صحيح مسلم حدیث نمبر: 2811
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1184.01
📖 صحيح مسلم باب:15 حدیث نمبر : 21
Sahih Muslim 2811
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
3: باب التَّلْبِيَةِ وَصِفَتِهَا وَوَقْتِهَا:
باب: تلبیہ کے طریقے اور اس کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ "، قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَزِيدُ فِيهَا لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ، وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا میں نے مالک کے سامنے ( اس حدیث کی ) قراءت کی انھوں نے نافع سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ ! تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضر ہوں یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ۔ ( کسی بھی چیز میں ) تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ اور ( نافع نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ( مذکورہ تلبیہ ) میں یہ اضا فہ فر ما یا کرتے تھے ۔ "" لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" میں تیر ے سامنے حاجر ہوں حاضر ہوں تیری اطا عت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری ہی رضا کے لیے ہیں)