صحيح مسلم حدیث نمبر: 3102
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1280.05
📖 صحيح مسلم باب:15 حدیث نمبر : 307
Sahih Muslim 3102
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
47: باب الإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ وَاسْتِحْبَابِ صَلاَتَيِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ جَمْعًا بِالْمُزْدَلِفَةِ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ:
باب: عرفات سے مزدلفہ کی طرف واپسی اور اس رات مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھنے کا استحباب۔
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ : كَيْفَ صَنَعْتُمْ حِينَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمَغْرِبِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ وَبَالَ، وَمَا قَالَ: أَهَرَاقَ الْمَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ حَتَّى جِئْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ، وَلَمْ يَحُلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ حَلُّوا: قُلْتُ فَكَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ.
ابو خیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے کریب نے خبر دی ہے کہ انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟کہا : ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب ( کی نماز ) کے لئے ( اپنی سواریاں ) بٹھاتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سےفارغ ہوئے ۔ اور انھوں نے ( کنایہ کرتے ہوئے یوں ) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا ۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا ساتھا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھارے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے ۔ " اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی ۔ پھر سب لوگوں نے ( اپنی سواریاں ) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انھوں نے ابھی ( پالان ) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوادی ، پھر انھوں نے ( پالان ) کھولے ۔ میں نے کہا : جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟انھوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہوگئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا ۔