صحيح مسلم حدیث نمبر: 2922
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1211.12
Sahih Muslim 2922
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ، حَتَّى نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مِنْكُمْ هَدْيٌ، فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا "، فَمِنْهُمُ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِكُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ "، قُلْتُ سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ، فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ: " وَمَا لَكِ؟ "، قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ ": " فَلَا يَضُرُّكِ فَكُونِي فِي حَجِّكِ، فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ "، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: " اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا "، قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: " هَلْ فَرَغْتِ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ.
افلح بن حمید نے قاسم سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں (پابندیوں) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے حتیٰ کہ سرف کے مقام پر اترے۔ (وہاں پہنچ کر) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”تم میں سے جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے تو ایسا کرلے اور جس کے ساتھ قربانی کے جانور ہیں وہ (ایسا) نہ کرے۔“ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس (عمرے) کو اختیار کرلیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: ”کیوں روتی ہو؟“ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں۔ آپ نے پوچھا: (کیوں) تمہیں کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: میں نماز ادا نہیں کرسکتی۔ آپ نے فرمایا: ”یہ (ایام عمرے حج میں) تمہارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں (لگی) رہو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں یہ (عمرے کا) اجر بھی دے گا تم آدم علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے۔“ کہا (پھر) میں احرام ہی کی حالت میں) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور (تب) میں ایام سے پاک ہوگئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ (میرے بھائی) کو بلایا اور ان سے) فرمایا: ”اپنی بہن کو حرم سے باہر (تنعیم) لے جاؤ تاکہ یہ (احرام باندھ کر) عمرے کا تلبیہ کہے اور (عمرے کے لیے بیت اللہ (اور صفا مروہ) کا طواف کرلے۔ میں (تمہاری واپسی تک) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ہم نکل پڑے میں نے (احرام باندھ کر) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے۔ آپ نے (مجھ سے) پوچھا: ”کیا تم (عمرے سے) فارغ ہوگئی ہو؟“ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کوچ کے اعلان کا حکم دیا۔ آپ (وہاں سے) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف (وداع) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2922]