📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب السنة

کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت

کتاب #1 • کل احادیث: 98
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: اتباع سنت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں جس چیز کا حکم دوں اسے مانو ، اور جس چیز سے روک دوں اس سے رک جاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 1]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/355) (صحیح) (اس سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی ضعیف ہیں، لیکن متابعت سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث کی تخریج میں دئیے گئے حوالہ جات)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَخُذُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو چیز میں نے تمہیں نہ بتائی ہو اسے یوں ہی رہنے دو ۱؎ ، اس لیے کہ تم سے پہلے کی امتیں زیادہ سوال اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ، لہٰذا جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو طاقت بھر اس پر عمل کرو ، اور جب کسی چیز سے منع کر دوں تو اس سے رک جاؤ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2]
💡 وضاحت:
۱؎«ذروني ما تركتكم» میں  «ما» مصدریہ ظرفیہ ہے، یعنی جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں، مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں میں تم سے کچھ نہ کہوں اس کے بارے میں تم مجھ سے غیر ضروری سوالات کرنے سے بچو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12361)، الحدیث أخرجہ من طریق الأعمش: صحیح مسلم/الحج 73 (1337)، الفضائل 37 (131)، سنن الترمذی/العلم 17 (6279)، مسند احمد (2/495)، وقد أخرجہ من طرق أخری: صحیح البخاری/الاعتصام 2 (7288)، صحیح مسلم/الفضائل 37 (130)، سنن النسائی/الحج 1 (2620)، مسند احمد (2/247، 258، 313، 428، 448) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  «من يطع الرسول فقد أطاع الله» جو اطاعت کرے رسول کی وہ اطاعت کر چکا اللہ کی (سورة النساء: 80)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف 12477، 12547)، الحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 109 (2957)، الأحکام 1 (7137)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (8135)، سنن النسائی/البیعة 27 (4198)، مسند احمد (2/244، 252، 270، 313، 342، 416، 467) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر: 2859)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ: " كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ يَعْدُهُ وَلَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ".
ابو جعفر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتے تو نہ اس میں کچھ بڑھاتے ، اور نہ ہی کچھ گھٹاتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 4]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ حدیث کی روایت میں حد درجہ محتاط تھے، الفاظ کی پوری پابندی کرتے تھے، اور ہوبہو اسی طرح روایت کرتے جس طرح سنتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7442، ومصباح الزجاجة: 2)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/82)، سنن الدارمی/المقدمة 31 (327) (صحیح)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَذْكُرُ الْفَقْرَ وَنَتَخَوَّفُهُ، فَقَالَ: " آلْفَقْرَ تَخَافُونَ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُصَبَّنَّ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا صَبًّا حَتَّى لَا يُزِيغَ قَلْبَ أَحَدِ مِنْكُمْ إِزَاغَةً إِلَّا هِيَهْ، وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاءِ لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ"، قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: صَدَقَ وَاللَّهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَرَكَنَا وَاللَّهِ عَلَى مِثْلِ الْبَيْضَاء، لَيْلُهَا وَنَهَارُهَا سَوَاءٌ.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ، ہم اس وقت غربت و افلاس اور فقر کا تذکرہ کر رہے تھے ، اور اس سے ڈر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ فقر سے ڈرتے ہو ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، ضرور تم پر دنیا آئندہ ایسی لائی جائے گی کہ اس کی طلب مزید تمہارے دل کو حق سے پھیر دے گی ۱؎ ، قسم اللہ کی ! میں نے تم کو ایسی تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ہے جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے “ ۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ، قسم اللہ کی ! آپ نے ہم کو ایک تابناک اور روشن شریعت پر چھوڑا ، جس کی رات ( تابناکی میں ) اس کے دن کی طرح ہے ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 5]
💡 وضاحت:
۱؎: «إلا هيه» میں «ھی» کی ضمیر دنیا کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اس کے آخر میں «ھا» ھائے سکت ہے۔ ۲؎: اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تمہیں ایک ایسے حال پر چھوڑا ہے کہ تمہارے دل پاک و صاف ہیں، ان میں باطل کی طرف کوئی میلان نہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے تنگی و خوشحالی کوئی بھی چیز انہیں پھیر نہیں سکتی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10929، ومصباح الزجاجة: 1) (حسن)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ".
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سے ایک گروہ کو ہمیشہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل رہے گی ۱؎ ، اور جو اس کی تائید و مدد نہ کرے گا اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 6]
💡 وضاحت:
۱؎«طائفة» کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے جس سے قلت مراد ہے، یعنی یہ ایک ایسا گروہ ہو گا جو تعداد میں کم ہو گا، یا تعظیم کے لئے ہے یعنی یہ ایک بڑے رتبے والا گروہ ہو گا، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس گروہ کے بار ے میں فرماتے ہیں کہ اگر اس سے مراد اہل حدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ پھر اس سے مراد کون ہوں گے، اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاملین بالحدیث کو یہ بشارت دی ہے کہ کسی کی موافقت یا مخالفت اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گی، اس لئے کہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حفاظت و امان میں ہیں، اس لئے متبع سنت کو اس حدیث کی روشنی میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ حدیث رسول کے ثابت ہو جانے کے بعد سلف صالحین کے فہم و مراد کے مطابق اس پر بلا خوف و خطر عمل کرے اور اگر ساری دنیا بھی اس کی مخالف ہو تو اس کی ذرہ برابر پرواہ نہ کرے، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اللہ کا آخری دین ہے، اور اسی پر چل کر ہمارے لئے نجات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/کتاب الفتن 27 (2192)، 51 (2229)، (تحفة الأشراف: 11081)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/436 4/97، 101) (صحیح)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي قَوَّامَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهَا مَنْ خَالَفَهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے حکم ( دین ) پر قائم رہنے والا ہو گا ، اس کی مخالفت کرنے والا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 7]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 14278، ومصباح الزجاجة: 3)، وقد أ خرجہ: مسند احمد (3/436، 4/97) (حسن صحیح)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيَّ ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَزَالُ اللَّهُ يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ غَرْسًا يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِهِ".
ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ ہمیشہ اس دین میں نئے پودے اگا کر ان سے اپنی اطاعت کراتا رہے گا ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 8]
💡 وضاحت:
۱؎: نئے پودے اگانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ نئے نئے لوگوں کو پیدا فرمائے گا، جو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12075، ومصباح الزجاجة: 4)، مسند احمد (4/200) (حسن)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا وَطَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ".
شعیب کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا ، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 9]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11419)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 7 (3116)، المناقب 28 (3640)، الاعتصام 10 (7311)، التوحید 29 (7459)، صحیح مسلم/الإمارة 53 (1923)، مسند احمد (4/93) (صحیح)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا ، مخالفین کی مخالفت اسے ( اللہ کے امر یعنی : ) ۱؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 10]
💡 وضاحت:
۱؎: امر اللہ سے مراد وہ ہوا ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 53 (1920)، الفتن 5 (2889)، سنن الترمذی/الفتن 14 (2176)، 51 (2229)، (تحفة الأشراف: 2102)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن 1 (4252)، مسند احمد (5/34، 35)، سنن الدارمی/الجہاد 38 (2476) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3952) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَالِدًا ، يَذْكُرُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " فَخَطَّ خَطًّا، وَخَطَّ خَطَّيْنِ عَنْ يَمِينِهِ، وَخَطَّ خَطَّيْنِ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الْخَطِّ الْأَوْسَطِ، فَقَالَ: هَذَا سَبِيلُ اللَّهِ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ سورة الأنعام آية 153.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ، آپ نے ایک لکیر کھینچی اور دو لکیریں اس کے دائیں جانب اور دو بائیں جانب کھینچیں ، پھر اپنا ہاتھ بیچ والی لکیر پر رکھا اور فرمایا : ” یہ اللہ کا راستہ ہے “ ، پھر اس آیت کی تلاوت کی : «وأن هذا صراطي مستقيما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتفرق بكم عن سبيله» ” یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس تم اسی پر چلو ، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے “ ( سورۃ الانعام : ۱۵۳ ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 11]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیدھا راستہ اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ یہ قرآن جو میں نے تمہارے واسطے بھیجا، اور جو رویہ اور طریقہ اس میں تمہارے چلنے کو مقرر فرمایا ہے، یہی میری رضا مندی اور میری طرف پہنچنے کا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو اور اس کے علاوہ دیگر راستے تم کو نجات کے راستہ سے بہکا دیں گے، کیونکہ وہ سب شیطان کے راستے ہیں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بکمال رأفت و رحمت یہ سب طریقے صاف طور پر ہر آدمی کے لئے واضح فرما دیئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مجالد:ضعيف ¤ و لبعض الحديث شواھد قوية عند ابن حبان (موارد:1741) وغيره ¤ وحديث أحمد (1/ 435) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2357، ومصباح الزجاجة: 5)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/293، 316، 322، 385) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: السنہ لابن ابی عاصم: 16، وتعلیق عوض الشہری علی مصباح الزجاجة: 5)
2: بَابُ : تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ
باب: حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِرٍ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ الرَّجُلُ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ، يُحَدَّثُ بِحَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَلَالٍ اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا وَجَدْنَا فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ، أَلا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ".
مقدام بن معدیکرب کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ کوئی آدمی اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے بیٹھا ہو اور اس سے میری کوئی حدیث بیان کی جائے تو وہ کہے : ” ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کافی ہے ، ہم اس میں جو چیز حلال پائیں گے اسی کو حلال سمجھیں گے اور جو چیز حرام پائیں گے اسی کو حرام جانیں گے “ ، تو سن لو ! جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے وہ ویسے ہی ہے جیسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 12]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/العلم 10 (2664)، (تحفة الأشراف: 11553)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 6 (4604)، مسند احمد (4/132)، سنن الدارمی/المقدمة 49، (606) (صحیح)
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فِي بَيْتِهِ أَنَا سَأَلْتُهُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْر ، ثُمَّ مَرَّ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ: أَو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ مُتَّكِئًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَأْتِيهِ الْأَمْرُ مِمَّا أَمَرْتُ بِهِ أَوْ نَهَيْتُ عَنْهُ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي مَا وَجَدْنَا فِي كِتَابِ اللَّهِ اتَّبَعْنَاهُ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو ، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے ، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا ، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 13]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/السنة 6 (4605)، سنن الترمذی/العلم 10 (2663)، (تحفة الأشراف: 12019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/367) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے ، تو وہ قابل رد ہے ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 14]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ایک اہم شرعی ضابطہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس کام پر کتاب اور سنت صحیحہ کی کوئی دلیل نہ ہو، اور صحابہ و تابعین اور خیر القرون کے تعامل سے وہ محروم ہو تو وہ بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلح 5 (2697)، صحیح مسلم/الأقضیة 8 (1718)، سنن ابی داود/السنة 6 (4606)، (تحفة الأشراف: 17455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/73، 146، 180، 240، 256، 270) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ" اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" قَالَ، فَقَال: الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے ، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا : پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے ، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا ، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زبیر ! تم اپنا کھیت سینچ لو ! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو “ ، انصاری غضبناک ہو کر بولا : اللہ کے رسول ! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں ؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زبیر ! تم اپنا باغ سینچ لو ، پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک پہنچ جائے “ ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : زبیر نے کہا : قسم اللہ کی ! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے : «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» ” قسم ہے آپ کے رب کی ! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے سارے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں ، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں ، اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں “ ( سورة النساء : 65 ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 15]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشرب المساقاة 6 (2359)، 8 (2362)، تفسیر القرآن 12 (3027)، صحیح مسلم/الفضائل 36 (2357)، سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3637)، سنن الترمذی/الأحکام 26 (1363)، تفسیر القرآن سورة النساء (3027)، سنن النسائی/آداب القضاة 26 (5418)، (تحفة الأشراف: 5275)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/165، 4/5)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 2480) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّينَ فِي الْمَسْجِدِ"، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: إِنَّا لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّا لَنَمْنَعُهُنَّ؟.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کی بندیوں ( عورتوں ) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو “ ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا : ہم تو انہیں ضرور روکیں گے ، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما سخت ناراض ہوئے اور بولے : میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 16]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدمقابل لا رہے ہو، مسند احمد (۲/۶۳) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 166 (873)، والنکاح 117 (5238)، (تحفة الأشراف: 6943)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 30 (442)، سنن ابی داود/الصلاة 53 (566)، سنن الترمذی/الصلاة 283 (570)، سنن النسائی/المساجد 15 (707)، موطا امام مالک/القبلة 6 (12)، مسند احمد (2/7، 151)، سنن الدارمی/الصلاة 57 (1314) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَأَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا إِلَى جَنْبِهِ ابْنُ أَخٍ لَهُ، فَخَذَفَ فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكِي عَدُوًّا، وَإِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ"، قَالَ: فَعَادَ ابْنُ أَخِيهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْهَا"، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ، لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کا ایک بھتیجا ان کے بغل میں بیٹھا ہوا تھا ، اس نے دو انگلیوں کے درمیان کنکری رکھ کر پھینکی ، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور فرمایا ہے کہ : ” یہ کنکری نہ تو کوئی شکار کرتی ہے ، اور نہ ہی دشمن کو زخمی کرتی ہے ، البتہ یہ دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے “ ۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ان کا بھتیجا دوبارہ کنکریاں پھینکنے لگا تو انہوں نے کہا : میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے روکا ہے اور تم پھر اسے کرنے لگے ، میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 17]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الذبائح 10 (1954)، (تحفة الأشراف: 9657)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الفتح 5 (4841)، والذبائح 5 (5479)، والأدب 122 (6220)، سنن ابی داود/الدیات 21 (4578)، سنن النسائی/القسامة 33 (4819)، مسند احمد (4/86، 5/46، 54، 55، 56)، سنن الدارمی/المقدمة 40 (452)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3226، 3227) (صحیح)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ الْأَنْصَارِيَّ النَّقِيبَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، غَزَا مَعَ مُعَاوِيَةَ أَرْضَ الرُّومِ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ وَهُمْ يَتَبَايَعُونَ كِسَرَ الذَّهَبِ بِالدَّنَانِيرِ، وَكِسَرَ الْفِضَّةِ بِالدَّرَاهِمِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ الرِّبَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَبْتَاعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ لَا زِيَادَةَ بَيْنَهُمَا وَلَا نَظِرَةَ" فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ لَا أَرَى الرِّبَا فِي هَذَا إِلَّا مَا كَانَ مِنْ نَظِرَةٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُحَدِّثُنِي عَنْ رَأْيِكَ، لَئِنْ أَخْرَجَنِي اللَّهُ لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ لَكَ عَلَيَّ فِيهَا إِمْرَةٌ، فَلَمَّا قَفَلَ لَحِقَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا أَقْدَمَكَ يَا أَبَا الْوَلِيدِ؟ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، وَمَا قَالَ مِنْ مُسَاكَنَتِهِ، فَقَالَ: ارْجِعْ يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِلَى أَرْضِكَ، فَقَبَحَ اللَّهُ أَرْضًا لَسْتَ فِيهَا، وَأَمْثَالُكَ وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ: لَا إِمْرَةَ لَكَ عَلَيْهِ، وَاحْمِلِ النَّاسَ عَلَى مَا قَالَ فَإِنَّهُ هُوَ الْأَمْرُ.
