں تمتع کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2966]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً " يَعْنِي: مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ.
زبید نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لیے صحیح نہیں (ہوئے) یعنی عورتوں سے (نکاح) متعہ کرنا اور حج میں تمتع (حج کا احرام باندھ کر آنا، پھر اس سے عمرہ کر کے حج سے پہلے احرام کھول دینا، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اور آخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2967]
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، فَقُلْتُ " إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ "، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ : " لَكِنْ أَبُوكَ لَمْ يَكُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِكَ "، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ، فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا كَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَكُمْ ".
ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریر نے بیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی شعثاء سے روایت کی، کہا: میں ابراہیم نخعی اور ابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرہ دونوں کو اکٹھا ادا کروں۔ ابراہیم نخعی نے (میری بات سن کر) کہا: تمہارے والد (ابوشعثاء) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے۔ قتیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد (یزید بن شریک) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا، انہوں نے اس سے (حج میں تمتع) کا ذکر کیا۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لیے تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2968]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ: " فَعَلْنَاهَا، وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ " يَعْنِي: بُيُوتَ مَكَّةَ،
مروان بن معاویہ نے کہا: ہمیں سلیمان تیمی نے غنیم بن قیس سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں استفسار کیا۔ انہوں نے کہا ہم نے حج تمتع کیا تھا۔ اور یہ (معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ) ان دنوں سائبانوں (والے گھروں) میں خود کو ڈھانپے ہوئے (مقیم) تھے، یعنی مکہ کے گھروں میں۔ (معاویہ رضی اللہ عنہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح حج افراد پر اصرار کرتے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2969]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: يَعْنِي: مُعَاوِيَةَ،
یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی روایت میں کہا: ان کی مراد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2970]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ.
سفیان اور شعبہ دونوں نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں (مروان اور یحییٰ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔ (البتہ) سفیان کی حدیث میں ہے: حج میں تمتع (کے بارے میں دریافت کیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2971]
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " إِنِّي لَأُحَدِّثُكَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ، فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ، ارْتَأَى كُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَاءَ أَنْ يَرْتَئِيَ "،
ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریری نے حدیث سنائی، انہوں نے ابوالعلاء سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، (مطرف نے) کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمہیں نفع دے گا۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے (حج کے مہینوں میں عمرہ کو) منسوخ قرار دیا ہو، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے۔ بعد میں ہر شخص نے جو رائے قائم کرنا چاہی کر لی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2972]
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ كِلَاهُمَا، عَنْ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، وقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ " ارْتَأَى رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ "، يَعْنِي عُمَرَ.
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن حاتم دونوں نے وکیع سے یہ حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں سفیان نے جریری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (البتہ) ابن حاتم نے اپنی روایت میں کہا: بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا نظریہ بنایا، ان کی مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2973]
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَقَدْ كَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّى اكْتَوَيْتُ، فَتُرِكْتُ ثُمَّ تَرَكْتُ الْكَيَّ فَعَادَ "،
ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے مطرف سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے فائدہ دے گا۔ بلاشبہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو (حج کے مہینوں میں) اکٹھا کیا، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا، اور نہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی (بتایا) کہ مجھے (فرشتوں کی طرف سے) سلام کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ (بواسیر کی بناء پر) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے (سلام کہنا) چھوڑ دیا گیا، پھر میں نے دغوانا چھوڑ دیا تو (فرشتوں کا سلام) دوبارہ شروع ہو گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2974]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ.
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی، کہا میں نے مطرف سے سنا، انہوں نے کہا حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2975]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ مُحَدِّثَكَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهَا بَعْدِي، فَإِنْ عِشْتُ فَاكْتُمْ عَنِّي، وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ، إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ، وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابُ اللَّهِ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ ".
قتادہ نے مطرف سے روایت کی، کہا: جس مرض میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، اس دوران انہوں نے مجھے بلا بھیجا اور کہا میں تمہیں چند احادیث بیان کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے بعد تمہیں ان سے فائدہ پہنچائے گا، اگر میں (شفا یاب ہو کر) زندہ رہا تو ان باتوں کو میری طرف سے پوشیدہ رکھنا اگر فوت ہو گیا تو چاہو تو بیان کر دینا مجھ پر (فرشتوں کی جانب سے) سلام کہا جاتا تھا (تفصیل سابقہ حدیث میں ہے) اور یاد رکھو! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کر دیا، اس کے بعد نہ تو اس بارے میں اللہ کی کتاب نازل ہوئی اور نہ (آخر تک) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ ایک شخص نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2976]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ ".
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کو اکٹھا کیا تھا۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب (میں کوئی بات) نازل ہوئی۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا: پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2977]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ "،
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے مطرف کے واسطے سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان فرمائی: کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا اور اس کے بعد اس کے متعلق قرآن نازل نہ ہوا (کہ یہ درست نہیں ہے اس کے متعلق) ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2978]
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: " تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ ".
محمد بن واسع نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث بیان کی، (حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج میں) تمتع (حج و عمرہ کو ایک ساتھ ادا) کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج میں) تمتع کیا تھا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی صورت میں حج و عمرہ اکٹھا ادا کیا، جو قربانیاں ساتھ نہ لائے تھے انہوں نے انہی دنوں میں الگ الگ احرام باندھ کر دونوں کو ادا کیا) [صحيح مسلم/حدیث: 2979]
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، قَالَ: قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ، وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ، قَالَ رَجُلٌ: بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَاءَ "،
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں عمران بن مسلم نے ابورجاء سے روایت کی، کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہوئی۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا، بعد ازیں نہ تو کوئی آیت نازل ہوئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2980]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَلَمْ يَقُلْ: " وَأَمَرَنَا بِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے ہمیں عمران قصیر سے حدیث سنائی (انہوں نے کہا:) ہمیں ابورجاء نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اسی سند (مذکورہ بالا روایت) کے مانند حدیث بیان کی۔ البتہ اس میں یہ کہا کہ ہم نے یہ (حج میں تمتع) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا (یحییٰ بن سعید نے) یہ نہیں کہا: آپ نے ہمیں اس کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2981]
24: باب وُجُوبِ الدَّمِ عَلَى الْمُتَمَتِّعِ وَأَنَّهُ إِذَا عَدِمَهُ لَزِمَهُ صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ:
باب: تمتع کرنے والے پر قربانی واجب ہے، اور قربانی نہ کرنے کی صورت میں حج کے ایام میں تین دنوں کا روزہ رکھنا اور اپنے گھر واپس لوٹنے پر سات دنوں کا روزہ رکھنا لازمی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى، فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ، وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ "، وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ.
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرہ سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جانور اپنے ساتھ چلا کر لائے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغاز فرمایا تو (پہلے) عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر حج کا تلبیہ پکارا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرہ سے تمتع کیا۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انہوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لائے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنہیں اس نے (احرام باندھ کر) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پورا نہ کرے۔ اور جو شخص قربانی نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جائے (اور آٹھ ذوالحجہ کو) پھر حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارے (اور رمی کے بعد) قربانی کرے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دوران میں اور سات دن گھر لوٹ کر روزے رکھے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فرمایا۔ سب سے پہلے حجر اسود کا استلام کیا۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگائے۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ پھر سلام پھیرا اور رخ بدلا۔ صفا پر تشریف لائے اور صفا مروہ کے (درمیان) سات چکر لگائے۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو (اپنے لیے) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرام کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور (طواف) افاضہ فرمایا۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز (اپنے لیے) حلال کر لی جو (احرام کی وجہ سے) حرام ٹھہرائی تھی۔ اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگوں کے ساتھ قربانی کے جانور ہانک کر لے آئے تھے۔ انہوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2982]
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَى الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ "، بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں (عروہ کو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے حج کے ساتھ عمرہ کے تمتع کے متعلق اور جو آپ کے ساتھ تھے۔ ان کے تمتع کے متعلق اسی طرح خبر دی۔ جس طرح سالم بن عبداللہ نے مجھے حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2983]
25: باب بَيَانِ أَنَّ الْقَارِنَ لاَ يَتَحَلَّلُ إِلاَّ فِي وَقْتِ تَحَلُّلِ الْحَاجِّ الْمُفْرِدِ:
باب: قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ "،
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا، انہوں نے نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا ہے۔ اور آپ نے اپنے عمرہ (آتے ہی طواف و سعی جو عمرہ کے منسک کے برابر ہے) کے بعد احرام نہیں کھولا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (یا خطمی بوٹی سے) چپکایا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈال دیے۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2984]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: مَا لَكَ لَمْ تَحِلَّ؟ بِنَحْوِهِ.
خالد بن مخلد نے مالک سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ”میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرام نہیں کھولا؟“ (آگے) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2985]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ "،
عبید اللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے (مناسک ادا ہو جانے کے باوجود) ابھی تک عمرہ کا احرام نہیں کھولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر (کے بالوں) کو گوند (جیلی) سے چپکایا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2986]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ: " فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ ".
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے (اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کی: اے اللہ کے رسول! (آگے) مالک کی حدیث کے مانند ہے (البتہ الفاظ یوں ہیں): ”میں جب تک قربانی نہ کر لوں۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2987]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَعَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَتْ حَفْصَةُ: فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَحِلَّ؟، قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ هَدْيِي ".
ابن جریج نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ (عمرہ کرنے کے بعد) احرام کھول دیں۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: آپ کو احرام کھولنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے سر (کے بالوں کو) چپکا چکا ہوں۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں۔ احرام نہیں کھول سکتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2988]
26: بَابُ جَوَازِ التَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ وَجَوَازِ الْقِرَانِ وَاقْتِصَارِ الْقَارِنِ عَلٰي طَوَافٍ وَاحِدٍ وَسَعْيِ وَاحِدٍ
باب: احصار کے وقت احرام کھولنے کا جواز، قران کا جواز اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کا جواز۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، وَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى.
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے ایام میں عمرہ کے لیے نکلے اور کہا: اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ وہ (مدینہ سے) نکلے اور (میقات سے) عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور چل پڑے جب مقام بیداء (کی بلندی) پر نمودار ہوئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔“ پھر آپ نکل پڑے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے تو اس کے (گرد) سات چکر لگائے۔ اور صفا مروہ کے مابین بھی سات چکر پورے کیے، ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کی رائے تھی کہ یہی (ایک طواف اور ایک سعی) ان کی طرف سے کافی ہے اور (بعدازاں) انہوں نے (حج قران ہونے کی بنا پر) قربانی کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2989]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ "، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ،
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ میں پڑاؤ کیا تو عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کوئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں (حجاج بن یوسف اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فوجوں) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جائے گی (آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے) انہوں نے فرمایا: ”اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا (اس موقع پر) میں بھی آپ کے ساتھ (شریک سفر) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے۔“ (پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا: ”اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔“ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ آیت تلاوت فرمائی: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ”یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔“ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: ”ان دونوں (حج و عمرہ) کا حکم ایک جیسا ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو (وہی رکاوٹ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی لازم ٹھہرا لیا ہے۔“ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے، پھر آپ نے ان دونوں (حج اور عمرہ) کے لیے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا ایک (ہی) طواف کیا، اور ان دونوں کے لیے جو احرام باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج (مکمل) کر کے دونوں کے احرام سے فارغ ہوئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2990]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ".
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں میرے والد (عبداللہ) نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر جب حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اترا، حج کا ارادہ کیا۔ (ابن نمیر نے پوری) حدیث (یحییٰ قطان کے) اس قصے کی طرح بیان کی۔ البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) یہ کہا کرتے تھے: جو شخص حج و عمرہ اکٹھا (حج قران کی صورت میں) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے۔ اور وہ اس وقت تک احرام سے فارغ نہیں ہو گا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2991]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً "، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
محمد بن رمح اور قتیبہ نے لیث سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ جس سال حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا قصد فرمایا، ان سے کہا گیا: لوگوں کے مابین تو لڑائی ہونے والی ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو (بیت اللہ سے پہلے ہی) روک دیں گے۔ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (خود پر) عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر روانہ ہوئے، جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: (کسی رکاوٹ کے باعث بیت اللہ تک نہ پہنچ سکنے کے لحاظ سے) حج و عمرہ کا معاملہ یکساں ہی ہے۔ (لوگو!) تم گواہ رہو۔ ابن رمح کی روایت ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں۔ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی خود پر واجب کر لیا ہے۔ اور وہ قربانی جو مقام قدید سے خریدی تھی اسے ساتھ لیا۔ اور حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ پہنچے، وہاں آپ نے بیت اللہ کا اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ اس سے زیادہ (کوئی اور طواف) نہیں کیا، نہ قربانی کی نہ بال منڈوائے، نہ کتروائے اور نہ کسی ایسی ہی چیز کو اپنے لیے حلال قرار دیا جو (احرام کی وجہ سے آپ پر) حرام تھی۔ یہاں تک کہ جب نحر کا دن (دس ذوالحجہ) آیا تو آپ نے قربانی کی اور سر منڈایا۔ ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی رائے یہی تھی کہ انہوں نے اپنے طواف کے ذریعے سے حج و عمرہ (دونوں) کا طواف مکمل کر لیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا (ایک طواف کے ساتھ سعی کی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2992]
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ.
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر صرف حدیث کی ابتداء میں کیا کہ جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ (تک پہنچنے) سے روک دیں گے، انہوں نے کہا: میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ لیث نے کہا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2993]
27: باب فِي الإِفْرَادِ وَالْقِرَانِ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ:
باب: حج افراد، حج قران، اور عمرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ الْهِلَالِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى، قَالَ: " أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَوْنٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا ".
یحییٰ بن ایوب اور عبداللہ بن عون ہلالی نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عباد بن عباد مہلبی نے حدیث بیان کی، (کہا:) عبید اللہ بن عمر نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔ یحییٰ کی روایت میں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ پکارا۔ اور ابن عون کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2994]
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا "، قَالَ بَكْرٌ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ: لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، فَلَقِيتُ أَنَسًا، فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا تَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا ".
حمید نے بکر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ کا اکٹھا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا۔ بکر نے کہا: میں نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی) یہ بات حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے حج ہی کا تلبیہ پکارا تھا۔ (بکر نے کہا:) پھر میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا قول سنایا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اس وقت کے لحاظ سے) تم ہمیں بچے ہی سمجھتے ہو؟ (حالانکہ ایسانہ تھا) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” لبيك عمرة وحجا اے اللہ میں حج اور عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2995]
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَمَعَ بَيْنَهُمَا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ "، قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَنَسٍ فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: كَأَنَّمَا كُنَّا صِبْيَانًا.
حبیب بن شہید نے بکر بن عبداللہ سے روایت کی، (کہا:) ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ان دونوں کو ملایا تھا، حج اور عمرہ کو۔ (بکر نے) کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ہم نے (صرف) حج کا تلبیہ کہا تھا। (بکر نے کہا:) پھر میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بتائی۔ انہوں نے جواب دیا: جیسے ہم تو اس وقت بچے تھے؟ [صحيح مسلم/حدیث: 2996]
28: باب مَا يَلْزَمُ مَنْ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ مِنَ الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ بعده:
باب: حاجی کے لئے طواف قدوم اور اس کے بعد سعی کرنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے پوچھا: کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں (کر سکتے ہو) اس نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا: (سنو!) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ (اب سوچو) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اپناؤ یہ زیادہ حق ہے؟ یا یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول؟ اگر تم (ان کے بارے میں) سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2997]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ؟، فَقَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ؟، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ فُلَانٍ يَكْرَهُهُ، وَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْهُ، رَأَيْنَاهُ قَدْ فَتَنَتْهُ الدُّنْيَا، فَقَالَ: وَأَيُّنَا أَوْ أَيُّكُمْ لَمْ تَفْتِنْهُ الدُّنْيَا، ثُمَّ قَالَ: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، وَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَسُنَّةُ اللَّهِ وَسُنَّةُ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعَ مِنْ سُنَّةِ فُلَانٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
بیان نے وبرہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: میں نے حج کا احرام باندھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں؟ انہوں نے فرمایا: (ہاں) تمہیں کیا مانع ہے؟ اس نے کہا: میں نے ابن فلان (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسند کرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انہیں فتنہ میں ڈال دیا ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم میں سے کون یا تم میں سے کون۔ جسے دنیا نے فتنہ میں نہیں ڈالا؟ (تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو،) پھر فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے حج کا احرام باندھا، بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی، (اب سوچو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے۔ یا فلان کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟ اگر تم سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2998]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ بِعُمْرَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، أَيَأْتِي امْرَأَتَهُ؟، فَقَالَ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "،
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرہ کی غرض سے آیا، اس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا (لیکن ابھی) صفا مروہ کی سعی نہیں کی، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: (جب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا، مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں، اور (پھر) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے۔ اور (یاد رکھو) تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2999]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، سفیان بن عینیہ کی (گزشتہ) حدیث کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3000]
29: بَابُ بَيَانِ أَنَّ الْمُحْرِمَ بِعُمْرَةٍ لَّا يَتَحَلَّلُ بِالطَّوَافِ قَبْلَ السَّعْيِ وَأَنَّ الْمُحْرِمَ بِحَجٍّ لَّا يَتَحَلَّلُ بِطَوَافِ الْقُدُومِ وَكَذٰلِكَ الْقَارِنُ
باب: عمرہ کا احرام باندھنے والا سعی کرنے سے پہلے طواف کے ساتھ حلال نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حج کا احرام باندھنے والا طواف قدوم سے پہلے حلال ہو سکتا ہے یعنی احرام نہیں کھول سکتا، اور اسی طرح قارن۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا؟، فَإِنْ قَالَ لَكَ: لَا يَحِلُّ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ "، قُلْتُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: بِئْسَ مَا قَالَ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: فَقُلْ لَهُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ، قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ: " قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ "، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ، فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ، وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ، أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ، لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ.
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا: میری طرف سے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیجیے جو حج کا تلبیہ پکارتا ہے، جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لے تو کیا احرام سے آزاد ہو جائے گا یا نہیں؟ اگر وہ تمہیں جواب دیں کہ وہ آزاد نہیں ہو گا تو ان سے کہنا کہ ایک شخص ہے جو یہ کہتا ہے (محمد بن عبدالرحمان نے) کہا: میں نے عروہ سے اس کی بابت سوال کیا تو انہوں نے کہا: جو شخص حج کا احرام باندھے، وہ حج کیے بغیر احرام سے فارغ نہیں ہو گا۔ میں (محمد بن عبدالرحمان) نے عرض کی کہ ایک شخص ہے جو یہی بات کہتا ہے انہوں نے فرمایا: کتنی بری بات ہے جو اس نے کہی ہے۔ پھر میرا ٹکراؤ (اس عراقی) شخص سے ہوا تو اس نے مجھ سے (اپنے سوال کے متعلق) پوچھا۔ میں نے اسے بتا دیا۔ اس (عراقی) نے کہا: ان (عروہ) سے کہو، بلاشبہ ایک شخص خبر دے رہا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم کیا تھا (حکم دیا تھا) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا کیا معاملہ تھا؟ انہوں نے (بھی تو) ایسا کیا تھا۔ (محمد بن عبدالرحمان نے) کہا: میں ان عروہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات سنائی۔ انہوں نے پوچھا: یہ (سائل) کون ہے؟ میں نے عرض کی: میں نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا: اسے کیا ہے؟ وہ خود میرے پاس آ کر مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟ میرا خیال ہے، وہ کوئی عراقی ہو گا۔ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ (عروہ نے) کہا: بلاشبہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، مکہ آ کر آپ نے جو کام سب سے پہلے کیا، یہ تھا کہ آپ نے وضو فرمایا اور پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر ان کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی حج کیا، انہوں نے بھی، سب سے پہلے جو کیا، یہی تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کے سوا کوئی کام نہ کیا (نہ بال کٹوائے نہ احرام کھولا)، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا۔ میں نے انہیں دیکھا، انہوں نے بھی سب سے پہلا کام جس سے آغاز کیا، بیت اللہ کا طواف تھا، پھر اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہوا۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (نے بھی ایسا ہی کیا) پھر میں نے اپنے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے جس سے آغاز کیا بیت اللہ کا طواف تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہ تھا، پھر میں نے مہاجرین و انصار (کی جماعت) کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا۔ اس کے بعد (بال کٹوانا احرام کھولنا) کوئی کام نہ ہوا۔ پھر سب سے آخر میں جسے میں نے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے بھی عمرہ کے ذریعے سے اپنے حج کو فسخ نہیں کیا، اور یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ یہ انہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ اور نہ گزرے ہوئے لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) میں سے کسی نے (یہ کام) کیا۔ وہ (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) جب بھی بیت اللہ میں قدم رکھتے تو طواف سے پہلے اور کسی چیز سے ابتداء نہ کرتے تھے (طواف کرنے کے بعد) احرام نہیں کھولتے تھے۔ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو بھی دیکھا، وہ جب بھی مکہ آتیں طواف سے پہلے کسی اور کام سے آغاز نہ کرتیں، اس کا طواف کرتیں، پھر احرام نہ کھولتیں (حتیٰ کہ حج پورا کر لیتیں) میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ، ان کی ہمشیرہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا)، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فلاں فلاں لوگ کسی وقت عمرہ کے لیے آئے تھے، جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کر لیا (اور عمرہ مکمل ہو گیا) تو (اس کے بعد) انہوں نے احرام کھولا۔ اس شخص نے اس کے بارے میں جس بات کا ذکر کیا ہے، اس میں جھوٹ بولا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3001]
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ "، فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحْلِلْ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ،
ابن جریج نے کہا: مجھے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ) احرام باندھے ہوئے روانہ ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ قربانی ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے (وہ عمرہ کے بعد) احرام کھول دے۔“ میرے ساتھ قربانی نہیں تھی میں نے احرام کھول دیا اور (میرے شوہر) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی تھی، انہوں نے نہیں کھولا۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: (عمرہ کے بعد) میں نے (دوسرے) کپڑے پہن لیے اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آ بیٹھی، وہ کہنے لگے: میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میں نے کہا: آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3002]
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ: اسْتَرْخِي عَنِّي اسْتَرْخِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
وہیب نے کہا: ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے، پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی، البتہ (اپنی حدیث میں یہ اضافہ) ذکر کیا: (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا: مجھ سے دور رہو، مجھ سے دور رہو، میں نے کہا: آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3003]
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ كُلَّمَا مَرَّتْ بِالْحَجُونِ، تَقُولُ: " صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَاهُنَا، وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافُ الْحَقَائِبِ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ، وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَلَمَّا مَسَحْنَا الْبَيْتَ أَحْلَلْنَا، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ "، قَالَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: أَنَّ مَوْلَى أَسْمَاءَ، وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ.
