صحيح مسلم حدیث نمبر: 3055
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1264.01
📖 صحيح مسلم باب:15 حدیث نمبر : 261
Sahih Muslim 3055
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
39: باب اسْتِحْبَابِ الرَّمَلِ فِي الطَّوَافِ وَالْعُمْرَةِ وَفِي الطَّوَافِ الأَوَّلِ فِي الْحَجِّ:
باب: حج اور عمرہ کے پہلے طواف میں رمل کرنے کا استحباب۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَرَأَيْتَ هَذَا الرَّمَلَ بِالْبَيْتِ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَمَشْيَ أَرْبَعَةِ أَطْوَافٍ أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ قَالَ: فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: مَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مَكَّةَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا، وَأَصْحَابَهُ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْبَيْتِ مِنَ الْهُزَالِ، وَكَانُوا يَحْسُدُونَهُ، قَالَ: " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْمُلُوا ثَلَاثًا وَيَمْشُوا أَرْبَعًا "، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الطَّوَافِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ رَاكِبًا أَسُنَّةٌ هُوَ؟ فَإِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا قَوْلُكَ صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثُرَ عَلَيْهِ النَّاسُ، يَقُولُونَ: هَذَا مُحَمَّدٌ هَذَا مُحَمَّدٌ حَتَّى خَرَجَ الْعَوَاتِقُ مِنَ الْبُيُوتِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُضْرَبُ النَّاسُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا كَثُرَ عَلَيْهِ رَكِبَ، وَالْمَشْيُ وَالسَّعْيُ أَفْضَلُ "،
عبدالواحد بن زیاد نےہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : آپ کی کیا رائے ہے بیت اللہ کاطواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل اور چار چکروں میں چلنا ، کیا یہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے ۔ کہا : ( انھوں نے ) فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔ میں نے کہا : آپ کے اس جملے کا کہ انھوں نے درست بھی کہا اورغلط بھی ، کیامطلب ہے؟انھوں نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا : محمد اوران کے ساتھی ( مدینے کی ناموافق آب وہوا ، بخار اور ) کمزوری کے باعث بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے ۔ کفار آپ سے حسد کرتے تھے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( ان کی با ت سن کر ) آپ نے انھیں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) حکم دیا کہ تین چکروں میں رمل کرو اورچار چکروں میں ( عام رفتار سے ) چلو ۔ ( ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے عرض کی : مجھے سوار ہوکرصفا مروہ کی سعی کرنے کے متعلق بھی بتائیے ، کیاوہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی ، میں نے کہا : اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انھوں نےصحیح بھی کہا اورغلط بھی؟انھوں نےفرمایا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم پرلوگوں کا جمگھٹا ہوگیا ، وہ سب ( آپ کو دیکھنے کے خواہش مندتھے اور ایک دوسرے سے ) کہہ رہے تھے ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم حتیٰ کہ نوجوان عورتیں بھی گھروں سے نکلی ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ( ہٹانے کےلئے ) لوگوں کو مارانہیں جاتا تھا ، جب آپ ( کے راستے ) پر لوگوں کا ٹھٹھہ لگ گیا تو آپ سوار ہوگئے ۔ ( کچھ حصے میں ) چلنا اور ( کچھ میں ) سعی کرنا ( تیز چلنا ہی ) افضل ہے ۔ ( کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں یہی کرنا چاہتے تھے ۔)