قبیصہ سے روایت ہے کہ عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ نے ( جو کہ عقبہ کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے والے صحابی ہیں ) معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سر زمین روم میں جہاد کیا ، وہاں لوگوں کو دیکھا کہ وہ سونے کے ٹکڑوں کو دینار ( اشرفی ) کے بدلے اور چاندی کے ٹکڑوں کو درہم کے بدلے بیچتے ہیں ، تو کہا : لوگو ! تم سود کھاتے ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” تم سونے کو سونے سے نہ بیچو مگر برابر برابر ، نہ تو اس میں زیادتی ہو اور نہ ادھار ۱؎ “ ، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ابوالولید ! میری رائے میں تو یہ سود نہیں ہے ، یعنی نقدا نقد میں تفاضل ( کمی بیشی ) جائز ہے ، ہاں اگر ادھار ہے تو وہ سود ہے ، عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں آپ سے حدیث رسول بیان کر رہا ہوں اور آپ اپنی رائے بیان کر رہے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے صحیح سالم نکال دیا تو میں کسی ایسی سر زمین میں نہیں رہ سکتا جہاں میرے اوپر آپ کی حکمرانی چلے ، پھر جب وہ واپس لوٹے تو مدینہ چلے گئے ، تو ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ابوالولید ! مدینہ آنے کا سبب کیا ہے ؟ تو انہوں نے ان سے پورا واقعہ بیان کیا ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کے زیر انتظام علاقہ میں نہ رہنے کی جو بات کہی تھی اسے بھی بیان کیا ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ” ابوالولید ! آپ اپنی سر زمین کی طرف واپس لوٹ جائیں ، اللہ اس سر زمین میں کوئی بھلائی نہ رکھے جس میں آپ اور آپ جیسے لوگ نہ ہوں “ ، اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ عبادہ پر آپ کا حکم نہیں چلے گا ، آپ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ عبادہ کی بات پر چلیں کیونکہ شرعی حکم دراصل وہی ہے جو انہوں نے بیان کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 18]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ایک ہاتھ لو اور دوسرے ہاتھ دو۔ عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوالولید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5106، ومصباح الزجاجة: 6)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساقاة 15 (1587)، سنن ابی داود/البیوع 12 (3349)، سنن الترمذی/البیوع 23 (1240)، سنن النسائی/البیوع 42 (4567)، مسند احمد (5/314)، سنن الدارمی/البیوع 41 (2554)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2254) (صحیح) (بوصیری کہتے ہیں کہ اس حدیث کی اصل صحیحین میں عبادہ رضی اللہ عنہ سے قصہ مذکورہ کے بغیرمروی ہے، اور اس کی صورت مرسل ومنقطع کی ہے کہ قبیصہ کو قصہ نہیں ملا، امام مزی کہتے ہیں: قبیصہ کی ملاقات عبادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلَّادِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، أَنْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ( خیال و گمان ) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 19]
قال الشيخ الألباني: ضعيف منقطع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه انقطاع،عون بن عبد اللّٰه لم يسمع من عبد اللّٰه بن مسعود“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9532، ومصباح الزجاجة: 7)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/415)، سنن الدارمی/المقدمة 50 (612) (ضعیف) (عون بن عبداللہ کی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے، سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن آگے علی رضی اللہ عنہ سے ثابت اس معنی کا قول آرہا ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 20)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ فَظُنُّوا بِهِ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کروں تو تم یہی ( خیال گمان ) رکھو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سب سے زیادہ عمدہ ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 20]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی حدیثوں کو صحیح محمل پر رکھو اور مناسب موقع پر فٹ کرو، اور اس میں تعارض اور تناقض کا خیال نہ کرو، اور جو حدیث کا منطوق ہو اسی کو تقوی اور ہدایت جانو، اور اس کے خلاف کو مطلقاً بہتر اور ہدایت نہ سمجھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10177، ومصباح الزجاجة: 8)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/122، 130)، سنن الدارمی/المقدمة 50 (612) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا أَعْرِفَنَّ مَا يُحَدَّثُ أَحَدُكُمْ عَنِّي الْحَدِيثَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ، فَيَقُولُ: اقْرَأْ قُرْآنًا، مَا قِيلَ مِنْ قَوْلٍ حَسَنٍ فَأَنَا قُلْتُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں یہ ہرگز نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی سے میری حدیث بیان کی جا رہی ہو اور وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے یہ کہتا ہو : قرآن پڑھو ، سنو ! جو بھی اچھی بات کہی گئی ہے وہ میری ہی کہی ہوئی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 21]
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن سعيد المقبري: متروك ¤ وللحديث طريق آخر: ضعيف / عند أحمد (483/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14336) (ضعیف جدًا) (سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری متروک روای ہیں)
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكَرَابِيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَعَالَى عَنْهُ.
ابوسلمہ ( ابوسلمہ ابن عبدالرحمٰن بن عوف ) سے روایت ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے کہا : میرے بھتیجے ! جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم اس پر کہاوتیں اور مثالیں نہ بیان کیا کرو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 22]
قال الشيخ الألباني: حسن، وهو مكرر رقم 20
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 20) (صحیح)
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكَرَابِيسِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، مِثْلَ حَدِيثِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَعَالَى عَنْهُ.
اس سند سے عمرو بن مرہ سے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ہم مثل مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 22M]
قال الشيخ الألباني: حسن، وهو مكرر رقم 20
تخریج دارالدعوہ: (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 20) (صحیح)
3: بَابُ : التَّوَقِّي فِي الْحَدِيثِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں احتیاط۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ الْبَطِينُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: " مَا أَخْطَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ عَشِيَّةَ خَمِيسٍ إِلَّا أَتَيْتُهُ فِيهِ، قَالَ: فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ لِشَيْءٍ قَطُّ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ عَشِيَّةٍ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَنَكَسَ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَهُوَ قَائِمٌ مُحَلَّلَةً أَزْرَارُ قَمِيصِهِ، قَدِ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ، وَانْتَفَخَتْ أَوْدَاجُهُ"، قَالَ: أَوْ دُونَ ذَلِكَ، أَوْ فَوْقَ ذَلِكَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، أَوْ شَبِيهًا بِذَلِكَ.
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں بلا ناغہ ہر جمعرات کی شام کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاتا تھا ، میں نے کبھی بھی آپ کو کسی چیز کے بارے میں «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» کہتے نہیں سنا ، ایک شام آپ نے کہا : «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» اور اپنا سر جھکا لیا ، میں نے ان کو دیکھا کہ اپنے کرتے کی گھنڈیاں کھولے کھڑے ہیں ، آنکھیں بھر آئی ہیں اور گردن کی رگیں پھول گئی ہیں اور کہہ رہے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ کم یا زیادہ یا اس کے قریب یا اس کے مشابہ فرمایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 23]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا کمال ادب تھا کہ حدیث کی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس وقت تک نسبت نہ کرتے تھے جب تک خوب یقین نہ ہو جاتا کہ یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، اور جب ذرا سا بھی گمان اور شبہہ ہوتا تو اس خوف سے ڈر جاتے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھ دیں، کیونکہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھے صحیح حدیث کی روشنی میں اس پر جہنم کی وعید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9492، ومصباح الزجاجة: 9)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/452)، سنن الدارمی/ المقدمة 28 (278) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: " كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ: أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ، اور اس سے فارغ ہوتے تو کہتے : «أو كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم» ” یا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 24]
💡 وضاحت:
۱؎: گویا یہ کہہ کر وہ یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم نے تم سے جو یہ حدیث بیان کی ہے وہ روایت بالمعنی ہے، رہے الفاظ تو ہو سکتا ہے کہ ہو بہو یہی الفاظ رہے ہوں یا الفاظ کچھ بدلے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1469، ومصباح الزجاجة: 10)، وقد أخرجہ: دي المقدمة 28 (284) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَر ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: قُلْنَا لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَبِرْنَا، وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کریں ، تو وہ کہنے لگے : ہم بوڑھے ہو گئے ہیں ، ہم پر نسیان غالب ہو گیا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرنا مشکل کام ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 25]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3674، ومصباح الزجاجة: 11)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/370، 372) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: " جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
عبداللہ بن ابی السفر کہتے ہیں کہ میں نے شعبی کو کہتے سنا : میں سال بھر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلسوں میں رہا لیکن میں نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 26]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أخبار الآحاد 6 (7267)، صحیح مسلم/الصید 7 (1944)، (تحفة الأشراف: 7111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/84، 137، 157) (صحیح)
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " إِنَّمَا كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا إِذَا رَكِبْتُمُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ فَهَيْهَاتَ".
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا : ہم تو بس حدیثیں یاد کرتے تھے اور حدیث رسول تو یاد کی ہی جاتی ہے ، لیکن جب تم مشکل اور آسان راستوں پر چلنے لگے تو ہم نے دوری اختیار کر لی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 27]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ کنایہ ہے افراط و تفریط سے، یعنی جب تم نقل میں افراط و تفریط سے کام لینے لگے اور احتیاط کا دامن چھوڑ دیا، تو ہم نے بھی احتیاط کی روش اختیار کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المقدمة 4 (20)، (تحفة الأشراف: 5717) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ قَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى الْكُوفَةِ، وَشَيَّعَنَا فَمَشَى مَعَنَا إِلَى مَوْضِعٍ يُقَالُ لَهُ صِرَارٌ، فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ لِمَ مَشَيْتُ مَعَكُمْ؟" قَالَ: قُلْنَا: لِحَقِّ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِحَقِّ الْأَنْصَارِ، قَالَ: لَكِنِّي مَشَيْتُ مَعَكُمْ لِحَدِيثٍ أَرَدْتُ أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ، فَأَرَدْتُ أَنْ تَحْفَظُوهُ لِمَمْشَايَ مَعَكُمْ، إِنَّكُمْ تَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ لِلْقُرْآنِ فِي صُدُورِهِمْ هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الْمِرْجَلِ، فَإِذَا رَأَوْكُمْ مَدُّوا إِلَيْكُمْ أَعْنَاقَهُمْ، وَقَالُوا: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، فَأَقِلُّوا الرِّوَايَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا شَرِيكُكُمْ".
قرظہ بن کعب کہتے ہیں کہ ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کوفہ بھیجا ، اور ہمیں رخصت کرنے کے لیے آپ ہمارے ساتھ مقام صرار تک چل کر آئے اور کہنے لگے : کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیوں چل کر آیا ہوں ؟ قرظہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے حق اور انصار کے حق کی ادائیگی کی خاطر آئے ہیں ، کہا : نہیں ، بلکہ میں تمہارے ساتھ ایک بات بیان کرنے کے لیے آیا ہوں ، میں نے چاہا کہ میرے ساتھ آنے کی وجہ سے تم اسے یاد رکھو گے : ” تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جن کے سینوں میں قرآن ہانڈی کی طرح جوش مارتا ہو گا ، جب وہ تم کو دیکھیں گے تو ( مارے شوق کے ) اپنی گردنیں تمہاری طرف لمبی کریں گے ۱؎ ، اور کہیں گے : یہ اصحاب محمد ہیں ، تم ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں کم بیان کرنا ، جاؤ میں بھی تمہارا شریک ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 28]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ وہ تمہاری باتیں سن سکیں اور تم سے استفادہ کر سکیں۔ اس سے مراد احادیث کے بیان کرنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھنے کی طرف توجہ مبذول کرانا تھا، اور یہ ایسی بات ہے جس کے صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ گویا اس سے اصل مقصد احادیث کو تحقیق کے ساتھ بیان کرنے کی اہمیت کو بیان کرنا تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط نسبت نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف ¤ وتابعه بيان في رواية سفيان بن عيينة (المستدرك 1/ 102) ولكن سفيان بن عيينة لم يصرح بالسماع وھو مدلس و روي الدارمي (285) عن قرظة بن كعب: ”أن عمر رضي اللّٰه عنه شيع الأنصار حين خرجوا من المدينة فقال: أتدرون لم شيعتكم؟ قلنا: لحق الأنصار قال: إنكم تأتون قومًا تھتز ألسنتھم بالقرآن اھتزاز النخل،فلا تصدوھم بالحديث عن رسول اللّٰه ﷺ و أنا شريككم ¤ قال: ’’فما حدثت بشئ و قد سمعت كما سمع أصحابي“ و سنده حسن وھو يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10625، ومصباح الزجاجة: 12)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 28 (687) (صحیح) (اس کی سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، لیکن حاکم کی سند کی متابعت سے یہ صحیح ہے، حاکم نے اس کو اپنی مستدرک میں صحیح الإسناد کہا ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: " صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ".
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا ، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 29]
💡 وضاحت:
اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3855، ومصباح الزجاجة: 13)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد والسیر 26 (2824)، سنن الدارمی/المقدمة 28 (286) (صحیح)
4: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑا تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 30]
💡 وضاحت:
۱؎: چاہے اس سے کوئی نیک مقصد ہی کیوں نہ ہو، جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی قید سے وہ شخص اس وعید سے نکل گیا ہے جس نے غلطی سے یا بھول سے کوئی بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9368)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن 70 (2257)، العلم 8 (2659)، مسند احمد (1/389، 393، 401، 436، 449) (وأولہ: إنکم منصورون....) (صحیح متواتر) (اس سند میں شریک بن عبداللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شعبہ و سفیان نے ان کی متابعت کی ہے، اور ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّ الْكَذِبَ عَلَيَّ يُولِجُ النَّارَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ پر جھوٹ نہ باندھو ، اس لیے کہ مجھ پر جھوٹ باندھنا جہنم میں داخل کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 31]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 39 (106)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (2)، سنن الترمذی/العلم 8 (2660)، المناقب 20 (7315)، (تحفة الأشراف: 10087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 123، 150) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، حَسِبْتُهُ قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے ” ( انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «متعمدا» بھی فرمایا یعنی جان بوجھ کر “ ۱؎ تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 32]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ شک ہے کہ  «متعمدا»  کا لفظ بھی فرمایا یا نہیں، اور باقی حدیث میں کوئی شک نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/العلم 8 (2661)، (تحفة الأشراف: 1525)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ العلم 39 (108)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (3)، مسند احمد (3/98، 113، 116، 172، 176، 203، 209، 223، 279، 280)، سنن الدارمی/المقدمة 25 (244)، 46 (559) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 33]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2993، ومصباح الزجاجة)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/303، 83)، سنن الدارمی/المقدمة 25 (237) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 34]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ متواتر
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15089، ومصباح الزجاجة: 14)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 39 (109)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (3)، مسند احمد (2/321) (حسن صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ: " إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلْيَقُلْ حَقًّا، أَوْ صِدْقًا، وَمَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابوقتادۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا : ” تم مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو ، اگر کوئی میرے حوالے سے کوئی بات کہے تو وہ صحیح صحیح اور سچ سچ کہے ، اور جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 35]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12130، ومصباح الزجاجة: 15)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/297، 310)، سنن الدارمی/المقدمة 25 (243) (حسن) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن مسند احمد میں تحدیث کی صراحت ہے، نیز شواہد و متابعت کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1753، وتحقیق عوض الشہری، مصباح الزجاجة: 15)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ : مَا لِيَ لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَفُلَانًا، وَفُلَانًا؟ قَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنتا جس طرح ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں ؟ تو انہوں نے کہا : سنو ! جب سے میں اسلام لایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا ، لیکن میں نے آپ سے ایک بات سنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 36]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 38 (107)، سنن ابی داود/العلم 4 (3651)، (تحفة الأشراف: 3623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/165، 166)، سنن الدارمی/المقدمة 25 (239) (صحیح)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 37]
💡 وضاحت:
۱؎: ان حدیثوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا عذاب مذکور ہے، اور حقیقت میں یہ بہت بڑا گناہ اور سنگین دینی جریمہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4245)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والر قائق 16 (3004)، مسند احمد (2/47، 3 /39، 44) (صحیح) (سند میں سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، اور عطیہ العوفی ضعیف، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح بلکہ متواتر ہے)
5: بَابُ : مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ
باب: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 38]
💡 وضاحت:
۱؎«الكاذبين» تثنیہ کے ساتھ یعنی دو جھوٹے، دو جھوٹوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ان کی روایت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ روایت کرنے والا بھی گناہ میں گھڑنے والے کے ساتھ شریک ہو گا، اور  «الكاذبين»  جمع کے ساتھ بھی آیا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ بہت سارے جھوٹے لوگوں میں سے ایک جھوٹا آدمی احادیث کا گھڑنے والا بھی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10212)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 9 (2662)، مسند احمد (5/14، 20) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 40) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 39]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المقدمة 1 (1) (تحفة الأشراف: 4627)، و سنن الترمذی/العلم 9 (2662)، مسند احمد (5/14، 19، 20) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، عَنْ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 40]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، عَنْ شُعْبَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ.