ہمیں ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عمرو نے ابن اسود سے خبر دی کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبداللہ (بن کیسان) نے انہیں حدیث بیان کی کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا جب بھی مقام حجون سے گزرتیں تو وہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنتے: ”اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں فرمائے!“ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام پر پڑاؤ کیا تھا۔ ان دنوں ہمارے سفر کے تھیلے ہلکے، سواریاں کم اور زاد راہ بھی تھوڑا ہوتا تھا۔ میں، میری بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں فلاں شخص نے عمرہ کیا تھا، پھر جب ہم (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوا باقی سب) نے بیت اللہ (اور صفا مروہ) کا طواف کر لیا تو ہم (میں سے جنہوں نے عمرہ کرنا تھا انہوں نے) احرام کھول دیے، پھر (ترویہ کے دن) زوال کے بعد ہم نے (احرام باندھ کر) حج کا تلبیہ پکارا۔ ہارون نے اپنی روایت میں کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے (کہا)، انہوں نے ان کا نام، عبداللہ نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3004]
30: باب فِي مُتْعَةِ الْحَجِّ:
باب: حج تمتع کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ، فَقَالَتْ: " قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا "،
شعبہ نے مسلم قریؒ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے اس کی اجازت دی، جبکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ انہوں (ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ وہ حدیث بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی، ان کے پاس جاؤ۔ اور ان سے پوچھو (قری نے) کہا: ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ (اس وقت) بھاری جسم کی نابینا خاتون تھی، (ہمارے استفسار کے جواب میں) انہوں نے فرمایا: یقیناً اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (حج تمتع) کی اجازت عطا فرمائی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3005]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ . ح وحَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَفِي حَدِيثِهِ الْمُتْعَةُ، وَلَمْ يَقُلْ مُتْعَةُ الْحَجِّ، وَأَمَّا ابْنُ جَعْفَرٍ، فَقَالَ شُعْبَةُ: قَالَ مُسْلِمٌ: لَا أَدْرِي مُتْعَةُ الْحَجِّ أَوْ مُتْعَةُ النِّسَاءِ.
عبدالرحمان اور محمد بن جعفر دونوں نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کی، ان میں سے عبدالرحمان کی حدیث میں صرف لفظ تمتع ہے، انہوں نے حج تمتع کے الفاظ روایت نہیں کیے۔ جبکہ محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ کا قول ہے کہ مسلم (قری) نے کہا: میں نہیں جانتا کہ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے حج تمتع کا ذکر کیا یا کہ عورتوں سے (نکاح) متعہ کی بات کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3006]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْقُرِّيُّ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: " أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ، فَلَمْ يَحِلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَحَلَّ بَقِيَّتُهُمْ، فَكَانَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فِيمَنْ سَاقَ الْهَدْيَ فَلَمْ يَحِلَّ "،
معاذ (بن معاذ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی، (کہا:) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: (حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے ساتھ ملا کر) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکارا تھا، اور آپ کے (بعض) صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے، انہوں نے (جب تک حج مکمل نہ کر لیا) احرام نہ کھولا، باقی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے (جن کے ہمراہ قربانیاں نہ تھیں) احرام کھول دیا۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بھی انہی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے، لہذا انہوں نے احرام نہ کھولا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3007]
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: " وَكَانَ مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ الْهَدْيُ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَحَلَّا ".
محمد، یعنی محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی، البتہ انہوں نے کہا: جن کے پاس قربانیاں نہ تھیں ان میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صاحب تھے، لہذا ان دونوں نے (عمرہ کے بعد) احرام کھول دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3008]
31: باب جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ:
باب: حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کا جواز۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ ".
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: (جاہلیت میں) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا، زمین میں سب سے برا کام ہے۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے، اور کہا کرتے تھے: جب (اونٹوں کا) پیٹھ کا زخم مندمل ہو جائے، (مسافروں کا) نشان (قدم) مٹ جائے اور صفر (اصل میں محرم) گزر جائے تو عمرہ والے کے لیے عمرہ کرنا جائز ہے۔ (حالانکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے، اور ان (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اپنے حج (کی نیت) کو عمرہ میں بدل دیں، یہ بات ان (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) پر بڑی گراں تھی، سب نے بیک زبان کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی حلت (احرام کا خاتمہ) ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل حلت۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3009]
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَصَلَّى الصُّبْحَ، وَقَالَ لَمَّا صَلَّى الصُّبْحَ: " مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً "،
نصر بن علی جہضمی نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) شعبہ نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے ابوعالیہ براء سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا اور چار ذوالحجہ کو تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی، جب نماز فجر ادا کر چکے تو فرمایا: ”جو (اپنے حج کو) عمرہ بنانا چاہے، وہ اسے عمرہ بنا لے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3010]
وحَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، فَقَالَ نَصْرٌ: " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ "، وَأَمَّا أَبُو شِهَابٍ فَفِي رِوَايَتِهِ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُهِلُّ بِالْحَجِّ "، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَصَلَّى الصُّبْحَ بِالْبَطْحَاءِ، خَلَا الْجَهْضَمِيَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْهُ.
یہی حدیث روح، ابوشہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر (بن علی جہضمی) نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا البتہ ابوشہاب کی روایت میں ہے: ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ (آگے) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں فجر کی نماز ادا کی، سوائے جہضمی کے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3011]
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ لِأَرْبَعٍ خَلَوْنَ مِنَ الْعَشْرِ، وَهُمْ يُلَبُّونَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً ".
ہمیں وہیب نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ایوب نے حدیث سنائی انہوں نے ابوعالیہ براء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد (مکہ) تشریف لائے۔ وہ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین) حج کا تلبیہ پکار رہے تھے (وہاں پہنچ کر) آپ نے انہیں حکم دیا کہ اس (نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے) کو عمرہ میں بدل دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3012]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِذِي طَوًى، وَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ ".
معمر نے ہمیں خبر دی انہوں نے ایوب سے انہوں نے ابوعالیہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طویٰ میں ادا فرمائی اور ذوالحجہ کی چار راتیں گزری تھیں کہ تشریف لائے اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لوگ اپنے (حج کے) احرام کو عمرہ میں بدل دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3013]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ الْهَدْيُ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَإِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
محمد بن جعفر اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے حکم سے، انہوں نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ (ادا ہوا) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے (اب) جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جائے۔ (احرام کھول دے) یقیناً (اب) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے (دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3014]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي، فَقَالَ: " عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابوحمزہ ضبعی نے کہا: میں نے حج تمتع (کا ارادہ) کیا تو (متعدد) لوگوں نے مجھے اس سے روکا، میں (اسی شش و پنج میں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسار کیا تو انہوں نے مجھے اس (حج تمتع) کا حکم دیا۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آ کر سو گیا، نیند کے دوران خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا۔ اور کہا (تمہارا) عمرہ قبول اور (تمہارا) حج مبرو (ہر عیب سے پاک) ہے۔ انہوں نے کہا میں (دوبارہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو دیکھا تھا۔ کہہ سنایا۔ وہ (خوشی سے) کہہ اٹھے (عربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔) یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے (تمہارا خواب اسی کی بشارت ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3015]
32: باب تَقْلِيدِ الْهَدْيِ وَإِشْعَارِهِ عِنْدَ الإِحْرَامِ:
باب: احرام کے وقت قربانی کے اونٹ میں اشعار کرنے اور اسے قلاوہ ڈالنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا فِي صَفْحَةِ سَنَامِهَا الْأَيْمَنِ، وَسَلَتَ الدَّمَ وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ "،
شعبہ نے قتادہ سے انہوں نے ابوحسان سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کوہان کی دائیں جانب (ہلکے سے) زخم کا نشان لگایا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لٹکائے۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ (اور چل دیے) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3016]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ ". وَلَمْ يَقُلْ: " صَلَّى بِهَا الظُّهْرَ ".
معاذ بن ہشام نے کہا: مجھے میرے والد (ہشام بن ابی عبداللہ صاحب الدستوائی) نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی، البتہ انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے“ یہ نہیں کہا: ”انہوں نے وہاں (ذوالحلیفہ میں) ظہر کی نماز ادا فرمائی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3017]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ ".
شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا، انہوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ کیا فتویٰ ہے۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے) وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہاری مرضی نہ ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3018]
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ : " إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ قَدْ تَفَشَّغَ بِالنَّاسِ، مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ الطَّوَافُ عُمْرَةٌ "، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغَمْتُمْ ".
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے، انہوں نے ابوحسان سے حدیث بیان کی، کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ اس معاملے (فتوے) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طواف (عمرہ) کر کے وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فرمایا: (ہاں) یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہیں نہ چاہتے ہوئے قبول کرنی پڑے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3019]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ، وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ، إِلَّا حَلَّ "، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؟، قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ سورة الحج آية 33، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ، " وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے: (احرام کی حالت میں) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی (صرف عمرہ کرنے والا) وہ طواف کے بعد احرام سے آزاد ہو جائے گا ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے دریافت کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ (ان کے پاس کیا دلیل ہے؟) فرمایا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے (دلیل لیتے ہوئے) ”پھر ان کے حلال (ذبح) ہونے کی جگہ ”البیت العتیق“ (بیت اللہ) کے پاس ہے۔“ ابن جریج نے کہا: میں نے (عطاء سے) کہا: اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انہوں نے جواب دیا: (مگر) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے۔ اور انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر (طواف و سعی کے بعد) احرام کھول دینے کے بارے میں دیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3020]
33: بَابُ جَوَازِ تَقْصِيرِ الْمُعْتَمِرِ مِنْ شَعْرِهِ وَأَنَّهُ لَا يَجِبُ حَلْقُهُ ، وَأَنَّهُ يُسْتَحَبُّ كَوْنُ حَلْقِهِ أَوْ تَقْصِيرِهِ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
باب: عمرہ کرنے والے کے لئے اپنے بالوں کے کٹوانے کا جواز، اور سر کا منڈانا واجب نہیں ہے، اور سر کے منڈوانے اور کٹوانے کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: " أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ "، فَقُلْتُ لَهُ: " لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ ".
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی، کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا کہ مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے؟ میں نے کہا: میں یہ تو نہیں جانتا مگر (یہ جانتا ہوں کہ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلاف دلیل ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3021]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ، وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ وَهُوَ عَلَى الْمَرْوَةِ ".
حسن بن مسلم نے طاوس سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہا: میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تراشے جبکہ آپ مروہ پر (سعی سے فارغ ہوئے) تھے۔ یا کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے بال قینچی سے تراشے جا رہے تھے، اور آپ مروہ پر تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3022]
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، أَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَرُحْنَا إِلَى مِنًى، أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ".
عبدالاعلی بن عبدالاعلی نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں داود نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے نکلے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ جن کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ ہم تمام اسے (حج کو) عمرہ میں بدل دیں۔ جب (ترویہ) آٹھ ذوالحجہ کا دن آیا تو ہم نے احرام باندھا منیٰ کی طرف روانہ ہوئے اور حج کا تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3023]
وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: " قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَصْرُخُ بِالْحَجِّ صُرَاخًا ".
وہیب بن خالد نے داود سے انہوں نے ابونضرہ سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکار رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3024]
حَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَأَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: " إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ الزُّبَيْرِ اخْتَلَفَا فِي الْمُتْعَتَيْنِ "، فَقَالَ جَابِرٌ : " فَعَلْنَاهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ، فَلَمْ نَعُدْ لَهُمَا ".
ابونضرہ سے روایت ہے کہا: میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دونوں متعوں (حج تمتع اور عورتوں سے متعہ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبارہ ہم نے دونوں نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3025]
34: باب إِهْلاَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَدْيِهِ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْفَرِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ عَلِيًّا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ "،
(عبدالرحمٰن) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) مجھے سلیم بن حیان نے مروان اصغر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ پکارا؟“ انہوں نے جواب دیا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیہ کے مطابق تلبیہ پکارا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر میرے پاس قربانی نہ ہوتی تو میں ضرور احلال (احرام سے فراغت) اختیار کر لیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3026]
وحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ بَهْزٍ " لَحَلَلْتُ ".
عبدالصمد اور بہز دونوں نے کہا: ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی، البتہ بہز کی روایت میں ”حلال ہو جاتا“ (احرام کھول دیتا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3027]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَحُمَيْدٍ ، أَنَّهُمْ سَمِعُوا أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ، عُمْرَةً وَحَجًّا ".
ہشیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق، عبدالعزیز بن صہیب اور حمید سے خبر دی کہ ان سب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو (حج و عمرہ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا یہ کہتے ہوئے لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا ”اے اللہ! میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوں، میں حج و عمرہ کے لیے حاضر ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3028]
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، وَحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا "، وقَالَ حُمَيْدٌ: قَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجٍّ ".
اسماعیل بن ابراہیم نے یحییٰ بن ابی اسحاق اور حمید طویل سے خبر دی یحییٰ نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے لبيك عمرة وحجا اے اللہ! میں حج و عمرہ کی نیت سے تیرے در پر حاضر ہوں۔ حمید نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: لبيك عمرة وحجا اے اللہ! میں حج و عمرہ (کی نیت) کے ساتھ حاضر ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3029]
وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزهير بن حرب جميعا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا) مجھے زہری نے حنظلہ اسلمی کے واسطے سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابن مریم علیہ السلام (زمین پر دوبارہ آنے کے بعد) فج روضاء (کے مقام) سے حج کا یا عمرہ کا یا دونوں کا نام لیتے ہوئے تلبیہ پکاریں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3030]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ "،
لیث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، (اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے!“ [صحيح مسلم/حدیث: 3031]
وَحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا.
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے حنظلہ بن علی اسلمی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!“ (آگے سفیان اور لیث بن سعد) دونوں کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3032]
35: باب بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ "،
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) چار عمرے کیے، اور اپنے حج والے عمرہ کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعدہ میں (جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا) اور دوسرا عمرہ (اس کی ادائیگی کے لیے) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا (تیسرا) عمرہ جعرانہ مقام سے (آ کر) کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرمائے۔ (یہ بھی) ذوالقعدہ میں کیا اور (چوتھا) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ادا کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3033]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ". ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ.
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عبدالصمد نے حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے؟ انہوں نے کہا: حج ایک ہی کیا (البتہ) عمرے چار کیے، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3034]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: " سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: " سَبْعَ عَشْرَةَ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ "، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: " وَبِمَكَّةَ أُخْرَى ".
ابواسحاق سے روایت ہے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لڑیں؟ کہا: سترہ۔ (ابواسحاق نے) کہا: مجھے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) انیس غزوے کیے۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا۔ ابواسحاق نے کہا: آپ نے مکہ میں (رہتے ہوئے) اور حج (بھی) کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3035]
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّتَاهُ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قُلْتُ: يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِي مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَإِنَّهُ لَمَعَهُ "، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ.
عطاء نے خبر دی کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ان کی (دانتوں پر) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے۔ عروہ نے کہا: میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت!) کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں بھی عمرہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے (وہیں بیٹھے بیٹھے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکارا۔ میری ماں! کیا آپ ابوعبدالرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا (بتاؤ) وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں (بھی) عمرہ کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کو معاف فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم! آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا مگر یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ (عروہ نے) کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو) سن رہے تھے انہوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا، خاموش رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3036]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ ".
مجاہد سے روایت ہے کہا: میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے (کی دیوار) سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔ ہم نے ان سے لوگوں کی (اس) نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کل) کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے جواب دیا: چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا۔ (ان کی یہ بات سن کر) ہم نے انہیں جھٹلانا اور نہ رد کرنا مناسب نہ سمجھا، (اسی دوران میں) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا: ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ (عروہ نے) کہا: وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) ان کے ساتھ تھے (یہ بھول گئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3037]
36: باب فَضْلِ الْعُمْرَةِ فِي رَمَضَانَ:
باب: رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی فضیلت۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَنَسِيتُ اسْمَهَا: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّي مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ لَنَا إِلَّا نَاضِحَانِ فَحَجَّ أَبُو وَلَدِهَا، وَابْنُهَا عَلَى نَاضِحٍ، وَتَرَكَ لَنَا نَاضِحًا نَنْضِحُ عَلَيْهِ، قَالَ: " فَإِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَاعْتَمِرِي، فَإِنَّ عُمْرَةً فِيهِ تَعْدِلُ حَجَّةً ".
ابن جریج نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ ہمیں حدیث بیان کر رہے تھے۔ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے فرمایا۔۔۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا نام بتایا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔تمہیں ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس بات نے روک دیا؟ اس نے جواب دیا: ہمارے پاس پانی ڈھونے والے دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر اس کے بیٹے کا والد (شوہر) اور بیٹا حج پر چلے گئے ہیں اور ایک اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے ہم اس پر پانی ڈھوتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جب رمضان آئے تو تم عمرہ کر لینا کیونکہ اس (رمضان) میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3038]
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ سِنَانٍ: " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَكُونِي حَجَجْتِ مَعَنَا؟ "، قَالَتْ: نَاضِحَانِ كَانَا لِأَبِي فُلَانٍ زَوْجِهَا، حَجَّ هُوَ وَابْنُهُ عَلَى أَحَدِهِمَا، وَكَانَ الْآخَرُ يَسْقِي عَلَيْهِ غُلَامُنَا، قَالَ: " فَعُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَقْضِي حَجَّةً أَوْ حَجَّةً مَعِي ".
حبیب معلم نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے عطاء سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاریہ عورت سے جسے ام سنان کہا جاتا تھا کہا: ”تمہیں کس بات نے روکا کہ تم ہمارے ساتھ حج کرتیں؟“ اس نے کہا: ابوفلاں۔۔۔اس کے خاوند۔۔۔کے پاس پانی ڈھونے والے دو اونٹ تھے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کیا اور دوسرے پر ہمارا غلام پانی ڈھوتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”رمضان المبارک میں عمرہ حج یا میرے ساتھ حج (کی کمی) کو پورا کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3039]
37: باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا وَالْخُرُوجِ مِنْهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى وَدُخُولِ بَلْدَةٍ مِنْ طَرِيقٍ غَيْرِ الَّتِي خَرَجَ مِنْهَا:
باب: مکہ مکرمہ میں دخول بلند راستے سے اور خروج نشیب سے مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا 9 ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ، وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ، وَإِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى "،
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہوتے تھے۔ اور جب مکہ میں داخل ہوتے تو ثنیہ علیا سے داخل ہوتے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3040]
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ: الْعُلْيَا الَّتِي بِالْبَطْحَاءِ.
زہیر بن حرب اور محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے عبید اللہ سے اسی مذکورہ بالا سند سے روایت کی، اور زہیر کی روایت میں ہے: وہ بالائی (گھاٹی) جو بطحاء کے قریب ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3041]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا جَاءَ إِلَى مَكَّةَ، دَخَلَهَا مِنْ أَعْلَاهَا، وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا ".
سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے) انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو اس کی بالائی جانب سے اس میں داخل ہوئے اور زیریں جانب سے آپ (مکہ سے) باہر نکلے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3042]
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءٍ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ "، قَالَ هِشَامٌ: فَكَانَ أَبِي يَدْخُلُ مِنْهُمَا كِلَيْهِمَا، وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَ مَا يَدْخُلُ مِنْ كَدَاءٍ.
ابواسامہ نے ہشام سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال کداء سے مکہ کی بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہوئے تھے۔ ہشام نے کہا: میرے والد دونوں (بالائی اور زیریں) جانبوں سے مکہ میں داخل ہوتے تھے لیکن اکثر اوقات وہ کداء ہی سے داخل ہوتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3043]
38: باب اسْتِحْبَابِ الْمَبِيتِ بِذِي طَوًى عِنْدَ إِرَادَةِ دُخُولِ مَكَّةَ وَالاِغْتِسَالِ لِدُخُولِهَا وَدُخُولِهَا نَهَارًا:
باب: مکہ مکرمہ میں جب داخلہ ہو تو ذی طویٰ میں رات گزارنے اور غسل کرنے اور دن کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا استحباب۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ "، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ سَعِيدٍ: حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ، قَالَ يَحْيَى: أَوَ قَالَ: حَتَّى أَصْبَحَ.
زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنائی۔ دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انہوں نے عبید اللہ سے روایت کی، (کہا) مجھے نافع نے خبر دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ مقام پر رات گزاری کہ صبح کر لی۔ پھر مکہ میں داخل ہوئے۔ (نافع نے) کہا: حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عبید اللہ بن سعید کی روایت میں ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی۔ یحییٰ نے کہا: یا (عبید اللہ نے) کہا تھا: حتی کہ صبح کر لی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3044]
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : " كَانَ لَا يَقْدَمُ مَكَّةَ إِلَّا بَاتَ بِذِي طَوًى، حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ نَهَارًا "، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَهُ.
حماد نے ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ (کے مقام) ہی میں رات گزارتے حتی کہ صبح ہو جاتی غسل فرماتے پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہوتے۔ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3045]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طَوًى وَيَبِيتُ بِهِ، حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ، عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ، ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ ".
انس یعنی ابن عیاض نے موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لاتے تو پہلے ذی طویٰ میں پڑاؤ فرماتے۔ وہاں رات بسر کرتے یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ چھوٹے مضبوط ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو وہاں بنائی گئی ہے بلکہ اس سے نیچے مضبوط ٹیلے پر۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3046]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ، الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ نَحْوَ الْكَعْبَةِ، يَجْعَلُ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ، ثَمَّ يَسَارَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ، يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ، الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ".
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے درمیان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنائی گئی ہے ٹیلے کے کنارے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کالے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ (جگہ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3047]
39: باب اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ وَفِي الطَّوَافِ الأَوَّلِ فِي الْحَجِّ:
باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ، خَبَّ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ "، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کندھے ہلا ہلا کر تیز چلتے ہوئے لگاتے اور چار چکر چل کر لگاتے اور جب صفا مروہ کے چکر لگاتے تو وادی کی ترائی میں دوڑتے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3048]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ، فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ يَمْشِي أَرْبَعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آنے (قدوم) کے بعد سب سے پہلے حج و عمرہ کا جو طواف کرتے اس میں آپ بیت اللہ کے تین چکر وں میں تیز رفتاری سے چلتے پھر (باقی) چار میں (عام رفتار سے) چلتے، پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3049]
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَقْدَمُ مَكَّةَ، إِذَا اسْتَلَمَ الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ أَوَّلَ مَا يَطُوفُ، حِينَ يَقْدَمُ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب مکہ آتے طواف فرماتے اس کے سات چکر وں میں سے پہلے تین میں چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیز چلتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3050]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا ".
