صحيح مسلم حدیث نمبر: 2855
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1196.4
Sahih Muslim 2855
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
حَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ، قَالَ: فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ: " خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى تَلْقَوْنِي "، قَالَ: فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: فَقَالُوا: أَكَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، قَالَ: فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا وَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، فَقُلْنَا نَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا، فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ؟، قَالَ: قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا "،
عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ہٹا (کر ایک سمت بھیج دیا اور فرمایا: ”ساحل سمندر لے کر چلو حتیٰ کہ مجھ سے آملو۔“ کہا: انہوں نے ساحل سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب نے احرام باندھ لیا (بس) انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انہوں نے زیبرے دیکھے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا کو گرا لیا۔ وہ (لوگ) اترے اور اس کا گوشت تناول کیا۔ کہا وہ (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) کہنے لگے: ہم نے (تو شکار کا گوشت کھا لیا جبکہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گوشت اٹھا لیا (اور چل پڑے) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے: ہم سب نے احرام باندھ لیا تھا جبکہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا۔ پس ہم اترے اور اس کا گوشت کھایا۔ بعد میں ہم نے کہا: ہم احرام باندھے ہوئے ہیں اور شکار کا گوشت کھا رہے ہیں! پھر ہم نے اس کا باقی گوشت اٹھایا (اور آگئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے (شکار کرنے کو) کہا تھا؟ یا کسی چیز سے اس (شکار) کی طرف اشارہ کیا تھا؟“ انہوں نے کہا نہیں آپ نے فرمایا: ”اس کا باقی گوشت بھی تم کھا لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2855]