اس سند سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مثل علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 40M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 41]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المقدمة 1 (1)، سنن الترمذی/العلم 9 (2662)، (تحفة الأشراف: 11531)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 250، 252، 255) (صحیح)
6: بَابُ : اتِّبَاعِ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ
باب: ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی اتباع۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ يَعْنِى ابْنَ زَبْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْمُطَاعِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَعَظْتَنَا مَوْعِظَةَ مُوَدِّعٍ، فَاعْهَدْ إِلَيْنَا بِعَهْدٍ، فَقَالَ: " عَلَيْكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ، وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، وَسَتَرَوْنَ مِنْ بَعْدِي اخْتِلَافًا شَدِيدًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ، فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے ، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی ، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے ، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے ڈرو ، اور امیر ( سربراہ ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو ، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے ، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا ، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا ، اور دین میں نئی باتوں ( بدعتوں ) سے اپنے آپ کو بچانا ، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 42]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں تقویٰ اختیار کرنے اور امیر کی اطاعت کرنے کے علاوہ سنت نبوی اور سنت خلفاء راشدین کی اتباع کی تاکید اور بدعات سے بچنے کی تلقین ہے، ساتھ ہی اس بات کی پیش گوئی بھی ہے کہ یہ امت اختلاف و انتشار کا شکار ہو گی، ایسے موقع پر صحیح راہ یہ ہو گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور خلفاء راشدین کے طریقے اور ان کے تعامل سے تجاوز نہ کیا جائے، کیونکہ اختلافات کی صورت میں حق کو پہنچاننے کی کسوٹی اور معیار یہی دونوں چیزیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9891) (صحیح)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّوَّاقُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْعِرْبَاضَ بْنَ سَارِيَةَ ، يَقُولُ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَوْعِظَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَمَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: " قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ، مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِمَا عَرَفْتُمْ مِنْ سُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّمَا الْمُؤْمِنُ كَالْجَمَلِ الْأَنِفِ، حَيْثُمَا قِيدَ انْقَادَ".
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکھیں ڈبدبا گئیں ، اور دل لرز گئے ، ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے ، تو آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے ، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا ، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا ، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین ۱؎ کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا ، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا ، اور امیر کی اطاعت کرنا ، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے ، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 43]
💡 وضاحت:
۱؎: ہدایت یافتہ خلفاء سے مراد خلفاء راشدین ہیں، یعنی ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم، حدیث میں وارد ہے: «الخلافة ثلاثون عامًا» یعنی خلافت راشدہ تیس سال تک رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/السنة 6 (4607)، سنن الترمذی/العلم 16 (2676)، (تحفة الأشراف: 9890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/126، 127)، سنن الدارمی/المقدمة 16 (96) (صحیح)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَال: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَةً بَلِيغَةً، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی ، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے ، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی ، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 44]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (42) (صحیح)
7: بَابُ : اجْتِنَابِ الْبِدَعِ وَالْجَدَلِ
باب: بدعات اور جدال (بے جا بحث و تکرار) سے اجتناب و پرہیز۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ، احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ، يَقُولُ: " صَبَّحَكُمْ مَسَّاكُمْ"، وَيَقُولُ: " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ، وَيَقْرِنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى"، ثُمَّ يَقُولُ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْأُمُورِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ"، وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا، أَوْ ضَيَاعًا فَعَلَيَّ وَإِلَيَّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ، آواز بلند اور غصہ سخت ہو جاتا ، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ( حملہ آور ) لشکر سے ڈرانے والے اس شخص کی طرح ہیں جو کہہ رہا ہے کہ لشکر تمہارے اوپر صبح کو حملہ کرنے والا ہے ، شام کو حملہ کرنے والا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” میں اور قیامت دونوں اس طرح قریب بھیجے گئے ہیں “ ، اور ( سمجھانے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شہادت والی اور بیچ والی انگلی ملاتے پھر فرماتے : ” حمد و صلاۃ کے بعد ! جان لو کہ سارے امور میں سے بہتر اللہ کی کتاب ( قرآن ) ہے ، اور راستوں میں سے سب سے بہتر محمد کا راستہ ( سنت ) ہے ، اور سب سے بری چیز دین میں نئی چیزیں ( بدعات ) ہیں ۱؎ ، اور ہر بدعت ( نئی چیز ) گمراہی ہے “ ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جو مرنے والا مال و اسباب چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ، اور جو قرض یا اہل و عیال چھوڑے تو قرض کی ادائیگی ، اور بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 45]
💡 وضاحت:
۱؎: «محدثات» نئی چیزوں سے مراد ہر وہ چیز جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں ایجاد کر لی گئی ہو، اور کتاب و سنت میں اس کی کوئی دلیل نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (867)، سنن النسائی/العیدین 21 (1579)، (تحفة الأشراف: 2599)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الخراج 15 (2954)، مسند احمد (3/311، 319، 338، 371، سنن الدارمی/المقدمة 23 (212)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2416) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدَنِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ: الْكَلَامُ، وَالْهَدْيُ، فَأَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدِثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ شَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، أَلَا لَا يَطُولَنَّ عَلَيْكُمُ الْأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُكُمْ، أَلَا إِنَّ مَا هُوَ آتٍ قَرِيبٌ، وَإِنَّمَا الْبَعِيدُ مَا لَيْسَ بِآتٍ، أَلَا إِنَّمَا الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، أَلَا إِنَّ قِتَالَ الْمُؤْمِنِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، أَلَا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ بِالْجِدِّ، وَلَا بِالْهَزْلِ، وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيَّهُ، ثُمَّ لَا يَفِي لَهُ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارَ، وَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ يُقَالُ لِلصَّادِقِ: صَدَقَ وَبَرَّ، وَيُقَالُ لِلْكَاذِبِ: كَذَبَ وَفَجَرَ، أَلَا وَإِنَّ الْعَبْدَ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بس دو ہی چیزیں ہیں ، ایک کلام اور دوسری چیز طریقہ ، تو سب سے بہتر کلام اللہ کا کلام ( قرآن مجید ) ہے ، اور سب سے بہتر طریقہ ( سنت ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے ، سنو ! تم اپنے آپ کو دین میں نئی چیزوں سے بچانا ، اس لیے کہ دین میں سب سے بری چیز «محدثات» ( نئی چیزیں ) ہیں ، اور ہر «محدث» ( نئی چیز ) بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔ سنو ! کہیں شیطان تمہارے دلوں میں زیادہ زندہ رہنے اور جینے کا وسوسہ نہ ڈال دے ، اور تمہارے دل سخت ہو جائیں ۱؎ ۔ خبردار ! آنے والی چیز قریب ہے ۲؎ ، دور تو وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ۔ خبردار ! بدبخت تو وہی ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت لکھ دیا گیا ، اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے ۔ آگاہ رہو ! مومن سے جنگ و جدال اور لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے ، اور اسے گالی دینا فسق ( نافرمانی ) ہے ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۳؎ ۔ سنو ! تم اپنے آپ کو جھوٹ سے بچانا ، اس لیے کہ جھوٹ سنجیدگی یا ہنسی مذاق ( مزاح ) میں کسی بھی صورت میں درست نہیں ہے ۴؎ ، کوئی شخص اپنے بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے پورا نہ کرے ۵؎ ، جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے ، اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے ، اور سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے ، اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ، چنانچہ سچے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ کہا اور نیک و کار ہوا ، اور جھوٹے آدمی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا اور گناہ گار ہوا ۔ سنو ! بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کذاب ( جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 46]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی شیطان تمہیں دھوکا نہ دے کہ ابھی تمہاری زندگی بہت باقی ہے، دنیا میں عیش و عشرت کر لو، دنیا کے مزے لے لو، آخرت کی فکر پھر کر لینا، کیونکہ اس سے آدمی کا دل سخت ہو جاتا ہے، اور زاد آخرت کے حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے۔ ۲؎: آنے والی چیز یعنی موت یا قیامت۔ ۳؎: بلا وجہ ترک تعلق جائز نہیں اور اگر کوئی معقول وجہ ہے تو تین دن کی تنبیہ کافی ہے، اور اگر ترک تعلق کا سبب فسق و فجور ہے تو جب تک وہ توبہ نہ کرلے اس وقت تک نہ ملے۔ ۴؎: اس سے مطلقاً جھوٹ کی حرمت ثابت ہوتی ہے، خواہ ظرافت ہو یا عدم ظرافت۔ ۵؎: اس میں اولاد سے بھی وعدہ میں جھوٹ نہ بولنے کی ہدایت ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق مشھور بالتدليس وعنعن ¤ وأكثر ألفاظ الحديث صحيحة كما جائت في أحاديث أخري صحيحة و ھي تغني عن ھذا الحديث ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9524، ومصباح الزجاجہ: 17) (ضعیف) (عبید بن میمون مجہول الحال راوی ہیں، اس لئے یہ سند ضعیف ہے، اور یہ سیاق بھی کہیں اورموجود نہیں ہے، لیکن حدیث کے فقرات اور متابعات وشواہد کی وجہ سے صحیح ہیں، نیز ملاحظہ ہو: فتح الباری: 10/511 و 13/ 252، و صحیح البخاری: 6094، ومسلم: 2606-2647، وابوداود: 4989، والترمذی: 972، والموطا/ الکلام: 16، ومسند احمد: 1/384 - 405، والدارمی: 2757)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، قالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ سورة آل عمران آية 7 إِلَى قَوْلِهِ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 7، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، " إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِيهِ، فَهُمُ الَّذِينَ عَنَاهُمُ اللَّهُ، فَاحْذَرُوهُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی : «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات» اللہ تعالیٰ کے یہ فرمان «وما يذكر إلا أولو الألباب» تک : ( سورة آل عمران : 7 ) ، یعنی : ” وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب اتاری ، جس میں اس کی بعض آیات معلوم و متعین معنی والی محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں ، اور بعض آیات متشابہ ہیں ، پس جن کے دلوں میں کجی اور ٹیڑھ ہے وہ تو اس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور ان کے معنی مراد کی جستجو کریں ، حالانکہ ان کے حقیقی معنی مراد کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا ، اور پختہ و مضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان رکھتے ہیں ، یہ تمام ہمارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہیں ، اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں “ ۔ اور ( آیت کی تلاوت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! جب ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیات میں جھگڑتے اور بحث و تکرار کرتے ہیں تو یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اس آیت کریمہ میں مراد لیا ہے ، تو ان سے بچو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 47]
💡 وضاحت:
۱؎: پوری آیت اس طرح ہے: «يضاجعها»   «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغائ الفتنة وابتغائ تأويله وما يعلم تأويله إلا الله والراسخون في العلم يقولون آمنا به كل من عند ربنا وما يذكر إلا أولوا الألباب» (سورۃ آل عمران: ۷)۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید کو دو قسموں محکم اور متشابہ میں تقسیم کیا ہے، محکم اسے کہتے ہیں جس کی دلالت اور جس کا معنی پوری طرح واضح اور ظاہر ہو، اور جس میں کسی طرح کی تاویل اور تخصیص کا احتمال نہ ہو، اور اس پر عمل کرنا واجب ہے، اور متشابہ یہ ہے کہ جس کے معنی تک مجتہد نہ پہنچ پائے، یا وہ مجمل کے معنی میں ہے جس کی دلالت واضح نہ ہو، یا متشابہ وہ ہے جس کی معرفت کے لئے غور و فکر، تدبر اور قرائن کی ضرورت ہو، جس کی موجودگی میں اس کے مشکل معنی کو سمجھا جا سکے، اور محکم کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اصل کتاب فرمایا، پس اہل علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ متشابہ کو محکم سے ملا کر اس کے معنی کو سمجھیں، اور یہی طریقہ سلف کا ہے کہ متشابہ کو محکم کی طرف پھیر دیتے تھے اور یہ جو فرمایا کہ جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں اس متشابہ کی، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ متشابہ کو محکم کی طرف نہیں پھیرتے کہ اس سے مشتبہ وجوہ سے صحیح وجوہ ان کے ہاتھ آ جائے بلکہ دوسری وجوہ باطلہ پر اس کو اتارتے ہیں اور اس میں وہ تمام اقوام باطلہ داخل ہیں جو حق سے پھری ہوئی ہیں اور «وما يعلم تأويله إلا الله» میں مفسرین کے دو قول ہیں: پہلا یہ کہ یہاں وقف ہے، یعنی «إلا الله» پر اور یہیں پر کلام تمام ہو گیا، اور اس صورت میں آیت سے مراد یہ ہو گا کہ تاویل یعنی متشابہات کی حقیقت کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا، اور اکثر مفسرین اسی کی طرف گئے ہیں، اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں وقف نہیں ہے، اور  «والراسخون في العلم»  معطوف ہے اپنے ماقبل والے جملہ پر یعنی ان متشابہات کا علم اور ان کی تاویل و تفسیر اللہ تبارک و تعالیٰ اور علماء راسخین کو معلوم ہے، بعض مفسرین اس طرف بھی گئے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: 16236)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر آل عمرآن 1 (4547)، صحیح مسلم/العلم 1 (2665)، سنن ابی داود/السنة 2 (4598)، سنن الترمذی/التفسیر 4 (2993، 2994)، مسند احمد (6 / 48)، سنن الدارمی/المقدمة 19 (147) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هُدًى كَانُوا عَلَيْهِ إِلَّا أُوتُوا الْجَدَلَ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ سورة الزخرف آية 58 الْآيَةَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی قوم ہدایت پر رہنے کے بعد گمراہ اس وقت ہوئی جب وہ «جدال» ( بحث اور جھگڑے ) میں مبتلا ہوئی “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی : «بل هم قوم خصمون» ” بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں “ ( سورة الزخرف : 58 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 48]
💡 وضاحت:
