صحيح مسلم حدیث نمبر: 3009
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 1240
Sahih Muslim 3009
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ مِنْ أَفْجَرِ الْفُجُورِ فِي الْأَرْضِ، وَيَجْعَلُونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرًا، وَيَقُولُونَ إِذَا بَرَأَ الدَّبَرْ وَعَفَا الْأَثَرْ وَانْسَلَخَ صَفَرْ، حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، فَتَعَاظَمَ ذَلِكَ عِنْدَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: " الْحِلُّ كُلُّهُ ".
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: (جاہلیت میں) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا، زمین میں سب سے برا کام ہے۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے، اور کہا کرتے تھے: جب (اونٹوں کا) پیٹھ کا زخم مندمل ہو جائے، (مسافروں کا) نشان (قدم) مٹ جائے اور صفر (اصل میں محرم) گزر جائے تو عمرہ والے کے لیے عمرہ کرنا جائز ہے۔ (حالانکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے، اور ان (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) کو حکم دیا کہ اپنے حج (کی نیت) کو عمرہ میں بدل دیں، یہ بات ان (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) پر بڑی گراں تھی، سب نے بیک زبان کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسی حلت (احرام کا خاتمہ) ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل حلت۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 3009]