صحيح مسلم حدیث نمبر: 2844
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1192.2
Sahih Muslim 2844
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ فِي نِسَائِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ".
سفیان نے ابراہیم بن محمد بن منتشر سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا انہوں نے کہا: ”یہ بات کہ میں تار کول مل لوں مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو۔“ (محمد نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو ان (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے (احرام کی نیت کر لی)۔) [صحيح مسلم/حدیث: 2844]