۱؎: پوری آیت یوں ہے: «ولما ضرب ابن مريم مثلا إذا قومك منه يصدون (57) وقالوا أآلهتنا خير أم هو ما ضربوه لك إلا جدلا بل هم قوم خصمون» (سورة الزخرف: 58) اور جب عیسی ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو آپ کی قوم اس پر خوشی سے چیخنے چلانے لگی ہے، اور کہتی ہے کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ ان کا آپ سے یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ وہ لوگ جھگڑالو ہیں ہی۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ابن الزبعری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث و مجادلہ کیا تھا، اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:  «إنكم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم» تم اور تمہارے معبودان باطل جہنم کا ایندھن ہیں (سورة الأنبياء: 98)، تو ابن الزبعری نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ سے بحث و حجت میں جیت گیا، قسم ہے رب کعبہ کی! بھلا دیکھو تو نصاری مسیح کو، اور یہود عزیر کو پوجتے ہیں، اور اسی طرح بنی ملیح فرشتوں کو، سو اگر یہ لوگ جہنم میں ہیں تو چلو ہم بھی راضی ہیں کہ ہمارے معبود بھی ان کے ساتھ رہیں، سو کفار فجار اس پر بہت ہنسے اور قہقہے لگانے لگے، تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری:  «إن الذين سبقت لهم منا الحسنى أولئك عنها مبعدون» بیشک جن کے لیے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے، وہ سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے (سورة الأنبياء: 101)۔ حقیقت میں ابن الزبعری کا اعتراض حماقت سے بھرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے  «وما تعبدون»  فرمایا ہے، یعنی جن چیزوں کو تم پوجتے ہو اور لفظ «ما» عربی میں غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے، ملائکہ اور انبیاء ذوی العقول ہیں، اس لئے وہ اس میں کیوں کر داخل ہوں گے، اور باوجود اہل لسان ہونے کے اس کو اس طرف خیال نہ ہوا۔ «جدال» کہتے ہیں حق کے مقابلے میں باطل اور جھوٹی باتیں بنانے کو اور اسی قبیل سے ہے قیاس اور رائے کو دلیل و حجت کے آگے پیش کرنا، یا کسی امام اور عالم کا قول حدیث صحیح کے مقابل میں پیش کرنا، خلاصہ کلام یہ کہ حق کے رد و ابطال میں جو بات بھی پیش کی جائے گی وہ جدال ہے، جس کی قرآن کریم میں بکثرت مذمت وارد ہوئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/التفسیر 44 (3253)، (تحفة الأشراف: 4936)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 256) (حسن)
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ أَبُو هَاشِمِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ الْمَوْصِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِصَاحِبِ بِدْعَةٍ صَوْمًا، وَلَا صَلَاةً، وَلَا صَدَقَةً، وَلَا حَجًّا، وَلَا عُمْرَةً، وَلَا جِهَادًا، وَلَا صَرْفًا، وَلَا عَدْلًا، يَخْرُجُ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا تَخْرُجُ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کسی بدعتی کا روزہ ، نماز ، صدقہ و زکاۃ ، حج ، عمرہ ، جہاد ، نفل و فرض کچھ بھی قبول نہیں کرتا ، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جاتا ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے سے بال نکل جاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 49]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ محمد بن محصن العكاشي كذاب كما قال الإمام أبوحاتم الرازي (الجرح والتعديل 195/7) وقال ابن حجر في التقريب: كذبوه (6268) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3369، ومصباح الزجاجة: 18) (موضوع) (اس کی سند میں محمد بن محصن العکاشی کذاب راوی ہے، نیزملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1493)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ الْخَيَّاطُ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبَى اللَّهُ أَنْ يَقْبَلَ عَمَلَ صَاحِبِ بِدْعَةٍ حَتَّى يَدَعَ بِدْعَتَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کسی بدعتی کا عمل قبول نہیں فرماتا جب تک کہ وہ اپنی بدعت ترک نہ کر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 50]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو زيد و أبو مغيرة: مجهولان (تقريب: 8110،8387) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6569، ومصباح الزجاجة: 19) (ضعیف) (سند میں ابوزید اور ابو المغیرہ دونوں مجہول راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الا ٔلبانی: رقم: 148، وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1492)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ بَاطِلٌ، بُنِيَ لَهُ قَصْرٌ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَهُوَ مُحِقٌّ، بُنِيَ لَهُ فِي وَسَطِهَا، وَمَنْ حَسَّنَ خُلُقَةُ، بُنِيَ لَهُ فِي أَعْلَاهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور وہ باطل پر تھا تو اس کے لیے جنت کے کناروں میں ایک محل بنایا جائے گا ، اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود بحث اور کٹ حجتی چھوڑ دی اس کے لیے جنت کے بیچ میں محل بنایا جائے گا ، اور جس نے اپنے آپ کو حسن اخلاق سے مزین کیا اس کے لیے جنت کے اوپری حصہ میں محل بنایا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 51]
قال الشيخ الألباني: سنده ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1993) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/البر والصلة 58 (1993)، (تحفة الأشراف: 868) (ضعیف) (اس حدیث کی امام ترمذی نے تحسین فرمائی ہے، لیکن اس کی سند میں سلمہ بن وردان منکرالحدیث راوی ہیں، اور متن مقلوب ہے جس کی وضاحت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے، ملاحظہ ہو: سنن ابی داود: 4800)
8: بَابُ : اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ
باب: رائے اور قیاس سے اجتناب و پرہیز۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا، وَأَضَلُّوا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں مٹائے گا کہ اسے یک بارگی لوگوں سے چھین لے گا ، بلکہ اسے علماء کو موت دے کر مٹائے گا ، جب اللہ تعالیٰ کسی بھی عالم کو باقی اور زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے ، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے ، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے ، تو گمراہ ہوں گے ، اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 52]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب کتاب و سنت سے آگاہی رکھنے والے علماء ختم ہو جائیں گے تو کتاب و سنت کا علم لوگوں میں نہ رہے گا، لوگ نام و نہاد علماء اور مفتیان سے مسائل پوچھیں گے، اور یہ جاہل اور ہوا پرست اپنی رائے یا اور لوگوں کی رائے سے ان سوالات کے جوابات دیں گے، اس طرح سے لوگ گمراہ ہو جائیں گے، اور لوگوں میں ہزاروں مسائل خلاف کتاب و سنت پھیل جائیں گے، اس لئے اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کے علم کے حاصل کرنے میں پوری جدوجہد کریں، اور علم اور علماء کی سرپرستی قبول کریں، اور کتاب و سنت کے ماہرین سے رجوع ہوں، ورنہ دنیا و آخرت میں خسارے کا بڑا امکان ہے، اس لئے کہ جہالت کی بیماری کی وجہ سے امت مختلف قسم کے امراض میں مبتلا رہتی ہے، جس کا علاج وحی ہے، جیسے آنکھ بغیر روشنی کے بے نور رہتی ہے، ایسے ہی انسانی عقل بغیر وحی کی روشنی کے گمراہ، پس نور ہدایت کتاب و سنت میں ہے، جس کے لئے ہم سب کو سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ العلم 34 (100)، الاعتصام 7 (7307)، صحیح مسلم/العلم 5 (2673)، سنن الترمذی/العلم 5 (2652)، (تحفة الأشراف: 8883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/257، 261)، سنن الدارمی/المقدمة 26 (245) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا غَيْرَ ثَبَتٍ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے ( بغیر تحقیق کے ) کوئی غلط فتویٰ دیا گیا ( اور اس نے اس پر عمل کیا ) تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 53]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/العلم 8 (3657)، (تحفة الأشراف: 14611)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/321، 365)، سنن الدارمی/ المقدمة 20 (161) (حسن)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، فَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علم تین طرح کا ہے ، اور جو اس کے علاوہ ہے وہ زائد قسم کا ہے : محکم آیات ۱؎ ، صحیح ثابت سنت ۲؎ ، اور منصفانہ وراثت ۳؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 54]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔ ۲؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔ ۳؎: فرائض کا علم جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2885) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الفرائض 1 (2885)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف) (سند میں تین راوی: رشدین بن سعد، عبدالرحمن بن زیاد بن أنعم الإفریقی اور عبد الرحمن بن رافع ضعیف ہیں)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " لَا تَقْضِيَنَّ، وَلَا تَفْصِلَنَّ إِلَّا بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ أَشْكَلَ عَلَيْكَ أَمْرٌ فَقِفْ حَتَّى تَبَيَّنَهُ، أَوْ تَكْتُبَ إِلَيَّ فِيهِ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یمن بھیجا تو فرمایا : ” جن امور و مسائل کا تمہیں علم ہو انہیں کے بارے میں فیصلے کرنا ، اگر کوئی معاملہ تمہارے اوپر مشتبہ ہو جائے تو ٹھہرنا انتظار کرنا یہاں تک کہ تم اس کی حقیقت معلوم کر لو ، یا اس سلسلہ میں میرے پاس لکھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 55]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ محمد بن سعيد المصلوب:كذاب (ترمذي: 3549) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11339)، (مصباح الزجاجة: 20) (موضوع) (سند میں محمد بن سعید بن حسان المصلوب وضاع اور متروک الحدیث راوی ہے)
حدثنا محمد ابن أبي عمر العدنى عن سفيان بن عيينة قال: لم يزل أمر الناس معتدلا حتى نشأ فلان بالكوفة وربيعة الرأي بالمدينة وعثمان البتي بالبصرة فوجدناهم من أبنائ سبايا الأمم.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بنی اسرائیل کا معاملہ ہمیشہ ٹھیک ٹھاک رہا یہاں تک کہ ان میں وہ لوگ پیدا ہو گئے جو جنگ میں حاصل شدہ عورتوں کی اولاد تھے ، انہوں نے رائے ( قیاس ) سے فتوی دینا شروع کیا ، تو وہ خود بھی گمراہ ہوئے ، اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 56]
💡 وضاحت:
۱؎: فواد عبدالباقی کے نسخہ میں یہ حدیث مذکور نہیں ہے، لیکن تحفۃ الاشراف، اور مصباح الزجاجۃ میں یہ موجود ہے جیسا کہ اوپر کی تخریج سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حارثة بن أبي الرجال: ضعيف (تقريب: 1062) عبدة بن أبي لبابة لم يلق عبد اللّٰه بن عمرو بن العاص رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة الأشراف 360/6) ¤ وللحديث شاهد ضعيف عند البزار(كشف الأستار: 166) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18778، ومصباح الزجاجة: 22) (صحیح)
حدثنا محمد ابن أبي عمر العدنى عن سفيان بن عيينة قال: لم يزل أمر الناس معتدلا حتى نشأ فلان بالكوفة وربيعة الرأي بالمدينة وعثمان البتي بالبصرة فوجدناهم من أبنائ سبايا الأمم.
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں لوگوں کا معاملہ برابر ٹھیک رہا یہاں تک کہ کوفہ میں فلاں شخص ، مدینہ میں ربیعۃ الرای ، اور بصرہ میں عثمان البتی پیدا ہوئے ، ہم نے انہیں جنگ میں قید کی جانے والی عورتوں کی اولاد میں سے پایا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 56M]
💡 وضاحت:
۱؎: فواد عبدالباقی کے نسخہ میں یہ حدیث مذکور نہیں ہے، لیکن تحفۃ الاشراف، اور مصباح الزجاجۃ میں یہ موجود ہے جیسا کہ اوپر کی تخریج سے واضح ہے۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18778، ومصباح الزجاجة: 22) (صحیح)
9: بَابٌ في الإِيمَانِ
باب: ایمان کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے ( شاخیں ) ہیں ، ان میں سے ادنی ( سب سے چھوٹا ) شعبہ ۱؎ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے ، اور سب سے اعلیٰ اور بہتر شعبہ «لا إله إلا الله» ” اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں “ کہنا ہے ، اور شرم و حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 57]
💡 وضاحت:
۱؎«شعبةٌ» میں تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ ۲؎: حیاء ایمان کی ایک اہم شاخ ہے کیونکہ یہ نفس انسانی کی اصلاح و تربیت میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہے، نیز وہ انسان کو برائیوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان کے عمل کے اعتبار سے بہت سے مراتب و اجزاء ہیں، اور اس میں کمی اور بیشی بھی ہوتی ہے، اور یہی اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 57M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (صحیح)
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْحَيَاءَ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کو شرم و حیاء کے سلسلے میں ملامت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا : ” حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 58]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 12 (36)، سنن الترمذی/الإیمان 7 (2615)، (تحفة الأشراف: 6828)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/لإیمان 16 (23)، الأدب 77 (6118)، سنن ابی داود/الأدب 7 (4795)، سنن النسائی/الإیمان 27 (5036)، موطا امام مالک/حسن الخلق 2 (10)، مسند احمد (2/56، 147) (صحیح)
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر تکبر ( گھمنڈ ) ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہو گا ، اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا وہ جہنم میں نہیں داخل ہو گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 59]
💡 وضاحت:
۱؎: مرتکب کبیرہ کے سلسلے میں آخرت سے متعلق وعید کی احادیث میں یہ آیا ہے کہ وہ ملعون ہے، یا اس کو جنت میں نہ داخل ہونے کی وعید ہے، یا جہنم میں داخل ہونے کی وعید ہے، اس سلسلے میں علماء کی آراء کا خلاصہ مندرجہ ذیل ہے: 1 «لا يدخل الجنة» وہ جنت میں نہ داخل ہو گا، یعنی نعمت و سرور اور انبساط کے اعتبار سے اونچے درجہ کی جنت میں نہ داخل ہو گا، یہ مطلب نہیں ہے کہ جنت کے کسی درجہ اور طبقہ میں داخل نہ ہو گا۔ 2 یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرتکب کبیرہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہو گا جس وقت تک مرتکب کبیرہ کا ارتکاب نہ کرنے والے جنت میں داخل ہو رہے ہوں گے، اس لئے کہ وہ اپنے گناہوں کی باز پرس اور محاسبہ کے مرحلہ میں ہو گا، یا اپنے گناہوں کی پاداش میں جہنم میں ہو گا، اور سزا بھگتنے کے بعد جنت میں داخل ہو گا۔ بعض لوگوں نے اس معنی کو ان لفظوں میں بیان کیا: «إن النفي هو الدخول المطلق الذي لا يكون معه عذاب، لا الدخول المقيد الذي يحصل لمن دخل النار ثم دخل الجنة» ، یعنی: احادیث میں جنت میں اس مطلق دخول کی نفی ہے جس کے ساتھ عذاب نہ ہو گا، نہ کہ اس قید کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کی نفی ہے جو جہنم میں داخل ہونے والے کو ہو گی کہ وہ جرم کی سزا بھگت کر جنت میں داخل ہو گا۔ 3 ایک قول یہ بھی ہے کہ احادیث میں شرط اور استثناء موجود ہے یعنی اگر اللہ نے اس (مرتکب کبیرہ) کو عذاب دیا تو وہ جنت میں نہ داخل ہو گا، یا جنت میں نہ داخل ہو گا الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے۔ بعض معاصی کے مرتکب کے بارے میں جہنم کی وعید والی احادیث کے بارے میں امام نووی فرماتے ہیں کہ کفر سے کمتر مرتکب کبائر کے لئے جہنم کی وعید سے متعلق ساری احادیث کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ یہ اس کی سزا ہے، کبھی وہ سزا کا مستحق ہو گا، اور کبھی اس سے سزا معاف کر دی جائے گی، پھر اگر اس کو (اس کے جرم کی پاداش میں) سزا ہوئی، تو وہ داخل جہنم ہو گا، لیکن اس میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا، بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے وہ ضروری طور پر وہاں سے نکلے گا، توحید پر مرنے والا کوئی آدمی ہمیشہ اور ابدی طور پر جہنم میں نہیں رہے گا، یہ اہل سنت کے درمیان متفق علیہ اصول ہے۔ آخرت سے متعلق وارد احادیث وعد و وعید کے سلسلہ میں زیادہ راجح اور صحیح بات یہ ہے کہ ان کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے، اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ یہ اعمال وعدہ اور وعید کے اثبات و تحقق کے لئے سبب و علت ہیں لیکن کسی متعین شخص پر ان وعدوں یا و عیدوں کا اطلاق نہیں ہو گا الا یہ کہ اس میں وہ ساری شروط و قیود پائی جا رہی ہوں، اور اس سلسلہ کی رکاوٹیں موجود نہ ہوں، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے اس مسئلہ کو متعدد مقامات پر مبرہن کیا ہے۔ اس لئے کہ اہل ایمان کے شرک سے اجتناب اور دوری کی صورت میں اعمال صالحہ پر دخول جنت کی بات بہت ساری احادیث میں وارد ہوئی ہیں، اور جن مطلق روایتوں میں کلمہ شہادت «لا الہ الا اللہ» یا شہادتین پر جنت میں داخل ہونے یا جہنم کے حرام ہونے کی بات ہے تو دوسری احادیث میں اس کی شروط و قیود آئی ہیں جن کی وجہ سے مطلق احادیث کو مقید احادیث پر رکھنا واجب اور ضروری ہے، مطلق احادیث «لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ» میں کلمہ توحید کو دخول جنت کا تقاضا کہا گیا ہے جس کے لئے شروط و قیود کا ہونا اور موانع (رکاوٹوں) کا نہ ہونا ضروری ہے، یہی وجہ ہے کہ امام حسن بصری سے جب یہ کہا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس نے «لا الہ الا اللہ» کہا، جنت میں داخل ہو گا تو آپ نے فرمایا: جس نے کلمہ توحید کہا، اور اس کے حقوق و فرائض ادا کئے وہ جنت میں داخل ہو گا۔ وہب بن منبہ سے سائل نے سوال کیا کہ کلمہ توحید «لا الہ الا اللہ» کیا جنت کی کنجی نہیں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن کنجی بغیر دندانے کے نہیں ہوتی، اگر تم دندانے والی کنجی لے کر آؤ گے تو جنت کا دروازہ تمہارے لئے کھل جائے گا ورنہ نہیں کھلے گا۔ اہل علم نے کلمہ گو ( «لا الہ الا اللہ» کے قائل) میں سات شرطوں کے ضروری طور پر ہونے کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ اس کلمہ سے فائدہ اٹھا سکے، وہ یہ ہیں: (علم، یقین، اخلاص، صدق، محبت، انقیاد، قبول)۔ امام ابن القیم حدیث:  «إن الله حرم على النار من قال: لا إله إلا الله يبتغي وجه الله»  اللہ کی رضا و خوشنودی کو چاہنے والے «لا الہ الا اللہ» کے قائل (کلمہ گو) پر اللہ تعالیٰ نے جہنم حرام کردی ہے کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شارع نے صرف زبانی اقرار سے اس کے حصول (یعنی جنت میں داخل ہونا اور جہنم میں نہ جانے) کی بات نہیں کہی ہے، اس لئے کہ یہ اعداء دین اسلام منافقین کلمہ توحید کو اپنی زبانوں سے دہراتے تھے، اور اس کے ساتھ وہ جہنم کے سب سے خراب درجہ کے مستحق ہیں، اس لئے زبانی اقرار اور دلی اقرار دونوں ضروری اور واجبی ہیں۔ اور دلی اقرار میں کلمہ کی معرفت اور اس کی تصدیق موجود ہے اور کلمہ میں سارے معبودان باطل کا انکار اور اللہ واحد کی الوہیت، اس کی عبادت کے اثبات کی معرفت موجود ہے، اور ماسوا اللہ سے الوہیت کی نفی کی حقیقت کی معرفت بھی موجود ہے کہ الوہیت و عبادت اللہ کے ساتھ خاص ہے اور دوسرے کے لئے اس کا ثبوت محال ہے۔ اس معنی و مفہوم کے علم و معرفت اور یقین و حال کے ساتھ دل میں ثابت و متحقق ہونے کے نتیجہ میں کلمہ گو پر جہنم حرام ہے، اور شارع نے اپنے ہر قول میں جو ثواب و اجر متعین فرمایا ہے وہی پوری اور مکمل بات ہے۔ امام سلیمان بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ کلمہ توحید کو زبان سے کہنا بغیر اس کے معنی کو سمجھے، اور بغیر اس کے تقاضے پر عمل کے اجماعی طور پر نفع بخش نہیں ہے (تیسیر العزیز الحمید)۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب زکاۃ نہ دینے والوں کے خلاف جنگ کا ارادہ فرمایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے مشہور حدیث: «أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا: لا إله إلا الله، فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه، وحسابه على الله»  (متفق علیہ) سے استدلال کرتے ہوئے آپ پر اعتراض کیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو یہ سمجھایا کہ کلمہ توحید کے حق نہ ادا کرنے پر ان سے قتال (جنگ) ممنوع نہیں ہے، کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کلمہ کہا تو اس کا مال اور اس کی جان میرے یہاں معصوم و محفوظ ہے الا یہ کہ قتل کو واجب کرنے والا حق یعنی عدل و انصاف کا تقاضا موجود ہو، تو فرمایا کہ زکاۃ مال کا حق ہے، یعنی اس کی ادائیگی نہ کرنے والوں کے خلاف جنگ کی جائے گی، عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابۂ کرام رضوان علیہم اجمعین نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس فہم حدیث اور استدلال کو قبول کیا اور آپ کے ساتھ مل کر ان لوگوں کے خلاف جنگ کی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی دوسری متفق علیہ حدیث میں مسلمانوں کے خون اور مال کی حرمت و عصمت کی مزید ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرنے کا حکم ربانی ہے، جب تک کہ لوگ کلمہ توحید و رسالت ( «لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ» ) کی گواہی نہ دیں، اور جب تک نماز اور اس کی اقامت اور زکاۃ کی ادائیگی نہ کر لیں، اور جب فرائض ادا کر لیں گے، تو ان کے خون و مال کی عصمت و حرمت میرے یہاں متحقق ہو جائے گی، الا یہ کہ اسلام کا حق موجود ہو، یعنی قتل کو واجب کرنے کا سبب اور عدل و انصاف کا تقاضا موجود ہو، اور (عدل کا تقاضا پورا ہونے اور حدود کے نفاذ کے بعد) ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ دنیاوی سزائیں صرف کلمہ توحید و رسالت کے اقرار سے معاف نہیں ہو سکتی، بلکہ اسلام کے کسی حق کے نہ بجا لانے کی صورت میں بندہ سزا کا مستحق ہو گا، تو اسی طرح سے آخرت میں ان اعمال کے کرنے یا نہ کرنے پر عقوبت و سزا کے استحقاق کا معاملہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ کلمہ توحید کے قائل پر جہنم کی حرمت، اور شفاعت کے ذریعہ جہنم سے باہر نکلنے کی بات کا مطلب یہ ہے کہ جس نے کلمہ اسلام کی شروط و قیود کو اس کے حقوق و واجبات ادا کرکے پورا کیا، اور اس کی راہ جنت کی رکاوٹیں بھی جاتی رہیں تو اس کے حق میں یہ وعدہ ثابت و متحقق ہو گا۔ آخرت کے احکام سے متعلق وارد احادیث وعید کے سلسلے میں بھی صحیح بات یہ ہے کہ ان کو ان کے ظاہر و اطلاق پر رکھا جائے گا، اور ان کو کسی متعین شخص پر فٹ نہیں کیا جائے گا۔ اس مسئلہ کو اس مثال سے مزید سمجھا جائے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب سے متعلق دس افراد پر لعنت فرمائی: شراب کشید کرنے والے پر، شراب کشید کروانے والے پر، اس کو پینے والے پر، اس کو ڈھونے والے پر وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ صحیح بخاری میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عبداللہ نامی ایک آدمی جو حمار کے لقب سے مشہور تھا، اور وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا، اس آدمی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی حد میں کوڑے لگوائے، ایک مرتبہ یہ صحابی رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے تو دوبارہ انہیں کوڑے لگائے گئے، ایک آدمی نے کہا: اللہ کی اس پر لعنت ہو، اسے کتنی بار شراب پینے کے جرم میں لایا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم اس پر لعنت نہ بھیجو، اللہ کی قسم! مجھے اس کے بارے میں یہی معلوم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس متعین آدمی پر جس نے بار بار شراب پی تھی، لعن طعن سے منع فرمایا، جبکہ پہلی حدیث میں شرابی پر لعنت بھیجی گئی ہے، اس لئے کہ مطلق لعنت سے مخصوص اور متعین آدمی پر لعنت لازم نہیں، جس کے ساتھ (لعنت نہ لاگو ہونے کے) ایسے موانع ہوں، جو اس کو اس وعید سے دور رکھتے ہوں۔ وعید کی احادیث کو مطلق بیان کرنے، اور اس کو کسی شخص پر محمول نہ کرنے کا عمل ان تمام احادیث میں ضروری ہے جن میں اس کام سے متعلق آخرت میں جہنم کی دھمکی ہے، مثلاً ارشاد نبوی ہے:  «إذا التقى المسلمان بسيفهما، فالقاتل والمقتول في النار»  جب دو مسلمان تلوار لے کر آمنے سامنے آ کھڑے ہوں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم کی آگ میں ہیں۔ ناحق مسلمانوں سے جنگ کی حرمت کے سلسلے میں اس حدیث پر عمل واجب ہے، اور یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ اس کام کے کرنے والے کو اس وعید کی دھمکی ہے، لیکن بایں ہمہ ہم جنگ جمل اور صفین کے شرکاء کے جہنم میں داخل ہونے کا حکم نہ لگائیں گے، اس لئے کہ ان جنگوں میں شریک لوگوں کے پاس عذر و تاویل موجود ہے، اور ان کے پاس ایسی نیکیاں ہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ اس حدیث کا انطباق ان پر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس مسئلہ کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان فرمایا: وعید سے متعلق احادیث کے تقاضوں پر عمل اس اعتقاد کے ساتھ واجب ہے کہ اس کام کا ارتکاب کرنے والے کو اس کام کے جرم کی وعید (دھمکی) ہے، لیکن اس وعید کے اس آدمی پر لاگو ہونے کے لئے شروط و قیود کا ہونا، اور رکاوٹوں کا نہ ہونا ضروری ہے۔ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: اور یہ جیسا کہ وعید کی نصوص ہیں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  «إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما إنما يأكلون في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا» (سورۃ النساء: ۱۰) اور وعید کی یہ نصوص بحق ہیں، لیکن متعین آدمی پر اس وعید کے متحقق ہونے کی گواہی نہ دی جائے گی، پس کسی متعین قبلہ والے کے لئے جہنم کی وعید کی گواہی نہ دی جائے گی اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ یہ وعید کسی شرط کے فوت ہو جانے یا کسی رکاوٹ کے موجود ہونے کی وجہ سے اس کو نہ لاحق ہو۔ اہل علم نے گناہوں کی سزا کے ساقط ہو جانے کے گیارہ اسباب کا ذکر کیا ہے، جن سے وعید کا نفاذ ممنوع اور معطل ہو جاتا ہے: ۱- توحید ۲- توبہ (یہ متفقہ طور پر وعید کے نفاذ کی مانع ہے) ۳- استغفار ۴- نیکیاں (جو برائیوں کو مٹانے والی ہوتی ہے) ۵- اہل ایمان کا مومن کے لئے دعا جیسے نماز جنازہ۔ ۶- میت کو ثواب پہنچانے کے لئے کئے جانے والے اچھے کام جیسے صدقہ و خیرات وغیرہ۔ ۷- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے لوگوں کی قیامت کے دن گنہگاروں کے بارے میں شفاعت۔ ۸- دنیاوی آلام و مصائب جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ خطاؤں کو معاف کرتا ہے۔ ۹- قبر میں حاصل ہونے والی سختیاں اور فتنے، یہ بھی گناہوں کے لئے کفارہ ہوتے ہیں۔ ۱۰- روز قیامت کی ہولناکیاں، سختیاں اور تکالیف۔ ۱۱- اللہ تعالیٰ کی رحمت و عفو، اور بغیر شفاعت کے اس کی بخشش و مغفرت۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 39 (91)، اللباس 29 (4091)، سنن الترمذی/البر والصلة 61 (1998)، (تحفة الأشراف: 9421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/287، 412، 416، 2/164، 3/13، 17) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 4173)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا خَلَّصَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ مِنِ النَّارِ وَأَمِنُوا، فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ، يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا أَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ، قَالَ: يَقُولُونَ: رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا، وَيَصُومُونَ مَعَنَا، وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ، فَيَقُولُ: " اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ فَيَأْتُونَهُمْ، فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ، لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ، فَيُخْرِجُونَهُمْ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ قَدْ أَمَرْتَنَا، ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الْإِيمَانِ، ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ، ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ هَذَا فَلْيَقْرَأْ إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا سورة النساء آية 40.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ مومنوں کو جہنم سے نجات دیدے گا ، اور وہ امن میں ہو جائیں گے تو وہ اپنے ان بھائیوں کی نجات کے لیے جو جہنم میں داخل کر دئیے گئے ہوں گے ، اپنے رب سے ایسی بحث و تکرار کریں گے ۱؎ کہ کسی نے دنیا میں اپنے حق کے لیے اپنے ساتھی سے بھی ویسا نہیں کیا ہو گا “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! یہ ہمارے بھائی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، روزہ رکھتے تھے ، اور حج کرتے تھے ، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” جاؤ ان میں سے جنہیں تم پہچانتے ہو نکال لو “ ، وہ مومن ان جہنمیوں کے پاس آئیں گے ، اور انہیں ان کے چہروں سے پہچان لیں گے ، آگ ان کی صورتوں کو نہیں کھائے ہو گی ، کسی کو آگ نے اس کی آدھی پنڈلیوں تک اور کسی کو ٹخنوں تک پکڑ لیا ہو گا ، پھر وہ مومن ان کو جہنم سے نکالیں گے اور عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! جن کو تو نے نکالنے کا حکم دیا تھا ہم نے ان کو نکال لیا ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس شخص کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو اس کو بھی جہنم سے نکال لو ، پھر جس کے دل میں آدھا دینار کے برابر ایمان ہو ، پھر جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو “ ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جس کو اس پر یقین نہ آئے وہ اس آیت کو پڑھ لے : «إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها ويؤت من لدنه أجرا عظيما»  یعنی : ” بیشک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ، اور اگر نیکی ہو تو اسے دوگنا کر دیتا ہے ، اور اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے “ ( سورة النساء : 40 ) ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 60]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اصرار کے ساتھ سفارش کریں گے۔ ۲؎: اس حدیث سے بھی ایمان کی زیادتی اور کمی کا ہونا ظاہر ہوتا ہے، اور جہنم سے نجات ایمان کی زیادتی اور کمی پر منحصر ہے، نیز صالحین کی شفاعت و سفارش پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الإیمان 18 (5013)، (تحفة الأشراف: 4178)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الإیمان 15 (22)، الرقاق 51 (6560)، صحیح مسلم/الإیمان 81 (183) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ نَجِيحٍ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِتْيَانٌ حَزَاوِرَةٌ، فَتَعَلَّمْنَا الْإِيمَانَ قَبْلَ أَنْ نَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ، ثُمَّ تَعَلَّمْنَا الْقُرْآنَ فَازْدَدْنَا بِهِ إِيمَانًا".
جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اور ہم طاقتور نوجوان تھے ، ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان کو سیکھا ، پھر ہم نے قرآن سیکھا ، تو اس سے ہمارا ایمان اور زیادہ ( بڑھ ) ہو گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 61]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3264، ومصباح الزجاجة: 23) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نِزَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ، الْمُرْجِئَةُ، وَالْقَدَرِيَّةُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کے دو گروہ ایسے ہوں گے کہ اسلام میں ان کا کوئی حصہ نہیں : ایک مرجیہ ۱؎ اور دوسرا قدریہ ( منکرین قدر ) “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 62]
💡 وضاحت:
۱؎: مرجئہ ارجاء سے ہے، جس کے معنی تاخیر کے ہیں، یہ ایک گمراہ فرقہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ کوئی معصیت (گناہ) نقصان دہ نہیں جیسے کفر کے ساتھ کوئی نیکی نفع بخش نہیں، ان کے نزدیک ایمان محض دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کا نام ہے، جب کہ اہل سنت کے نزدیک ایمان کے تین ارکان ہیں، دل سے تصدیق کرنا، زبان سے اقرار کرنا، اور اعضاء و جوارح سے عمل کرنا۔ ۲؎: قدریہ جبریہ کے خلاف ہیں، جو اپنے کو مجبور محض کہتے ہیں اور یہ بڑی گمراہی کی بات ہے، اور قدریہ کی نسبت قدر کی طرف ہے، یعنی اللہ کی تقدیر پر جو اس نے قبل مخلوقات مقدر کی، غرض وہ مدعی ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے، کفر ہو یا معصیت و گناہ اور انہوں نے انکار کیا کہ یہ امور تقدیر الٰہی ہیں، یہ گمراہ فرقہ ہے اور غلطی پر ہے۔ قضا و قدر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ اعتقاد رکھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کو ہمارے اعمال و افعال اور ہمارے انجام کار کے بارے میں شروع ہی سے علم ہے، اسی نے ہماری قسمتوں کے فیصلے کر رکھے ہیں، اس لئے ہر بری اور بھلی تقدیر کی بات پر ہمارا ایمان ہے، ساتھ ہی ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بااختیار مخلوق پیدا کیا ہے، جسے عقل و شعور کی نعمت سے نوازا ہے اور اس کی ہدایت کے لئے شروع ہی سے انبیاء و رسل بھیجے ہیں اور آخر میں نبی آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تاکہ انسان وحی کی روشنی میں زندگی گزار کر اللہ رب العزت کے یہاں سرخرو ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2149) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/القدر 13 (2149)، (تحفة الأشراف: 6222) (ضعیف) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 73) (اس کی تحسین امام ترمذی نے کی ہے '' حسن غریب'' لیکن اس میں تین راوی ضعیف ہیں، محمد بن فضیل میں تشیع ہے، علی بن نزار ضعیف ہیں، اور نزار عکرمہ سے ایسی احادیث روایت کرتے ہیں جو عکرمہ کی نہیں ہوتیں، لیکن واضح رہے کہ یہ دونوں فرقے (مرجئہ وقدریہ) عقائد میں گمراہی کی وجہ سے اہل سنت کے نزدیک گمراہ فرقوں میں شمار کئے جاتے ہیں)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ شَعَرِ الرَّأْسِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْنَدَ رُكْبَتَهُ إِلَى رُكْبَتِهِ، وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ"، فَقَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ , ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَرُسُلِهِ، وَكُتُبِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ، وَشَرِّهِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا مِنْهُ يَسْأَلُهُ، وَيُصَدِّقُهُ , ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، قَالَ: فَمَا أَمَارَتُهَا؟ قَالَ: " أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي: تَلِدُ الْعَجَمُ الْعَرَبَ، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَقَالَ: " أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ مَعَالِمَ دِينِكُمْ".
