صحيح مسلم حدیث نمبر: 2931
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1211.21
Sahih Muslim 2931
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ غُنْدَرٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ؟، قَالَ: " أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ، فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ "، قَالَ الْحَكَمُ: كَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ، أَحْسِبُ، " وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا "،
محمد بن جعفر (غندر) نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے (زین العابدین) علی بن حسین سے، انہوں نے ذاکون مولیٰ عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: ذوالحجہ کے چار یا پانچ دن گزر چکے تھے کہ آپ میرے پاس (خیمے میں) تشریف لائے، آپ غصے کی حالت میں تھے، میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اسے آگ میں داخل کرے۔ آپ نے جواب دیا: ”کیا تم نہیں جانتیں! میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا (کہ جو قربانی ساتھ نہیں لائے، وہ عمرے کے بعد احرام کھول دیں) مگر وہ اس پر عمل کرنے میں پس و پیش کر رہے ہیں۔“ حکم نے کہا: میرا خیال ہے (کہ میرے استاد علی بن حسین نے) ”ایسا لگتا ہے وہ پس و پیش کر رہے ہیں۔“ کہا۔ اگر اپنے اس معاملے میں وہ بات پہلے میرے سامنے آجاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا حتیٰ کہ میں اسے (یہاں آکر) خریدتا پھر میں ویسے احرام سے باہر آجاتا جیسے یہ سب (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عمرے کے بعد) آگئے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2931]