ہمیں ابن مبارک نے حدیث بیان کی، ہمیں عبید اللہ نے نافع سے خبر دی (کہا:) انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر وں میں رمل کیا، اور (باقی) چار میں چلے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3051]
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ : " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ "، وَذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ.
سلیم بن اخضر نے عبید اللہ بن عمر سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3052]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ ".
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی جبکہ یحییٰ نے کہا اور الفاظ انہی کے ہیں: میں نے مالک کے سامنے قراءت کی (کہ) جعفر بن محمد نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حجر اسود سے دوبارہ وہاں تک پہنچنے تک، تین چکر وں میں رمل کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3053]
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَمَلَ الثَّلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ".
عبداللہ بن وہب نے کہا: مجھے مالک اور ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد (محمد باقر) سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکر وں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3054]
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشْيَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ قَالَ: فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا، وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ، وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ، قَالَ: " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ، يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ "،
عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں جریری نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکر وں میں رمل اور چار چکر وں میں چلنا، کیا یہ سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے۔ کہا: (انہوں نے) فرمایا: انہوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی۔ میں نے کہا: آپ کے اس جملے کا کہ انہوں نے درست بھی کہا اور غلط بھی، کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا: محمد اور ان کے ساتھی (مدینہ کی ناموافق آب و ہوا، بخار اور) کمزوری کے باعث بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتے۔ کفار آپ سے حسد کرتے تھے۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: (ان کی بات سن کر) آپ نے انہیں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو) حکم دیا کہ تین چکر وں میں رمل کرو اور چار چکر وں میں (عام رفتار سے) چلو۔ (حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے ان (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے عرض کی: مجھے سوار ہو کر صفا مروہ کی سعی کرنے کے متعلق بھی بتائیے، کیا وہ سنت ہے؟ کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سنت ہے۔ انہوں نے فرمایا: انہوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی، میں نے کہا: اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انہوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی؟ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوگوں کا جمگھٹا ہو گیا، وہ سب (آپ کو دیکھنے کے خواہش مند تھے اور ایک دوسرے سے) کہہ رہے تھے۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم حتیٰ کہ نوجوان عورتیں بھی گھروں سے نکلیں۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے (ہٹانے کے لیے) لوگوں کو مارا نہیں جاتا تھا، جب آپ (کے راستے) پر لوگوں کا ٹھٹھہ لگ گیا تو آپ سوار ہو گئے۔ (کچھ حصے میں) چلنا اور (کچھ میں) سعی کرنا (تیز چلنا ہی) افضل ہے۔ (کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں یہی کرنا چاہتے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 3055]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَكَانَ أَهْلُ مَكَّةَ: قَوْمَ حَسَدٍ، وَلَمْ يَقُلْ: يَحْسُدُونَهُ.
یزید (بن زریع تمیمی) نے حدیث بیان کی، (کہا) ہمیں جریری نے اسی سند سے خبر دی، البتہ اس نے یہ کہا کہ اہل مکہ حاسد لوگ تھے، یہ نہیں کہا وہ آپ سے حسد کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3056]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ وَهِيَ سُنَّةٌ "، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا.
ابن ابی حسین نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ (کے طواف میں) اور صفا مروہ کے درمیان میں رمل کیا تھا، اور یہ سنت ہے۔ انہوں نے فرمایا: انہوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3057]
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَبْجَرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أُرَانِي قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَصِفْهُ لِي، قَالَ: قُلْتُ: " رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ عَلَى نَاقَةٍ، وَقَدْ كَثُرَ النَّاسُ عَلَيْهِ "، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّهُمْ كَانُوا لَا يُدَعُّونَ عَنْهُ وَلَا يُكْرَهُونَ ".
عبدالملک بن سعید بن ابجر نے حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرا خیال ہے کہ میں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا۔ (انہوں نے) کہا: ان کی صفت (تمہیں کس طرح نظر آئی) بیان کرو۔ میں نے عرض کی: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر (سوار) دیکھا تھا، اور آپ (کو دیکھنے کے لیے) لوگوں کا بہت ہجوم تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: (ہاں) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ لوگوں کو آپ سے (دور ہٹانے کے لیے) دھکے دیے جاتے تھے نہ انہیں ڈانٹا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3058]
وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ، وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ غَدًا قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى، وَلَقُوا مِنْهَا شِدَّةً، فَجَلَسُوا مِمَّا يَلِي الْحِجْرَ، وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ، وَيَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ جَلَدَهُمْ "، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ، هَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا، إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ.
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین (عمرہ قضا کے لیے) مکہ آئے تو انہیں یثرب (مدینہ) کے بخار نے کمزور کر دیا تھا۔ مشرکین نے کہا: کل تمہارے ہاں ایسے لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اور انہیں اس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے۔ اور وہ لوگ حطیم کے ساتھ (لگ کر) بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے تین چکر وں میں چھوٹے قدموں کی تیز، مضبوط چال چلیں، اور دونوں (یمانی) کونوں کے درمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کو ان کی مضبوطی نظر آ جائے۔ (مسلمانوں کی مضبوط چال دیکھ کر) مشرکوں نے کہا: یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمہارا خیال تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: انہیں پورے چکر وں میں رمل نہ کرنے کا حکم دینے سے، آپ کو محض اس شفقت نے روکا جو آپ ان پر فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3059]
وَحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِنَّمَا سَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَمَلَ بِالْبَيْتِ، لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ ".
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی اور بیت اللہ کے طواف میں رمل صرف مشرکین کو اپنی (قوم کی) طاقت اور قوت دکھانے کے لیے کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3060]
40: باب اسْتِحْبَابِ اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ فِي الطَّوَافِ دُونَ الرُّكْنَيْنِ الآخَرَيْنِ:
باب: طواف میں دو یمانی رکنوں کے استلام کے استحباب کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنَ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی کونوں کے علاوہ بیت اللہ (کے کسی حصے) کو چھوتے نہیں دیکھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3061]
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ، إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ، وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اسود (حجر اسود والے کونے) اور اس کے ساتھ والے کونے کے علاوہ، جو کہ بنو جمح کے گھروں کی جانب ہے، بیت اللہ کے کسی اور کونے کو نہیں چھوتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3062]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ذَكَرَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ لَا يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ، وَالرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ".
خالد بن حارث نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور کونے کا استلام نہیں کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3063]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ، مُذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ ".
ہمیں یحییٰ نے عبید اللہ سے روایت بیان کی، (کہا:) مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، فرمایا: میں نے مشکل ہو یا آسانی، اس وقت سے ان دونوں رکنوں، رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کا استلام کرتے (ہاتھ یا ہونٹوں سے چھوتے) ہوئے دیکھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3064]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ " يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ، وَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
عبید اللہ نے نافع سے روایت کی کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے پھر اپنے ہاتھ کو چوم لیتے۔ انہوں نے کہا: میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا، اس وقت (سے) اسے ترک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3065]
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ".
حضرت ابوطفیل بکری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ دو یمانی کناروں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے علاوہ کسی اور کنارے کو چھوتے ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3066]
41: باب اسْتِحْبَابِ تَقْبِيلِ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فِي الطَّوَافِ:
باب: طواف میں حجر اسود کو بوسہ دینے کا استحباب۔
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرٌو . ح وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، زَادَ هَارُونُ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ.
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں ابن وہب نے خبر دی، (کہا:) مجھے یونس اور عمرو نے خبر دی، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی، کہا: ابن وہب نے عمرو سے خبر دی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے انہیں حدیث بیان کی، کہا: (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”ہاں، اللہ کی قسم! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمہیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمہیں (کبھی) بوسہ نہ دیتا۔“ ہارون نے اپنی روایت میں (کچھ) اضافہ کیا، عمرو نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3067]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ ".
نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور کہا: ”میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے۔ (اس لیے میں بھی بوسہ دیتا ہوں)“ [صحيح مسلم/حدیث: 3068]
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، كلهم عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ: خَلَفٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: رَأَيْتُ الْأَصْلَعَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَأَنَّكَ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَكَ مَا قَبَّلْتُكَ "، وَفِي رِوَايَةِ الْمُقَدَّمِيِّ، وَأَبِي كَامِلٍ: رَأَيْتُ الْأُصَيْلِعَ.
ہمیں خلف بن ہشام، مقدمی، ابوکامل، اور قتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی، خلف نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے سر کے اگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے، یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے: ”اللہ کی قسم! میں تجھے بوسہ دے رہا ہوں، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے دیکھا تھا، تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ مقدمی اور ابوکامل کی روایت میں (اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے) ”آگے سے چھوٹی سی گنج والے“ کو دیکھا کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3069]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ لَمْ أُقَبِّلْكَ ".
حضرت عابس بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا، وہ فرما رہے تھے: ”بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمہیں کبھی بوسہ نہ دیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3070]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ : قَبَّلَ الْحَجَرَ وَالْتَزَمَهُ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا "،
حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے، اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3071]
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا، وَلَمْ يَقُلْ: وَالْتَزَمَهُ.
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، اور کہا: ”لیکن میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے۔“ انہوں نے ”وہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) اس سے چمٹ گئے“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3072]
42: باب جَوَازِ الطَّوَافِ عَلَى بَعِيرٍ وَغَيْرِهِ وَاسْتِلاَمِ الْحَجَرِ بِمِحْجَنٍ وَنَحْوِهِ لِلرَّاكِبِ:
باب: اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور (سوار کے لئے) چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کا استلام کرنے کا جواز۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَافَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف فرمایا، اور آپ اپنی ایک سرے سے مڑی ہوئی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3073]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ ".
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف فرمایا، آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ (سواری پر طواف اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ لوگوں کو اوپر سے دیکھیں، لوگ آپ سے سوال کر لیں کیونکہ لوگوں نے آپ کے ارد گرد ہجوم کر لیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3074]
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ خَشْرَمٍ: وَلِيَسْأَلُوهُ فَقَطْ.
علی بن خشرم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے خبر دی، نیز ہمیں عبدبن حمید نے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں محمد، یعنی ابن بکر نے حدیث بیان کی، کہا: ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف اپنی سواری پر کیا، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ اوپر لوگوں کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ سے سوال کر سکیں کیونکہ لوگوں نے (ہر طرف سے اذدحام کر کے) آپ کو چھپا لیا تھا۔ ابن خشرم نے ”تاکہ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکیں“ (کے الفاظ) روایت نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3075]
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرِهِ، يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُضْرَبَ عَنْهُ النَّاسُ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے اونٹ پر کعبہ کے ارد گرد طواف فرمایا، آپ (اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے) حجر اسود کا استلام فرماتے تھے، اس لیے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ سے لوگوں کو مار کر ہٹایا جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3076]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفُ بْنُ خَرَّبُوذَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، وَيَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ مَعَهُ، وَيُقَبِّلُ الْمِحْجَنَ ".
حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے، آپ اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اور اس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3077]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: " طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ "، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِ الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ ".
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا: ”سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔“ انہوں نے کہا: جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرما رہے تھے، اور (نماز میں) (وَالطُّورِ‌﴿﴾ وَکِتَابٍ مَّسْطُورٍ‌) کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3078]
43: باب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ رُكْنٌ لاَ يَصِحُّ الْحَجُّ إِلاَّ بِهِ:
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَتْ: مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ "، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا؟ وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ؟ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، يُقَالُ لَهُمَا: إِسَافٌ، وَنَائِلَةُ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا، لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، إِلَى آخِرِهَا، قَالَتْ: فَطَافُوا ".
ہمیں ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں (اس کا حج و عمرہ درست ہوگا۔) انہوں نے پوچھا: وہ کیوں؟ میں نے عرض کی: کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں،“ آخر تک، ”(پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے۔)“ انہوں نے جواب دیا: وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (اللہ کا فرمان) یوں ہوتا: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس بارے میں (نازل ہوئی) تھی؟ بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے، جنہیں اساف اور نائلہ کہا جاتا تھا، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے، پھر سر منڈا کر (احرام کھول دیتے)، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان دونوں (صفا مروہ) کا طواف کرنا برا جانا، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیا کرتے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ فرمایا: تو لوگوں نے (پھر سے ان کا) طواف شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3079]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، الْآيَةَ، فَقَالَتْ: " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ".
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) خبر دی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی، میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں (حج و عمرہ کے دوران) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کی: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (پھر جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔)“ انہوں نے فرمایا اگر (قرآن کی آیت کا) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا: ”اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ (بت) کا تلبیہ پکارتے تھے۔ اور (اس وقت کے عقیدے کے مطابق) ان کے لیے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج پر آئے۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ مجھے اپنی زندگی (دینے والے) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3080]
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ، لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ، يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ.
سفیان نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے زہری سے سنا، وہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے (حج و عمرہ میں) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف (کروں یا) نہ کروں۔ انہوں نے جواب دیا: بھانجے تم نے جو کہا، وہ کتنا غلط ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا۔ یہی (حج و عمرہ کا) طریقہ قرار پایا۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ (بت) کے لیے جو کہ مثلل میں تھا، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (آیت کے الفاظ) اس طرح ہوتے: ”تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔“ زہری نے کہا: میں نے اس بات کا ذکر (جو حضرت عروہ سے سنی تھی) ابوبکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام سے کیا، انہیں یہ بات بہت اچھی لگی، انہوں نے فرمایا: بلاشبہ یہی تو علم ہے۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا، وہ کہتے تھے: عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے: ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا: ہمیں تو صرف بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے۔ صفا مروہ کے مابین (طواف) کا تو حکم نہیں دیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ ابوبکر بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے لگتا ہے یہ آیت ان دونوں طرح کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3081]
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قَالَتْ عَائِشَةُ: " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اور (آگے) اسی (سفیان کی ابن شہاب سے) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو صفا مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا: کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3082]
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 ".
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لانے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکارا کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں۔ (درحقیقت) یہ طریقہ ان کے آباء و اجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرام باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لائے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جاننے والا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3083]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: انصار صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی: ”بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3084]
44: باب بَيَانِ أَنَّ السَّعْيَ لاَ يُكَرَّرُ:
باب: سعی مکرر نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا "،
ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرما رہے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے صفا مروہ کے ایک (بار کے) طواف (سعی) کے سوا کوئی اور طواف نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3085]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا: طَوَافَهُ الْأَوَّلَ.
ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی، اور کہا: سوائے ایک (بار کے) طواف (یعنی) پہلے طواف کے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3086]
45: باب اسْتِحْبَابِ إِدَامَةِ الْحَاجِّ التَّلْبِيَةَ حَتَّى يَشْرَعَ فِي رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ، أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ ". (حديث موقوف) قَالَ قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي، حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: عرفات سے (واپسی کے وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا پیشاب سے فارغ ہوئے پھر (واپس) تشریف لائے تو میں نے آپ (کے ہاتھوں) پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر (اگلے دن) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہوئے۔ کریب نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ (عقبہ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3087]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كلاهما عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ".
عطاء نے خبر دی (کہا:) مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار کیا۔ (پھر) کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3088]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ، حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ "، وَقَالَ: " لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "،
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ابومعبدنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انہیں تلقین کی: ”سکون سے (چلو)“ اور آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں داخل ہوئے۔۔۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے۔۔۔ آپ نے فرمایا: ”تم (دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر) ماری جانے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے گی۔“ (حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3089]
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
ابن جریج سے روایت ہے: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنی) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے (اس طرح) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان (اپنی انگلیوں سے) کنکر پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3090]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ".
ابوحوص نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ہم مزدلفہ میں تھے۔ کہا: میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی، وہ اس مقام پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3091]
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3092]
وَحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سفیان نے ہمیں حصین سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3093]
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3094]
46: باب التَّلْبِيَةِ وَالتَّكْبِيرِ فِي الذِّهَابِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: عرفہ کے دن منی سے عرفات کی طرف جاتے ہوئے تکبیر اور تلبیہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُلَبِّي، وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ ".
ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفات گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کوئی تکبیریں کہنے والا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3095]
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَدَاةِ عَرَفَةَ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنُكَبِّرُ "، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَعَجَبًا مِنْكُمْ كَيْفَ لَمْ تَقُولُوا لَهُ: مَاذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟.
عمر بن حسین نے عبداللہ بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کوئی تکبیریں کہنے والا تھا اور کوئی لا اله الا الله کہنے والا تھا۔ البتہ ہم تکبیریں کہہ رہے تھے۔ (عبداللہ بن ابی سلمہ نے) کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پوچھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہوئے دیکھا تھا؟ [صحيح مسلم/حدیث: 3096]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الثَّقَفِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَةَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَ يُهِلُّ الْمُهِلُّ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ، وَيُكَبِّرُ الْمُكَبِّرُ مِنَّا، فَلَا يُنْكَرُ عَلَيْهِ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا: آپ اس (عرفہ کے) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے (ذکر و عبادت) کر رہے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے تہلیل کہنے والا لا اله الا الله کہتا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور تکبیریں کہنے والا کہتا تو اس پر بھی کوئی نکیر نہ کی جاتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3097]
وَحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ هَذَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: " سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ، فَمِنَّا الْمُكَبِّرُ، وَمِنَّا الْمُهَلِّلُ، وَلَا يَعِيبُ أَحَدُنَا عَلَى صَاحِبِهِ ".
موسیٰ بن عقبہ نے کہا: مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے عرض کی: آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنے والے تھے اور کچھ لا اله الا الله کہنے والے۔ اور ہم میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی (کے عمل) پر عیب نہیں لگاتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3098]
47: باب الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلاَتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمْعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ:
باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ، فَبَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا.
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں (کریب) نے ان (حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے سنا، کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو (سواری سے) نیچے اترے پیشاب سے فارغ ہوئے پھر وضو کیا اور زیادہ تکمیل کے ساتھ وضو نہیں کیا۔ میں نے آپ سے عرض کی: نماز؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد آپ (پھر) سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو آپ (سواری سے) نیچے اترے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے پڑاؤ کی جگہ میں بٹھایا، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ نے وہ پڑھی۔ اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3099]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الدَّفْعَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى بَعْضِ تِلْكَ الشِّعَابِ لِحَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ، فَقُلْتُ: أَتُصَلِّي، فَقَالَ: " الْمُصَلَّى أَمَامَكَ ".
یحییٰ بن سعید نے زبیر کے مولیٰ موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: عرفہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی کی طرف چلے گئے (پھر) اس کے بعد میں نے (وضو کے لیے) آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا اور عرض کی، آپ نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3100]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، يَقُولُ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أُسَامَةُ: أَرَاقَ الْمَاءَ، قَالَ: فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، قَالَ: ثُمَّ سَارَ حَتَّى بَلَغَ جَمْعًا، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ.
عبداللہ بن مبارک نے ابراہیم بن عقبہ سے انہوں نے کریب مولیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے (کنایتاً) کہا کہ آپ نے پانی نہیں بہایا۔۔۔ کہا: آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ کہا: پھر آپ چلے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغرب اور عشاء کی نمازیں (اکٹھی) ادا کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3101]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ابوخیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے کریب نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟ کہا: ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب (کی نماز) کے لیے (اپنی سواریاں) بٹھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے (کنایہ کرتے ہوئے) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی۔ پھر سب لوگوں نے (اپنی سواریاں) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انہوں نے ابھی (پالان) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوائی، پھر انہوں نے (پالان) کھولے۔ میں نے کہا: جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہو گئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3102]
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ".
محمد بن عقبہ نے کریب سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درے پر تشریف لائے جہاں امراء (حکمران) اترتے ہیں۔ آپ (سواری سے) اترے اور پیشاب سے فارغ ہوئے۔ اور انہوں نے پانی بہایا کا لفظ نہیں کہا (بلکہ یوں کہا:) پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز (پڑھنے کا مقام) تمہارے آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3103]
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَكِبَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
عطاء مولیٰ بن سبا ع نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو وہ آپ کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے، جب آپ گھاٹی پر پہنچے، آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر قضائے حاجت کے لیے چلے گئے، جب لوٹے تو میں نے ایک برتن سے آپ (کے ہاتھوں) پر پانی ڈالا، آپ نے وضو کیا، پھر آپ مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3104]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأُسَامَةُ رِدْفُهُ، قَالَ أُسَامَةُ: فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسی حالت میں مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3105]
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ، وَأَنَا شَاهِدٌ، أَوَ قَالَ: سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ ".
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا اور میں موجود تھا۔ یا کہا: میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے (واپسی پر) انہیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا۔ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے، جب کشادہ جگہ پاتے تو (سواری کو) تیز دوڑاتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3106]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبدہ بن سلیمان، عبداللہ بن نمیر اور حمید بن عبدالرحمان نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حمید کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”ہشام نے کہا: نص (تیز رفتاری میں) عنق سے اوپر کا درجہ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3107]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ "،
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، (کہا:) مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3108]
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ: وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ.
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث بن سعد سے اور انہوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ بیان کی، ابن رمح نے اپنی روایت میں کہا: حضرت عبداللہ بن یزید ختمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور حکومت میں کوفہ کے گورنر تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3109]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ جَمِيعًا ".
سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3110]
وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، بِجَمْعٍ لَيْسَ بَيْنَهُمَا سَجْدَةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ "، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي بِجَمْعٍ كَذَلِكَ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ تَعَالَى.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں، ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہ تھی۔ آپ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3111]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ : " أَنَّهُ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِجَمْعٍ، وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ "، ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ صَلَّى مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ،
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم اور سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت سے ادا کیں، پھر انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اسی طرح نماز ادا کی تھی، اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3112]
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: صَلَّاهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ.
وکیع نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دونوں نمازیں ایک ہی اقامت سے ادا کی تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3113]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، صَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا، وَالْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ ".
سفیان ثوری نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں، آپ نے ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3114]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ : أَفَضْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَتَيْنَا جَمْعًا، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ "، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ: هَكَذَا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ ".
ابواسحاق سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سعید بن جبیر نے کہا: ہم حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ (عرفہ سے) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آئے تو انہوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سے پڑھائی، پھر (پیچھے کی طرف) رخ موڑا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح (جمع وقصر پر عمل کرتے ہوئے) نماز پڑھائی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3115]
48: باب اسْتِحْبَابِ زِيَادَةِ التَّغْلِيسِ بِصَلاَةِ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَالْمُبَالَغَةِ فِيهِ بَعْدَ تَحَقُّقِ طُلُوعِ الْفَجْرِ:
باب: مزدلفہ میں نحر کے دن (عید کے دن) صبح کی نماز جلدی پڑھنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا، إِلَّا صَلَاتَيْنِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا "،
ابومعاویہ نے اعمش سے خبر دی، انہوں نے عمارہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز اس کے وقت کے بغیر ادا کرتے نہیں دیکھا، سوائے دو نمازوں کے، مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں (جمع کیں) اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس کے (معمول کے) وقت سے پہلے ادا کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3116]
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: قَبْلَ وَقْتِهَا بِغَلَسٍ.
