صحيح مسلم حدیث نمبر: 3153
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1305.02
📖 صحيح مسلم باب:15 حدیث نمبر : 357
Sahih Muslim 3153
کتاب #15: حج کے احکام و مسائل
56: باب بَيَانِ أَنَّ السُّنَّةَ يَوْمَ النَّحْرِ أَنْ يَرْمِيَ ثُمَّ يَنْحَرَ ثُمَّ يَحْلِقَ وَالاِبْتِدَاءِ فِي الْحَلْقِ بِالْجَانِبِ الأَيْمَنِ مِنْ رَأْسِ الْمَحْلُوقِ:
باب: قربانی کے دن کنکریاں مارنے، پھر قربانی کرنے، پھر سر منڈانے، اور دائیں جانب سے سر منڈانے کی ابتداء کرنا سنت ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ لِلْحَلَّاقِ: " هَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ هَكَذَا فَقَسَمَ شَعَرَهُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ "، قَالَ: " ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْحَلَّاقِ وَإِلَى الْجَانِبِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أُمَّ سُلَيْمٍ "، وَأَمَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ: " فَبَدَأَ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ فَوَزَّعَهُ الشَّعَرَةَ وَالشَّعَرَتَيْنِ بَيْنَ النَّاسِ "، ثُمَّ قَالَ: " بِالْأَيْسَرِ فَصَنَعَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ "، ثُمَّ قَالَ: " هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ "، فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ.
نمبرابو بکر بن ابی شیبہ ابن نمیر اور ابو کریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی لیکن ابو بکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجا م سے کہا : "" یہ لو "" اور اپنے ہا تھ سے اس طرح اپنی دائیں جا نب اشارہ کیا ( کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو ) اوراپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہو ئے لوگوں میں تقسم فر ما دیے پھر حجا مکو اپنی بائیں جا نب کی طرف اشارہ کیا ( کہ اب بائیں جا نب سے حجا مت بنا ؤ ) حجا م نے آپ کا سر مو نڈدیا تو آپ نے ( اپنے وہ موئے مبارک ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا فر ما دیے ۔ اور ابو کریب کی روایت میں ہے کہا : ( حجا م نے ) دائیں جا نب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فر ما دیے ، پھر آپ نے اپنی بائیں جا نب ( حجا مت بنا نے کا ) اشارہ فر ما یا ۔ حجا م نے اس طرف بھی وہی کیا ( بال مونڈدیے ) پھر آپ نے فر ما یا : "" کہا یہا ابو طلحہ ہیں ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبا رک ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے فر ما دیے ۔