صحيح مسلم حدیث نمبر: 3242
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1333.03
📖 صحيح مسلم باب:15 حدیث نمبر : 446
Sahih Muslim 3242
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
69: باب نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا:
باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ "، قَالَت: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْت "، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ.
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہو ئے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کیا تم نے نہیں دیکھا تمھا ری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے حضرت ابرا ہیم ؑ کی بنیا دوں سے کم کر دیا ۔ کہا میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ اسے دوبارہ ابرا ہیمؑ کی بنیا دوں پر نہیں لو ٹا ئیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر تمھا ری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہو تا تو میں ( ضرورایسا ) کرتا ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے قریبی دونوں ارکان کا استلام اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کیا ( ہواصل وجہ یہ تھی ) کہ بیت اللہ ابرا ہیم ؑ کی بنیا دوں پر پورا 0تعمیر ) نہیں کیا گیا تھا ۔