صحيح مسلم حدیث نمبر: 3036
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1255.01
📖 صحيح مسلم باب:15 حدیث نمبر : 243
Sahih Muslim 3036
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
35: باب بَيَانِ عَدَدِ عُمَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَمَانِهِنَّ:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد کا بیان۔
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّتَاهُ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قُلْتُ: يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِي مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَإِنَّهُ لَمَعَهُ "، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ.
عطاء نے خبردی کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبردی کہا : میں اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور ان کی ( دانتوں پر ) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے ۔ عروہ نے کہا : میں نے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ! ) کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےر جب میں بھی عمرہ کیا تھا ؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے ( وہیں بیٹھے بیٹھے ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پکا را ۔ میری ماں !کیا آپ ابو عبد الرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا ( بتا ؤ ) وہ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں ( بھی ) عمرہ کیا تھا ۔ انھوں نے جواب دیا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن کو معاف فر ما ئے مجھے اپنی زندگی کی قسم !آپ نے رجب میں کو ئی عمرہ نہیں کیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیامگر یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ کے ساتھ ہو تے تھے ۔ ( عروہنے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی گفتگو ) سن رہے تھے ) انھوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا ، خاموش رہے ۔