📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 3245

Sahih Muslim Hadith 3245 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #15 📁 حج کے احکام و مسائل (كِتَاب الْحَجِّ) ← 🏷️ باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 3245 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1333.5 Sahih Muslim 3245
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
69: باب نَقْضِ الْكَعْبَةِ وَبِنَائِهَا:
🏷️ باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
حدثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا، ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا، أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ، إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا، فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عَنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ "، قَالَ: فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ، قَالَ: فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ، وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ.
عطاء سے روایت ہے انہوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے (مکہ پر) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے (اسی حالت پر) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے موسم میں لوگ (مکہ) آنے لگے وہ چاہتے تھے کہ انہیں ہمت دلائیں۔۔۔ یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھاریں۔۔۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر (از سر نو) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بوسیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہوئی ہے میری رائے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس کی مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو (اسی طرح باقی) رہنے دیں جس پر لوگ اسلام لائے اور ان پتھروں کو (باقی چھوڑ دیں) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جائے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اسے نیا (نہ) بنا لے تو تمہارے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا۔ جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے اپنی رائے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لوگ (اس ڈر سے) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس (عمارت) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کوئی آفت نازل ہو جائے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرا دیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے (گرانے لگے) حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند (عارضی) ستون بنائے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر (مکمل کرنے) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ (زمین) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک (ایسا) دروازہ بناتا جس سے لوگ اندر داخل ہوتے اور ایک دروازہ (ایسا بناتا) جس سے باہر نکلتے۔“ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کر سکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں (عطاء نے) کہا تو انہوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے (کھدائی کی) حتیٰ کہ انہوں نے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) بنیاد کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انہوں نے اس پر عمارت بنائی کعبہ کا طول (اونچائی) اٹھارہ ہاتھ تھی (یہ اس طرح ہوئی کہ) جب انہوں نے (حطیم کی طرف سے) اس میں اضافہ کر دیا تو (پہلی اونچائی) کم محسوس ہوئی چنانچہ انہوں نے اس کی اونچائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر داخلہ ہوتا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جاتا تھا جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اطلاع دیتے ہوئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعمیر اس (ابراہیمی) بنیادوں پر استوار کی جسے اہل مکہ کے معتبر (عدول) لوگوں نے (خود) دیکھا عبدالملک نے اسے لکھا۔ ہمارا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد و بدل سے کوئی تعلق نہیں البتہ انہوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے برقرار رہنے دو اور جو انہوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے (ختم کر کے) اس کی سابقہ بنیاد پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انہوں نے کھولا ہے چنانچہ اس نے اسے گرا دیا اس کی (پچھلی) بنیاد پر لوٹا دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3245]
صحيح مسلم • حدیث #3245
3243 3244 3245 3246 3247

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3240 حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي...
ابومعاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی ...
#3241 وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِ...
ابن نمیر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 3241]
#3242 حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ ...
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ...
#3243 حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ . ح وحَدَّثَن...
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے سنا و...
#3244 وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَن...
سعید یعنی ابن بیناء سے روایت ہے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ مجھ سے میری خالہ یعن...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