سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 32
Sunan Ibn Majah 32
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
4: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي تَعَمُّدِ الْكَذِبِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بوجھ کر جھوٹ گھڑنے پر سخت گناہ (جہنم) کی وعید۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ، حَسِبْتُهُ قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میرے اوپر جھوٹ باندھے ” ( انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ) میرا خیال ہے کہ آپ نے «متعمدا» بھی فرمایا یعنی جان بوجھ کر “ ۱؎ تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 32]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ شک ہے کہ «متعمدا» کا لفظ بھی فرمایا یا نہیں، اور باقی حدیث میں کوئی شک نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 8 (2661)، (تحفة الأشراف: 1525)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ العلم 39 (108)، صحیح مسلم/المقدمة 2 (3)، مسند احمد (3/98، 113، 116، 172، 176، 203، 209، 223، 279، 280)، سنن الدارمی/المقدمة 25 (244)، 46 (559) (صحیح)