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا ، جس کے کپڑے انتہائی سفید اور سر کے بال نہایت کالے تھے ، اس پہ سفر کے آثار ظاہر نہیں تھے ، اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ، اور اپنا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملا لیا ، اور اپنے دونوں ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ران پر رکھا ، پھر بولا : اے محمد ! اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، نماز قائم کرنا ، زکاۃ ادا کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، اور خانہ کعبہ کا حج کرنا “ ، اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے ، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی ۔ پھر اس نے کہا : اے محمد ! ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں ، یوم آخرت ، اور بھلی بری تقدیر پر ایمان رکھو “ ، اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ، تو ہمیں تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کر رہا ہے ، اور خود ہی جواب کی تصدیق بھی ۔ پھر اس نے کہا : اے محمد ! احسان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو ، اگر تم اس کو نہیں دیکھتے ہو تو یقین رکھو کہ وہ تم کو ضرور دیکھ رہا ہے “ ۔ پھر اس نے پوچھا : قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے پوچھ رہے ہو ، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا “ ۱؎ ۔ پھر اس نے پوچھا : اس کی نشانیاں کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لونڈی اپنے مالکن کو جنے گی ( وکیع راوی حدیث نے کہا : یعنی عجمی عورتیں عرب کو جنیں گی ) ۲؎ اور تم ننگے پاؤں ، ننگے بدن ، فقیر و محتاج بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ بڑی بڑی کوٹھیوں اور محلات کے بنانے میں فخر و مسابقت سے کام لیں گے “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے تین دن کے بعد ملے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو وہ شخص کون تھا ؟ “ ، میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارے دین کی اہم اور بنیادی باتیں سکھانے آئے تھے “ ۳؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 63]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ: ۱ مفتی سے اگر ایسی بات پوچھی جائے جو اسے معلوم نہیں تو  «لا أدري» کہہ دے یعنی میں نہیں جانتا، اور یہ اس کی کسر شان کا سبب نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے سلسلہ کے سوال کے جواب میں یہی فرمایا۔ 2 اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص عالم کی مجلس میں حاضر ہو اور لوگوں کو کسی مسئلے کے بارے میں پوچھنے کی حاجت ہو تو وہ عالم سے پوچھ لے تاکہ اس کا جواب سب لوگ سن لیں۔ 3 اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مفتی کو چاہئے کہ سائل کو نرمی سے سمجھا دے، اور محبت سے بتلا دے تاکہ علمی اور دینی فوائد کا دروازہ بند نہ ہو جائے، اور سائل کے لئے ضروری ہے کہ وہ عالم دین اور مفتی کے ساتھ کمال ادب کا مظاہرہ کرے، اور اس کی مجلس میں وقار اور ادب سے بیٹھے۔ ۲؎: لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی: یعنی ملک فتح ہوں گے، اور لونڈیاں مال غنیمت میں کثرت سے حاصل ہوں گی، اور کثرت سے لوگ ان لونڈیوں کے مالک ہوں گے، اور ان لونڈیوں کی ان کے آقا سے اولاد ہوگی اور وہ آزاد ہوں گے، اور وہ اپنی ماؤں کو لونڈیاں جانیں گے، اور بعض روایتوں میں  «ربتها» کی جگہ  «ربها» وارد ہوا ہے۔ ۳؎: اس حدیث کو حدیث جبرئیل کہتے ہیں اور یہ ظاہری اور باطنی ساری عبادات اور اخلاص و عمل کی ساری صورتوں کو شامل ہے، اور ہر طرح کے واجبات اور سنن اور معروف و منکر کو محیط ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 1 (8)، سنن ابی داود/السنة 17 (4695، 4696، 4697)، سنن الترمذی/الإیمان 4 (2610)، سنن النسائی/الإیمان 5 (4993)، (تحفة الأشراف: 10572)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 37 (50)، تفسیر سورة لقمان 2 (4777)، مسند احمد (1 / 27، 28، 51، 52) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَلِقَائِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤْتِى الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا، إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْغَنَمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ، فَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں میں باہر بیٹھے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا ، اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان یہ ہے کہ تم اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، اس سے ملاقات اور یوم آخرت پر ایمان رکھو “ ۱؎ ۔ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو ، فرض نماز قائم کرو ، فرض زکاۃ ادا کرو ، اور رمضان کے روزے رکھو “ ۔ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! احسان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے “ ۔ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے پوچھ رہے ہو وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ، لیکن میں تم کو اس کی نشانیاں بتاؤں گا : جب لونڈی اپنی مالکن کو جنے تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، اور جب بکریوں کے چرواہے اونچی اونچی عمارتوں پر فخر و مسابقت کریں تو یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے ، قیامت کی آمد ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی : «إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت إن الله عليم خبير» ” بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے ، وہی بارش نازل فرماتا ہے ، اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے وہی جانتا ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا ، نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا ، اللہ ہی علیم ( پورے علم والا ) اور خبیر ( خبر رکھنے والا ہے ) “ ( سورة لقمان : 34 ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 64]
💡 وضاحت:
۱؎: علماء اہل سنت اور عام محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ ایمان تین چیزوں سے مرکب ہے: 1 دل سے یقین کرنا، 2 زبان سے اقرار کرنا، 3 کتاب و سنت سے ثابت شدہ فرائض اور اعمال کو اعضاء و جوارح سے بجا لانا، اور جس قدر صالح اعمال زیادہ ہوں گے ایمان بھی زیادہ ہو گا، اور جس قدر اعمال میں کمی ہو گی ایمان میں کمی ہو گی، کتاب و سنت میں اس پر بے شمار دلائل ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 37 (50)، تفسیر لقمان 2 (4777)، صحیح مسلم/الإیمان 1 (9)، (تحفة الأشراف: 14929)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 17 (4695)، سنن النسائی/الإیمان 5 (4996)، مسند احمد (2/ 426) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 4044) (صحیح)
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُوسَى الرِّضَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ، وَقَوْلٌ بِاللِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ". قَالَ أَبُو الصَّلْتِ: لَوْ قُرِئَ هَذَا الْإِسْنَادُ عَلَى مَجْنُونٍ لَبَرَأَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان دل کی معرفت ، زبان سے اقرار اور اعضائے بدن سے عمل کا نام ہے “ ۔ ابوالصلت کہتا ہے : یہ سند ایسی ہے کہ اگر دیوانے پر پڑھ دی جائے تو وہ اچھا ہو جائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 65]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ أبو الصلت عبد السلام بن صالح الھروي ضعيف جدًا،جرحه الجمھور وقال أبوحاتم الرازي: ”لم يكن عندي بصدوق وھو ضعيف“ (الجرح والتعديل 48/6) وقال العقيلي: ”كان رافضيًا خبيثًا“ (الضعفاء الكبير 70/3) وتوثيق ابن معين”لا يزيده إلا وھنًا“ كما قال عبد الرحمن المعلمي اليماني في هامش الفوائد المجموعة للشوكاني (ص103 باب صلوة الجماعة) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10076، ومصباح الزجاجة: 24) (موضوع) (اس کی سند میں ''عبدالسلام بن صالح ابو الصّلت الہروی'' رافضی کذاب اور متہم بالوضع راوی ہے، اس بناء پر یہ حدیث موضوع ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2270، والموضو عات لابن الجوزی: 1/128، وتلخیص الموضوعات: 26 بتحقیق سنن ابی داود/ عبد الرحمن الفریوائی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، أَوْ قَالَ: لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی ( یا اپنے پڑوسی ) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 66]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کامل مومن نہیں ہو سکتا، اس حدیث سے مسلمانوں کی باہمی خیر خواہی کی اہمیت و فضیلت ظاہر ہوئی، اس سنہری اصول پر اگر مسلمان عمل کرنے لگ جائیں تو معاشرے سے لوٹ کھسوٹ، رشوت، بددیانتی، جھوٹ فریب وغیرہ بیماریاں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، صحیح مسلم/الإیمان 17 (45)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5019)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/89، 3/171، 172، 176، 206)، سنن الدارمی/الرقاق 29 (2782) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ، اس کے والد ، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 67]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جب تک ساری دنیا کے رسم و رواج اور عادات و رسوم، اور اپنی آل اولاد اور ماں باپ سے زیادہ سنت کی محبت نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں، پھر جتنی اس محبت میں کمی ہو گی اتنی ہی ایمان میں کمی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، 8 (15)، صحیح مسلم/الإیمان 16 (44)، سنن النسائی/الایمان 19 (5016)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177، 207) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، " لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَ لَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم اس ذات کی ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو سکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ ، اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو ، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اپنا لو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے ! آپس میں سلام کو عام کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 68]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کا یہ مطلب نہیں کہ محض سلام کرنے ہی سے تم مومن قرار دیے جاؤ گے، اور جنت کے مستحق ہو جاؤ گے، بلکہ مطلب یہ کہ ایمان اسی وقت مفید ہو گا جب اس کے ساتھ عمل بھی ہو گا، اور سلام اسلام کا ایک شعار اور ایمان کا عملی مظاہرہ ہے، ایمان اور عمل کا اجتماع ہی مومن کو جنت میں لے جائے گا، اس حدیث میں سلام عام کرنے کی تاکید ہے کیونکہ یہ مسلمانوں میں باہمی الفت و محبت پیدا کرنے کا بڑا موثر ذریعہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 22 (54)، سنن الترمذی/الاستئذان 1 (2688)، (تحفة الأشراف: 12469، 12513)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 142 (5193)، مسند احمد (1/165، 2/391)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3692) (صحیح)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان کو گالی دینا فسق ( نافرمانی ) ہے ، اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 69]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 38 (48)، الأدب 44 (7044)، الفتن 8 (7076)، صحیح مسلم/الإیمان 28 (64)، سنن النسائی/المحاربة (تحریم الدم) 27 (4114، 4115، 4116)، (تحفة الأشراف: 9243، 9251، 9299)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 52 (1983)، الإیمان 15 (2635)، مسند احمد (1/385، 411، 417، 433) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 393) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا کو اس حال میں چھوڑا کہ خالص اللہ واحد کی عبادت کرتا رہا ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا ، نماز قائم کی ، اور زکاۃ ادا کی ، تو اس کی موت اس حال میں ہو گی کہ اللہ اس سے راضی ہو گا “ ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہی اللہ کا دین ہے جس کو رسول لے کر آئے ، اور اپنے رب کی طرف سے اس کی تبلیغ کی ، اس سے پہلے کہ دین میں لوگوں کی باتوں اور طرح طرح کی خواہشوں کی ملاوٹ اور آمیزش ہو ۔ اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورۃ ( براءۃ ) میں موجود ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة» الآية ، یعنی : ” اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں ، اور زکاۃ ادا کریں “ ( سورۃ التوبہ : ۵ ) ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا : یعنی بتوں کو چھوڑ دیں اور ان کی عبادت سے دستبردار ہو جائیں ، اور نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں ( تو ان کا راستہ چھوڑ دو ) ۔ اور دوسری آیت میں یہ ہے : «فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فإخوانكم في الدين» یعنی : ” اگر وہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں ، زکاۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں “ ( سورۃ التوبہ : ۱۱ ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 70]
💡 وضاحت:
۱؎: پوری آیت اتنی ہی ہے جو اوپر گذری، اللہ تعالیٰ اس میں مشرکوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر وہ توبہ کے بعد نماز و زکاۃ ادا کریں تو تمہارے بھائی ہیں، اور خلاصہ حدیث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو توحید سکھانے کے لئے بھیجا ہے، اور دین کا دارومدار توحید و اخلاص پر ہے، اور نماز و زکاۃ ظاہری اعمال صالحہ میں سب سے اہم اور بنیادی رکن ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ ضعيف ¤ أبو جعفر الرازي ضعيف عن الربيع بن أنس وحسن الحديث عن غيره (انظر ضعيف سنن أبي داود: 1182) ¤ والربيع ھذا حسن الحديث في غير رواية أبي جعفر الرازي ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: t
حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى الْعَبْسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، مِثْلَهُ
اس سند سے ربیع بن انس رحمہ اللہ سے اسی معنی کی حدیث مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 70M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
تخریج دارالدعوہ: t
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں ، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ نماز قائم کرنے ، اور زکاۃ دینے لگیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 71]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے اسلام کے چار بنیادی ارکان معلوم ہوئے: ۱۔ توحید باری تعالیٰ، ۲۔ رسالت محمدیہ کا یقین و اقرار، ۳۔ اقامت نماز، ۴۔ زکاۃ کی ادائیگی، یہ یاد رہے کہ دوسری صحیح حدیث:  «بني الإسلام على خمس» میں اسلام کے پانچویں رکن روزہ کا بھی ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ متواتر
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12259)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 1 (1399)، 40 (1457)، المرتدین 3 (6924)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن ابی داود/الزکاة 1 (1556)، سنن الترمذی/الإیمان 1 (2606)، سنن النسائی/الزکاة 3 (2442)، المحاربة 1 (3983)، مسند احمد (2/528) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3927) (صحیح متواتر) (اس کی سند حسن ہے، لیکن اصل حدیث متواتر ہے)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے لوگوں سے قتال ( لڑنے ) کا حکم دیا گیا ہے ، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور نماز قائم کرنے ، اور زکاۃ دینے لگیں ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 72]
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ متواتر
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11340، ومصباح الزجاجة: 26)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/28، 5 245) (صحیح متواتر) (اس کی سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ حسن ہے، بلکہ اصل حدیث متواتر ہے، ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد: 1/ 24)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا نِزَارُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ، أَهْلُ الْإِرْجَاءِ، وَأَهْلُ الْقَدَرِ".
ابن عباس اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں دو قسم کے لوگ ایسے ہوں گے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں : ایک مرجئہ اور دوسرے قدریہ ( منکرین قدر ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 73]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نزار: ضعيف (ترمذي: 2149) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ وروي الطبراني في الأوسط (113/5ح4216) بسند صحيح عن حميد (الطويل) عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((صنفان من أمتي لا يردان الحوض ولا يدخلان الجنة: القدرية والمرجئة)) وھو حديث صحيح حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي اللّٰه عنه وثابت البناني ثقة ¤ وروي الطبراني في الأوسط (5/ 113۔114 ح 4217) أيضًا بسند صحيح عن حميد عن أنس قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((القدرية والمرجئة مجوس ھذه الأمة فإن مرضوا فلا تعودوھم و إن ماتوا فلا تشھدوھم)) وھو حديث صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2498، ومصباح الزجاجة: 27) (ضعیف) (اس کی سند میں نزار بن حیان ضعیف راوی ہیں، اور عکرمہ سے ایسی روایت کرتے ہیں، جو ان کی نہیں ہو تی، اور عبدالرحمن محمدا للیثی مجہول ہیں)
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ سَعِيدُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " الْإِيمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ".
ابوہریرہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم دونوں کہتے ہیں کہ ایمان بڑھتا ، اور گھٹتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 74]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عبدالوهاب بن مجاهد: متروك وقد كذبه الثوري (تقريب: 4263) ¤ ومفھوم الأثر صحيح بإتفاق أھل السنة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6411، 14352) (ضعیف جدًا) (سند میں عبد الوہاب بن مجاہد متروک الحدیث راوی ہے، لیکن سلف صالحین کے ایمان کی زیادتی اور نقصان پر بکثر ت اقوال ہیں، اور آیات کریمہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے، نیز اس باب میں بعض مرفوع روایت مروی ہے، جو صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1123)
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الْحَارِثِ أَظُنُّهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: " الْإِيمَانُ يَزْدَادُ، وَيَنْقُصُ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 75]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحارث: لم أجد من وثقه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10960) (ضعیف) (سند میں حارث کو شک ہے کہ انہوں نے مجاہد سے روایت کی ہے، اس لئے اس سے انقطاع سند کا اشارہ ملتا ہے)
10: بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، أَنَّهُ يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِكُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِ الْمَلَكَ فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَقُولُ: " اكْتُبْ عَمَلَهُ، وَأَجَلَهُ، وَرِزْقَهُ، وَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ" فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو صادق و مصدوق ( یعنی جو خود سچے ہیں اور سچے مانے گئے ہیں ) نے بیان کیا کہ ” پیدائش اس طرح ہے کہ تم میں سے ہر ایک کا نطفہ خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے ، پھر وہ چالیس دن تک جما ہوا خون رہتا ہے ، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا ہوتا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر ایک فرشتہ بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس فرشتہ سے کہتا ہے : اس کا عمل ، اس کی مدت عمر ، اس کا رزق ، اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی جنت والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر اس کا مقدر غالب آ جاتا ہے ( یعنی لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے ) ، اور وہ جہنم والوں کا عمل کر بیٹھتا ہے ، اور اس میں داخل ہو جاتا ہے ، اور تم میں سے کوئی جہنم والوں کا عمل کر رہا ہوتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، کہ اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آ جاتی ہے ، اور وہ جنت والوں کا عمل کرنے لگتا ہے ، اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 76]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمل، اجل (عمر) رزق اور سعادت و شقاوت (خوش نصیبی، اور بدنصیبی) یہ سب تقدیر سے ہے، اور اس کو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے حق میں پہلے ہی لکھ دیا ہے، اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، اس لئے ہر آدمی کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت و اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق کرکے تقدیر کو اپنے حق میں مفید بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  «وأن ليس للإنسان إلا ما سعى» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 6 (3208)، الانبیاء 1 (3332)، القدر 1 (6594)، التوحید 28 (7454)، صحیح مسلم/القدر1 (2643)، سنن ابی داود/السنة 17 (4708)، سنن الترمذی/القدر 4 (2137)، (تحفة الأشراف: 9228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/382، 414، 430) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سِنَانٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ خَشِيتُ أَنْ يُفْسِدَ عَلَيَّ دِينِي وَأَمْرِي، فَأَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَقُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، إِنَّهُ قَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنْ هَذَا الْقَدَرِ فَخَشِيتُ عَلَى دِينِي وَأَمْرِي، فَحَدِّثْنِي مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، فَقَالَ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ، وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا، أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا قُبِلَ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ أَخِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَتَسْأَلَهُ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ، فَذَكَرَ مِثْلَ مَا قَالَ أُبَيٌّ، وَقَالَ لِي، وَلَا عَلَيْكَ أَنْ تَأْتِيَ حُذَيْفَةَ، فَأَتَيْتُ حُذَيْفَةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَا، وَقَال: ائْتِ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ، وَأَهْلَ أَرْضِهِ، لَعَذَّبَهُمْ وَهُوَ غَيْرُ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ لَكَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ كَانَ لَكَ مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا، أَوْ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ ذَهَبًا تُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا قَبِلَهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ كُلِّهِ، فَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَأَنَّكَ إِنْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا دَخَلْتَ النَّارَ".
عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات پیدا ہوئے ، اور مجھے ڈر لاحق ہوا کہ کہیں یہ شبہات میرے دین اور میرے معاملے کو خراب نہ کر دیں ، چنانچہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور عرض کیا : ابوالمنذر ! میرے دل میں اس تقدیر کے سلسلے میں کچھ شبہات وارد ہوئے ہیں ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں میرا دین اور میرا معاملہ خراب نہ ہو جائے ، لہٰذا آپ اس سلسلہ میں مجھ سے کچھ بیان کریں تاکہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے کچھ فائدہ پہنچائے ، انہوں نے کہا : اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے ، اور وہ ظالم نہیں ہو گا ، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے ، اور اگر تمہارے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ( یا کہا : احد پہاڑ کے برابر مال ہو ) اور تم اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دو ، تو یہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک کہ تم تقدیر پہ ایمان نہ لاؤ ، تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا وہ تم سے چوکنے والا نہ تھا ، اور جو تمہیں نہیں پہنچا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ۱؎ ، اور اگر تم اس اعتقاد کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے ، اور کوئی حرج نہیں کہ تم میرے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو ، عبداللہ بن فیروز دیلمی کہتے ہیں : میں عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور ان سے پوچھا ، تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا ، اور مجھ سے کہا : کوئی مضائقہ نہیں کہ تم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ۔ چنانچہ میں حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بھی وہی بتایا جو ان دونوں ( ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے بتایا تھا ، اور انہوں نے کہا : تم زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے بھی پوچھ لو ۔ چنانچہ میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اور ان سے بھی پوچھا ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو انہیں عذاب دے سکتا ہے ، اور وہ ظالم نہیں ہو گا ، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے حق میں ان کے اعمال سے بہتر ہے ، اور اگر تمہارے پاس احد کے برابر سونا یا احد پہاڑ کے برابر سونا ہو ، اور تم اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اس وقت تک تمہاری جانب سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا جب تک کہ تم پوری تقدیر پہ کلی طور پر ایمان نہ لاؤ ، اور تم یہ یقین رکھو کہ جو ( خیر و شر ) تمہیں پہنچا ہے تم سے چوکنے والا نہ تھا ، اور جو تم سے چوک گیا وہ تمہیں پہنچنے والا نہیں تھا ، اور اگر تم اس عقیدہ کے علاوہ پر مرے تو جہنم میں داخل ہو گے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 77]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں ایمان کے مزہ اور اس کی حلاوت و شیرینی کا ذکر ہے جو محسوس اشیاء کے مزہ کی طرح نہیں ہے، دنیاوی کھانے پینے کا ایک مزہ ہوتا ہے، دوسری چیز کھانے کے بعد پہلی چیز کا مزہ جاتا رہتا ہے، لیکن ایمان کی حلاوت تا دیر باقی رہتی ہے، حتی کہ آدمی کبھی خلوص دل، حضور قلب اور خشوع و خضوع کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اس کی حلاوت اسے مدتوں محسوس ہوتی ہے، لیکن اس ایمانی حلاوت اور مزہ کا ادراک صرف اسی کو ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس نعمت سے بہرہ ور کیا ہو۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مقدر کر رکھا ہے، تقدیر کو اصابت سے تعبیر کیا، اس لئے کہ تقدیر کا لکھا ہو کر رہے گا، تو جو کچھ تقدیر تھی اللہ تعالیٰ نے اسے بندہ کے حق میں لکھ دی ہے وہ اس کو مل کر رہے گی، مقدر کو ٹالنے کے اسباب اختیار کرنے کے بعد بھی وہ مل کر رہے گا، انسان سے وہ خطا نہیں کرے گا۔ ایک معنی یہ بھی ہے کہ تم کو جو کچھ بھی پہنچ گیا ہے اس کے بارے میں یہ نہ سوچو کہ وہ تم سے خطا کرنے والی چیز ہے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسے ایسے کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا، اس لئے کہ اس وقت تم جس حالت سے دور چار ہوئے اس کا ٹلنا ناممکن ہے، تو تمہارا ہر اندازہ اور ہر تدبیر اس تقدیر کے وقوع پذیر ہونے میں غیر موثر ہے، حدیث کی شرح دونوں معنوں میں صحیح ہے، پس اللہ تعالیٰ نے بندہ کے حق میں جو کچھ مقدر کر رکھا ہے وہ اس کو مل کر رہے گا، اس کا خطا کرجانا ناممکن ہے، اس بات پر ایمان کے نتیجہ میں مومن ایمان کا مزہ چکھے گا، اس لئے کہ اس ایمان کی موجودگی میں آدمی کو اس بات کا علم اور اس پر اطمینان ہو گا کہ مقدر کی بات لابدی اور ضروری طور پر واقع ہو گی، اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک آدمی اپنے بچوں کو لے کر کسی تفریح گاہ میں سیر و تفریح کے لئے جاتا ہے، اور اس کا بچہ وہاں گہرے پانی میں ڈوب کر مر جاتا ہے، تو یہ کہنا صحیح نہیں کہ اگر وہ سیر کے لئے نہ نکلا ہوتا تو وہ بچہ نہ مرتا، اس لئے کہ جو کچھ ہوا یہ اللہ کی طرف سے مقدر تھا، اور تقدیر کے مطابق لازمی طور پر ہوا جس کو روکا نہیں جا سکتا تھا، تو جو کچھ ہونے والی چیز تھی اس نے خطا نہیں کی، ایسی صورت میں انسان کو اطمینان قلب حاصل ہو جاتا ہے اور وہ اس صورت حال پر اللہ کے فیصلہ پر صبر کرتا ہے بلکہ اس پر راضی ہوتا ہے، اور اس کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا اس سے فرار کی کوئی صورت نہیں تھی، اور دل میں ہر طرح کے اٹھتے خیالات اور اندازے سب شیطانی وساوس کے قبیل سے ہیں، پس آدمی کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا اور ایسا ہوتا، کیونکہ  «لو» شیطان کی دخل اندازی کا راستہ کھول دیتا ہے، اس معنی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے:  «ما أصاب من مصيبة في الأرض ولا في أنفسكم إلا في كتاب من قبل أن نبرأها إن ذلك على الله يسير (۲۲) لكيلا تأسوا على ما فاتكم ولا تفرحوا بما آتاكم والله لا يحب كل مختال فخور» یعنی: نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے، نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے، تاکہ تم اپنے سے فوت شدہ کسی چیز پر رنجیدہ نہ ہو جایا کرو، اور نہ عطا کردہ چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا۔ (سورۃ الحدید: ۲۲-۲۳) آدمی اگر تقدیر پر یقین کرے تو مصائب و حوادث پر اس کو اطمینان قلب ہو گا، اور وہ اس پر صبر کرے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہو گا، اور اسے ایمان کی حلاوت کا احساس ہو گا۔ حدیث کا دوسرا ٹکڑا:  «وما أخطأك لم يكن يصيبك»  پہلے فقرے ہی کے معنی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو تقدیر میں نہ ہونا لکھ دیا ہے، وہ کبھی واقع نہیں ہو سکتی، مثلاً اگر ایک آدمی نے کسی تجارت گاہ کا رخ کیا، لیکن وہاں پہنچنے پر پتہ چلا کہ بازار بند ہو گیا، تو اس کو کہا جائے گا کہ یہ تجارتی فائدہ جو تم کو نہ ملا، اسے تم کو ہرگز ہرگز نہ ملنا تھا چاہے تم اس کے لئے جتنا بھی جتن اور کوشش کرتے، یا ہم یہ کہیں کہ یہ تم کو حاصل ہونے والا نہ تھا اس لئے کہ معاملہ اللہ کے قضا و قدر کے مطابق طے ہونا تھا، آدمی کو اس عقیدہ کا تجربہ کرکے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا اس کے بعد اس کو ایمان کی حلاوت کا احساس ہوا یا نہیں۔ ۲؎: سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ انسان تقدیر پر ایمان رکھے، اور شیطانی وسوسوں سے بچے، اور تقدیر کے منکروں سے میل جول نہ رکھے بلکہ ان سے دور رہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کے اچھے اعمال بغیر ایمان کے ہرگز قبول نہیں ہوتے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر انسان اس قضا و قدر کے اسلامی عقیدہ کے سوا کسی اور عقیدہ پر مرا تو وہ جہنم میں جائے گا، مراد اس سے جہنم میں ہمیشہ رہنے کا نہیں ہے، جیسے کافروں کے لئے جہنم میں ہمیشہ رہنا ہے، اس لئے کہ اہل قبلہ اپنے گناہوں کی سزا میں عذاب پانے کے بعد اگر وہ موحد ہیں تو جہنم سے نکالے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح ¤ َحدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/السنة 17 (4699)، (تحفة الأشراف: 52، 3726، 9348)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 185، 189) (صحیح)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ ، قَال: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عُودٌ فَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنِ الْجَنَّةِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: " لَا، اعْمَلُوا، وَلَا تَتَّكِلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى {7} وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى {8} وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى {9} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى {10} سورة الليل آية 5-10.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے ، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زمین کو کریدا ، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : ” جنت و جہنم میں ہر شخص کا ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کر لیں ( اور عمل چھوڑ دیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، عمل کرو ، اور صرف لکھی تقدیر پر بھروسہ نہ کر کے بیٹھو ، اس لیے کہ ہر ایک کو اسی عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : «فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى فسنيسره للعسرى» ، یعنی : ” جس نے اللہ کی راہ میں دیا اپنے رب سے ڈرا ، اور اچھی بات کی تصدیق کرتا رہا ، تو ہم بھی اس پر سہولت کا راستہ آسان کر دیں گے ، لیکن جس نے بخیلی کی ، لاپرواہی برتی اور اچھی بات کو جھٹلایا تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے “ ( سورة الليل : 5-10 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 78]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں ان شیطانی وسوسوں کا جواب ہے جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتے رہتے ہیں کہ جب جنتی اور جہنمی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے تو اب عمل کیونکر کریں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو، تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھ نہ جاؤ، کیونکہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے، اس لئے نیک عمل کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہی جنت میں جانے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق بننے کا ذریعہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 82 (1362)، تفسیر القرآن 92 (4945)، الأدب 120 (6217)، القدر 4 (6605)، التوحید 54 (7552)، صحیح مسلم/القدر 1 (2647)، سنن ابی داود/السنة 17 (4694)، سنن الترمذی/القدر 3 (2136)، التفسیر 80 (3344)، (تحفة الأشراف: 10167)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 129، 13، 140) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنِ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَلَا تَعْجَزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا، وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور پیارا ہے ۱؎ ، دونوں میں سے ہر ایک میں خیر ہے ، ہر اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں نفع دے ، اور اللہ سے مدد طلب کرو ، دل ہار کر نہ بیٹھ جاؤ ، اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو : کاش کہ میں نے ایسا ویسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا ، بلکہ یہ کہو : جو اللہ نے مقدر کیا تھا اور جو اس نے چاہا کیا ، اس لیے کہ ” اگر مگر “ شیطان کے عمل کے لیے راستہ کھول دیتا ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 79]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ عبادت کی ادائیگی اور فرائض و سنن، اور دعوت و تبلیغ اور معاشرتی خدمت وغیرہ امور کے قیام میں کمزور مومن سے زیادہ مستعد اور توانا ہوتا ہے۔ ۲؎: یعنی اگر مگر سے شیطان کو گمراہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر 8 (2664)، سنن النسائی/ في الیوم واللیلة (625)، (تحفة الأشراف: 13965)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 366، 37)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 4168) (حسن صحیح)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا، خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" ثَلَاثًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدم و موسیٰ علیہا السلام میں مناظرہ ہوا ، موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا : اے آدم ! آپ ہمارے باپ ہیں ، آپ نے ہمیں ناکام و نامراد بنا دیا ، اور اپنے گناہ کے سبب ہمیں جنت سے نکال دیا ، تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب کیا ، اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی ، کیا تم مجھ کو ایک ایسے عمل پر ملامت کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا ! “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” چنانچہ آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 80]
💡 وضاحت:
۱؎: آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے اور ان سے جیت گئے یعنی انہیں اس بات کا قائل کر لیا کہ بندہ اپنے افعال میں خود مختار نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جس کام کو اس کے لئے مقدر کر دیا ہے اس کے نہ کرنے پر وہ قادر نہیں، لہذا جو کچھ انہوں نے کیا اس پر انہیں ملامت کرنا درست نہیں، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے پوچھا کہ تم نے تورات میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے کتنے برس پہلے تورات لکھی؟ انہوں نے کہا: چالیس برس، پھر آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم نے اس میں پڑھا ہے:  «وعصى آدم ربه فغوى» یعنی آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی، تو راہ بھول گئے، انہوں نے کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے فرمایا: پھر بھلا تم مجھے کیا ملامت کرتے ہو؟ باقی وہی مضمون ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ آدم علیہ السلام جیت گئے، اور یہ تکرار تاکید کے لئے تھی تاکہ بخوبی یہ بات سمجھ لی جائے کہ آدم علیہ السلام مستقل فاعل نہ تھے کہ فعل و ترک کا اختیار کامل رکھتے ہوں، بلکہ جو تقدیر الٰہی تھی اس کا ان سے وقوع ہوا، اور اللہ کی مرضی و مشیت کا ہونا ضروری تھا، گویا کہ آدم علیہ السلام نے یہ کہا کہ پھر تم اس علم سابق سے جو بذریعہ تورات تمہیں حاصل ہو چکا ہے کیوں غافل ہوتے ہو، اور صرف میرے کسب (یعنی فعل اور کام) کو یاد کرتے ہو، جو صرف سبب تھا، اور اصل سے غفلت کرتے ہو جو تقدیر الٰہی تھی اور تم جیسے منتخب اور پسندیدہ اور اسرار و رموز الٰہی کے واقف کار سے یہ بات نہایت بعید ہے، اور ان دونوں نبیوں میں یہ گفتگو عالم تکلیف و اسباب میں نہیں ہوئی کہ یہاں وسائط و اکتساب سے قطع نظر اور وسائل اور مواصلات سے چشم پوشی جائز نہیں بلکہ عالم علوی میں ہوئی جو اہل تقوی کی ارواح کے اکٹھا ہونے کی جگہ ہے، اور مکلف اس وقت تک ملامت کا مستحق ہو گا جب وہ عہد تکلیف و مسئولیت میں ہو تو اس پر ملامت امر معروف میں داخل ہے، اور معاصی سے ممانعت کا سبب ہے، اور دوسروں کے لئے عبرت اور موعظت کا سبب ہے، اور جب آدمی تکلیف و مسئولیت کے مقام سے نکل گیا تو اب وہ ملامت کا مستحق نہ رہا بلکہ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو چیز مقدر کر دی تھی اس کا ظہور ہوا، اور یہ بھی واضح ہے کہ یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب آدم علیہ السلام تائب ہو چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی تھی، اور تائب ملامت کے لائق نہیں ہوتا، مقصد یہ ہے کہ اس واقعہ سے فساق و فجار اپنے فسق و فجور اور بد اعمالیوں پر استدلال نہیں کر سکتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التفسیر سورة طہ 1 (4736)، القدر 11 (6614)، صحیح مسلم/القدر 2 (2652)، (تحفة الأشراف: 13529)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 17 (4701)، سنن الترمذی/القدر 2 (2135)، موطا امام مالک/القدر 1 (1)، مسند احمد (2/248، 268) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُؤْمِنَ بِأَرْبَعٍ، بِاللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَبِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْقَدَرِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا : اللہ واحد پر جس کا کوئی شریک نہیں ، میرے اللہ کے رسول ہونے پر ، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ، اور تقدیر پر “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 81]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2145) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/القدر 10 (2145)، (تحفة الأشراف: 10089)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/97، 133) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جِنَازَةِ غُلَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طُوبَى لِهَذَا عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ، لَمْ يَعْمَلِ السُّوءَ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ، قَالَ: " أَوَ غَيْرُ ذَلِكَ يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ أَهْلًا، خَلَقَهُمْ لَهَا وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ لِلنَّارِ أَهْلًا خَلَقَهُمْ لَهَا، وَهُمْ فِي أَصْلَابِ آبَائِهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک بچے کے جنازے میں بلائے گئے ، تو میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس بچہ کے لیے مبارک باد ہو ، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، نہ تو اس نے کوئی برائی کی اور نہ ہی برائی کرنے کا وقت پایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ بات یوں نہیں ہے ، بلکہ اللہ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے ، اور جہنم کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا جب کہ وہ ابھی اپنے والد کی پشت میں تھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 82]
