صحيح مسلم حدیث نمبر: 2997
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1233
Sahih Muslim 2997
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَيَصْلُحُ لِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : " فَقَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَبِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ، أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ".
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا، اس نے پوچھا: کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں (کر سکتے ہو) اس نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا: (سنو!) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا تھا۔ (اب سوچو) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول اپناؤ یہ زیادہ حق ہے؟ یا یہ کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول؟ اگر تم (ان کے بارے میں) سچ کہہ رہے ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2997]