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی، اور کہا: (فجر کی نماز) اس کے (معمول کے) وقت سے پہلے اندھیرے میں (ادا کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 3117]
49: باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيَالِي قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ: وَالثَّبِطَةُ: الثَّقِيلَةُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ "، وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
فلح بن حمید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کر سکنے والی خاتون تھیں۔ قاسم نے کہا: ثبطہ بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں۔ کہا، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے (وہیں) صبح کی، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی۔ اور یہ کہ (ہمیشہ) آپ کی اجازت سے (جلد) روانہ ہوتی تو یہ میرے لیے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3118]
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ.
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بڑی (اور) بھاری جسم والی خاتون تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صبح کو باقی لوگوں کی طرح) امیر (حج) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3119]
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا "،
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیا کرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں مار لیتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: (کیا) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ بھاری کم حرکت کر سکنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3120]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان ثوری نے عبدالرحمان بن قاسم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3121]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ ، وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا أَيْ بُنَيَّ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "،
یحییٰ قطان نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، (کہا:) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے (اندر بنے ہوئے مشہور) گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، مجھ سے پوچھا: کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی، پھر کہا: بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: مجھے لے چلو۔ تو ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں پھر (فجر کی) نماز اپنی منزل میں ادا کی۔ تو میں نے ان سے عرض کی: محترمہ! ہم رات کے آخری پہر میں (ہی) روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو (پہلے روانہ ہونے کی) اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3122]
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَتْ: لَا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انہوں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: نہیں میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں (اور بچوں) کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3123]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَأَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ابن جریج سے روایت ہے (کہا:) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انہیں ابن شوال نے خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3124]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى "، وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ: نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن شوال سے اور انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم (خواتین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہی کرتی تھیں (کہ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3125]
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ، أَوَ قَالَ: فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
حماد بن زید نے ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے (اونٹوں پر لدے) بوجھ۔۔۔ یا کہا: کمزور افراد۔۔۔ کے ساتھ رات ہی روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3126]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3127]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3128]
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " بَعَثَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ مِنْ جَمْعٍ فِي ثَقَلِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قُلْتُ: أَبَلَغَكَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بِي بِلَيْلٍ طَوِيلٍ، قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ بِسَحَرٍ، قُلْتُ لَهُ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَأَيْنَ صَلَّى الْفَجْرَ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا كَذَلِكَ.
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے عطاء نے بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحر کے وقت مزدلفہ سے اونٹوں پر لدے بوجھ کے ساتھ (جس میں کمزور افراد بھی شامل ہوتے ہیں) روانہ کر دیا (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء سے کہا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ نے مجھے لمبی رات (کے وقت) روانہ کر دیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں صرف یہی (کہا:) کہ سحر کے وقت روانہ کیا۔ میں نے ان سے کہا: (کیا) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (یہ بھی) کہا: ہم نے فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں؟ اور انہوں نے فجر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے کہا: مجھ سے صرف یہی الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3129]
وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ : كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِاللَّيْلِ، فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَدْفَعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: " أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے، اور جتنا میسر ہوتا اللہ کا ذکر کرتے، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جاتے۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے منیٰ آ جاتے اور کچھ اس کے بعد آتے۔ پھر جب وہ (سب لوگ منیٰ آ جاتے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (کمزور لوگوں) کو رخصت دی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3130]
50: باب رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَتَكُونُ مَكَّةُ عَنْ يَسَارِهِ وَيُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ:
باب: بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے، اور مکہ کو اپنے بائیں طرف کرنے، اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ (عبدالرحمان نے) کہا: ان سے کہا گیا: کچھ لوگ اسے (جمرہ کو) اس کی بالائی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہی اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3131]
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ، السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، قَالَ: فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ، فَسَبَّهُ، وَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِي، فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
ابن مسہر نے مجھے اعمش سے خبر دی (انہوں نے) کہا: میں نے حجاج بن یوسف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا: قرآن کی وہی ترتیب رکھو جو جبریل علیہ السلام نے رکھی (نیز سورہ بقرہ کہنے کے بجائے کہو) وہ سورت جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورت جس میں نساء کا تذکرہ ہے وہ سورت جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے۔ (اعمش نے) کہا اس کے بعد میں ابراہیم سے ملا، میں نے انہیں اس کی بات سنائی تو انہوں نے اس پر سب و شتم کیا اور کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔۔ وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے وادی کے اندر کھڑے ہوئے اس (جمرہ) کو چوڑائی کے رخ اپنے سامنے رکھا اس کے بعد وادی کے اندر سے اس کو سات کنکریاں ماریں وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے کہا: میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمٰن کچھ لوگ اس کے اوپر (کی طرف) سے اسے کنکریاں مارتے ہیں انہوں نے کہا اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہی اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3132]
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَاقْتَصَّا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حجاج سے سنا، کہہ رہا تھا: ”سورہ بقرہ نہ کہو۔۔۔“ اور ان دونوں نے ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3133]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ "،
ہمیں محمد بن جعفر غندر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کیا کہا: انہوں نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھا اور کہا یہی ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3134]
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ.
ہمیں معاذ عنبری نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: جب وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3135]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: فَرَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ قَالَ: مِنْ هَا هُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
سلمہ بن کہیل نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کچھ لوگ جمرہ عقبہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں۔ کہا: تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے اندر سے اسے کنکریاں ماریں۔ پھر کہا: یہیں سے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اس ہستی نے کنکریاں ماریں جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3136]
51: باب اسْتِحْبَابِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا وَبَيَانِ قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ»:
باب: قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا استحباب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو“۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جميعا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُولُ: لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر (سوار ہو کر) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”تمہیں چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں (دوبارہ) حج نہ کر سکوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3137]
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ: أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ".
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (یحییٰ بن حصین نے) کہا: میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے (مہار پکڑ کر) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے (بچاؤ کے لیے) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تانے ہوئے تھا۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”اگر کوئی کٹے ہوئے اعضاء والا۔۔۔ میرا خیال ہے انہوں (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) نے کہا:۔۔۔ کالا غلام بھی تمہارا امیر بنا دیا جائے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3138]
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ "، قَالَ مُسْلِم: وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، رَوَى عَنْهُ، وَكِيعٌ، وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ.
ابوعبدالرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھائے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعبدالرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے (حدیث) روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3139]
52: باب اسْتِحْبَابِ كَوْنِ حَصَى الْجِمَارِ بِقَدْرِ حَصَى الْخَذْفِ:
باب: ٹھیکری کے برابر کنکریاں مارنے کا استحباب۔
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ ".
ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے جمرہ عقبہ کو اتنی بڑی کنکریاں ماریں جتنی چٹکی (دو انگلیوں) سے ماری جانے والی کنکریاں ہوتی ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3140]
53: باب بَيَانِ وَقْتِ اسْتِحْبَابِ الرَّمْيِ:
باب: کنکریاں مارنے کا مستحب وقت۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ "،
ابوخالد احمر اور ابن ادریس نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں اور اس کے بعد (کے دنوں میں تمام جمروں کو) اس وقت جب سورج ڈھل گیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3141]
وحَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (کہا:) مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ آگے اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3142]
54: باب بَيَانِ أَنَّ حَصَى الْجِمَارِ سَبْعٌ:
باب: جمرات کو سات کنکریاں مارنے کا بیان۔
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ تَوٌّ، وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ، وَالطَّوَافُ تَوٌّ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”استنجا طاق ڈھیلوں سے ہوتا ہے، جمرات کی رمی طاق ہوتی ہے، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہوتی ہے، بیت اللہ کا طواف طاق ہوتا ہے۔ اور تم میں سے جب کوئی استنجا کرے تو طاق ڈھیلوں سے کرے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3143]
55: باب تَفْضِيلِ الْحَلْقِ عَلَى التَّقْصِيرِ وَجَوَازِ التَّقْصِيرِ:
باب: سر منڈانا، بال کٹوانے سے بہتر ہے، اور بال کٹوانے کا جواز۔
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ: " حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَلَقَ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَقَصَّرَ بَعْضُهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ ".
لیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔“ ایک یا دو مرتبہ (دعا کی) پھر فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ (ان کے لیے صرف ایک بار دعا کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 3144]
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَالْمُقَصِّرِينَ ".
یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے، اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پھر عرض کی: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر (بھی رحم فرما)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3145]
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَجَّاجِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ " رَحِمَ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَالْمُقَصِّرِينَ "،
ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) نے کہا: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے پھر عرض کی: اور بال کٹوانے والوں پر، اے اللہ کے رسول! فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3146]
وحَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ، قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ.
ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انہوں نے (اپنی) حدیث میں کہا: جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3147]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " وَلِلْمُقَصِّرِينَ "،
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں کو بھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3148]
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
علاء نے اپنے والد (عبدالرحمان بن یعقوب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی (روایت کردہ) حدیث کے ہم معنی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3149]
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، دَعَا لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا وَلِلْمُقَصِّرِينَ مَرَّةً "، وَلَمْ يَقُلْ وَكِيعٌ: فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
وکیع اور ابوداود طیالسی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) سے روایت کی کہ انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے والوں کے لیے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لیے ایک بار دعا کی۔ اور وکیع نے ”حجۃ الوداع کے موقع پر“ کا جملہ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3150]
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، كِلَاهُمَا عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے سر مبارک کے بال منڈائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3151]
56: باب بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ ثُمَّ يَنْحَرَ ثُمَّ يَحْلِقَ وَالاِبْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ:
باب: قربانی کے دن کنکریاں مارنے، پھر قربانی کرنے، پھر سر منڈانے، اور دائیں جانب سے سر منڈانے کی ابتداء کرنا سنت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى مِنًى، فَأَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ، ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ: " خُذْ وَأَشَارَ إِلَى جَانِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيهِ النَّاسَ "،
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انہوں نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشریف لائے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قربانی کی، پھر بال مونڈنے والے سے فرمایا: ”پکڑو۔“ اور آپ نے اپنے (سر کی) دائیں طرف اشارہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ (اپنے موئے مبارک) لوگوں کو دینے لگے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3152]
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ: " هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ "، قَالَ: " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ "، وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: " فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ "، ثُمَّ قَالَ: " بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ "، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر اور ابوکریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی لیکن ابوبکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجام سے کہا: ”یہ لو۔“ اور اپنے ہاتھ سے اس طرح اپنی دائیں جانب اشارہ کیا (کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو) اور اپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہوئے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر حجام کو اپنی بائیں جانب کی طرف اشارہ کیا (کہ اب بائیں جانب سے حجامت بناؤ) حجام نے آپ کا سر مونڈ دیا تو آپ نے (اپنے وہ موئے مبارک) حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کو عطا فرما دیے۔ اور ابوکریب کی روایت میں ہے کہا: (حجام نے) دائیں جانب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فرما دیے، پھر آپ نے اپنی بائیں جانب (حجامت بنانے کا) اشارہ فرمایا۔ حجام نے اس طرف بھی وہی کیا (بال مونڈ دیے) پھر آپ نے فرمایا: ”کہاں ہیں ابوطلحہ؟“ پھر آپ نے اپنے موئے مبارک حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے حوالے فرما دیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3153]
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا، وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ، وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ، فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ "، فَقَالَ: " أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ "، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
ہمیں عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام (بن حسان) نے محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں نحر کیا اور حجام (آپ کے لیے) بیٹھا ہوا تھا آپ نے (اسے) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے (بال اتارنے کا) اشارہ کیا تو اس نے آپ (کے سر) کی دائیں طرف کے بال اتار دیے۔ آپ نے وہ بال ان لوگوں میں بانٹ دیے جو آپ کے قریب موجود تھے۔ پھر فرمایا: ”دوسری طرف کے بال (بھی) اتار دو۔“ اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”ابوطلحہ کہاں ہیں؟“ اور آپ نے وہ (موئے مبارک) انہیں دے دیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3154]
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَسَّانَ ، يُخْبِرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ، وَنَحَرَ نُسُكَهُ، وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، ثُمَّ دَعَا أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْأَيْسَرَ، فَقَالَ: احْلِقْ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ ".
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی (کہا) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ محمد بن سیرین سے خبر دے رہے تھے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی (کے اونٹوں) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جانب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بلایا اور وہ (بال) ان کے حوالے کر دیے۔ پھر آپ نے (سر کی) بائیں جانب اس کی طرف کی اور فرمایا: ”(اس کے) بال اتار دو۔“ اس نے وہ بال اتار دیے تو آپ نے وہ بھی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیے اور فرمایا: ”ان (بائیں طرف والے بالوں) کو لوگوں میں تقسیم کر دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3155]
57: بَابُ جَوَازِ تَقْدِيمِ الذَّبْحِ عَلَي الرَّمْيِ ، وَالْحَلْقِ عَلَي الذَّبْح وَعَلَي الرِّمْيِ ، وَتَقْدِيمِ الطَّوَافِ عَلَيْهَا كُلِّهَا
باب: کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کرنے کا جواز، اور قربانی کرنے اور شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈا لینے کا جواز، اور طواف کو ان سب سے پہلے کرنے کا جواز۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ فَقَالَ: " اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ "، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ، إِلَّا قَالَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھ نہ سکا (کہ پہلے کیا ہے) اور میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) قربانی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تاخیر کی گئی نہیں پوچھا گیا مگر آپ نے (یہی) فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3156]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَطَفِقَ نَاسٌ يَسْأَلُونَهُ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَشْعُرُ أَنَّ الرَّمْيَ قَبْلَ النَّحْرِ، فَنَحَرْتُ قَبْلَ الرَّمْيِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: وَطَفِقَ آخَرُ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أَشْعُرْ أَنَّ النَّحْرَ قَبْلَ الْحَلْقِ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، فَيَقُولُ: " انْحَرْ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يُسْأَلُ يَوْمَئِذٍ عَنْ أَمْرٍ مِمَّا يَنْسَى الْمَرْءُ وَيَجْهَلُ مِنْ تَقْدِيمِ بَعْضِ الأُمُورِ قَبْلَ بَعْضٍ وَأَشْبَاهِهَا، إِلَّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْعَلُوا ذَلِكَ وَلَا حَرَجَ "،
یونس نے ابن شہاب سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منیٰ میں) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا۔ اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی (کا عمل) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ کوئی اور شخص کہتا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا کہ قربانی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے؟ تو آپ فرماتے: ”(اب) قربانی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم (و تاخیر) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پوچھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہی) فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3157]
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، إِلَى آخِرِهِ.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔۔۔ (اس کے بعد) حدیث کے آخر تک یونس سے روایت کردہ حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3158]
وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّ كَذَا وَكَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ أَحْسِبُ أَنَّ كَذَا قَبْلَ كَذَا وَكَذَا لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، قَالَ: " افْعَلْ وَلَا حَرَجَ "،
عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی، کہا مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ اس دوران جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کوئی آدمی آپ کی طرف (رخ کر کے) کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلاں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کوئی اور آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ فلاں کام فلاں فلاں سے پہلے ہوگا (انہوں نے) ان تین کاموں (سر منڈوانے رمی اور قربانی کے بارے میں پوچھا تو) آپ نے یہی فرمایا: ”(اب) کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3159]
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا رِوَايَةُ ابْنِ بَكْرٍ، فَكَرِوَايَةِ عِيسَى، إِلَّا قَوْلَهُ: لِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ ذَلِكَ، وَأَمَّا يَحْيَى الأُمَوِيُّ، فَفِي رِوَايَتِهِ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ، نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ.
محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد (یحییٰ اموی) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی، ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے سوائے ان کے اس قول کے ”ان تین چیزوں کے بارے میں“ اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3160]
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَح، قَالَ: " فَاذْبَحْ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "،
ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں نے قربانی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا: ”(اب) قربانی کر لو رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ (کسی اور نے) کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے تو آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3161]
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ بِمِنًى، فَجَاءَهُ رَجُلٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت کی (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے کہا) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا (آپ) منیٰ میں اونٹنی پر (سوار) تھے تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔۔۔ آگے سفیان بن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3162]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عَنْدَ الْجَمْرَةِ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فقَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، وَأَتَاهُ آخَرُ، فقَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، وَأَتَاهُ آخَرُ، فقَالَ: إِنِّي أَفَضْتُ إِلَى الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: " ارْمِ وَلَا حَرَجَ "، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: " افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ ".
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انہوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قربانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ ایک اور آدمی آیا۔ وہ کہنے لگا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ہے؟ فرمایا: ”(اب) رمی کر لو کوئی حرج نہیں۔“ کہا: میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز (کی تقدیم و تاخیر) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فرمایا: ”کر لو کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3163]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ: فِي الذَّبْحِ، وَالْحَلْقِ، وَالرَّمْيِ، وَالتَّقْدِيمِ، وَالتَّأْخِيرِ، فقَالَ: " لَا حَرَجَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قربانی کرنے سر منڈوانے رمی کرنے اور (کاموں کی) تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3164]
58: باب اسْتِحْبَابِ طَوَافِ الإِفَاضَةِ يَوْمَ النَّحْرِ:
باب: قربانی کے دن طواف افاضہ کرنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى "، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفِيضُ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُصَلِّي الظُّهْرَ بِمِنًى وَيَذْكُرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُ.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا۔ پھر واپس آ کر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3165]
59: باب اسْتِحْبَابِ النُّزُولِ بِالْمُحَصَّبِ يَوْمَ النَّفْرِ وَالصَّلاَةِ بِهِ:
باب: کوچ کے دن وادی محصب میں اترنا مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ شَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى، قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟، قَالَ: بِالْأَبْطَحِ، ثُمَّ قَالَ: افْعَلْ مَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ.
عبدالعزیز بن رفیع سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: مجھے ایسی چیز بتائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو (اور یاد رکھی ہو) آپ نے ترویہ کے دن (آٹھ ذوالحجہ کو) ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انہوں نے بتایا منیٰ میں۔ میں نے پوچھا: آپ نے (منیٰ سے) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی؟ انہوں نے کہا ابطح میں۔ پھر کہا: (لیکن تم) اسی طرح کرو جیسے تمہارے امراء کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3166]
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَحَ ".
ایوب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے (واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3167]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَرَى التَّحْصِيبَ سُنَّةً، وَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ يَوْمَ النَّفْرِ بِالْحَصْبَةِ "، قَالَ نَافِعٌ: قَدْ حَصَّبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَاءُ بَعْدَهُ.
صخر بن جویریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ (محصب) میں ادا کرتے تھے۔ نافع نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3168]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " نُزُولُ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ إِذَا خَرَجَ "،
عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ہشام نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ابطح میں ٹھہرنا (اعمال حج کی سنتوں میں سے کوئی) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ (مکہ سے) روانہ ہوتے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3169]
حفص بن غیاث، حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3170]
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَابْنَ عُمَرَ: كَانُوا يَنْزِلُونَ الْأَبْطَح، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ، وَقَالَتْ: " إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ ".
زہری نے سالم سے روایت کی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے۔ زہری نے کہا مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3171]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " لَيْسَ التَّحْصِيبُ بِشَيْءٍ، إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا تحصب (محصب میں ٹھہرنا) کوئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3172]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ : " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْزِلَ الْأَبْطَحَ حِينَ خَرَجَ مِنْ مِنًى، وَلَكِنِّي جِئْتُ فَضَرَبْتُ فِيهِ قُبَّتَهُ فَجَاءَ فَنَزَلَ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَةِ صَالِح، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: عَنْ أَبِي رَافِعٍ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب ان سب نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی انہوں نے صالح بن کیسان سے اور انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کی انہوں نے کہا حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے منیٰ سے نکلے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں ابطح میں قیام کروں لیکن میں (خود) وہاں آیا اور آپ کا خیمہ لگایا اس کے بعد آپ تشریف لائے اور قیام کیا۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے صالح سے (بیان کردہ) روایت میں کہا انہوں (صالح) نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے سنا اور قتیبہ کی روایت میں ہے۔ (سلیمان نے) کہا حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان (کی حفاظت اور نقل و حمل) پر مامور تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3173]
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " نَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ (وادی محصب) میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے باہم کفر پر (قائم رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3174]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ، وَذَلِكَ إِنَّ قُرَيْشًا، وَبَنِي كِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، يَعْنِي بِذَلِكَ: الْمُحَصَّبَ.
اوزاعی نے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے زہری نے حدیث سنائی ہے (کہا) مجھ سے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم منیٰ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”کل ہم خیف بنو کنانہ میں قیام کریں گے جہاں انہوں (قریش) نے آپس میں مل کر کفر پر (ڈٹے رہنے کی) قسم کھائی تھی۔“ واقعہ یہ تھا کہ قریش اور بنو کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے نہ ان سے لین دین کریں گے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں۔ اس (خیف بنی کنانہ) سے آپ کی مراد وادی محصب تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3175]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْزِلُنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاء اللہ جب اللہ نے فتح دی تو ہمارا قیام خیف (محصب) میں ہو گا۔جہاں انہوں (قریش) نے باہم مل کر کفر پر (قائم رہنے کی قسم کھا ئی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3176]
60: باب وُجُوبِ الْمَبِيتِ بِمِنًى لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَالتَّرْخِيصِ فِي تَرْكِهِ لأَهْلِ السِّقَايَةِ:
باب: ایام تشریق کی راتیں منی میں گزارنا واجب ہیں، اور پانی پلانے والوں کو اس کو چھوڑنے کی رخصت۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، قَالَا: حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِي مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ "،
(محمد بن عبداللہ) بن نمیر اور ابواسامہ دو نوں نے کہا ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی اور ابن نمیر نے۔۔۔الفا ظ انھی کے ہیں۔۔۔ اپنے والد کے واسطے سے بھی عبید اللہ سے روایت کی کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ بن المطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ (زمزم پر حاجیوں کو) پا نی پلانے کے لیے منیٰ کی را تیں مکہ میں گزار لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت مرحمت فرما دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3177]
وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عیسیٰ بن یو نس اور ابن جریج دونوں نے عبید اللہ بن عمر (بن حفص) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3178]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حدثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْدَ الْكَعْبَةِ، فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ، فقَالَ: مَا لِي أَرَى بَنِي عَمِّكُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ، وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ، أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ، وَلَا بُخْلٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ، فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ، فَشَرِبَ وَسَقَى فَضْلَهُ أُسَامَةَ وَقَالَ: أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَا، فَاصْنَعُوا، فَلَا نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
بکر بن عبداللہ مزنی نے کہا: میں کعبہ کے پاس حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے چچا زاد (حاجیوں کو) دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور تم نبیذ پلاتے ہو؟ یہ تمہیں لازماً حاجت مندی کی وجہ سے ہے یا بخیلی کی وجہ سے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: الحمد للہ نہ ہمیں حاجت مندی لازماً ہے اور نہ بخیلی (اصل بات یہ ہے کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر (سوار ہو کر) تشریف لائے اور آپ کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے، آپ نے پانی طلب فرمایا تو ہم نے آپ کو نبیذ کا ایک برتن پیش کیا، آپ نے خود پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ عنہ کو پلایا اور فرمایا: ”تم لوگوں نے اچھا کیا اور بہت خوب کیا، اسی طرح کرتے رہنا۔“ لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم اسے بدل دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3179]
61: باب فِي الصَّدَقَةِ بِلُحُومِ الْهَدْيِ وَجُلُودِهَا وَجِلاَلِهَا:
باب: قربانی کے گوشت، کھال اور جھول کو صدقہ کرنے کا حکم، اور قصائی کو ان میں سے کوئی چیز نہ دینے کا حکم، اور قربانی کی نگرانی کے لیے اپنا نائب مقرر کرنے کا جواز۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا، وَجُلُودِهَا، وَأَجِلَّتِهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا، قَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عَنْدِنَا "،
ابو خثیمہ نے ہمیں عبدالکریم سے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور یہ کہ ان کا گوشت کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرت کچھ بھی نہ دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس کو اپنے پاس سے اجرت دیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3180]
ابن عیینہ نے عبدالکریم جزری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3181]
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، وَقَالَ إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيح عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: أَجْرُ الْجَازِرِ.