💡 وضاحت:
۱؎: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ اس بچے نے کوئی گناہ نہ کیا اس لئے یہ تو یقینا جنتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یقین کی تردید فرمائی کہ بلا دلیل کسی کو جنتی کہنا صحیح نہیں، جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ نے انسان کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی کر دیا ہے، اور وہ ہمیں معلوم نہیں تو ہم کسی کو حتمی اور یقینی طور پر جنتی یا جہنمی کیسے کہہ سکتے ہیں، یہ حدیث ایک دوسری حدیث سے معارض معلوم ہوتی ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مسلمان بچے جو بچپن ہی میں مر جائیں گے اپنے والدین کے ساتھ ہوں گے، نیز علماء کا اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، اس حدیث کا یہ جواب دیا گیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو جنتی یا جہنمی کا فیصلہ کرنے میں جلد بازی سے روکنا مقصود تھا، بعض نے کہا: یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا نہیں گیا تھا کہ مسلم بچے جنتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر (2662)، سنن ابی داود/السنة 18 (4713)، سنن النسائی/الجنائز 58 (1949)، (تحفة الأشراف: 17873)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/41، 208) (صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيل الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ يُخَاصِمُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَدَرِ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ {48} إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ {49} سورة القمر آية 48-49.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے تقدیر کے سلسلے میں جھگڑنے لگے ، تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی : ” جس دن وہ اپنے منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے ، اور ان سے کہا جائے گا : جہنم کی آگ لگنے کے مزے چکھو ، بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے “ ( سورۃ القمر : ۴۹ ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 83]
💡 وضاحت:
۱؎: بغوی نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ جو چیز ہم نے پیدا کی ہے وہ تقدیر سے ہے یعنی وہ لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، حسن بصری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ہر چیز کا اندازہ کیا کہ اس کے موافق وہ پیدا ہوتی ہے، اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے پچاس ہزار سال پہلے مخلوق کی تقدیر لکھی، اور فرمایا: رب العالمین کا عرش اس وقت پانی پر تھا، اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز قدر سے ہے یہاں تک کہ نادانی و دانائی بھی، فتح البیان میں ہے کہ اثبات قدر سے جو بعضوں کے خیال میں آتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کا مجبور و مقہور کر دینا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی خبر ہے کہ بندے کیا کمائیں گے، اور ان کے افعال کا صدور خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/القدر 4 (2656)، سنن الترمذی/القدر 19 (2157)، (تحفة الأشراف: 14589)، مسند احمد (2/444، 476) (صحیح)
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَاهُ حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے تقدیر کے سلسلے میں کچھ ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو تقدیر کے سلسلے میں ذرا بھی بحث کرے گا اس سے قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال کیا جائے گا ، اور جو اس سلسلہ میں کچھ نہ کہے تو اس سے سوال نہیں ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 84]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف لإتفاقھم علي ضعف يحيي بن عثمان“ يحيي بن عثمان التيمي أبو سھل البصري: ضعيف (تقريب: 7606) وشيخه يحيي بن عبد اللّٰه بن أبي مليكة: لين الحديث (تقريب: 7587) أي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف) (سبب ضعف کے لئے ملاحظہ ہو: اس سے پہلے کی حدیث)
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَاهُ حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ابوالحسن القطان نے کہا : ہمیں خازم بن یحیٰی نے انہیں عبدالملک بن سنان نے انہیں یحیٰی بن عثمان نے اسی ( مالک بن اسماعیل ) کی مثل روایت بیان کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 84M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ (ضعیف) (سبب ضعف کے لئے ملاحظہ ہو: اس سے پہلے کی حدیث)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ، وَهُمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ، فَكَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنِ الْغَضَبِ، فَقَالَ: " بِهَذَا أُمِرْتُمْ، أَوْ لِهَذَا خُلِقْتُمْ تَضْرِبُونَ الْقُرْآنَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، بِهَذَا هَلَكَتِ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَتَخَلُّفِي عَنْهُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے ، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہو گیا ، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے ، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو ؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو ، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے : میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 85]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تقدیر کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہئے، جتنی اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے اسی پر ایمان کافی ہے، اور اس کے بارے میں زیادہ غور و خوض اور قیل و قال، باطل میں قیل و قال کرنا ہے، اور اس طرح باقی امور جس میں شارع نے اجمال و اختصار سے کام لیا ہے اس کی شرح و تفصیل کی بھی ہمیں ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8704، ومصباح الزجاجة: 29)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/196، 178) (حسن صحیح)
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ"، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الْبَعِيرَ يَكُونُ بِهِ الْجَرَبُ فَيُجْرِبُ الْإِبِلَ كُلَّهَا؟ قَالَ: " ذَلِكُمُ الْقَدَرُ فَمَنْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں چھوا چھوت کی بیماری ، بدفالی اور الو سے بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے “ ، ایک دیہاتی شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا : اللہ کے رسول ! بتائیے اونٹ کو ( کھجلی ) ہوتی ہے ، اور پھر اس سے تمام اونٹوں کو کھجلی ہو جاتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہی تقدیر ہے ، اگر ایسا نہیں تو پہلے اونٹ کو کس نے اس میں مبتلا کیا ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 86]
💡 وضاحت:
۱؎: چھوا چھوت کی بیماری کو عربی میں  «عدوى» : کہتے ہیں یعنی ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جائے، اور زمانہ جاہلیت میں عربوں کا عقیدہ تھا کہ کھجلی وغیرہ بعض امراض ایک دوسرے کو لگ جاتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عقیدہ کو باطل قرار دیا، اور فرمایا کہ یہ تقدیر سے ہے، جیسے پہلے اونٹ کو کسی کی کھجلی نہیں لگی، بلکہ یہ تقدیر الہٰی ہے، اسی طرح اور اونٹوں کی کھجلی بھی ہے۔ «طيرة» : بدفالی اور بدشگونی کو کہتے ہیں جیسے عورتیں کہتی ہیں کہ یہ کپڑا میں نے کس منحوس کے قدم سے لگایا کہ تمام ہی نہیں ہوتا، یا گھر سے نکلے اور بلی سامنے آ گئی، یا کسی نے چھینک دیا تو بیٹھ گئے، یا کوئی چڑیا آگے سے گزر گئی تو اب اگر جائیں گے تو کام نہ ہو گا، اس اعتقاد کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باطل فرما دیا، اور اس کو شرک قرار دیا۔ «هامة» : ایک معروف و مشہور جانور ہے جسے الو کہتے ہیں، عرب اس سے بدفالی لیتے تھے، اور کفار و مشرکین کا آج بھی عقیدہ ہے کہ وہ جہاں بولتا ہے وہ گھر ویران اور برباد ہو جاتا ہے، اور بعض عربوں نے سمجھ رکھا تھا کہ میت کی ہڈیاں سڑ کر الو بن جاتی ہیں، یہ تفسیر اکثر علماء نے کی ہے، غرض جاہل لوگ جو ان چیزوں کو خیر و شر کا مصدر و منبع جانتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس اعتقاد کا رد و ابطال کر کے خیر و شر کا مصدر تقدیر الٰہی کو بتایا، اور مسلمان کو یہی عقیدہ رکھنا چاہئے کہ نفع و نقصان اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ذلكم القدر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8580، مصباح الزجاجة: 30)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/24، 222) (صحیح) (سند میں یحییٰ بن أبی حیہ ابو جناب الکلبی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بنا پر صحیح ہے، صرف ''ذلكم القدر'' کا لفظ شاہد نہ ملنے کی بناء پر ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 782، و الضعیفة: 4808)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الْجَرَّارُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي الْمُسَاوِرِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ الْكُوفَةَ، أَتَيْنَاهُ فِي نَفَرٍ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا عَدِيَّ ابْنَ حَاتِمٍ" أَسْلِمْ تَسْلَمْ"، قُلْتُ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ فَقَالَ: " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَتُؤْمِنُ بِالْأَقْدَارِ كُلِّهَا لِخَيْرِهَا، وَشَرِّهَا، حُلْوِهَا، وَمُرِّهَا".
عامر بن شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ جب کوفہ آئے تو ہم اہل کوفہ کے چند فقہاء کے ساتھ ان کے پاس گئے ، اور ہم نے ان سے کہا : آپ ہم سے کوئی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو ، تو وہ کہنے لگے : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اے عدی بن حاتم ! اسلام لے آؤ ، سلامت رہو گے “ ، میں نے پوچھا : اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور میں اللہ کا رسول ہوں ، اور ساری تقدیر پر ایمان لاؤ ، چاہے اچھی ہو ، بری ہو ، میٹھی ہو ، کڑوی ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 87]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف لإتفاقھم علي ضعف عبد الأعلي‘‘ عبدالأعلي بن أبي المساور: متروك،كذبه ابن معين (تقريب: 3737) و قال الھيثمي: و قد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 56/9) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 377
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9864، مصباح الزجاجة: 31)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/257، 378) (ضعیف جدًا) (سند میں عبد الاعلیٰ منکر الحدیث بلکہ تقریباً متروک الحدیث راوی ہیں، ملاحظہ ہو: ظلال الجنة: 135)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّقَاشِيِّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ الرِّيشَةِ تُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ بِفَلَاةٍ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 88]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو خیر و شر دل میں آتا ہے سب تقدیر الہٰی سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد الرقاشي ضعيف ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند أحمد (408/4،419) وغيره وقال أبوموسي الأشعري رضي اللّٰه عنه: ”إنما سمي القلب قلبًا لتقلبه و إنما مثل القلب مثل ريشة بفلاة من الأرض“ رواه علي بن الجعد في مسنده (145) و أبو نعيم في حلية الأولياء (1/ 261) وسنده صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9024، مصباح الزجاجة: 32)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/408، 419) (صحیح) (سند میں راوی یزید بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، لیکن ان کی متابعت سعید بن ایاس الجریری نے کی ہے، ''مسند احمد: 4/419، والسنة لابن أبی عاصم: 234، نیز مسند أحمد: 4/408''نے عاصم الاحول عن أبی کبشہ عن ابی موسیٰ سے بھی روایت کی ہے، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي جَارِيَةً أَعْزِلُ عَنْهَا؟ قَالَ: " سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا"، فَأَتَاهُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: قَدْ حَمَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا قُدِّرَ لِنَفْسٍ شَيْءٌ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا “ ، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا : لونڈی حاملہ ہو گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے “ ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 89]
💡 وضاحت:
۱؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔ ۲؎: اس سے بھی معلوم ہوا کہ لڑکا اور لڑکی کی پیدائش اللہ کی تقدیر سے ہوتی ہے، کسی پیر و فقیر اور ولی و مرشد کی نذر و نیاز اور منت ماننے سے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2249، ومصباح الزجاجة: 33)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 22 (1439)، سنن ابی داود/النکاح 49 (2173)، مسند احمد (3/313، 388) (صحیح)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلَّا الْبِرُّ، وَلَا يَرُدُّ الْقَدَرَ إِلَّا الدُّعَاءُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِخَطِيئَةٍ يَعْمَلُهَا".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر کو نیکی کے سوا کوئی چیز نہیں بڑھاتی ۱؎ ، اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدلتی ہے ۲؎ ، اور آدمی گناہوں کے ارتکاب کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 90]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نیکی سے عمر میں برکت ہوتی ہے، اور وہ ضائع ہونے سے محفوظ رہتی ہے، یا نیکی کا ثواب مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:  «والباقيات الصالحات خير عند ربك ثوابا وخير أملا» اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ازروئے ثواب اور آئندہ کی اچھی توقع کے بہت بہتر ہیں (سورۃ الکہف: ۴۶) تو گویا عمر بڑھ گئی یا لوح محفوظ میں جو عمر لکھی تھی اس سے زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  «يمحو الله ما يشاء ويثبت» یعنی: اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے اور جو چاہے ثابت رکھے (سورۃ الرعد: ۳۹)، یا ملک الموت نے جو عمر اس کی معلوم کی تھی اس سے بڑھ جاتی ہے، اگرچہ علم الہی میں جو تھی وہی رہتی ہے، اس لئے کہ علم الہی میں موجود چیز کا اس سے پیچھے رہ جانا محال ہے۔ ۲؎: تقدیر کو دعا کے سوا ... الخ یعنی مصائب اور بلیات جن سے آدمی ڈرتا ہے دعا سے دور ہو جاتی ہیں، اور مجازاً ان بلاؤں کو تقدیر فرمایا، دعا سے جو مصیبت تقدیر میں لکھی ہے آتی ہے مگر سہل ہو جاتی ہے، اور صبر کی توفیق عنایت ہوتی ہے، اس سے وہ آسان ہو جاتی ہے تو گویا وہ مصیب لوٹ گئی۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون وإن الرجل
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث الآتي (4022) ¤ سفيان الثوري مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2093، ومصباح الزجاجة: 34)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/502، 5/277) (حسن) (حدیث کے آخری ٹکڑے: وإن الرجل ليحرم الرزق بخطيئة يعملها یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 154، یہ حدیث آگے (4022) نمبر پر آ رہی ہے)
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ؟ قَالَ: " بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے ، اور جو جاری ہو چکی ہے ؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے ، اور جو جاری ہو چکی ہے ، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 91]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3819، ومصباح الزجاجة: 35)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/197) (صحیح) (اس حدیث میں مجاہد اور سراقہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن ابی عاصم: 169)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں ، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو ، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 92]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر کے منکرین کو مجوس سے اس لئے تشبیہ دی کہ وہ دو خالق کے قائل ہیں: ایک خیر کا خالق ہے، اس کا نام یزدان ہے، اور دوسرا شر کا خالق ہے، اس کا نام اہرمن ہے، اور قدریہ خالق سے خلق کے اختیار کو سلب کرتے ہیں اور خلق کو ہر مخلوق کے لئے ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ شر کا خالق نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اصلح (زیادہ بہتر کام) واجب ہے، اور اسی لئے علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ معتزلہ مجوس سے بدتر ہیں اس لئے کہ وہ دو ہی خالق اور الٰہ کے قائل ہیں اور معتزلہ بہت سے خالقوں کے قائل ہیں کہ وہ ہر انسان کو اپنے افعال کا خالق قرار دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن دون جملة التسليم
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن جريج و أبو الزبير مدلسان وعنعنا ¤ ولبعض الحديث طرق أخري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2879، ومصباح الزجاجة: 36) (حسن) (سند میں بقیہ بن الولید اور ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور دونوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، اور وإن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم کا جملہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: السنة لا بن أبی عاصم: 337)
فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #2 →