سفیان اور ہشام دونوں نے ابن ابی نجیحسے انہوں نے مجاہد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ان دونوں کی حدیث میں قصاب کی اجرت کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3182]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبد: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَنَّ مُجَاهِدًا ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا، وَجُلُودَهَا، وَجِلَالَهَا، فِي الْمَسَاكِينِ، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا مِنْهَا شَيْئًا "،
حسن بن مسلم نے خبر دی کہ انھیں مجا ہد نے خبر دی انھیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبردی انھیں علی بن ابی طا لب رضی اللہ عنہ نے خبردی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ آپ کی قر بانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور انھیں حکم دیا کہ آپ کی پو ری قربانیوں کو (یعنی) ان کے گو شت کھالوں اور (ان کی پشت پر ڈالی ہو ئی) جھولوں کو مسکینوں میں تقسیم کر دیں اور ان میں سے کچھ بھی ذبح کی اجرت کے طور پر نہ دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3183]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مُجَاهِدًا ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِمِثْلِهِ.
عبدالکریم بن ما لک جزری نے مجا ہد سے (باقی ماندہ) اسی سابقہ سند کے ساتھ خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا۔۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3184]
62: باب الاِشْتِرَاكِ فِي الْهَدْيِ وَإِجْزَاءِ الْبَقَرَةِ وَالْبَدَنَةِ كُلٍّ مِنْهُمَا عَنْ سَبْعَةٍ:
باب: قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کا جواز، اور ہر ایک (اونٹ اور گائے) میں سات افراد کی شراکت کا جواز۔
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا مَالِكٌ . ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ".
امام ما لک نے ابوزبیر سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم نے سات افراد کی طرف سے ایک اونٹ، سات کی طرف سے ایک گائے کی قربانیاں دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3185]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حدثنا زُهَيْرٌ ، حدثنا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ " فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِكَ فِي الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ كُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ ".
ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گا ئے میں شریک ہو جا ئیں ہم میں سے ساتھ آدمی ایک قربانی میں شر یک ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3186]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَحَرْنَا الْبَعِيرَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ ".
ہمیں عزرہ بن ثابت نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہم نے سات آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک گا ئے (ذبح کی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3187]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " اشْتَرَكْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ "، فقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ: أَيُشْتَرَكُ فِي الْبَدَنَةِ مَا يُشْتَرَكُ فِي الْجَزُورِ؟ قَالَ: مَا هِيَ إِلَّا مِنَ الْبُدْنِ وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ، قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً اشْتَرَكْنَا كُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ.
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی (کہا) مجھے ابوزبیر نے خبرد ی کہ انہوں نے جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرے میں سات آدمی ایک قربانی میں شریک ہوئے تو ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پو چھا کیا احرام کے وقت سے ساتھ لائے گئے قربانی کے جانوروں میں بھی اس طرح شراکت کی جا سکتی ہے جیسے بعد میں خریدے گئے جا نوروں میں شراکت ہو سکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ بھی ساتھ لائے گئے قربانی کے جانوروں ہی کی طرح ہیں۔ اور جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے انہوں نے کہا: ہم نے اس دن ستر اونٹ نحر کیے ہم سات سات آدمی (قربانی کے ایک) اونٹ میں شر یک ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3188]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَأَمَرَنَا إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْهَدِيَّةِ "، وَذَلِكَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ حَجِّهِمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ہمیں محمد بن بکر نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبردی (کہا) ہمیں ابوزبیر نے بتا یا کہ انہوں نے جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال سنا رہے تھے انہوں نے اس حدیث میں کہا: (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) ہمیں حکم دیا کہ جب ہم احرا م کھولیں تو قر بانی کریں اور ہم میں سے چند (سات) آدمی ایک قر بانی میں شر یک ہو جا ئیں اور یہ (حکم اس وقت دیا) جب آپ نے ہمیں اپنے حج کے احرا م کھولنے کا حکم دیا، یہ بات بھی اس حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3189]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ، فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِكُ فِيهَا ".
عطاء نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے مہینوں میں) عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھا تے (حج تمتع کرتے) تو ہم (یو م النحر اور بقیہ ایام تشر یق میں) سات افراد کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کرتے اس (ایک) میں شریک ہو جا تے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3190]
حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ ".
ہمیں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: قر بانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (اور دیگر امہارت المومنین) کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3191]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حدثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ "، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ: عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ.
محمد بن بکر اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا ہمیں ابوزبیر نے خبردی کہ انہوں نے جا بر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے اور ابن بکر کی حدیث میں ہے اپنے حج میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3192]
63: باب نَحْرِ الْبُدْنِ قِيَامًا مُقَيَّدَةً:
باب: کھڑے کھڑے اونٹ کے پاؤں باندھ کر اونٹ کو نحر کرنا مستحب ہے۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَر أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِكَةً، فقَالَ: " ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
 جبیر سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک آدمی کے پاس آئے اور وہ اپنی قربانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا، انہوں نے فرمایا: ”اسے اٹھا کر کھڑی حالت میں گھٹنا باندھ کر نحر کرو، یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3193]
64: باب اسْتِحْبَابِ بَعْثِ الْهَدْيِ إِلَى الْحَرَمِ لِمَنْ لاَ يُرِيدُ الذَّهَابَ بِنَفْسِهِ وَاسْتِحْبَابِ تَقْلِيدِهِ وَفَتْلِ الْقَلاَئِدِ وَأَنَّ بَاعِثَهُ لاَ يَصِيرُ مُحْرِمًا وَلاَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ شيء بِذَلِكَ:
باب: بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کا استحباب، اور بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی۔
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن عائشة ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ "،
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ بن زبیر اور عمر ہ بنت عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قر بانی کے جا نوروں کا ہدیہ بھیجا کرتے تھے اور میں آپ کے ہدیے (کے جانوروں) کے لیے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے ایک احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3194]
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
یو نس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3195]
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انہوں نے عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی نیز ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا جیسے میں خود کو دیکھتی رہی ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانی کے ہار بٹ رہی ہوں۔۔۔ (آگے) اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3196]
وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ، ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ ".
عبدالرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں: میں اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے جا نے والے جانوروں کے ہا ر بٹتی تھی پھر آپ نہ (ایسی) کسی چیز سے الگ ہو تے اور نہ (ایسی کوئی چیز) ترک کرتے تھے (جو احرام کے بغیر آپ کیا کرتے تھے) [صحيح مسلم/حدیث: 3197]
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا أَفْلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حِلًّا ".
افلح نے ہمیں قاسم سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بینوں کے ہار بٹے پھر آپ نے ان کا اشعار کیا (کوہان پر چیر لگا ئے) اور ہا ر پہنائے پھر انھیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور (خود) مدینہ میں مقیم رہے اور آپ پر (انکی وجہ سے) کوئی چیز جو (پہلے) آپ کے لیے حلال تھی حرا م نہ ہو ئی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3198]
وحدثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ أَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يُمْسِكُ، عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ، عَنْهُ الْحَلَالُ ".
ایوب نے قاسم اور ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بیت اللہ کی طرف) ہدی بھیجتے تھے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتنا ب نہ کرتے تھے جس سے کوئی بھی غیر محرم (بغیر احرام والا شخص) اجتناب نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3199]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، حدثنا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَتْ: " أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عَنْدَنَا، فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ ".
ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انہوں نے ام المؤمنین (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ (اپنی ازواج کے پاس) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک (عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3200]
وَحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا ".
منصور نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انہیں (مکہ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرام کے بغیر ہی رہتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3201]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب میں یحییٰ نے کہا: ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ایسا ہوا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی (قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جانے والے جانور) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ (ہار) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انہیں (مکہ) بھیجتے پھر آپ (مدینہ ہی میں) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فرماتے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3202]
وَحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً إِلَى الْبَيْتِ غَنَمًا، فَقَلَّدَهَا ".
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی (قربانی) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انہیں ہار ڈالے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3203]
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: " كُنَّا نُقَلِّدُ الشَّاءَ، فَنُرْسِلُ بِهَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ ".
حکم نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انہیں (بیت اللہ کی طرف) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز (جو پہلے آپ پر حلال تھی) حرام نہ ہوتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3204]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ الْهَدْيُ، وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي، فَاكْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِكِ، قَالَت عَمْرَةُ، قَالَت عَائِشَةُ : " لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، " أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ ".
عمرہ بنت عبدالرحمان نے خبر دی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے جس نے ہدی (بیت اللہ کے لیے قربانی) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرام ہو جائے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرام ہوتا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جائے۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے (اس بارے میں) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (بات) اس طرح نہیں جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ (ہار) انہیں پہنائے پھر انہیں میرے والد کے ساتھ (مکہ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر (قربان) ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر (ایسی) کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3205]
وحدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ تصفق، وتقول: " كنت أفتل قلائد هدي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِكُ، عَنْ شَيْءٍ مِمَّا يُمْسِكُ، عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ "،
اسماعیل بن ابی خالد نے ہمیں خبر دی انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی، انہوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہاتھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بٹا کرتی تھی، پھر آپ انہیں (مکہ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے (کے وقت) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فرماتے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3206]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حدثنا دَاوُدُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا زَكَرِيَّاءُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
داود اور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے اسی سند (حدیث) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3207]
65: باب جَوَازِ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ الْمُهْدَاةِ لِمَنِ احْتَاجَ إِلَيْهَا:
باب: بوقت ضرورت قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کا جواز۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فقَالَ: ارْكَبْهَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فقَالَ: ارْكَبْهَا وَيْلَكَ فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ "،
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزناد سے انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔“ دوسری یا تیسری مرتبہ (یہ الفاظ کہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3208]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً.
مغیرہ بن عبدالرحمان حزامی نے ابوزناد سے اور انہوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3209]
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا "، فقَالَ: بَدَنَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَيْلَكَ ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ ارْكَبْهَا ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ نے فرمایا: ”تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔ تمہاری ہلاکت! اس پر سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3210]
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا: حدثنا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَنَسٍ. ح وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، فقَالَ: " ارْكَبْهَا "، فقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: " ارْكَبْهَا "، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے جواب دیا یہ قربانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ دو یا تین مرتبہ (فرمایا)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3211]
وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ، فقَالَ: " ارْكَبْهَا "، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ، فقَالَ: " وَإِنْ "،
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انہوں نے بکیر بن اخنس سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے ان (حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قربانی کے ایک اونٹ یا (حرم کے لیے) ہدیہ کیے جانے والے ایک جانور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ یا ہدی کا جانور ہے آپ نے فرمایا: ”چاہے (ایسا ہی ہے)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3212]
وحدثناه أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا ابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ الْأَخْنَسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قربانی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3213]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ".
ابن جریج سے روایت ہے (انہوں نے کہا) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: ”جب اس (پر سوار ہونے) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف (قابل قبول) طریقے سے اس پر سواری کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3214]
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا ".
ہمیں معقل نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہدی (بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قربانی) پر سواری کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3215]
66: باب مَا يُفْعَلُ بِالْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ فِي الطَّرِيقِ:
باب: قربانی کا جانور چلتے چلتے راستے میں تھک جائے تو کیا کیا جائے؟
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ سَلَمَةَ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ مُعْتَمِرَيْنِ، قَالَ: وَانْطَلَقَ سِنَانٌ مَعَهُ بِبَدَنَةٍ يَسُوقُهَا، فَأَزْحَفَتْ عَلَيْهِ بِالطَّرِيقِ فَعَيِيَ بِشَأْنِهَا إِنْ هِيَ أُبْدِعَتْ كَيْفَ يَأْتِي بِهَا، فقَالَ: لَئِنْ قَدِمْتُ الْبَلَدَ لَأَسْتَحْفِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَأَضْحَيْتُ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْبَطْحَاءَ، قَالَ: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، نَتَحَدَّثْ إِلَيْهِ، قَالَ: فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ بَدَنَتِهِ، فقَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتَّ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ وَأَمَّرَهُ فِيهَا، قَالَ: فَمَضَى، ثُمَّ رَجَعَ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا أُبْدِعَ عَلَيَّ مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَيْهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ "،
ہمیں عبدالوارث بن سعید نے ابوتیاح ضبعی سے خبر دی (کہا) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قربانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے (یہ سمجھنے سے) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ کیسے لائیں۔ انہوں نے کہا: اگر میں بلد (امین مکہ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پوچھوں گا۔ (موسیٰ نے) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلیں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ کہا انہوں نے ان کو اپنی قربانی کے جانور کا حال بتایا تو انہوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس پہنچے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پاس قربانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنایا۔ کہا وہ (تھوڑی دور) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اس کے ساتھ میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں ڈالے گئے) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انہیں (بطور نشانی) اس کے پہلو پر رکھ دینا۔ اور (احرام کی حالت میں) تم اور تمہارے ساتھ جانے والوں میں سے کوئی اس (کے گوشت میں) سے کچھ نہ کھائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3216]
وحدثناه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاح ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ.
اسماعیل بن علیہ نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی انہوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے۔۔۔ پھر عبدالوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور انہوں نے حدیث کا ابتدائی حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3217]
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حدثنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ ذُؤَيْبًا أَبَا قَبِيصَةَ ، حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَعَهُ بِالْبُدْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَخَشِيتَ عَلَيْهِ مَوْتًا، فَانْحَرْهَا، ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهَا، وَلَا تَطْعَمْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ ".
ابوقبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے پھر فرماتے اگر ان میں سے کوئی تھک کر رک جائے اور تمہیں اس کے مر جانے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے (گلے میں لٹکائے گئے) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے (کچھ) کھانا نہ تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی (اس میں کھائے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3218]
67: باب وُجُوبِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ:
باب: طواف وداع کے وجوب اور حائضہ عورت سے طواف معاف ہونے کا بیان۔
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ "، قَالَ زُهَيْرٌ: يَنْصَرِفُونَ كُلَّ وَجْهٍ، وَلَمْ يَقُلْ فِي.
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں سفیان نے سلیمان احول سے حدیث بیان کی انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگ (حج کے بعد) ہر سمت میں نکل (کر چلے) جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص ہرگز روانہ نہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری (بطور طواف) بیت اللہ کی ہو۔“ زہیر نے کہا: ”ہر سمت“ اور ”(ہر سمت) میں“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3219]
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أُمِرَ النَّاسُ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِمْ بِالْبَيْتِ إِلَّا أَنَّهُ خُفِّفَ، عَنِ الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ ".
طاؤس کے بیٹے (عبداللہ) نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضری بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے (وہ آخری طواف سے مستثنیٰ ہے)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3220]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ، فقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَجَعَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَضْحَكُ، وَهُوَ يَقُولُ: مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ.
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انہوں نے کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری (طواف) سے پہلے (اس کے بغیر) لوٹ سکتی ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: اگر (آپ کو یقین) نہیں تو فلاں انصاریہ سے پوچھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بات کا حکم دیا تھا؟ کہا: اس کے بعد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3221]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، حدثنا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةَ أن عائشة ، قَالَت: حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَت عَائِشَةُ: فَذَكَرْتُ حِيضَتَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟ "، قَالَت: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَفَاضَتْ، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ الْإِفَاضَة، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " فَلْتَنْفِرْ "،
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ اور عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کے حیض کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں (واپسی سے) روکنے والی ہیں؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ (طواف افاضہ کے لیے) گئی تھیں اور بیت اللہ کا طواف کیا تھا پھر (طواف) افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہوئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو (پھر ہمارے ساتھ ہی) کوچ کریں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3222]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ أَحْمَدُ حدثنا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَت: طَمِثَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ طَاهِرًا، بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ،
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کے موقع پر طہارت کی حالت میں طواف افاضہ کر لینے کے بعد حائضہ ہو گئیں۔۔۔ آگے لیث کی حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3223]
وحدثنا قُتَيْبَةُ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حدثنا أَيُّوبُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ صَفِيَّةَ قَدْ حَاضَتْ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد (قاسم بن محمد بن ابی بکر) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں آگے زہری کی حدیث کے ہم معنی (الفاظ ہیں)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3224]
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا أَفْلَح ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كُنَّا نَتَخَوَّفُ أَنْ تَحِيضَ صَفِيَّةُ قَبْلَ أَنْ تُفِيضَ، قَالَت: فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَحَابِسَتُنَا صَفِيَّةُ؟ "، قُلْنَا: قَدْ أَفَاضَتْ، قَالَ: " فَلَا إِذَنْ ".
افلح نے ہمیں قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا ہم ڈر رہی تھیں کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کرنے سے پہلے حائضہ نہ ہو جائیں۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا صفیہ ہمیں روکنے والی ہیں؟“ ہم نے عرض کی وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں آپ نے فرمایا: ”تو پھر نہیں روکیں گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3225]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَت لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ قَدْ حَاضَتْ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلَّهَا تَحْبِسُنَا، أَلَمْ تَكُنْ قَدْ طَافَتْ مَعَكُنَّ بِالْبَيْتِ؟ "، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَاخْرُجْنَ ".
عمرہ بنت عبدالرحمان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید ہمیں (واپسی سے) روک لیں گی کیا انہوں نے تمہارے ساتھ بیت اللہ کا طواف (طواف افاضہ) نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا کیوں نہیں آپ نے فرمایا: ”تو پھر کوچ کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3226]
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ مِنْ صَفِيَّةَ بَعْضَ مَا يُرِيدُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، فقَالُوا: إِنَّهَا حَائِضٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " وَإِنَّهَا لَحَابِسَتُنَا "، فقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ زَارَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: " فَلْتَنْفِرْ مَعَكُمْ ".
ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ایسا کوئی کام چاہا جو ایک آدمی اپنی بیوی سے چاہتا ہے تو سب (ازواج) نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ حائضہ ہیں آپ نے فرمایا: ”تو (کیا) یہ ہمیں (کوچ کرنے سے) روکنے والی ہیں؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انہوں نے قربانی کے دن طواف زیارت (طواف افاضہ) کر لیا تھا آپ نے فرمایا: ”تو وہ بھی تمہارے ساتھ کوچ کریں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3227]
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ . ح وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ إِذَا صَفِيَّةُ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً، فقَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا "، ثُمَّ قَالَ لَهَا: " أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ "، قَالَت: نَعَمْ، قَالَ: " فَانْفِرِي "،
حکم نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب روانگی کا ارادہ کیا تو اچانک (دیکھا کہ) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر دل گیر اور پریشان کھڑی تھیں آپ نے فرمایا: ”تمہارا نہ کوئی بال نہ بچہ! (پھر بھی) تم ہمیں (یہیں) روکنے والی ہو۔“ پھر آپ نے ان سے پوچھا: ”کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کیا تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں آپ نے فرمایا: ”تو (پھر) چلو۔“ (یعنی ان کے پاس جا کر ان سے بھی پوچھا اور تصدیق کی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3228]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَكَمِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَا يَذْكُرَانِ: كَئِيبَةً حَزِينَةً.
اعمش اور منصور دونوں نے ابراہیم سے انہوں نے اسود سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ (آگے) حکم کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے البتہ وہ دونوں (ان کے) غمزدہ اور پریشان ہونے کا ذکر نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3229]
68: باب اسْتِحْبَابِ دُخُولِ الْكَعْبَةِ لِلْحَاجِّ وَغَيْرِهِ وَالصَّلاَةِ فِيهَا وَالدُّعَاءِ فِي نَوَاحِيهَا كُلِّهَا:
باب: حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبہ میں داخل ہونے اور اس کے تمام اطراف میں نماز پڑھنے اور دعا کرنے کا استحباب۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، هُوَ وَأُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ، فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثَ فِيهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " جَعَلَ عَمُودَيْنِ، عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا، عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ انہوں (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) نے (آپ کے لیے) اس کا دروازہ بند کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ٹھہرے رہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اندر) کیا کیا؟ انہوں نے کہا آپ نے دو ستون اپنی بائیں طرف ایک ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کی طرف رکھے۔ ان دنوں بیت اللہ (کی عمارت) چھ ستونوں پر (قائم) تھی پھر آپ نے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3230]
حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، كُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو كَامِلٍ : حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَنَزَلَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، وَأَرْسَلَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ، فَجَاءَ بِالْمِفْتَحِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ، فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا، ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَادَرْتُ النَّاسَ، فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا، وَبِلَالٌ عَلَى إِثْرِهِ، فَقُلْتُ لِبِلَالٍ : " هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ، أَيْنَ؟ قَالَ: " بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ "، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى،
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ بیت اللہ کے صحن میں اترے اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ چابی لے کر حاضر ہوئے اور دروازہ کھولا کہا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے آپ نے دروازے کے بارے میں حکم دیا تو اسے بند کر دیا گیا وہ سب خاصی دیر وہاں ٹھہرے پھر انہوں (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) نے دروازہ کھولا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے سب لوگوں سے سبقت کی اور باہر نکلتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فرمائی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں میں نے پوچھا کہاں؟ انہوں نے کہا: دو ستونوں کے درمیان جو آپ کے سامنے تھے (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3231]
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَى نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّى أَنَاخَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ، فقَالَ: " ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ "، فَذَهَبَ إِلَى أُمِّهِ، فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ، فقَالَ: وَاللَّهِ لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي، قَالَ: فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.
سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی اونٹنی پر (سوار ہو کر) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور کہا: مجھے (بیت اللہ کی) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انہیں چابی دینے سے انکار کر دیا انہوں نے کہا یا تو تم یہ چابی مجھے دو گی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جائے گی، کہا تو اس نے وہ چابی انہیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چابی انہی کو دے دی تو انہوں (ہی) نے دروازہ کھولا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3232]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، وَمَعَهُ أُسَامَةُ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَجَافُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ طَوِيلًا، ثُمَّ فُتِحَ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَقُلْتُ: أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فقَالَ: " بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ "، فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ کے ساتھ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے اپنے پیچھے خاصی دیر دروازہ بند کیے رکھا پھر (دروازہ) کھولا گیا تو میں پہلا شخص تھا جو (دروازے سے) داخل ہوا میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کیا) ادا کی؟ انہوں نے کہا: آگے کے دو ستونوں کے درمیان جو آپ کے سامنے تھے (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) کہا: میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3233]
وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الْكَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِلَالٌ ، وَأُسَامَةُ ، وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ، قَالَ: فَمَكَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ، فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ، فَقُلْتُ: " أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: هَا هُنَا "، قَالَ: وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ كَمْ صَلَّى.
عبداللہ عون نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہو چکے تھے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے دروازہ بند کیا۔ کہا وہ اس میں کافی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے میں سیڑھی چڑھا اور بیت اللہ میں داخل ہوا میں نے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہاں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا اس جگہ کہا میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3234]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ . ح وحدثنا ابْنُ رُمْح ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ، فَلَقِيتُ بِلَالًا ، فَسَأَلْتُهُ: هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: نَعَمْ، " صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ".
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ انہوں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا جب انہوں نے دروازہ کھولا تو میں سب سے پہلا شخص تھا جو (کعبہ میں) داخل ہوا میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں آپ نے دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3235]
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ، وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ، ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَأَخْبَرَنِي بِلَالٌ ، أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ ".
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی (کہا) مجھے سالم بن عبداللہ نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے خبر دی انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ اور کوئی داخل نہیں ہوا پھر ان کے پیچھے دروازہ بند کر دیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا مجھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ یا حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر دو یمنی ستونوں کے درمیان نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3236]
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ ابْنِ بَكْرٍ، قَالَ عبد: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ، وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ يَنْهَى عَنْ دُخُولِهِ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، حَتَّى خَرَجَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ "، قُلْتُ لَهُ: مَا نَوَاحِيهَا، أَفِي زَوَايَاهَا، قَالَ: " بَلْ فِي كُلِّ قِبْلَةٍ مِنَ الْبَيْتِ ".
ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تمہیں طواف کا حکم دیا گیا ہے اس (بیت اللہ) میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا انہوں نے جواب دیا وہ اس میں داخل ہونے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز ادا نہیں کی۔ یہاں تک کہ باہر آگئے جب آپ تشریف لائے تو قبلہ کے سامنے کی طرف دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ میں نے ان سے پوچھا: اس کے اطراف سے کیا مراد ہے؟ کیا اس کے کونوں میں؟ انہوں نے کہا: بلکہ بیت اللہ کی ہر جہت میں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3237]
حدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حدثنا هَمَّامٌ ، حدثنا عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ، فَقَامَ عَنْدَ سَارِيَةٍ، فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے اور اس میں چھ ستون تھے آپ نے ایک ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی اور (وہاں) نماز ادا نہیں کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3238]
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ؟ قَالَ: لَا.
ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرے کے دوران میں بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا نہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3239]
69: باب نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا:
باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا "،
ابومعاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہوتا تو میں ضرور کعبہ کو گراتا اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اساس پر استوار کرتا قریش نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا تھا میں (اصل تعمیر کے مطابق) اس کا پچھلا دروازہ بھی بناتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3240]
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن نمیر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3241]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ "، قَالَت: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْت "، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ.
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا۔“ کہا میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں لوٹائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہوتا تو میں (ضرور ایسا) کرتا۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے قریبی دونوں ارکان کا استلام اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کیا (ہو، اصل وجہ یہ تھی) کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا (تعمیر) نہیں کیا گیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3242]
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، أَوَ قَالَ: بِكُفْرٍ، لَأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ، وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ ".
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنا رہے تھے انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: ”اگر تمہاری قوم جاہلیت۔۔۔ یا فرمایا زمانہ کفر۔۔۔ سے ابھی ابھی نہ نکلی ہوتی تو میں ضرور کعبہ کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا اور حجر (حطیم) کو کعبہ میں شامل کر دیتا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3243]
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ: بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ ".
سعید یعنی ابن بیناء سے روایت ہے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ مجھ سے میری خالہ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا شرک کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا تو میں ضرور کعبہ کو گراتا اس (کے دروازے) کو زمین کے ساتھ لگا دیتا اور میں اس کے دو دروازے شرقی دروازہ اور دوسرا غربی دروازہ بناتا اور حجر (حطیم) اسے چھ ہاتھ (کا حصہ) اس میں شامل کر دیتا۔ بلاشبہ قریش نے جب کعبہ تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3244]
حدثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا، ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا، أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ، إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا، فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عَنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ "، قَالَ: فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ، قَالَ: فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ، وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ.
عطاء سے روایت ہے انہوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے (مکہ پر) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے (اسی حالت پر) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے موسم میں لوگ (مکہ) آنے لگے وہ چاہتے تھے کہ انہیں ہمت دلائیں۔۔۔ یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھاریں۔۔۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر (از سر نو) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بوسیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہوئی ہے میری رائے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس کی مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو (اسی طرح باقی) رہنے دیں جس پر لوگ اسلام لائے اور ان پتھروں کو (باقی چھوڑ دیں) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جائے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اسے نیا (نہ) بنا لے تو تمہارے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا۔ جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے اپنی رائے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لوگ (اس ڈر سے) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس (عمارت) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کوئی آفت نازل ہو جائے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرا دیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے (گرانے لگے) حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند (عارضی) ستون بنائے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر (مکمل کرنے) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ (زمین) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک (ایسا) دروازہ بناتا جس سے لوگ اندر داخل ہوتے اور ایک دروازہ (ایسا بناتا) جس سے باہر نکلتے۔“ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کر سکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں (عطاء نے) کہا تو انہوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے (کھدائی کی) حتیٰ کہ انہوں نے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) بنیاد کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انہوں نے اس پر عمارت بنائی کعبہ کا طول (اونچائی) اٹھارہ ہاتھ تھی (یہ اس طرح ہوئی کہ) جب انہوں نے (حطیم کی طرف سے) اس میں اضافہ کر دیا تو (پہلی اونچائی) کم محسوس ہوئی چنانچہ انہوں نے اس کی اونچائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر داخلہ ہوتا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جاتا تھا جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اطلاع دیتے ہوئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعمیر اس (ابراہیمی) بنیادوں پر استوار کی جسے اہل مکہ کے معتبر (عدول) لوگوں نے (خود) دیکھا عبدالملک نے اسے لکھا۔ ہمارا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد و بدل سے کوئی تعلق نہیں البتہ انہوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے برقرار رہنے دو اور جو انہوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے (ختم کر کے) اس کی سابقہ بنیاد پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انہوں نے کھولا ہے چنانچہ اس نے اسے گرا دیا اس کی (پچھلی) بنیاد پر لوٹا دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3245]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، يحدثان: عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَفَدَ الْحَارِثُ بن عبد الله، على عبد الملك بن مروان، في خلافته، فقال عبد الملك: ما أظن أبا خبيب يعني ابن الزبير، سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ : بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ "، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ "، قَالَت: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ "، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ،
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبداللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبداللہ۔ عبدالملک بن مروان کی خلافت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبدالملک نے کہا: میرا خیال نہیں کہ ابوخبیب یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو۔ حارث نے کہا: کیوں نہیں! میں نے خود ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سنا ہے اس نے کہا: تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں؟ کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہاری قوم نے (اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شرک قریب کا نہ ہوتا تو جو انہوں نے چھوڑا تھا میں اسے دوبارہ بناتا اور تمہاری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنانے کا خیال ہو تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں انہوں نے اس میں سے کیا چھوڑا تھا۔“ پھر آپ نے انہیں سات ہاتھ کے قریب جگہ دکھائی۔ یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور میں زمین سے لگے ہوئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ اور کیا تو جانتی ہو تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فرمایا: ”خود کو اونچا دکھانے کے لیے تاکہ اس (گھر) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چاہیں جب کوئی آدمی خود اس میں داخل ہونا چاہتا تو وہ اسے (سیڑھیاں) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہونے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جاتا۔“ عبدالملک نے حارث سے کہا: تم نے خود انہیں یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں! کہا: تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا، پھر کہا: کاش! میں انہیں (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو) اور جس کام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائی اسے چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3246]
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حدثنا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ.
ابوعاصم اور عبدالرزاق دونوں نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (محمد) بن بکر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3247]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حدثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ "، فقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا، قَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ.
ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان جب بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا تو اس نے کہا: اللہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے کہ وہ ام المؤمنین پر جھوٹ بولتا ہے وہ کہتا ہے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تمہاری قوم کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو گراتا حتیٰ کہ اس میں حطیم میں سے (کچھ حصہ) بڑھا دیتا بلاشبہ تمہاری قوم نے اس کی عمارت کو کم کر دیا ہے۔“ اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین ایسا نہ کہیے۔ میں نے خود ام المؤمنین سے سنا ہے وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں۔ (عبدالملک نے) کہا اگر میں نے یہ بات اسے گرا نے سے پہلے سن لی ہوتی تو میں اسے اسی طرح چھوڑ دیتا جس طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بنایا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3248]
70: باب جَدْرِ الْكَعْبَةِ وَبَابِهَا:
باب: خانہ کعبہ کی دیواروں اور دروازوں کا بیان۔
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، حدثنا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَ: " إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ "، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟ قَالَ: " فَعَلَ ذَلِكِ قَوْمُكِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا، وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ، لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ "،
ابوحوص نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں اشعث بن ابی شعثاء نے اسود بن یزید سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حطیم کی) دیوار کے بارے میں دریافت کیا کیا وہ بیت اللہ میں سے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کی: تو انہوں نے اسے بیت اللہ میں شامل کیوں نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہاری قوم کے پاس خرچ کم پڑ گیا تھا۔“ میں نے عرض کی اس کا دروازہ کیوں اونچا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کام تمہاری قوم نے کیا تاکہ جسے چاہیں اندر داخل ہونے دیں اور جسے چاہیں منع کر دیں اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت کے قریب کا نہ ہوتا اس وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ ان کے دل اسے ناپسند کریں گے تو میں اس پر غور کرتا کہ (حطیم کی) دیوار کو بیت اللہ میں شامل کر دوں اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3249]
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، حدثنا شَيْبَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا لَا يُصْعَدُ إِلَيْهِ إِلَّا بِسُلَّمٍ، وَقَالَ: مَخَافَةَ أَنْ تَنْفِرَ قُلُوبُهُمْ.
شیبان نے ہمیں اشعث بن ابی شعثاء سے حدیث بیان کی انہوں نے اسود بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا۔ آگے ابوحوص کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور اس میں کہا: میں نے عرض کی: اس کا دروازہ کسی وجہ سے اونچا ہے اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا۔ اور (شیبان نے یہ بھی) کہا: اس ڈر سے کہ ان کے دل اسے ناپسند کریں گے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3250]
71: باب الْحَجِّ عَنِ الْعَاجِزِ لِزَمَانَةٍ وَهِرَمٍ وَنَحْوِهِمَا أَوْ لِلْمَوْتِ:
باب: عاجز اور بوڑھے وغیرہ یا میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ، فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ خشعم کی ایک خاتون آئی وہ آپ سے فتویٰ پوچھنے لگی حضرت فضل رضی اللہ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ دوسری جانب پھیرنے لگے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کیا ہوا حج میرے کمزور اور بوڑھے والد پر بھی آگیا ہے وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور یہ حجۃ الوداع میں ہوا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3251]
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ : أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلَيْهِ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ، فقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَحُجِّي عَنْهُ ".
ابن جریج نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے والد عمر رسیدہ ہیں اور اللہ کا فریضہ حج ان کے ذمے ہے اور اونٹ کی پشت پر ٹھیک طرح بیٹھ نہیں سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی طرف سے حج کر لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3252]
72: باب صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَأَجْرِ مَنْ حَجَّ بِهِ:
باب: بچے کے حج کے صحیح ہونے کا بیان، اور اس کو حج کرانے والے کے ثواب کا بیان۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ، فقَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ؟ "، قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، فقَالُوا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: " رَسُولُ اللَّهِ "، فَرَفَعَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا، فقَالَت أَلِهَذَا حَجٌّ؟، قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابراہیم بن عقبہ سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ کریب سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ روہاء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ایک قافلے سے ہوئی آپ نے پوچھا: ”کون لوگ ہیں؟“ انہوں نے کہا: مسلمان ہیں پھر انہوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔“ اسی دوران میں ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3253]
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ ".
ابواسامہ نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3254]
وَحَدَّثَنِي وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ : أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ "،
عبدالرحمان نے سفیان سے انہوں نے ابراہیم بن عقبہ سے اور انہوں نے کریب سے روایت کی کہ: ایک عورت نے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا حج ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور تمہارے لیے اجر ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3255]
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے روایت کی کہا ہمیں عبدالرحمان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3256]
73: باب فَرْضِ الْحَجِّ مَرَّةً فِي الْعُمْرِ:
باب: زندگی میں ایک مرتبہ حج کے فرض ہونے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا "، فقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ، ثُمَّ قَالَ: ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَدَعُوهُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو۔“ ایک آدمی نے کہا: کیا ہر سال؟ اے اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ جملہ تین بار دہرایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دیتا: ہاں تو واجب ہو جاتا اور تم (اس کی) استطاعت نہ رکھتے۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”تم مجھے اسی (بات) پر رہنے دیا کرو جس پر میں تمہیں چھوڑ دوں تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور اپنے انبیاء علیہم السلام سے زیادہ اختلاف کی بنا پر ہلاک ہوئے۔ جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3257]
74: باب سَفَرِ الْمَرْأَةِ مَعَ مَحْرَمٍ إِلَى حَجٍّ وَغَيْرِهِ:
باب: عورت کو محرم کے ساتھ حج وغیرہ کا سفر کرنے کا بیان۔
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ "،
یحییٰ بن یحییٰ القطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی (کہا) مجھے نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت تین (دن رات) کا سفر نہ کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3258]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فِي رِوَايَةِ أَبِي بَكْرٍ: فَوْقَ ثَلَاثٍ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ أَبِيهِ: ثَلَاثَةً إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا: ہم سے عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے حدیث بیان کی نیز عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ان سب نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ اور عبداللہ بن نمیر نے اپنے والد سے بیان کردہ روایت میں کہا: تین دن مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3259]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ ".
ضحاک نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ وہ تین راتوں کا سفر کرے مگر اس طرح کہ ساتھ محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3260]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جميعا عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى "، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ يَوْمَيْنِ مِنَ الدَّهْرِ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا أَوْ زَوْجُهَا "،
جریر نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے قزعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (قزعہ نے) کہا: میں نے ان (حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) سے ایک حدیث سنی جو مجھے بہت اچھی لگی۔ تو میں نے ان سے کہا: آپ نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ بات کہہ سکتا ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی! (قزعہ نے) کہا میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عبادت کی غرض سے) تین مسجدوں کے سوا کسی طرف رخت سفر نہ باندھو: میری مسجد، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔“ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”کوئی عورت کسی بھی وقت دو دن کا سفر نہ کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو یا اس کا شوہر ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3261]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَزَعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا، فَأَعْجَبْنَنِي وَآنَقْنَنِي: نَهَى أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ، إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ، وَاقْتَصَّ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
شعبہ نے ہمیں عبدالملک بن عمیر سے حدیث بیان کی۔ کہا میں نے قزعہ سے سنا انہوں نے کہا میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنیں جو مجھے بہت اچھی لگیں اور بہت پسند آئیں۔ آپ نے منع فرمایا کہ کوئی عورت دو دن کا سفر کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم ہو۔ اور آگے باقی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3262]
حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ".
سہم بن منجاب نے قزعہ سے انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم ساتھ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3263]
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، جميعا عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ : حدثنا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ "،
معاذ عنبری نے قتادہ سے حدیث بیان کی انہوں نے قزعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت تین راتوں سے زیادہ کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3264]
وحدثناه ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثٍ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ.
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا: تین (دن) سے زیادہ کا سفر مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3265]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ، إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا ".
لیث نے ہمیں سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی انہوں نے اپنے والد سے روایت کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلما ن عورت کے لیے حلال نہیں وہ ایک رات کی مسافت طے کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ ایسا آدمی ہو جو اس کا محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3266]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حدثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ ".
ابن ابی ذئب سے روایت ہے (کہا) ہمیں سعید بن ابی سعید نے اپنے والد سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے حلال نہیں کہ وہ ایک دن کی مسافت طے کرے مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3267]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ عَلَيْهَا ".
امام مالک رحمہ اللہ نے سعید بن ابی سعید مقبری سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور رات کا سفر کرے مگر اس طرح کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3268]
حدثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حدثنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُسَافِرَ ثَلَاثًا، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا ".
ابوصالح نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سفر کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3269]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا، إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، أَوِ ابْنُهَا، أَوْ زَوْجُهَا، أَوْ أَخُوهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا "،
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی انہوں نے ابوصالح سے انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد کا سفر کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا اس کا بیٹا یا اس کا خاوند یا اس کا بھائی یا اس کا کوئی محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3270]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَا: حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ.
وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3271]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حدثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: " لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَلَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ "، فَقَامَ رَجُلٌ، فقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً، وَإِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " انْطَلِقْ، فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ "،
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں عمرو بن دینار نے ابومعبدسے حدیث بیان کی (کہا) میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے: ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہرگز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔ اور کوئی عورت سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو۔“ ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی حج کے لیے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جا چکا ہے آپ نے فرمایا: ”جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3272]
وحدثناه أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،
حماد نے ہمیں عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3273]
وَحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ.
ابن جریج نے (عمرو بن دینار سے) اسی سند کے ساتھ اسی کے معنی روایت بیان کی اور یہ (جملہ) ذکر نہیں کیا: ”کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہرگز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3274]
75: بَابُ اسْتِحُبَابِ الذِّكْرِ إِذَا رَكِبَ دَابَّتَهُ مُتَوَجِّهَا لَسَفَرِ حَجُّ أَوْ غَرْرِهِ وَبَيَانِ الْأَفْضَلِ مِنْ ذٰلِكَ الذِّكْرِ
باب: مسافر کو حج وغیرہ کے موقع پر سواری پر سوار ہو کر ذکر و ازکار کرنا مستحب ہے، اور اس ذکر میں سے سب سے افضل ذکر کا بیان۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، عَلَّمَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُون، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنْا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَإِذَا رَجَعَ، قَالَ: " هُنَّ وَزَادَ فِيهِنَّ آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ".
حضرت علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سفر میں جانے کے لیے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے، پھر یہ دعا پڑھتے: سبْحانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ. ”پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں {الزخرف: 13، 14} اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور ایسے کام کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرے۔ اے اللہ! ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہم پر تھوڑا کر دے۔ اے اللہ تو ہی سفر میں رفیق سفر اور گھر میں نگران ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور اپنے مال اور گھر والوں میں برے حال میں لوٹ کر آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (یہ تو جاتے وقت پڑھتے) اور جب لوٹ کر آتے تو بھی یہی دعا پڑھتے مگر اس میں اتنا زیادہ کرتے کہ: آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. ”ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے، خاص اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی تعریف کرنے والے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3275]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ، وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ "،
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عاصم احول سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو سفر کی مشقت، واپسی میں اکتاہٹ، اکٹھا ہونے کے بعد بکھر جانے، مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و مال میں سے کسی برے منظر سے پناہ مانگتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3276]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَاحِدِ: فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ خَازِمٍ، قَالَ: يَبْدَأُ بِالْأَهْلِ إِذَا رَجَعَ، وَفِي رِوَايَتِهِمَا جَمِيعًا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ.
ابومعاویہ (محمد بن خازم) اور عبدالواحد دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی، مگر عبدالواحد کی حدیث میں ”مال اور اہل میں“ کے الفاظ ہیں اور محمد بن خازم کی روایت میں ہے، کہا: ”جب آپ واپس آتے تو اہل (کی سلامتی کی دعا) سے ابتدا کرتے“ اور (یہ) دونوں کی روایت میں ہے: ”اے اللہ! میں سفر کی تکان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3277]
76: باب مَا يَقُولُ إِذَا قَفَلَ مِنْ سَفَرٍ الْحَجِّ وَغَيْرِهِ:
باب: جب حج وغیرہ کے سفر سے واپس لوٹے تو کیا دعائیں پڑھے۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْجُيُوشِ، أَوِ السَّرَايَا، أَوِ الْحَجِّ، أَوِ الْعُمْرَةِ، إِذَا أَوْفَى عَلَى ثَنِيَّةٍ، أَوْ فَدْفَدٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ "،
عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بڑے لشکروں یا چھوٹے دستوں (کی مہموں) سے یا حج یا عمرے سے لوٹتے تو جب آپ کسی گھاٹی یا اونچی جگہ پر چڑھتے، تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر فرماتے: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، سارا اختیار اسی کا ہے۔ حمد اسی کے لیے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سجدہ کرنے والے، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا اسی نے تمام جماعتوں کو شکست دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3278]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا معنَ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحدثنا ابْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ إِلَّا حَدِيثَ أَيُّوبَ، فَإِنَّ فِيهِ التَّكْبِيرَ مَرَّتَيْنِ.
ایوب، امام مالک رحمہ اللہ اور ضحاک سب نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی، سوائے ایوب کی حدیث کے، اس میں تکبیر دو مرتبہ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3279]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا، وَأَبُو طَلْحَةَ، وَصَفِيَّةُ رَدِيفَتُهُ عَلَى نَاقَتِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِظَهْرِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: " آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ "، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ،
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (سفر سے) واپس آئے اور حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے (سوار) تھیں۔ جب ہم مدینہ کے بالائی حصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔ آپ مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3280]
وحدثنا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حدثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3281]
77: بَابُ اسْتِحُبَابِ النُّزُولِ بِبَطْحاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَالصَّلَاةِ بِهَا إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَغَيْرِهِمَا فَمَرَّ بِهَا
باب: حج اور عمرہ وغیرہ کی غرض سے گزرنے والوں کے لئے بطحائے ذی الخلیفہ میں نماز پڑھنے کا استحباب۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَصَلَّى بِهَا "، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارانی پانی کی سنگریزوں اور ریت والی گزرگاہ (بطحاء) میں جو ذوالحلیفہ میں ہے، اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز ادا کی۔ (نافع نے) کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسی طرح کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3282]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ " يُنِيخُ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنِيخُ بِهَا، وَيُصَلِّي بِهَا ".
لیث نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس ریتلی پتھریلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور نماز ادا کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3283]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ يَعْنِي أَبَا ضَمْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ الَّتِي كَانَ يُنِيخُ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
انس (بن عیاض)، یعنی ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرے سے لوٹتے تو اس پتھریلی ریتلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3284]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حدثنا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ ".
حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی استراحت کی جگہ پر (ایک آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3285]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي، فَقِيلَ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ "، قَالَ مُوسَى: وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمُنَاخِ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي، بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ.
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی، (کسی آنے والے کو) بھیجا گیا، اور آپ سے کہا گیا: آپ مبارک وادی میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا: سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما بٹھایا کرتے تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی، جو وادی کے درمیان میں تھی، اس (مسجد) کے اور قبلے کے درمیان، اس کے وسط میں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3286]
78: باب لاَ يَحُجُّ الْبَيْتَ مُشْرِكٌ وَلاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَبَيَانُ يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ:
باب: مشرک نہ تو بیت اللہ کا حج کرے اور نہ ہی بیت اللہ کا کوئی برہنہ ہو کر طواف کرے اور حج اکبر کے دن کا بیان۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُونَ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ: " لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: يَوْمُ النَّحْرِ، يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.
عمرو (بن حارث) نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان (بن عوف) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، نیز بونس (بن یزید ایلی) نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے اس حج میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے انہیں امیر بنایا تھا، ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ لوگ قربانی کے دن لوگوں میں (یہ) اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف کرے گا۔ ابن شہاب نے کہا: حمید بن عبدالرحمان (بن عوف) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی بنا پر کہا کرتے تھے: قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3287]
79: باب فَضْلِ يَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: عرفہ کے دن کی فضیلت۔
حدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالا: حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ ، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: قَالَت عَائِشَةُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ، وَإِنَّهُ لَيَدْنُو، ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ، فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو، وہ (اپنے بندوں کے) قریب ہوتا ہے۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بنا پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“ [صحيح مسلم/حدیث: 3288]
ق80: باب فِي فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَيَوْمِ عَرَفَةَ:
باب: حج اور عمرے کی فضیلت۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ "،
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوبکر بن عبدالرحمان کے آزاد کردہ غلام سمی سے، انہوں نے ابوصالح اور سمان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرہ دوسرے عمرے تک (کے گناہوں) کا کفارہ ہے اور حج مبرور، اس کا بدلہ جنت کے سوا اور کوئی نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3289]
سفیان بن عینیہ، سہیل، عبیداللہ، وکیع اور سفیان ثوری سب نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3290]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ، فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ "،
جریر نے منصور سے، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (اللہ) کے اس گھر میں آیا، نہ کوئی فحش گوئی کی اور نہ گناہ کیا تو وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) اس طرح لوٹے گا جس طرح اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3291]
وَحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، وَأَبِي الْأَحْوَصِ . ح وَحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ . ح وَحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا مَنْ حَجَّ، فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ،
ابوعوانہ، ابواحوص، مسعر، سفیان اور شعبہ سب نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور ان سب کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”جس نے حج کیا اور اس نے نہ فحش گوئی کی اور نہ کوئی گناہ کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3292]
حدثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
سیار نے ابوحازم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3293]
80: باب النُّزُولِ بِمَكَّةَ لِلْحَاجِّ وَتَوْرِيثِ دُورِهَا:
باب: حاجیوں کا مکہ میں اترنا اور مکہ کے گھروں کی وارثت کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَمْرَو بْنَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنْزِلُ فِي دَارِكَ بِمَكَّةَ، فقَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ رِبَاعٍ أَوْ دُورٍ "، وَكَانَ عَقِيلٌ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ هُوَ وَطَالِبٌ، وَلَمْ يَرِثْهُ جَعْفَرٌ، وَلَا عَلِيٌّ شَيْئًا، لِأَنَّهُمَا كَانَا مُسْلِمَيْنِ، وَكَانَ عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ كَافِرَيْنِ.
یونس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ علی بن حسین نے انہیں خبر دی کہ عمرو بن عثمان بن عفان نے انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مکہ میں اپنے (آبائی) گھر میں قیام فرمائیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے احاطوں یا گھروں میں سے کوئی چیز چھوڑی ہے۔“ اور طالب ابوطالب کے وارث بنے تھے اور جعفر اور علی رضی اللہ عنہما نے ان سے کوئی چیز وراثت میں حاصل نہ کی، کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے، جبکہ عقیل اور طالب کافر تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3294]
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، قَالَ ابْنُ مِهْرَانَ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ حِينَ دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ فقَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (انہوں نے کہا) میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کل کہاں قیام کریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران میں ہوئی جب ہم مکہ کے قریب پہنچ چکے تھے تو آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3295]
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِح ، قَالَا: حدثنا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ؟ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْح، قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ".
محمد بن ابی حفصہ اور زمعہ بن صالح دونوں نے کہا ابن شہاب نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے علی بن حسین سے، انہوں نے عمرو بن عثمان سے، انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! کل ان شاء اللہ آپ کہاں ٹھہریں گے؟ یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا، آپ نے فرمایا: ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3296]
81: باب جَوَازِ الإِقَامَةِ بِمَكَّةَ لِلْمُهَاجِرِ مِنْهَا بَعْدَ فَرَاغِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ بِلاَ زِيَادَةٍ:
باب: حج اور عمرہ کی فراغت کے بعد مہاجر کا مکہ میں قیام کرنے کا جواز، لیکن یہ قیام تین دن سے زیادہ نہ ہو۔
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ فقَالَ السَّائِبُ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لِلْمُهَاجِرِ إِقَامَةُ ثَلَاثٍ بَعْدَ الصَّدَرِ بِمَكَّةَ "، كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا.
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حمید (بن عبدالرحمٰن بن عوف) سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا کہہ رہے تھے: کیا آپ نے مکہ میں قیام کرنے کے بارے میں (رسول اللہ کا) کوئی فرمان سنا ہے؟ سائب نے جواب دیا: میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”(مکہ سے) ہجرت کر جانے والے کے لیے (منیٰ سے) لوٹنے کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرنا جائز ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3297]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ لِجُلَسَائِهِ: مَا سَمِعْتُمْ فِي سُكْنَى مَكَّةَ؟ فقَالَ: السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ، أَوَ قَالَ: الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُقِيمُ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثًا ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن حمید سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے سنا، وہ اپنے نشینوں سے کہہ رہے تھے: تم (حج کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کے بارے میں) کیا سنا؟ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کر جانے والا اپنی عبادت (حج یا عمرہ) مکمل کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3298]
وحدثنا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، فقَالَ السَّائِبُ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ثَلَاثُ لَيَالٍ يَمْكُثُهُنَّ الْمُهَاجِرُ بِمَكَّةَ بَعْدَ الصَّدَرِ ".
صالح نے عبدالرحمٰن بن حمید سے روایت کی کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز سے سنا، وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سوال کر رہے تھے تو سائب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”مہاجر (منیٰ سے) لوٹنے کے بعد تین راتیں مکہ میں ٹھہر سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3299]
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَمْلَاهُ عَلَيْنَا إِمْلَاءً، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، أَخْبَرَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَكْثُ الْمُهَاجِرِ بِمَكَّةَ بَعْدَ قَضَاءِ نُسُكِهِ ثَلَاثٌ "،
اسماعیل بن محمد بن سعد نے مجھے خبر دی کہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں بتایا کہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجر کا اپنی عبادت مکمل کرنے کے بعد مکہ میں قیام تین دن تک کا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3300]
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حدثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ضحاک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3301]
82: باب تَحْرِيمِ مَكَّةَ وَصَيْدِهَا وَخَلاَهَا وَشَجَرِهَا وَلُقَطَتِهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ عَلَى الدَّوَامِ:
باب: مکہ مکرمہ کے حرم ہونے اور اس کے شکار اور گھاس اور درخت اور گری پڑی چیز کی حرمت کا بیان سوائے اس کے جو گری پڑی چیز کا اعلان کرنے والا ہو۔
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فقَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "،
جریر نے ہمیں منصور سے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”اب ہجرت نہیں ہے البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں نفیر عام (جہاد میں حاضری) کے لیے کہا جائے تو نکل پڑو۔“ اور آپ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”بلاشبہ یہ شہر (ایسا) ہے جسے اللہ نے (اس وقت سے) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت (کی وجہ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے (اب) یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرام ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگایا جائے، کوئی شخص اس میں گری ہوئی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، نیز اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔“ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! سوائے اذخر (خوشبو دار گھاس) کے، وہ ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے (ضروری) ہے، تو آپ نے فرمایا: ”سوائے اذخر کے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3302]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ: الْقَتْلَ، وَقَالَ: لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ، إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا.
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے ”جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے، ”قتال“ (لڑائی) کے بجائے ”قتل“ کا لفظ کہا اور کہا: ”یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلان کرے، کوئی نہ اٹھائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3303]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا، قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ "، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْح، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.
ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے جب وہ (ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیں، میں آپ کو ایک ایسا فرمان بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمایا تھا۔ اسے میرے دونوں کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور جب آپ نے اس کے الفاظ بولے تو میری دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ مکہ کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، لوگوں نے نہیں۔ کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ (یہ حلال ہے کہ) کسی درخت کو کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی کی بنا پر رخصت نکالے تو اسے کہہ دینا: بلاشبہ اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دی تھی، تمہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی اور آج ہی اس کی حرمت اسی طرح واپس آگئی ہے جیسے کل اس کی حرمت موجود تھی اور جو حاضر ہے (یہ بات) اس تک پہنچا دے جو حاضر نہیں۔“ اس پر ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: (جواب میں) عمرو نے تم سے کیا کہا؟ (کہا:) اس نے جواب دیا: اے ابوشریح! میں یہ بات تم سے زیادہ جانتا ہوں، جرم کسی نافرمان (باغی) کو، خون کر کے بھاگ آنے والے کو اور چوری کر کے فرار ہونے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3304]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حدثنا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور (انہوں نے کہا:) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے ہاتھی کو مکہ سے روک دیا۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا، مجھ سے پہلے یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ تھا، میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ اور میرے بعد یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹے (دار درخت) کاٹے جائیں۔ اور اس میں گری پڑی کوئی چیز اٹھانا اعلان کرنے والے کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں۔ اور جس کا کوئی قریبی (عزیز) قتل کر دیا جائے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اس کی دیت دی جائے یا (قاتل) قتل کیا جائے۔“ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر کے سوا، ہم اسے اپنی قبروں (کی سلوں کی درزوں) اور گھروں (کی چھتوں) میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کے سوا۔“ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابوشاہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ سب) میرے لیے لکھوا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔“ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: اس (یمنی) کا یہ کہنا ”اے اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں۔“ (اس سے مراد) کیا تھا؟ انہوں نے کہا: یہ خطبہ (مراد تھا) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3305]
حَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا، إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُعْطَى، يَعْنِي الدِّيَةَ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ "، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، يُقَالَ لَهُ: أَبُو شَاهٍ، فقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، فقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ ".
شیبان نے یحییٰ سے رو??? روایت کی، (کہا:) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جسے انہوں نے (بنو لیث) نے قتل کیا تھا، قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے ہاتھی کو مکہ (پر حملے) سے روک دیا جبکہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ سن لو! یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی بھر حلال کیا گیا تھا اور (اب) یہ میری اس موجودہ گھڑی میں بھی حرمت والا ہے، نہ ڈنڈے کے ذریعے سے اس کے کانٹے جھاڑے جائیں، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ ہی اعلان کرنے والے کے سوا اس میں گری ہوئی چیز اٹھائے اور جس کا کوئی قریبی قتل کر دیا گیا اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اسے عطا کر دیا جائے۔ یعنی خون بہا۔ یا مقتول کے گھر والوں کو اس سے بدلہ لینے دیا جائے۔“ کہا: تو اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں، آپ نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ دو۔“ قریش کے ایک آدمی نے عرض کی: اذخر کے سوا، (کیونکہ) ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کے سوا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3306]
83: باب النَّهْيِ عَنْ حَمْلِ السِّلاَحِ بِمَكَّةَ بِلاَ حَاجَةٍ:
باب: مکہ مکرمہ میں بلاضرورت ہتھیار اٹھانے کی ممانعت۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا ابْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَحْمِلَ بِمَكَّةَ السِّلَاحَ ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں اسلحہ اٹھانا حلال نہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3307]
84: باب جَوَازِ دُخُولِ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ:
باب: بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کا جواز۔
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَمَّا الْقَعَنْبِيُّ، فقَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَأَمَّا قُتَيْبَةُ، فقَالَ حدثنا مَالِكٌ، وقَالَ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، قُلْتُ لِمَالِكٍ: أَحَدَّثَكَ ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ مِغْفَرٌ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فقَالَ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فقَالَ: اقْتُلُوهُ "، فقَالَ مَالِكٌ: نَعَمْ.
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، قعنبی نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی، قتیبہ نے کہا: ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی اور یحییٰ نے کہا: (الفاظ انہی کے ہیں) میں نے امام مالک سے پوچھا: کیا بن شہاب نے آپ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے (سر مبارک) پر خود تھا، جب آپ نے اسے اتارا تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3308]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيّ ، وقَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ قُتَيْبَةُ: حدثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمَّارٍ الدُّهْنِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ: دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ "، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور قتیبہ بن سعید شقفی نے ہمیں حدیث بیان کی۔ یحییٰ نے کہا: ہمیں معاویہ بن عمار دہنی نے ابوزبیر سے خبر دی اور قتیبہ نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے۔ قتیبہ نے کہا: فتح مکہ کے دن۔ بغیر احرام کے داخل ہوئے اور آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ تھا۔ قتیبہ کی روایت میں ہے (معاویہ بن عمار نے) کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3309]
حدثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ".
شریک نے ہمیں عمار دہنی سے خبر دی، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن داخل ہوئے تو آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3310]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ".
وکیع نے ہمیں مساور وراق سے خبر دی، انہوں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے، انہوں نے اپنے والد (عمرو بن حریث بن عمرو مخزومی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3311]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي، وَفِي رِوَايَةِ الْحُلْوَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ "، وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ: عَلَى الْمِنْبَرِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور حسن حلوانی نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے مساور وراق سے حدیث بیان کی۔ کہا: مجھے حدیث بیان کی (جعفر بن عمرو نے) اور حلوانی کی روایت میں ہے کہا: میں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے سنا۔ انہوں نے اپنے والد (عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں، آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ ہے، آپ نے اس کے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہوا ہے۔ ابوبکر (بن ابی شیبہ) نے ”منبر پر“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3312]
85: باب فَضْلِ الْمَدِينَةِ وَدُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ وَبَيَانِ تَحْرِيمِهَا وَتَحْرِيمِ صَيْدِهَا وَشَجَرِهَا وَبَيَانِ حُدُودِ حَرَمِهَا:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَدَعَا لِأَهْلِهَا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ "،
عبدالعزیز یعنی محمد دراوردی کے بیٹے نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے اپنے چچا عبداللہ بن زید عاصم رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں نے اس کے صاع اور مد میں سے دگنی (برکت) کی دعا کی جتنی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3313]
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حدثنا وُهَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ، فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، فَفِي رِوَايَتِهِمَا: مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ.
عبدالعزیز یعنی ابن مختار، سلیمان بن بلال اور وہیب (بن خالد باہلی) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، وہیب کی حدیث دراوردی کی حدیث کی طرح ہے: ”اس سے دگنی (برکت) کی جتنی برکت کی ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔“ جبکہ سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے: ”جتنی (برکت کی) ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3314]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں اس (شہر) کی دونوں سیاہ پتھر زمینوں کے درمیان میں واقع حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3315]
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، وَذَلِكَ عَنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.
نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا، اس نے مکہ کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا اور مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہ کیا، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اس کو مخاطب کیا اور کہا: کیا ہوا ہے؟ میں سن رہا ہوں کہ تم نے مکہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا لیکن مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سیاہ پتھروں والی زمینوں کے درمیان میں واقع علاقے کو حرم قرار دیا ہے اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) وہ فرمان خولانی چمڑے میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے میں تمہیں پڑھا دوں۔ اس پر مروان خاموش ہوا، پھر کہنے لگا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3316]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا ".
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں، نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کے جانوروں کا شکار کیا جائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3317]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی (کہا:) مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرام ٹھہراتا ہوں کہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کو مارا جائے۔“ اور آپ نے فرمایا: ”اگر یہ لوگ جان لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر نہیں جاتا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس (جانے والے) سے بہتر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3318]
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.
مروان بن معاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں عثمان بن حکیم انصاری نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا:) ”اور کوئی شخص نہیں جو اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے آگ میں سیسے کے پگھلنے یا پانی میں نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلا دے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3319]
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
اسماعیل بن محمد نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) (مدینہ کے قریب) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہوئے، انہوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا، انہوں نے اس سے (اس کا لباس اور سازو سامان) سلب کر لیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ (مدینہ) لوٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے گفتگو کی کہ انہوں نے جو ان کے غلام سے (سامان لیا)، وہ واپس کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں کوئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انہوں نے وہ (سامان) انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3320]
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ "،
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میرے لیے اپنے (انصار کے) لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کیا کرے۔“ ابوطلحہ مجھے سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی قیام فرماتے، میں آپ کی خدمت کرتا۔ اور (اس) حدیث میں کہا: پھر آپ (لوٹ کر) آئے حتیٰ کہ جب کوہ احد آپ کے سامنے نمایاں ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب بلندی سے مدینہ پر نگاہ ڈالی تو فرمایا: ”اے اللہ! میں اس دونوں پہاڑوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3321]
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ مگر انہوں نے کہا: ”میں اس کی دونوں کالے سنگریزوں والی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3322]
وحدثناه حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حدثنا عَاصِمٌ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: هَذِهِ شَدِيدَةٌ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا: فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، قَالَ: فقَالَ ابْنُ أَنَسٍ: أَوْ آوَى مُحْدِثًا.
عاصم نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، فلاں مقام سے فلاں مقام تک (کا علاقہ)، جس نے اس میں کوئی بدعت نکالی، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: یہ سخت وعید ہے: ”جس نے اس میں بدعت کا ارتکاب کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے نہ کوئی عذر و حیلہ قبول فرمائے گا نہ کوئی بدلہ۔“ کہا: ابن انس نے کہا: یا (جس نے) کسی بدعت کا ارتکاب کرنے والے کو پناہ دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3323]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا : أَحَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ؟ قَالَ: " نَعَمْ، هِيَ حَرَامٌ، لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
ہمیں عاصم احول نے خبر دی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہ حرم ہے، اس کی گھاس نہ کاٹی جائے، جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی، فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3324]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے ناپنے کے پیمانے میں برکت عطا فرما، ان کے صاع میں برکت عطا فرما۔ اور ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3325]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّامِيُّ ، قَالَا: حدثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حدثنا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ ، يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ بِالْمَدِينَةِ ضِعْفَيْ مَا بِمَكَّةَ مِنَ الْبَرَكَةِ ".
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! مدینہ میں اس سے دگنی برکت رکھ جتنی مکہ میں ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3326]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا كِتَابَ اللَّهِ، وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ، قَالَ: وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ، فَقَدْ كَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ، وَأَشْيَاءُ مِنَ الْجِرَاحَاتِ، وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا "، وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، وَزُهَيْرٍ، عَنْدَ قَوْلِهِ: يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا: مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ،
ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابوکریب سب نے ابومعاویہ سے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفہ۔ (راوی نے) کہا: اور وہ صحیفہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ کے علاوہ کچھ ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو اس نے جھوٹ بولا، اس میں (دیت کے) کچھ احکام ہیں۔ اور اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عیر سے ثور تک کے درمیان (سارا) مدینہ حرم ہے: جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا بدعت کے کسی مرتکب کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عذر قبول کرے گا نہ کوئی بدلہ اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری (امان) ایک (جیسی) ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے (امان دے سکتا ہے)، جس شخص نے اپنے والد کے سوا کسی اور کا (بیٹا) ہونے کا دعویٰ کیا یا جس (غلام) نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے سوا کسی اور کی طرف نسبت اختیار کی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی عذر قبول فرمائے گا نہ بدلہ۔“ ابوبکر اور زہیر کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے“ پر ختم ہو گئی اور ان دونوں نے وہ حصہ ذکر نہیں کیا جو اس کے بعد ہے اور نہ ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3327]
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِلَى آخِرِهِ، وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ ‏‏‏‏فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ .‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا ‏‏‏‏مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ .‏‏‏‏ وَلَيْسَ فِى رِوَايَةِ وَكِيعٍ ذِكْرُ يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
علی بن مسہر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح آخر تک ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت کردہ حدیث ہے اور (اس میں) یہ اضافہ کیا: ”لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ تعالیٰ کی (تمام) فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ بدلہ۔“ ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کی نسبت اختیار کی“ اور نہ وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا تذکرہ ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3328]
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حدثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ، وَوَكِيعٍ، إِلَّا قَوْلَهُ: مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، وَذِكْرَ اللَّعْنَةِ لَهُ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح بیان کی، مگر اس میں ”جس نے اپنے موالی (آزاد کرنے والوں) کے علاوہ کسی کی طرف نسبت اختیار کی“ اور اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3329]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَدِينَةُ حَرَمٌ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا، أَوْ آوَى مُحْدِثًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ "،
زائدہ نے سلیمان سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ حرم ہے، جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پناہ دی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کوئی عذر قبول کیا جائے گا نہ کوئی بدلہ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3330]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَزَادَ: وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا، فَعَلَيْهِ: لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ، وَلَا صَرْفٌ.
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، اور انہوں نے ”قیامت کے دن“ کے الفاظ نہیں کہے اور یہ اضافہ کیا: ”اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک (جیسا) ہے، ان کا ادنیٰ آدمی بھی پناہ کی پیش کش کر سکتا ہے، جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی عذر۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3331]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ ".
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ کہا کرتے تھے: اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی ہوئی دیکھوں، تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3332]
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ إِسْحَاقَ: أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَاءَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا، وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًى ".
معمر نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ان دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہرنیوں کو پاؤں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کا علاقہ محفوظ چراگاہ قرار دیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3333]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَاءُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ، وَخَلِيلُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ، بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ "، قَالَ: ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ، فَيُعْطِيهِ ذَلِكَ الثَّمَرَ.
امام مالک بن انس کے سامنے جن احادیث کی قراءت کی گئی، ان میں سے سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگ جب (کسی موسم کا) پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے پکڑتے تو فرماتے: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ، وَخَلِيلُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ، وَنَبِيُّكَ، وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ، بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكَّةَ، وَمِثْلِهِ مَعَهُ ”اے اللہ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما۔ ہمارے لیے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما، ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے، میں تیرا بندہ اور نبی ہوں، انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی، میں تجھ سے مدینہ کے لیے اتنی (برکت) کی دعا کرتا ہوں جو انہوں نے مکہ کے لیے کی اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید برکت کی بھی۔“ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر آپ اپنے بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور وہ پھل اسے دے دیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3334]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِأَوَّلِ الثَّمَرِ، فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، وَفِي ثِمَارِنَا، وَفِي مُدِّنَا، وَفِي صَاعَنْا بَرَكَةً مَعَ بَرَكَةٍ، ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنَ الْوِلْدَانِ ".
عبدالعزیز بن محمد مدنی نے ہمیں سہیل بن ابی صالح سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب (کسی موسم کا) پہلا پھل پیش کیا جاتا تو آپ فرماتے: ”اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں، ہمارے پھلوں میں، ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت پر برکت فرما۔“ پھر آپ وہ پھل اپنے پاس موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3335]
86: باب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لأْوَائِهَا:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فقَالَ النَّاسُ: وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ، مَا أَدْرِي كَيْفَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا "، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ، الشَّكُّ مِنْ: حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ.
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے مہری کے مولیٰ ابوسعید سے حدیث بیان کی کہ انہیں مدینہ میں بدحالی اور سختی نے آ لیا، وہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: میں کثیر العیال ہوں اور ہمیں تنگدستی نے آ لیا ہے، میرا ارادہ ہے کہ میں اپنے افراد خانہ کو کسی سرسبز و شاداب علاقے کی طرف منتقل کر دوں۔ تو ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا مت کرنا، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (سفر پر) نکلے۔ میرا خیال ہے انہوں نے کہا: حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا، تو لوگوں نے کہا: ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہرے ہوئے، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے (اکیلے) ہیں، ہم انہیں محفوظ نہیں سمجھتے، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟“ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں۔“ یا (فرمایا:) ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا“ یا (فرمایا:) ”اگر تم چاہو۔“ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا: ”میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم دوں، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا، اور اسے حرم بنایا، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے، اس میں لڑائی کے لیے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا (کسی اور غرض سے) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما۔ اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما، اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شہر (مدینہ) میں برکت عطا فرما۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں (مزید عطا) کر دے۔“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دو فرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ تم اس میں واپس آجاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کوچ کرو۔“ تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ یہ شک حماد کی طرف سے ہے۔ مدینہ میں داخل ہو کر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کر دیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انہیں مشتعل نہیں کر رہی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3336]
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "،
علی بن مبارک سے روایت ہے، (کہا:) ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں (مزید) عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3337]
شیبان اور حرب، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3338]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ".
سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام، ابوسعید سے روایت کی، وہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں (یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا) آئے اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ (مہنگائی) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آسکتا، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: تیری خرابی ہو، میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا (کیونکہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے: ”کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3339]
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ "، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انہیں اپنے والد ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میں مدینہ کی دو سیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا۔“ کہا: پھر ابوسعید رضی اللہ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے، اور ابوبکر نے کہا: ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے، تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے، پھر اسے آزاد کر دیتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3340]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”بلاشبہ یہ حرم ہے، امن والا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3341]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں (ہجرت کر کے) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی: ”اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لیے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے صاع اور مد میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3342]
وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابواسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3343]
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے اس (مدینہ) کی تنگدستی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی ہوں گا یا گواہ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3344]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سے روایت کی، انہوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی، انہوں نے انہیں (قطن کو) خبر دی کہ وہ فتنہ (واقعہ حرہ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی: ابوعبدالرحمان! ہمارے لیے گزر اوقات مشکل ہو گئی ہے، لہٰذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: (یہیں مدینہ میں) بیٹھی رہو، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن میں اس کے لیے گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3345]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنا الضَّحَّاكُ ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " يَعْنِي: الْمَدِينَةَ.
ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی، انہوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اس (شہر) کی تنگدستی اور سختی پر صبر کیا، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا یا سفارشی۔“ ان کی مراد مدینہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3346]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوْ شَهِيدًا "،
علاء بن عبدالرحمان (بن یعقوب) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے کوئی شخص مدینہ کی تنگدستی اور مشقت پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کے دن، میں اس کا سفارشی یا گواہ ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3347]
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابوعبداللہ قراظ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3348]
وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حدثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ "، بِمِثْلِهِ.
صالح بن ابوصالح نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پر صبر نہیں کرتا۔“ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3349]
87: باب صِيَانَةِ الْمَدِينَةِ مِنْ دُخُولِ الطَّاعُونِ وَالدَّجَّالِ إِلَيْهَا:
باب: طاعون اور دجال سے مدینہ منورہ کے محفوظ رہنے کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ، لَا يَدْخُلُهَا: الطَّاعُونُ، وَلَا الدَّجَّالُ ".
نعیم بن عبداللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ میں داخل ہونے کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3350]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ هِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ ".
اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے، (کہا:) علاء نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئے گا، اس کا ارادہ مدینہ (میں داخلے کا) ہوگا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3351]
88: بَابُ : اَلْمَدِينَهُ تَنْفِي خَبَثَهَا وَتُسمَّي طَابَةُ وَّ طَيْبَهٌ
باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے پاک ہونے اور مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھے جانے کا بیان۔
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهِ، وَقَرِيبَهُ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَى الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ".
ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی، انہوں نے علاء سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں، خوشحالی کے ملک میں چلو، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا کاش کہ وہ جانتے ہوتے۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3352]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحُبَابِ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ: يَثْرِبَ وَهِيَ الْمَدِينَةُ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ "،
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا، میں نے ابوحباب سعید بن یسار سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک بستی (کی طرف ہجرت کرنے جانے) کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی (سب پر غالب آجائے گی)، لوگ اسے یثرب کہتے ہیں، وہ مدینہ ہے، وہ (شریر) لوگوں کو نکال دے گی جیسے بھٹی لوہے کے میل کو باہر نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3353]
وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ الْخَبَثَ، لَمْ يَذْكُرَا: الْحَدِيدَ.
سفیان اور عبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”جیسے بھٹی میل کو نکال دیتی ہے۔“ ان دونوں نے لوہے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3354]
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى، ثُمَّ جَاءَهُ، فقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي، فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طَيِّبُهَا ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ اس کے بعد اس بدو کو مدینہ میں بخار نے آ لیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اے محمد! مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ انکار کر دیا، پھر وہ (تیسری بار) آیا، اور کہا: اے محمد! مجھے میری بیعت واپس کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر) انکار فرمایا۔ اس کے بعد اعرابی نکل گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ بھٹی کی طرح ہے، وہ اپنے میل (برے لوگوں) کو باہر نکال دیتی ہے اور یہاں کا پاکیزہ (خالص ایمان والا) نکھر جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3355]
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ، وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ، كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ ".
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ طیبہ (پاک) ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”یہ میل کچیل کو اس طرح دور کر دیتی ہے جیسے آگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3356]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالُوا: حدثنا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ: طَابَةَ ".
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام طابہ رکھا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3357]
89: بَابُ تَحْرِيمِ إِرَادَةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ وَّأَنَّ مّنْ أَرَادَهُمْ بِهِ أَذَابَهُ اللهُ
باب: مدینہ والوں کو تکلیف پہنچانے کی حرمت اور یہ کہ جو ان کو تکلیف دے گا اللہ اسے تکلیف میں ڈالے گا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُحَنَّسَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوءٍ، يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ".
عبداللہ بن عبدالرحمان بن یحس نے مجھے ابوعبداللہ قراظ سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہ دیتا ہوں کہ انہوں نے کہا: کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اس شہر (یعنی مدینہ) والوں کی برائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3358]
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَا: حدثنا حَجَّاجٌ . ح وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَرَّاظَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ يُرِيدُ الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ اللَّهُ، كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ "، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ يُحَنَّسَ: بَدَلَ قَوْلِهِ بِسُوءٍ: شَرًّا،
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا، ہم سے حجاج نے حدیث بیان کی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی، انہوں (حجاج اور عبدالرزاق) نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انہوں نے (ابوعبداللہ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) میں سے تھے، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی۔ ”برائی کا ارادہ کیا، اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء (برائی) کی جگہ شر (نقصان) کا لفظ بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3359]
حدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، جَمِيعًا سَمِعَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ اور محمد بن عمرو دونوں نے ابوعبداللہ قراظ سے سنا، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3360]
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ ، أَخْبَرَنِي دِينَارٌ الْقَرَّاظُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ ".
حاتم، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں عمر بن نبیہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے دینار قراظ نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3361]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُبَيْهٍ الْكَعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: بِدَهْمٍ أَوْ بِسُوءٍ.
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمر بن نبیہ کعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعبداللہ قراظ سے روایت کی کہ انہوں نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (آگے) اسی کے مانند ہے، البتہ انہوں نے کہا: ”بڑی مصیبت یا برائی (میں مبتلا کرنے) کا ارادہ کیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3362]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حدثنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَسَعْدًا ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ: وَفِيهِ: مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ.
اسامہ بن زید نے ہمیں ابوعبداللہ قراظ سے حدیث بیان کی، (اسامہ نے) کہا: میں نے ان سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ دونوں کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مد میں برکت عطا فرما۔“ آگے (اسی طرح) حدیث بیان کی اور اس میں ہے: ”جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3363]
90: بَابُ تَرْغِيبِ النَّاسِ فِي الْمَدِينَةِ عِنْدَ فَتْحِ
باب: فتوحات کے دور میں مدینہ منورہ میں رہنے کی ترغیب۔
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ قَوْمٌ بِأَهْلِيهِمْ يَبُسُّونَ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شام فتح کر لیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں۔ پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل و عیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3364]
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ".
ہمیں ابن جریج نے خبر دی، (کہا:) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش وہ جانتے ہوتے۔ پھر شام فتح ہوگا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا، کاش وہ جانتے۔ پھر عراق فتح ہوگا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہوگا، کاش وہ جانتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3365]
91: بَابُ إِخْبَارِهِ صلى الله عليه وسلم بِتَرْكِ النّاسِ الْمَدِينَةَ عَلٰي خَيْرِ مَا كَانَتْ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خبر دینا کہ لوگ مدینہ ہی کو بخیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا أَبُو صَفْوَانَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ: " لَيَتْرُكَنَّهَا أَهْلُهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي "، يَعْنِي: السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ، قَالَ مُسْلِم أَبُو صَفْوَانَ: هَذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَتِيمُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَشْرَ سِنِينَ كَانَ فِي حَجْرِهِ.
ابوصفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا: ”اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود، اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جا رہا ہوگا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: یہ ابوصفوان، عبداللہ بن عبدالملک ہے، دس سال تک ابن جریج کا (پروردہ) یتیم، جو ان کی گود میں تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3366]
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِي يُرِيدُ: عَوَافِيَ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ، ثُمَّ يَخْرُجُ رَاعِيَانِ مِنْ مُزَيْنَةَ يُرِيدَانِ الْمَدِينَةَ، يَنْعِقَانِ بِغَنَمِهِمَا، فَيَجِدَانِهَا وَحْشًا حَتَّى إِذَا بَلَغَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ خَرَّا عَلَى وُجُوهِهِمَا ".
عقیل بن خالد نے مجھے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”لوگ مدینہ کو اس کے خیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور اس میں کوئی نہ رہے گا سوائے درندوں اور پرندوں کے۔ پھر قبیلہ مزینہ سے دو چرواہے اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ (جانے) کا ارادہ کرتے ہوئے نکلیں گے اور وہ مدینہ کو ویران پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3367]
92: بَابُ فَصْلِ مَا بَيْنَ قَبْرِهِ صلى الله عليه وسلم وَ مِنْبَرِهِ وَفَصْلِ مَوْضِعِ مِنْبَرِهِ
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر کی درمیانی جگہ (ریاض الجنۃ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منبر والی جگہ کی فضیلت۔
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْمَازِنيِّ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ".
عبداللہ بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے عبداللہ بن زید (بن عاصم) مازنی رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (جگہ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے، وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3368]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا بَيْنَ مِنْبَرِي، وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ".
ابوبکر نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جو (جگہ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے، وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3369]
حدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَا بَيْنَ بَيْتِي، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (کی جگہ) جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔ اور میرا منبر حوض پر ہے۔“ فائدہ: منبر کا اصل مقام حوض پر ہے اور قیامت کے دن اسی پر ہوگا۔ یا اب بھی اسی کے اوپر ہی ہے لیکن فاصلے سمیت اس جہت کا ابھی ہمیں ادراک نہیں ہو سکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3370]
93: بَابُ فَصْلِ أُحُدٍ
باب: احد پہاڑ کی فضیلت۔
حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعَنْبِيُّ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا وَادِي الْقُرَى، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي مُسْرِعٌ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيُسْرِعْ مَعِي، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَمْكُثْ "، فَخَرَجْنَا حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: " هَذِهِ طَابَةُ وَهَذَا أُحُدٌ، وَهُوَ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ".
حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: غزوہ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ اور (آگے) حدیث بیان کی اس میں ہے پھر ہم (سفر سے واپس) آئے حتیٰ کہ ہم وادی میں پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی رفتار تیز کرنے والا ہوں، تم میں سے جو چاہے وہ میرے ساتھ تیزی سے آجائے اور جو چاہے وہ ٹھہر کر آجائے۔“ پھر ہم نکلے حتیٰ کہ جب بلندی سے ہماری نگاہ مدینہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ طابہ (پاک کرنے والا شہر) ہے اور یہ احد ہے اور یہ پہاڑ (ایسا) ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3371]
حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حدثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ".
عبید اللہ بن معاذ نے ہم سے حدیث بیان کی (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3372]
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنِي حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حدثنا قُرَّةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، فقَالَ: " إِنَّ أُحُدًا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ".
حرم بن عمارہ نے مجھے سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ”بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3373]
94: باب فَضْلِ الصَّلاَةِ بِمَسْجِدَيْ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ:
باب: مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ".
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، آپ نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3374]
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ".
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی (**لہ**) علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز کسی بھی اور مسجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرام (کی نماز) کے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3375]
حَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، حدثنا عِيسَى بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وأبى عبد الله الأغر ، مولى الجهنيين، وكان من أصحاب أبي هريرة، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدَهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ "، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ، لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ، عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَنْا ذَلِكَ أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ، وَتَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونَ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ جَالَسَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ، وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْهُ، فقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدِي آخِرُ الْمَسَاجِدِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینہ والوں کے آزاد کردہ غلام ابوعبداللہ اغر سے روایت ہے۔ اور یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں (شاگردوں) میں سے تھے۔ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کو چھوڑ کر دوسری مساجد میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء علیہم السلام میں سے آخری ہیں، اور آپ کی مسجد (بھی کسی نبی کی تعمیر کردہ) آخری مسجد ہے۔ ابوسلمہ اور ابوعبداللہ نے کہا: ہمیں اس بارے میں شک نہ تھا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بیان کر رہے ہیں چنانچہ اسی بات نے ہمیں روکے رکھا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا) اثبات کرائیں حتیٰ کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ہم نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو ملامت کی کہ ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں گفتگو کیوں نہیں کی، تا کہ اگر انہوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دیتے۔ ہم اسی کیفیت میں تھے کہ عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ ہمارے ساتھ مجلس میں آ بیٹھے تو ہم نے اس حدیث کا اور جس بات کے بارے میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صراحت کرانے میں ہم نے کوتاہی کی تھی کا تذکرہ کیا تو عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے ہمیں کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ میں تمام انبیاء علیہم السلام میں سے آخری نبی ہوں۔ اور میری مسجد آخری مسجد ہے (جسے کسی نبی نے تعمیر کیا)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3376]
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ بْنُ الْمُثَنَّى حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا صَالِحٍ هَلْ سَمِعْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَذْكُرُ فَضْلَ الصَّلَاةِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فقَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ، أَوْ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ "،
عبدالوہاب نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا، میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوصالح سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں البتہ مجھے عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا (دوسری) مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر۔“ یا فرمایا: ”ایک ہزار نمازوں کی طرح ہے۔“ الا یہ کہ وہ مسجد حرام ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3377]
یحییٰ قطان نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3378]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ "،
یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ (بن عمر) سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا (دوسری مسجدوں میں) ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3379]
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
ابواسامہ، عبداللہ بن نمیر اور عبدالوہاب سب نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ (یہ) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3380]
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِهِ.
موسیٰ جہنی نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3381]
وحدثناه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
ایوب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3382]
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، جميعا عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حدثنا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى، فقَالَت: إِنْ شَفَانِي اللَّهُ لَأَخْرُجَنَّ، فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِس، فَبَرَأَتْ، ثُمَّ تَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ، فَجَاءَتْ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ، فقَالَت: اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتِ، وَصَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " صَلَاةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ ".
لیث نے نافع سے روایت کی، انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ بن معبد(بن عباس) سے روایت کی، (کہا:) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ایک عورت بیمار ہو گئی، اس نے کہا: اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جا کر ضرور نماز ادا کروں گی۔ وہ صحت یاب ہو گئی، پھر سفر کے ارادے سے تیاری کی (سفر سے پہلے) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں سلام کہنے کے لیے حاضر ہوئی اور انہیں یہ سب بتایا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ اور جو (زاد راہ) تم نے تیار کیا ہے وہ کھا لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ لو۔ بلاشبہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اس (مسجد) میں ایک نماز پڑھنا اس کے سوا (باقی) تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائے مسجد کعبہ کے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3383]
95: بَابُ فَصْلِ الْمَسَاجِدِ الثَّلَاثَهِ
باب: تین مسجدوں کی فضیلت۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو : حدثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ".
سفیان نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (سلسلہ روایت) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ: ”(عبادت کے لیے) تین مسجدوں کے سوا رخت سفر نہ باندھا جائے: میری یہ مسجد، مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3384]
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، البتہ انہوں نے کہا: ”(عبادت کے لیے) تین مسجدوں کی طرف رخت سفر باندھا جا سکتا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3385]
وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ أَبِي أَنَسٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ سَلْمَانَ الْأَغَرَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ : يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " إِنَّمَا يُسَافَرُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، وَمَسْجِدِي، وَمَسْجِدِ إِيلِيَاءَ ".
سلمان اغر نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین مسجدوں کی طرف ہی (عبادت کے لیے) سفر کیا جا سکتا ہے: کعبہ کی مسجد، میری مسجد اور ایلیاء کی مسجد (مسجد اقصیٰ)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3386]
96: باب بَيَانِ أَنَّ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى هُوَ مَسْجِدُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ.
باب: اس مسجد کا بیان جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، اور وہ مسجد نبوی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: قَالَ أَبِي : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ: فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ، فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: " هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ.
حمید خراط سے روایت ہے، کہا: میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، انہوں نے کہا: عبدالرحمٰن بن ابی سعید خدری میرے ہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا: آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارے میں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، کس طرح ذکر کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی ایک اہلیہ محترمہ کے گھر میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! دونوں مسجدوں میں سے کون سی (مسجد) ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ کہا: آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں زمین پر مارا پھر فرمایا: ”وہ تمہاری یہی مسجد ہے۔“ مدینہ کی مسجد کے بارے میں (ابوسلمہ نے) کہا: تو میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد سے سنا، وہ اسی طرح بیان کر رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3387]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، فِي الْإِسْنَادِ.
حمید (طویل) نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی۔ اور انہوں نے سند میں عبدالرحمٰن بن ابوسعید کا ذکر نہیں کیا (براہ راست حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3388]
97: باب فَضْلِ مَسْجِدِ قُبَاءٍ وَفَضْلِ الصَّلاَةِ فِيهِ وَزِيَارَتِهِ:
باب: مسجد قباء کی فضیلت اور اس میں نماز پڑھنے کی اور اس کی زیارت کرنے کی فضیلت۔
حدثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَزُورُ قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا ".
ایوب نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل قباء کی زیارت فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3389]
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ رَاكِبًا وَمَاشِيًا، فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے عبید اللہ سے حدیث سنائی۔ اسی طرح محمد بن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور (پیدل دونوں طرح سے) قباء تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں ادا فرماتے۔ ابوبکر نے اپنی روایت میں کہا: (یہ ابواسامہ نے نہیں بلکہ) ابن نمیر نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں دو رکعتیں نماز ادا کرتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3390]
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا "،
ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3391]
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعَنِ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ الثّقَفِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، حدثنا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى الْقَطَّانِ.
خالد بن حارث نے ہمیں ابن عجلان سے حدیث بیان کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ قطان کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3392]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا ".
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک رحمہ اللہ کے سامنے قراءت کی کہ عبداللہ بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3393]
وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي قُبَاءً رَاكِبًا وَمَاشِيًا ".
ہمیں اسماعیل بن جعفر نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عبداللہ بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3394]
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً كُلَّ سَبْتٍ، وَكَانَ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ ".
مجھے زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر ہفتے کے روز قباء آتے تھے، وہ کہا کرتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ہر ہفتے کے روز یہاں تشریف لاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3395]
وحدثناه ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَأْتِي قُبَاءً يَعْنِي كُلَّ سَبْتٍ كَانَ يَأْتِيهِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا "، قَالَ ابْنُ دِينَارٍ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ،
ابن ابی عمر نے سفیان سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے روز قباء آتے، آپ وہاں سوار ہو کر اور (کبھی) پیدل تشریف لاتے تھے۔ ابن دینار نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما (بھی) ایسا ہی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3396]
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حدثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ دِينَارٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: كُلَّ سَبْتٍ.
سفیان ثوری نے ابن دینار سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، مگر ہر ہفتے کے روز کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3397]
← پچھلی کتاب #16 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #18 →